مہتاب عزیز
اگست 2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے نے بنگلہ دیش کے سیاسی منظرنامے کو یکسر بدل دیا۔ اس تبدیلی کے بعد جس جماعت نے سب سے نمایاں عروج دکھایا وہ جماعت اسلامی بنگلہ دیش ہے۔
دہائیوں تک ریاستی جبر، پابندیوں اور جھوٹے الزامات کا سامنا کرنے والی یہ جماعت اب بنگلہ دیش میں نوجوانوں کی سب سے مقبول سیاسی قوت بنتی دکھائی دیتی ہے، اور اس کے مقابلے میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی(خالدہ ضیا کی جماعت) شدید داخلی بحران، بدعنوانی اور قیادت کی کمزوری کا شکار ہے۔
بنگلہ دیش کی آبادی میں نوجوان فیصلہ کن کردار رکھتے ہیں۔ ملک کا median age صرف چھبیس سال ہے اور تقریباً چالیس سے پچاس ملین افراد پندرہ سے انتیس سال کی عمر میں شامل ہیں۔ یہ گروہ کل ووٹرز کا ایک تہائی بنتا ہے اور 2024 کی جولائی تحریک کے بعد پہلی بار ووٹ ڈالنے والا ہے۔
اس تناظر میں ستمبر 2025 میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور جہانگیر نگر یونیورسٹی کے طلبہ یونین انتخابات میں جماعت اسلامی کے طلبہ ونگ کی شاندار کامیابی نے سیاسی مباحث کو تبدیل کر دیا۔ یہ کامیابی واضح کرتی ہے کہ نوجوان ووٹرز تنظیم، نظریاتی شفافیت اور عملی نظم کی تلاش میں جماعت کو نئے سرے سے دیکھ رہے ہیں۔
ابتدائی سرویز میں جماعت اسلامی کی مقبولیت پندرہ فیصد کے قریب بتائی جا رہی تھی۔ مگر نومبر 2025 میں اس کی مقبولیت چھبیس فیصد سے بڑھ کر بی این پی کے نہایت قریب پہنچ چکی ہے، اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر بی این پی کے قائمقام چیئرمین طارق رحمان دسمبر میں بھی ملک واپس نہ آئے تو بی این پی کی مقبولیت بیس فیصد سے بھی نیچے جا سکتی ہے۔ اس صورت میں جماعت اسلامی ملک کی سب سے بڑی سیاسی قوت کے طور پر ابھر آئے گی، جو 2026 کے انتخابات کی سمت کو یکسر بدل دے گی۔
دلچسپ اور اہم رجحان یہ ہے کہ جماعت اسلامی پہلی بار اقلیتوں، خصوصاً ہندو کمیونٹی میں بھی پذیرائی حاصل کر رہی ہے۔ حسینہ حکومت کے زوال کے دوران جب مختلف علاقوں میں کشیدگی پیدا ہوئی تو جماعت کے کارکنوں نے مندروں اور اقلیتی بستیوں کی حفاظت میں اہم کردار ادا کیا جس کا اعتراف مقامی ہندو رہنماؤں نے بھی کیا۔ اس کے نتیجے میں پروپیگنڈہ کمزور پڑا اور کئی ہندو اکثریتی حلقوں میں جماعت کو ووٹ ملنا شروع ہوا ہے۔ مذہبی ووٹر کے ساتھ ساتھ یہ اقلیتی رجحان جماعت کے نئے سیاسی افق کی نشاندہی ہے۔
اس کے مقابلے میں بی این پی کا بحران مزید سنگین ہو رہا ہے۔ حسینہ کے جانے کے فوراً بعد ملک کے مختلف علاقوں میں بی این پی کے مقامی کارکن بھتہ خوری، لینڈ گریبنگ اور دیگر اسکینڈلز میں بڑے پیمانے پر ملوث پائے گئے۔ جولائی 2025 میں ڈھاکہ میں ایک تاجر کے قتل کا واقعہ اسی سلسلے کی ایک نمایاں مثال ہے جس میں بی این پی کی یوتھ ونگ "جوبو دال” مجرم پائی گئی۔ دیگر بڑے شہروں ساوار، گیزپور اور سلہٹ میں بھی کئی اسی نوعیت کے سکینڈلز سامنے آئے۔ جنہوں نے بی این پی کی اخلاقی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔
بی این پی نے داخلی احتساب کا تاثر دینے کے لیے سات ہزار سے زائد کارکنوں اور عہدیداروں کے خلاف کارروائیاں کیں جن میں معطلی اور اخراج شامل تھے۔ مگر اس عمل نے ایک اور مسئلے کو بھی واضح کیا کہ بدعنوانی کتنا گہرا ڈھانچے میں جڑ پکڑ چکی ہے، اور اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے اخراج سے تنظیمی قوت کمزور پڑ گئی ہے۔
قیادت کا بحران اس سے زیادہ سنگین ہے۔ خالدہ ضیا شدید بیماری کے باعث مکمل طور پر سیاسی منظر سے باہر ہیں۔ پارٹی اب ان کی غیر سیاسی بہوؤں زبیدہ رحمان اور سیدہ شمیمہ کی نگرانی میں ہے جنہیں عوامی سطح پر قبولیت حاصل نہیں ہے۔ دوسری جانب پارٹی کے قائمقام چیئرمین طارق رحمان 2008 سے لندن میں ہیں، اور وہ ابھی بھی وطن واپس آنے پر آمادہ نہیں۔ طارق کی غیر موجودگی نہ صرف انتخابی مہم کو متاثر کرے گی بلکہ بی این پی کے کارکنوں کے حوصلوں کو پست کر دے گی۔
ابتدائی سرویز میں بی این پی کی مقبولیت 40 فیصد تھی جو وقت کے ساتھ تیزی سے کم ہو کر 30 فیصد سے بھی نیچے آ چکی ہے۔ سوشل میڈیا پر #ExposeBNP جیسے ٹرینڈز نے بھی اس گراوٹ کو مزید نمایاں کیا ہے۔ عوامی لیگ کے ووٹرز کو اپنی طرف لانے کی بی این پی کی حکمت عملی نے الٹا اپنی ہی کور سپورٹ بیس کو ناراض کر کے پارٹی میں مزید تقسیم پیدا کر دی ہے۔
آنے والے انتخابات کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ عوامی لیگ بطور جماعت تو حصہ نہیں لے سکے گی۔ حسینہ واجد کے سیاسی خاتمے کے بعد اس کے سابق اتحادی بھی شدید کمزوری کا شکار ہیں۔ جاتیہ پارٹی اور دیگر علاقائی جماعتیں منشور سازی کی ابتدائی سطح تک میں کنفیوژن کا شکار دکھائی دیتی ہیں، اور انتخابی صف بندیوں میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔
یہ کمزوری جماعت اسلامی اور بی این پی دونوں کے لیے امکانات اور خطرات کا نیا میدان کھولتی ہے، مگر موجودہ رجحانات جماعت اسلامی کے پلڑے کو بھاری ثابت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہ تمام عوامل مل کر بتاتے ہیں کہ بنگلہ دیش کی سیاست ایک تاریخی موڑ پر کھڑی ہے۔ جماعت اسلامی نوجوانوں، اقلیتوں اور شہری ووٹرز میں ابھرنے والی مقبولیت کے باعث نئی سیاسی حقیقت بن رہی ہے جبکہ بی این پی کی بقا اور قوت کا دارومدار اس کی قیادت کے فیصلوں، داخلی نظم اور بدعنوانی پر قابو پانے پر ہوگا۔ انتخابی عمل اب محض اقتدار کی تبدیلی کا مرحلہ نہیں بلکہ بنگلہ دیش کی سیاسی سمت کے طویل مدتی فیصلے کا موقع بن چکا ہے۔










