پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری

ڈی جی آئی ایس پی آر کی غیر معمولی پریس کانفرنس کا مرکزی پیغام کیا ہے؟

·

گزشتہ روز پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک غیر معمولی پریس کانفرنس کی۔ انہوں نے ’ایک شخص‘ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

اغلب امکان ہے کہ یہ ’ایک شخص‘ سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان ہی ہیں جیسا کہ تمام میڈیا اداروں نے سمجھا۔

جمعے کو پریس کانفرنس کے دوران فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈی جی نے اُس ایک شخص کو’ریاست مخالف‘، ’اپنی ذات کا قیدی‘، ’خودپسند‘ اور ’ذہن کے فریب کا شکار شخص‘ قرار دیا ۔ حتیٰ کہ یہ بھی کہا کہ اس شخص میں کسی ’ذہنی مریض‘ کی علامات بھی پائی جاتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ عمران خان کی جیل میں اپنے اہل خانہ اور وکلا سے ملاقاتوں کا مقصد ’ریاست مخالف بیانیہ‘ پھیلانا ہے۔

پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ مسلح افواج اور اس کی قیادت پر مزید حملے برداشت نہیں کیے جائیں اور اس کا ’بغیر دستانے پہنے‘ مقابلہ کیا جائے گا۔

’قومی سلامتی کا ایک خطرہ اندرونی ہے۔ اس (خطرے) کا محور فریب کا شکار ایک شخص ہے جو اپنی ذات کا قیدی ہے۔ جس کے نزدیک اس کی ذات اور اس کی خواہشات ریاست پاکستان سے بڑھ کر ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس کی مایوسی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ میں نہیں تو کچھ نہیں۔ آپ کے لیے میرے سے یہ سب سننا عجیب ہوگا کیونکہ وہ شخص اور اس کا پھیلایا جانے والا بیانیہ قومی سلامتی کا مسئلہ بن چکا ہے۔‘

’اب سیاست ختم ہو چکی ہے، اب اس کا بیانیہ پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔‘

ترجمان نے مزید کہا کہ ’اس لیے اب ہمیں بغیر کسی ابہام کے واضح کرنا ہوگا۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ یہ بیانیہ کیوں جاری ہے۔ اس بیانیے کے لیے بیرونی کرداروں کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔‘

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ’مسلح افواج پاکستان کی ہیں۔ ہم کسی نسل، علاقے، مذہبی جھکاؤ یا سیاسی سوچ کی نمائندگی نہیں کرتے۔ ہم میں ہر علاقے، زبان، مسلک اور سیاسی سوچ کے لوگ موجود ہوتے ہیں۔ ہم ایک بار یونیفارم پہن کر سب بھلا دیتے ہیں۔۔۔ ہم روزانہ کی بنیاد پر پاکستان کے عوام اور استحکام کے لیے جانیں دے رہے ہیں۔‘

’ہم پاکستان کی ایلیٹ سے نہیں آتے بلکہ مڈل کلاس، لوئر مڈل کلاس اور غریب طبقے سے آتے ہیں۔ خود آرمی چیف ایک اسکول ماسٹر کے بیٹے ہیں، ہم عوام میں سے آئے ہیں، ہمارے افسران میں کوئی کلرک کا بیٹا ہے کوئی کسی غریب آدمی کا بیٹا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ہمارے افسران اور نوجوان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہو رہے ہیں، تم فوج پر تنقید کرتے ہو، ذرا دہشت گردوں کے آگے تو آؤ، اپنے بیٹوں کو تو تم نے باہر رکھا ہوا ہے ذرا کھڑا تو کرو انہیں خوارج کے آگے،  بھیجو اپنی اولاد کو فوج میں، مسلح افواج کے خلاف نفرت کا بیج بویا جارہا ہے حالانکہ پاک فوج کا جوان اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر میدان جنگ میں جاتا ہے، خوارج کے سامنے کون کھڑا ہوتا ہے؟ کون اپنی جانیں دیتا ہے؟ ہم نے جانیں دینی اور لینی ہوتی ہیں۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ انہوں نے عوام کو بتایا تھا کہ ملک ڈیفالٹ کرجائے گا، کرگیا؟ یہ بھی بتایا تھا کہ فوج لڑ نہیں سکتی صرف سیاست کرتی ہے، تو فوج لڑی یا نہیں لڑی اور لڑ کر دکھایا، پوری دنیا میں اُس کی آواز گئی یا نہیں گئی؟

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ایسی باتیں جو کرتے ہیں ان کے بارے میں بس اتنا کہوں گا کہ کتا جب بھونک رہا ہوتا ہے تو زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

ترجمان پاکستانی فوج نے واضح کیا کہ ’اگر کوئی اپنی ذات، ذہن کے فریب یا خود پسندی کی سوچ کے لیے مسلح افواج اور اس کی قیادت پر حملہ آور ہوتا ہے تو ہم بھی سختی سے اس کا مقابلہ کریں گے۔ اس پر کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔‘

ڈی جی آئی ایس پی آر نے عمران خان سے ہونے والی وکلا اور خاندان کی ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’جب کوئی اس شخص سے ملتا ہے تو آئین، قانون اور رولز کو بالائے طاق رکھ کر وہ ریاست پاکستان کے خلاف بیانیہ دیتا ہے، خاص کر مسلح افواج اور اس کی قیادت کے خلاف۔‘

’کون سے آئین، قانون یا رولز میں اس کی اجازت دی جا سکتی ہے؟ کون سی سیاست اس کی اجازت دیتی ہے کہ آپ ایک سزا یافتہ مجرم سے ملیں اور وہاں سے مسلسل ملکی افواج کے خلاف بیانیہ آ رہا ہو؟‘

انھوں نے آئین میں اظہار رائے کی آزادی کے آرٹیکل 17 اور 19 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’سیاسی سرگرمیوں کی آزادی ہے مگر ایسی چیزوں کی اجازت نہیں جو ملکی سلامتی و استحکام کے خلاف ہو۔‘

ترجمان پاکستانی فوج نے سوال کیا کہ ’یہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔۔۔ پہلے بیانیہ بنایا گیا کہ آئی ایم ایف کو خط لکھیں، ترسیلاتِ زر بند کر دیا جائے، سول نافرمانی کریں۔‘

’چند دن پہلے کہا گیا کہ اس فوج کی قیادت کو نشانہ بنائیں جنھوں نے معرکہ حق میں اپنے سے آٹھ گنا بڑی معیشت اور فوج کے سامنے کھڑا کیا۔‘

اس پریس کانفرنس کے دوران عمران خان کے ایکس پر پیغامات اور ان کی بہنوں کے انڈین ٹی وی چینلوں کے دیے گئے انٹرویوز کے کلپ چلائے گئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے الزام لگایا کہ اس بیانیے کو افغان اور انڈین اکاؤنٹس کی طرف سے پھیلایا جاتا ہے۔

’اس کی سیاست کی تعریف یہ ہے کہ اگر میں اقتدار میں ہوں تو جمہوریت ہے، اقتدار میں نہیں تو آمریت ہے۔‘

عمران خان کا نام لیے بغیر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’اس شخص نے کہا تھا کہ میری پارٹی کا جو بندہ بھی نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی گیا ہے وہ غدار ہے۔ یہ کتنا دلچسپ ہے کہ وہ اسے میر جعفر اور میر صادق مماثلت دے رہا ہے۔ اس کی منطق سے جائیں تو یہ کہہ رہا ہے کہ جو آپ سارے آئی ایس پی آر آئے ہیں آپ بھی غدار ہیں۔‘

وہ سوال کرتے ہیں کہ ’تم ہو کون؟ تمھیں کیا پریشانی ہے؟ یہ کس کی زبان بول رہے ہو؟ تم اپنے آپ کو سمجھتے کیا ہو؟‘

انھوں نے کہا کہ یہ ان کے ’ذہنی مرض کی علامات ہیں۔ اس نے جی ایچ کیوں پر حملہ نہیں کرایا تھا؟ جو اپنی فوج پر حملہ کروا سکتا ہے، شہیدوں کی یادگاروں پر آگ لگوا سکتا ہے۔۔۔ اسے (کسی کو) غدار کہنے میں کیا مسئلہ ہوگا؟‘

پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ ’وہ (عمران خان) ایک مانے ہوئے غدار شیخ مجیب الرحمان سے متاثرہ ہے۔ بار بار ان کا حوالہ دیتا ہے۔۔۔ وہ یہ سمجھتا ہے اسے سارا علم ہے اور جو وہ کہہ رہا ہے سب ٹھیک ہے۔‘

’اس کی سیاست تعریف یہ ہے کہ اگر میں اقتدار میں ہوں تو جمہوریت ہے، اقتدار میں نہیں تو آمریت ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ہمیں روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کیا ہورہا ہے،کیوں ہو رہا ہے،کون کرا رہا ہے۔ آپ کی سیاسی شعبدہ بازی کا وقت ختم ہو چکا ہے۔‘

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغانستان سے متعلق ریاستِ پاکستان کی پالیسی پر تنقید کی جاتی ہے۔ انھوں نے سوال کیا کہ ’کیا پاکستان کی سکیورٹی کابل کے راستے سے آئے گی؟ کیا دلی اس کی ضمانت دے گا؟‘

انھوں نے کہا کہ ’جب انڈیا نے پاکستان پر حملہ کیا تو اگر یہ ذہنی مریض ہوتا تو یہ ان سے بھی بات چیت کے لیے نکل پڑتا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ شخص کہتا ہے آپریشن نہ کریں، بات چیت کریں۔ مگر وہ ہمارے بچوں کو شہید کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ کون سی منطق ہے؟ بات چیت کا بخار بہت عرصے سے جاری ہے۔ یہ پشاور میں ان کا دفتر کھولنا چاہتے تھے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’لوگوں کو آپریشن کے خلاف کھڑے ہونے کے لیے ابھارا جاتا ہے۔۔۔ سکیورٹی کی ضمات تبھی ممکن ہے جب آپ دشمن کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو جائیں۔ بھیک سے سکیورٹی نہیں ملتی۔‘

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ’شدت پسندی اور مجرمانہ سرگرمیوں کا گٹھ جوڑ ہے۔۔۔ اس کی سیاسی وجہ بھی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا سے صرف دہشتگردی کی خبر آئے۔‘

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان میں اب ’جھوٹ اور فریب کا کاروبار مزید نہیں چلے گا۔ اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ اس بیانیے کو چلایا جائے اور اس کی سہولت کاری کی جائے۔‘

’اگر کوئی سمجھتا ہے کہ اس کی ذات، سیاست اس ملک کے تحفظ، ریاست اور عوام کے جان و مال اور عزت سے بڑی ہے تو وہ غلط سمجھتا ہے۔ کیونکہ پاکستان کی فوج کھڑی ہے، اور کھڑی رہے گی۔ ہم کہیں نہیں جا رہے۔‘

’وہ کچھ بھی کریں، اور وہ لوگ ان کی سہولت کاری کرتے ہیں، ہم (ان کے خلاف) کھڑے رہیں گے۔‘

اس سب کے باوجود جب ان سے ایک صحافی کی طرف سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ عمران خان کی جماعت تحریک انصاف پر پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں؟

تو اس پر انھوں نے جواب دیا کہ ’فوج ریاست کا ایک ادارہ ہے اور ہمارا کام اپنا نقطہ نظر دینا ہے۔ ہمارے پاس یہ حق ہے کہ ہم عوام کو آگاہ کریں کہ یہ ریاست مخالف ہے۔

 ’ریاست اور تمام ادارے ایک ساتھ کام کرتے ہیں۔۔۔ ریاست جو فیصلہ کرتی ہے، ادارے اس کے ساتھ چلتے ہیں۔ ریاست فوج نہیں ہے۔ حکومت ریاست ہوتی ہے، اس کے ادارے ہوتے ہیں۔ ہم ایک اہم لیکن صرف ایک ادارہ ہیں۔‘

 ہم اس لیے کھلے عام اس پر بات کر رہے ہیں کیونکہ فوج سے متعلق ان کی باتیں بھی کھلے عام قومی، بین الاقوامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر کی جاتی ہیں۔‘

’ہمارا کام ہے آپ کو بتانا کہ ہم اس پر کیا محسوس کرتے ہیں۔ ریاست ہم سے بالاتر ہے۔ یہ ان کا فیصلہ ہے۔ آپ ان سے پوچھیں کہ وہ کیا کریں گے۔‘

ترجمان پاکستانی فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ’یہ شخص، اس کا میڈیا اور سوشل میڈیا آرمی سے بہت لگاؤ رکھتا ہے، وہ جاننا چاہتے ہیں کہ فوج میں کیا چل رہا ہے۔‘

انھوں نے چیف آف ڈیفینس فورسز یعنی سی ڈی ایف کی تعیناتی کے نوٹیفیکیشن کا بھی حوالہ دیا۔ ’ہر 10 منٹ، 15 منٹ یا گھنٹے بعد کوئی وی لاگ کر رہا ہے۔ کبھی کسی نے کسی کو وائس چیف ڈکلیئر کر دیا یا کوئی پروموٹ ہو گیا۔‘

انھوں نے سوال کیا کہ ’یار تمھیں کیا آبسیشن ہے فوج کے ساتھ؟ تمھارے پاس ایک صوبے کی حکومت ہے اس کی گورننس کے بارے میں بات کیوں نہیں کرتے؟ ۔۔۔ تمھاری سوئی فوج پر کوئی اڑی ہوئی ہے۔ ہم بار بار کہہ رہے ہیں فوج کو اپنی سیاست سے دور رکھو۔‘

ڈی جی آئی ایس پی آر نے خاص طور پر اس بارے میں شکایت کی کہ ’فوج کے بارے میں پروپیگنڈا کیا گیا، فوج میں وائس چیف بن گیا۔ یعنی ایک جنرل افسر کی تصویر لے کر اپنا جھوٹا بیانیہ بنایا گیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ چیف آف آرمی سٹاف کی ریٹائرمنٹ اور سی ڈی ایف کے نوٹیفیکیشن پر ’ایک سیلاب تھا جھوٹ اور پروپیگنڈے کا۔ کیا یہ آزادی اظہار رائے ہے؟‘

اس پریس کانفرنس کے دوران کئی صحافیوں و سیاسی شخصیات کے وی لاگ اور ویڈیو پیغامات چلائے گئے۔ ’کسی کو ایڈوائزر بنا دیا، کسی کو این ایس اے بنا دیا۔ کیا باہر انھوں نے کوئی کابینہ ڈویژن کھولی ہوئی ہے؟ جعلی نوٹیفیکیشن بھی چلایا گیا۔‘

وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ اور دو اہم ترین وفاقی وزرا نے بتایا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی پریس کانفرنس کا مطلب کیا ہے؟ اور اس کے بعد کیا ہونے والا ہے؟

وزیراعظم کے مشیر  سینیٹر رانا ثنا اللہ نے واضح کردیا کہ پی ٹی آئی سے اب مذاکرات کے امکانات نہیں۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ٹوئٹ کے بعد پیدا صورتِ حال سے  لگتا ہے کہ حالات مزید پیچیدہ ہوگئے۔  بانی صورتِ حال کو مزید خرابی کی طرف لے گئے۔

انہوں نے کہا کہ  وزیراعظم نے پی ٹی آئی کو  ایوان میں مذاکرات کی پیش کش کی تھی ، وزیراعظم کی پیش کش کو وہ تو واپس نہیں لے سکتے اور نہ ہی انہوں نے واپس لیا ہے۔

یادرہے کہ اس سے پہلے اپنے بیان میں رانا ثنااللہ نے پی ٹی آئی کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ جمہوریت ڈائیلاگ سے آگے بڑھتی ہے، ڈیڈلاک سے نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو مذاکرات کی جو پیش کش وزیر اعظم نے کی وہ آج بھی موجود ہے۔

 وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھی کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے بات چیت کا موقع گنوا دیا ہے اور  اب کسی انتشاری، دہشت گرد، انتہاپسند سوچ رکھنے والے سے مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں۔ 

عطا تارڑ نے کہا ہے کہ ان کو اب جیل ملاقات کی بالکل اجازت نہیں اور مجمع اکٹھاکرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔

جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ  بانی پی ٹی آئی ملک کے لیے خطرہ ہیں اور ملک کونقصان پہنچانا چاہتے ہیں، وہ اور اس کی پارٹی ملک کو ڈیفالٹ کروانا چاہتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ملک کو ڈیفالٹ کروانے کے لیے آئی ایم ایف کو خطوط لکھے گئے۔ 9 مئی کو فوج کی تنصیبات پر حملےکیےگئے۔ جو کام دشمن بھی نہیں کرتا وہ پی ٹی آئی نے کیے۔ بانی پی ٹی آئی پاکستان کی سالمیت کے لیے خطرہ ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو  اپنا سیاسی مستقبل نظرنہیں آرہا اس لیے وہ ایسا بیانیہ بنا رہےہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ قیدی کی ملاقات قانون اورضابطے کے مطابق ہوتی ہے، لیکن اب کوئی ملاقات نہیں ہے، ملاقات بند ہے، جیل کے باہر کسی نے امن امان خراب کرنے کی کوشش کی تو مقدمات ہوں گے، آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

عطاتارڑ کا کہنا تھا کہ اب ریاست کی رٹ بحال کرنے کا وقت ہے، ان کو اب جیل ملاقات کی بالکل اجازت نہیں اور مجمع اکٹھا کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔

ان کا کہنا ہے کہ جیل رولز کے مطابق ملاقات میں جیل سپرنٹنڈنٹ موجود ہوتا ہے، جیل سپرنٹنڈنٹ نے رپورٹ کیا کہ ملاقات میں سیاسی گفتگو اور سیاسی ہدایات بھی دی گئیں، اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ جیل سے بیٹھ کردشمن کے ایجنڈے کوآگے بڑھایا جائے۔

عطا تارڑ سے سوا ل کیا گیا کہ کیا اب پی ٹی آئی کے ساتھ مفاہمت کا وقت ختم ہوگیا، اب کوئی گنجائش نہیں؟ جس پر عطا تارڑ نے جواب دیا کہ  انہوں نے موقع گنوادیا، اب کسی انتشاری، دہشت گرد، انتہاپسند سوچ رکھنے والے سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی، بانی پی ٹی آئی کے بغیر بات کرنی ہے تو پارلیمنٹ میں ضرور بات کریں۔

انہوں کہا کہ آئیں معذرت کریں اور کہیں کہ آپ کے لیڈر نے ایسے گندے بیانات دیے ہیں، شرمندگی کا اظہارکریں پھر غور کیا جاسکتا ہے۔

عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے اپنا موقع گنوادیا ہے اس کے علاوہ اب بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ پی ٹی آئی اراکین قومی اسمبلی ہمیں کہتے ہیں کہ انہیں بانی پی ٹی آئی نے پھنسادیا ہے، بانی پی ٹی آئی انتہاپسند ہے، اسامہ بن لادن کو شہید کہتا ہے، بانی پی ٹی آئی طالبان کی سوچ رکھتا ہے اور دہشت گردوں کو اپنا دوست مانتا ہے، اس انتہاسپند شخص کو جنگی جنون سوار ہے اس کی اپنی جماعت کے لوگ انہیں کتنا برداشت کریں گے؟ پی ٹی آئی کے لوگ ان کے بیانیے کے ساتھ نہیں کھڑے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس خیبرپختونخوا میں گورنرراج کا سنجیدہ آپشن موجود ہے، ملک کے خلاف بیانیہ بنانے والوں کے خلاف مقدمات درج ہونگے، ان کا اب کوئی مستقبل نہیں، ان کا سیاسی اسپیس اوربیانیہ محدود کیا جائے گا۔

عطاتارڑ نے پی ٹی آئی پرپابندی کے سوال پرجواب دیا کہ مرے ہوئے کو کیا مارنا ان کے پاس نہ نشان ہے نہ جماعت ہے۔

 وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہےکہ  فوج پر تنقید ہم نے بھی کی لیکن کبھی سرخ لکیرعبور نہیں کی۔

جیو نیوز کے پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے نیوز کانفرنس میں فطری اور قدرتی ردعمل دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی والے دہشتگردی کے خلاف جنگ نہیں لڑ سکتے، اس جنگ کو اپنا نہیں سکتے، شہیدوں کے جنازے نہیں پڑھ سکتے، اور اس کے بجائے ہندوستانی میڈیا کو پاکستان کے خلاف انٹرویو دیتے ہیں تو پھر یہی زبان سنیں گے جو سنی ہے۔ 

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پچھلے چار پانچ سال میں حالات خراب ہونے کی ذمہ داری عمران خان پر ہے،  ان کی ہمشیرہ کی بھارتی میڈیا سے گفتگو فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہوئی، بھارت کے ساتھ کشیدہ ماحول میں انھوں نے جان بوجھ کر انٹرویو دیا۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پرسب کچھ پی ٹی آئی کی مرضی سے ہو رہا ہے،  جو کچھ سوشل میڈیا پر ہو رہا ہے کیا کبھی پی ٹی آئی نے اس کی مذمت کی ہے؟ 

ان کا کہنا تھا کہ بیرسٹر گوہر کو کوئی لفٹ نہیں کراتا، ان کی پارٹی کے ورکرز ان کے خلاف بیان دیتے ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی کیا بات کریں گے جب ان کی اپنی پارٹی مخالفانہ بیانات دے رہی ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا دہشتگردی کے خلاف جنگ نہیں لڑرہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ فوج پر تنقید ہم نے بھی کی لیکن کبھی سرخ لکیر عبور نہیں کی،  انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف دہشت گردی کے خلاف جنگ کی کھلی مخالفت کرتی ہے۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں