سفر ایران کی ایک دلچسپ داستان
نیکٹر سے اِصفہان میں آخری ملاقات
اِصفہان میں، جہاں میں قیام پذیر تھا، اس ہوٹل کے کمرے میں دو بیڈ یوں میرے سامنے پڑے رہتے تھے جیسے دو خاموش محافظ، مگر دونوں کا کرایہ صرف میں ادا کرتا تھا۔ ایک تنہا مسافر کے لیے یہ دو بیڈ ایسے تھے جیسے ریگستان میں دو اونٹ کھڑے ہوں اور پانی کا مَشکیزہ صرف ایک کے پاس ہو۔ سو، سنگل روم کی تلاش میں میں شہر کے دیگر ہوٹلوں کا رخ کرنے لگا، بَٹوے کا بوجھ بھی کچھ ہلکا ہو رہا تھا اور دل بھی۔
اسی تلاش کے بیچ، ایک ہوٹل کے سامنے اچانک میں نے نیکٹر اور لیناکو کھڑے دیکھا۔ لمحہ بھر کو دل ٹھٹھک گیا: یہ کیا معاملہ ہے؟ بم میں ملاقات، پھر کرمان میں ملاقات، اور اب تیسرا پڑاؤ اِصفہان! گویا ہم تینوں کسی انجانے اسکرپٹ کا حصہ ہوں جس کی کہانی ہم سے پوشیدہ ہے مگر ہدایت کار صاحب نے بہت مہارت سے ترتیب دے رکھی ہے۔
نیکٹر نے مجھے دیکھا تو اس کے چہرے پر وہی مسکراہٹ نمودار ہوئی جو کسی پرانے سفر کے ساتھی کو دیکھ کر آتی ہے۔
’مالِک! یو اگین؟‘وہ ہنسا۔
میں نے جواب دیا، ‘بھئی لگتا ہے ایران تمہارا بھی دل نہیں بھرنے دے رہا—یا شاید ہم ایک ہی ہوا کے رخ پر چل رہے ہیں۔‘
لینا حسبِ معمول دھیمی مگر دل آوَیز مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلاتی رہی، جیسے کہہ رہی ہو کہ یہ دنیا واقعی چھوٹی ہے۔ نیکٹر نے فوراً اصرار کیا کہ میں اس کے ہوٹل میں منتقل ہوجاؤں۔ انداز میں وہی یورپی بے تکلفی، جیسے کہہ رہا ہو:’ڈیئر مالِک! تم کیوں دو بیڈوں کے ساتھ تنہائی کا تماشا کر رہے ہو؟‘
میں استقبالیہ تک گیا اور سنگل روم کے بارے میں پوچھا۔ قسمت نے آج شاید میرے ساتھ صلح کر لی تھی۔ ایک کمرہ واقعی خالی تھا، اور یوں میری مشکل آسان ہوگئی۔
امیر کبیر کا مہمان خانہ اور رنگا رنگ دنیا
جس ہوٹل میں مجھے جگہ ملی، وہاں کے مسافروں کی اکثریت سیاحوں پر مشتمل تھی۔ یورپی نوجوان لڑکے اور لڑکیاں… دو دو، تین تین، چار چار کی ٹولیوں میں ایک ہی کمرے میں رہتے۔ انہیں دیکھ کر یونہی خیال آیا کہ سفر صرف راستوں کا نہیں ہوتا، طرزِ زندگی کا بھی ہوتا ہے۔ یہ لوگ سفر کو ایک کھیل کی طرح جیتے ہیں جہاں آزادی، بے فکری اور کچھ بے نیازی کے سکّے چلتے ہیں۔ بعض گروہوں میں تین مردوں کے ساتھ ایک نوجوان لڑکی بھی شامل ہوتی۔ ہم مشرق والوں کے لیے شاید یہ حیرت کی بات ہو، مگر ان کے لیے یہ بالکل معمول تھا۔ دنیا کا وہ حصہ جہاں اعتماد اور دوستی کے رنگ ہم سے ذرا مختلف ہیں۔
بہت سے سیاح اپنی موٹرسائیکلوں پر ایران کی سڑکوں کو ناپتے پھر رہے تھے۔ کچھ تو اپنے ٹریلر ٹرکوں کے ساتھ آئے تھے۔ ایسے ٹرک جو بظاہر گاڑیاں ہوتے ہیں مگر اندر سے چھوٹے چھوٹے گھر… یوں لگتا تھا جیسے سفر کی روح نے انہیں اپنے دامن میں لے رکھا ہو۔ اور یہ سب لوگ اسی ہوٹل میں مقیم تھے جس کا نام تھا مہمان پذیر امیر کبیر—ایسا نام جس میں ایرانی مہمان نوازی کی خوشبو بھی تھی اور کسی قدیم داستان کا سا وقار بھی۔
اِصفہَان کی یہ ملاقات—نیکٹر، لینا اور اتفاق کے دھاگوں سے جڑی ہوئی—یوں یاد رہ گئی جیسے نصفِ جہاں کے اس شہر کی فضا نے اسے میرے دل کے کتب خانے میں محفوظ کر دیا ہو۔
شیعہ سنی مناظرے سے گریز
اگلی صبح اسی ہوٹل کی راہداری میں میری ملاقات ایک ایرانی نوجوان سے ہوئی جس کا تعلق شیراز سے تھا۔ وجاہت اس کے چہرے پر یوں جھلکتی تھی جیسے کسی قدیم فارسی داستان کا ہیرو ابھی صفحۂ قرطاس سے نکلا ہو۔ سبز آنکھیں، بھورے بال، گورا رنگ اور لمبا قد—یوں لگتا تھا کسی انگریزی ناول کا کردار غلطی سے شیراز میں پیدا ہوگیا ہو۔
بات چیت کا آغاز دوستانہ تھا، مگر جلد ہی اس نے شیعہ سنی تنازعے کے حوالے سے کچھ سخت اور نازک سوالات اٹھانے شروع کر دیے۔ میں نے اس کے سوالات کے جواب نہ تُند لہجے میں دیے، نہ کمزور دلیل سے۔ بس ایک مسافر کی طرح معتدل اور سادہ انداز میں، جیسے کوئی ہَوا کے جھونکے کو برا نہ مانے بلکہ اپنی چادر ذرا سنبھال لے۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا،
’بھائی، یہ بحث اتنی پرانی ہے کہ اگر اس کا حل مناظروں میں ہوتا تو صدیوں پہلے ہوچکا ہوتا۔ دل دلیل سے کم، محبت سے زیادہ فتح ہوتے ہیں۔‘
وہ کچھ لمحے مجھے دیکھتا رہا، جیسے سوچ رہا ہو کہ میں بحث سے بھاگ رہا ہوں یا امن کا پرچار کر رہا ہوں۔ مگر میں نے دل ہی دل میں فیصلہ کر رکھا تھا کہ مناظرے کے اس گھن چکر سے دور رہنا ہے۔ مناظرے وہ دلدل ہیں جن میں پاؤں رکھتے ہی شخص اپنی پرسکون صبح، اپنا سفر اور اپناذہنی سکون کھو بیٹھتا ہے۔
کیمرون کے مہمان اور مزید مناظروں کا خطرہ
اسی ہوٹل میں افریقی ملک کیمرون کے تین نوجوان سیاح بھی مقیم تھے۔ وہ بھی—کسی نامعلوم جذبے کے تحت—اسی شیعہ سنی تنازعے پر بحث کرنا چاہتے تھے۔ ان کی آنکھوں میں تجسس کی وہی چمک تھی جو کسی نئی موٹر بائیک کے انجن میں ہوتی ہے، بس اسٹارٹ کرنے کی دیر ہوتی ہے۔ میں نے انہیں بھی اس تاریخی سانحے کے بارے میں بغیر جذبات کے، صرف واقعاتی تسلسل کے ساتھ بتایا۔
وہ لوگ مجھ سے مزید گفتگو کے لیے مجھے اپنے کمرے میں مدعو کرنا چاہتے تھے۔ میں نے وعدہ بھی کر لیا… مگر اندر سے دل نے کہا:’مالک! یہ راستہ خطرناک ہے۔ یہاں دلیلیں نہیں، سوالوں کی بارش ہوتی ہے—کب، کیوں، کیسے… اور تم جانتے ہو تم اس بارش میں بھیگ جاتے ہو۔‘
چنانچہ میں ان کے کمرے میں نہ گیا۔ اگلے روز وہ تینوں ذرا خفگی سے ملے۔
’یو پرامسڈ، بٹ یو نیور کیم!‘
میں نے شرمندہ لہجے میں کہا،’بھائی، بحث مباحثہ میرا شعبہ نہیں۔ آپ برا نہ مانیں، مگر اس راستے پر آگے بڑھنے سے افہام و تفہیم کم ہوتی ہے، الجھنیں زیادہ۔ آپ چند کتابیں پڑھ لیجیے—ٹھنڈے دل و دماغ سے۔ گفتگو سے زیادہ علم فائدہ دیتا ہے۔‘
انہوں نے کتابوں کے نام سن کر سر ہلایا، اور شاید انہیں اندازہ ہوگیا کہ میں بحث سے بھاگ نہیں رہا، بس اپنے سفر کو صاف اور پرسکون رکھنا چاہتا ہوں۔
اور میں وہاں سے گزر آیا…کیونکہ بحیثیت مسافر میرا تجربہ یہی ہے کہ مناظروں اور مباحثوں میں کچھ نہیں رکھا۔ دل اگر کھلے ہوں تو راستے بھی کھلتے ہیں، اور اگر دلوں پر زنگ چڑھ جائے تو دلیلیں بھی بیچارہ ہو جاتی ہیں۔
نیکٹر کی یِی داکی (Yidaaki)اور میری ادھوری خواہش
نیکٹر نے بالآخر میری وہ خواہش پوری کر ہی دی جس کا میں نے کوئٹہ سے تفتان تک کے سفر میں ذکر کیا تھا۔ نیکٹر اور اس کی ساتھی لینا کے ساتھ وہ سفر جیسے دو اجنبی مگر ہم مزاج مسافروں کا قافلہ ہو—جو کسی مشترکہ زبان سے نہیں، بلکہ صرف سفر کے خلوص سے جڑتے ہیں۔
راستے میں میں نے ہچکچاتے ہوئے نیکٹر سے کہا تھا:
’یار… تم وہ آسٹریلیا والوں کا قدیم آلہ بجا کر دکھاؤ۔‘
وہ وہی پراسرار سی مسکراہٹ لبوں پر لیے بولا:
’زاہدان پہنچیں گے تو تمہاری یہ خواہش پوری ہو جائے گی۔‘
اور میں نے دل میں سوچا: واہ! ایک خواہش اور وہ بھی سرحد پار، پرائے دَیس میں پوری ہونے والی ہے … کیا زندگی بھی کبھی کبھی ڈرامہ لکھنے والوں پر مہربان ہو جاتی ہے؟مگر زندگی کی مہربانی کسی اور صفحے پر شاید لمبی ہو گئی تھی۔ مشرف دور کی فوجی تفتیش—وہی سخت چہرے، وہی تھکی ہوئی نظریں، وہی دفتر کے کاغذوں کی کرچیاں—اور میں تین گھنٹے بعد ایرانی سرحد میں داخل ہوا۔
سرحد پار میں نے سڑک کی طرف دیکھا، امید کی ایک آخری، نحیف سی چمک کے ساتھ۔ مگر نیکٹر اور لینا کہیں دور نکل چکے تھے۔ شاید اگلے شہر کی کسی کھڑکی سے مجھے ہاتھ ہلا رہے ہوں، یا شایدہمیشہ کے لیے نظروں سے اوجھل ہو چکے ہوں۔
ہوٹل کا برآمدہ اور ایک انوکھی ملاقات
اِصفہان کے اس ہوٹل میں اگلی صبح نیکٹر سے ملاقات ہوئی اور وہ اپنے کمرے سے آسٹریلیا کے جنگلی باسیوں کا موسیقی کا آلہ لیکر ہوٹل کے برآمدے کے فرش پر بیٹھ گیا۔ مجھے دیکھ کر وہ ذرا سا مسکرایا اور بِنا کسی لفاظی کے اپنے سامان میں سے وہ لمبا غلاف نکالنے لگا۔ابتدا میں اس آلے کو دیکھ کر ایسا لگا جیسے واقعی کوئی دو نالی بندوق نکلنے والی ہے۔ مگر جب غلاف اترا تو سامنے ایک کھوکھلا، چمکتا ہوا، رگڑا ہوا درخت کا تنا تھا—لمبا، قدرے خَمیدہ، اور اتنا صاف کہ جیسے اسے ہوا نے برسوں پالش کیا ہو۔
نیکٹر فرش پر چوکڑی مار کر بیٹھ گیا۔کالی شلوار، سادہ ٹی شرٹ اور سر پر وہی پگڑی جسے وہ ہر موسم میں، ہر ملک میں باندھے پھرتا تھا۔اس نے آلے کے باریک سرے کو منہ سے لگایا، موٹے سرے کو زمین پر ٹِکایا، اور ایک گہری، خاموش سانس کے بعد یوں پھونک مارنا شروع کی جیسے کسی بھولی بسری روح کو آواز دے رہا ہو۔ پہلا ہی صوتی دھماکہ کچھ یوں تھا:
’بھوبھو… بھوووو…‘
میں نے چونک کر کہا:’یہ موسیقی ہے یا سمندر کے غار سے نکلتا ہوا کوئی دیو؟‘
وہ ہنسا، اور بیلجیم کے لہجے کی معصومیت لیے بولا:’تم بس دیکھتے جاؤ… ترنم ابھی جاگے گا۔‘پھر اس نے لکڑی کے دو چھوٹے ٹکڑے اٹھائے اور ایک مخصوص تال کے ساتھ کھوکھلے تنے پر مارنے لگا۔
اب وہ بھدی آواز رفتہ رفتہ ایک مدھم لے میں ڈھلنے لگی—جیسے کسی قدیم قبیلے کی رات، آگ کے الاؤ کے گرد رقص کرتی ہو۔
آسٹریلیا کے Aborigines کا یہ آلہ— یِی داکی (Yidaaki)—اپنی سادگی میں اتنا گہرا تھا کہ لگتا تھا صدیوں کی تاریخ اس کی سانس میں لپٹی ہوئی ہے۔ میں خاموشی سے سنتا رہا۔کبھی نیکٹر کی سانس آلے میں گھل جاتی، کبھی تال کے دو چوٹ اس آواز میں دھڑکن ڈال دیتیں۔ہوٹل کا برآمدہ، جس میں چند مسافر چائے پی رہے تھے، چند لمحوں کے لیے کسی اور زمانے کی گلی بن گیا۔
آواز ختم ہوئی تو میں نے شکریہ ادا کیا۔ اس نے پگڑی درست کرتے ہوئے کہا:’وعدہ تو پورا کرنا ہی تھا… تم لوگ خواہشیں رکھتے اچھے ہو۔‘میں نے ہنستے ہوئے جواب دیا:’اور تم لوگ انہیں پورا کر کے مسافر کو ہمیشہ کے لیے مقروض کر دیتے ہو۔‘
اس کی اجازت سے میں نے اپنے کینن کیمرے سے چند تصاویر لیں۔ وہ بڑی سہولت سے پوز دیتا رہا—جیسے اس یِی داکی کا اصل مالک نہیں، بلکہ کوئی منصف ہو جو اس ساز کو دنیا کے سامنے پیش کرنے آیا ہو۔
پھر وہ بولا:’اِصفہان کے نقشِ جہاں اسکوائر پر بھی بجاؤں گا۔ ایرانی لوگ فنکار کی قدر کرتے ہیں… حوصلہ بھی دیتے ہیں… اور بخشش بھی!‘
اس نے یہ آخری لفظ اس اعتماد سے کہا جیسے بخشش اس کے لیے موسیقی سے زیادہ اہم ہو۔
خواہش پوری، مسافر مطمئن
میں نے سوچا: سفر میں شاید یہی سب سے خوبصورت لمحے ہوتے ہیں—وہ جو نہ منزل سے آشنا ہوتے ہیں نہ وقت سے۔ جو بس اچانک نمودار ہوتے ہیں اور دل میں اپنے نقش چھوڑ کر خاموشی سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔
نیکٹر نے میری خواہش پوری کی تھی—لیکن اس سے بڑھ کر اس نے مجھے یہ احساس دیا تھا کہ سفر میں چھوٹی چھوٹی آرزوئیں ہی سب سے بڑی یادیں بنتی ہیں۔










