مہتاب عزیز
بنگلہ دیش کی سیاست میں اگست 2024 کے واقعات نے نہ صرف داخلی اقتدار کے ڈھانچے کو تبدیل کیا بلکہ قیامِ بنگلہ دیش سے جڑے بنیادی نظریاتی بیانیے پر بھی سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ شیخ حسینہ واجد کے پندرہ سالہ اقتدار کے خاتمے، جسے اب بنگلہ دیش میں ’مون سون انقلاب‘ یا ’جولائی تحریک‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے، کے بعد ملک میں ایک زبردست سیاسی خلا پیدا ہوا جسے جماعت اسلامی بنگلہ دیش (JI) جیسی منظم مذہبی و سیاسی قوتیں تیزی سے پُر کر رہی ہے۔ اس سیاسی تبدیلی نے بھارت نواز اور عالمی میڈیا کے بنگالی زبان کے آؤٹ لیٹس میں ایک اضطراب پیدا کر دیا ہے، جو اب کثرت سے 1971 کی جنگِ آزادی کے واقعات، پاکستان فوج کے مبینہ مظالم اور ’آزادی کے ہیروز‘ کی کہانیوں کو غیر معمولی طور پر اجاگر کر رہے ہیں تاکہ جماعت اسلامی کے اقتدار میں آنے کے امکانات کے خلاف ایک عوامی نفسیات اور عالمی دباؤ پیدا کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ 2024 کے بعد بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کی واپسی محض ایک کالعدم سیاسی جماعت کی بحالی نہیں ہے بلکہ یہ ملک کے سیکولر ڈھانچے کی جگہ ایک ’دینی شناخت‘ کی جانب منتقلی کا اشارہ ہے ۔
شیخ حسینہ کے دور میں جماعت اسلامی کو شدید جبر کا سامنا کرنا پڑا، اس کی اعلیٰ قیادت کو نام نہاد جنگی جرائم کے ٹریبونلز کے ذریعے پھانسیاں دی گئیں اور بالآخر اس پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ تاہم، عبوری حکومت آنے کے بعد سپریم کورٹ نے اس پابندی کو کالعدم قرار دے کر جماعت اسلامی کو دوبارہ قومی سیاست کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا موقع فراہم کیا۔
جماعت اسلامی نے اس عبوری دور کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اثر و رسوخ کو صرف سڑکوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ عوامی جامعات، سول بیوروکریسی اور ریاست کے دیگر اہم اداروں میں نفوذ حاصل کیا۔ ڈھاکہ یونیورسٹی سمیت کئی سیکولر نظریات کے گڑھ سمجھے جانے والے تعلیمی اداروں میں اسلامی چھاتر شبیر نے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔
جماعت اسلامی کی اب نئی سیاسی حکمتِ عملی سامنے آئی ہے، اُس نے بی این پی (BNP) سے دوری اختیار کرتے ہوئے اور طالب علم رہنماؤں کی جانب سے تشکیل دی گئی نیشنل سٹیزن پارٹی (NCP) کے قریب ہوئی ہے۔ یہ اتحاد موجودہ انتخابی نظام کو تبدیل کر کے ’متناسب نمائندگی‘ کا نظام لانے کی کوشش کر رہا ہے، جس سے جماعت اسلامی جیسی کیڈر بیسڈ جماعتوں کو پارلیمان میں ہمیشہ 40 سے 50 نشستیں مستقل ملنے کا امکان پیدا ہو جائے گا، جو کسی بھی مستقبل کی مخلوط حکومت میں انہیں ایک ناگزیر قوت بنا دے گا۔ موجودہ انتخابی مہم میں ایک طرف جماعت اسلامی کو خلاف توقع پہلی بار ہندو اکثریتی حلقوں میں پذیرائی مل رہی ہے، دوسری جانب بی این پی کو خدشہ ہے کہ جماعت اسلامی اس کے روایتی ووٹ بینک میں نقب لگا رہی ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں اور نوجوانوں میں اس کی مقبولیت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
دوسری جانب بھارت نواز میڈیا اور عالمی بنگالی آؤٹ لیٹس میں 1971 کے واقعات کی اچانک تشہیر کے پیچھے یہ تزویراتی خوف کارفرما ہے کہ بنگلہ دیش اپنے قیام کی بنیادوں (سیکولرزم اور بھارت کے ساتھ تزویراتی قربت) سے دور ہٹ کر ایک ایسے راستے پر چل پڑا ہے جو پاکستان، ترکی اور چین کے محور کے قریب ہے۔ ان میڈیا ہاؤسز کی جانب سے ’رضاکاروں‘ کی کہانیوں کو دوبارہ زندہ کرنا اور 1971 کے مبینہ قتلِ عام کو اجاگر کرنا دراصل ایک نظریاتی ڈھال ہے جس کا مقصد جماعت اسلامی کو عوام کی نظر میں اخلاقی طور پر غیر مستحکم کرنا ہے۔
اس میڈیا وار کے نتیجے میں بنگلہ دیشی معاشرے میں ایک نئی تقسیم پیدا ہو رہی ہے۔ ایک طرف وہ محدود نسل ہے جو 1971 کے زخموں کو ابھی تک ریاست کی بنیاد تسلیم کرتی ہے، اور دوسری طرف وہ نئی نسل (Gen-Z) ہے جو 1971 کو ایک تاریخی حقیقت تو مانتی ہے لیکن اسے موجودہ دور کی ’استبدادیت‘ کے خلاف جدوجہد کے لیے رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہتی ۔
عالمی میڈیا کی جانب سے 1971 کے بیانیے پر ضرورت سے زیادہ زور دینے کو بنگلہ دیشی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ’بھارتی مداخلت‘ اور ’تاریخی بلیک میلنگ‘ کے طور پر دیکھ رہی ہے، جس کے نتیجے میں الٹا بھارت مخالف جذبات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔
بنگلہ دیش میں بنگالی زبان کے عالمی میڈیا، بشمول بی بی سی بنگلہ اور وائس آف امریکا (VOA)، کے کردار پر یہ دانشورانہ بحث جاری ہے۔ اگرچہ یہ ادارے غیر جانبداری کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن ان کے مواد میں 1971 کے ہیروز کی کہانیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر توجہ کا مرکز اکثر جماعت اسلامی اور اس کے ہمدردوں کی جانب مڑ جاتا ہے، جس سے ایک ایسا ماحول بنتا ہے جہاں مذہبی سیاست کو براہِ راست ’دہشتگردی‘یا ’غداری‘ سے جوڑا جاتا ہے ۔
بنگلہ دیش میں اس وقت تاریخ کی ایک ایسی تشکیل نو (Rewriting) ہو رہی ہے جو 1971 کے روایتی بیانیے کو چیلنج کرتی ہے۔ جماعت اسلامی اور جولائی تحریک کے حامیوں نے 2024 کے احتجاج کو ’دوسری آزادی‘ (Second Liberation) قرار دیا ہے ۔ اس اصطلاح کا مقصد یہ ہے کہ 1971 میں پاکستان سے آزادی کے نام پر ملک کو ’بھارتی تسلط‘ اور ایک ’خاندانی آمریت‘ کا شکار بنایا گیا تھا، جس سے حقیقی آزادی اب 2024 میں حاصل ہوئی ہے ۔
اس نئے بیانیے میں 1971 کے دوران ہونے والے مظالم کی ذمہ داری صرف پاک فوج پر ڈالنے کے بجائے، اس وقت کے بعض واقعات کو ’بھارتی سازش‘ یا ’مبالغہ آرائی‘ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے ۔ سوشل میڈیا پر ایسے مواد کی کثرت ہے جہاں 1971 کے ہتھیار ڈالنے کی تقریب (Surrender Ceremony) کو بنگلہ دیش کی فتح کے بجائے بھارت کی فتح کے طور پر دکھایا جاتا ہے تاکہ عوامی ذہنوں میں بھارت کے لیے موجود ہمدردی کو ختم کیا جا سکے ۔
جماعت اسلامی کے امیر، ڈاکٹر شفیق الرحمن، نے حالیہ بیانات میں 1971 کے حوالے سے ایک محتاط رویہ اپنایا، جس میں انہوں نے کہا کہ 1971 میں جماعت کا موقف بھارت کے زیرِ اثر آزادی حاصل کرنے کے خلاف تھا۔ اب جب جماعت اپنے ماضی کی قید سے نکل کر ایک نئے مستقبل کی طرف بڑھ رہی ہے، تو مخصوص میڈیا اس کو 1971 کے آئینے میں دیکھانے کی کوشش کر رہا ہے ۔
اس سلسلے میں یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کا عروج اور بھارت مخالف بیانیے کی جڑیں مضبوط ہونا جنوبی ایشیا کی جیو پولیٹکس میں ایک زلزلے کے مترادف ہے۔ بھارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ’چکنز نیک‘ (Siliguri Corridor) کی سلامتی ہے، کیونکہ بنگلہ دیش کے بعض عناصر نے کھلے عام اس راہداری کو کاٹنے کی دھمکی دی ہے ۔ شیخ حسینہ کے دور میں بھارت کو ملنے والی ’سیکیورٹی گارنٹی‘ اب ختم ہو چکی ہے، اور بھارتی عسکری قیادت کو خدشہ ہے کہ بنگلہ دیش کی سرزمین ایک بار پھر بھارت مخالف علیحدگی پسند گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن سکتی ہے، خصوصاً حسینہ واجد کو بھارت میں پناہ مہیا کرنے کے جواب میں یہ بظاہر لازمی رد عمل دکھائی دیتا ہے۔
دوسری جانب، پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں ایک غیر معمولی گرمجوشی دیکھی جا رہی ہے۔ عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس کی پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقاتیں، ویزا پالیسی میں نرمی، اور دفاعی تعاون کی بحالی اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈھاکا اب اسلام آباد کے ساتھ اپنے تعلقات کو ایک نئے زاویے سے دیکھ رہا ہے ۔ یہ تبدیلی محض سفارتی نہیں بلکہ نظریاتی بھی ہے، جہاں ’اسلامی یکجہتی‘ کا نعرہ ایک بار پھر سیکولر قوم پرستی پر غالب آ رہا ہے ۔
ترکی کا ماڈل، جو جدیدیت اور اسلام پسندی کا امتزاج ہے، بنگلہ دیش کے نوجوانوں کے لیے پرکشش ثابت ہو رہا ہے۔
بھارت نواز میڈیا بنگلہ دیش میں کسی غیر مسلم کے ساتھ ہونے والے اکا دکا انفرادی واقعات کو 1971 کے دوران ہندوؤں کے قتلِ عام سے جوڑ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ بنگلہ دیش ایک بار پھر 1971 کی ’تاریک راہوں‘ پر چل پڑا ہے۔ یہ سب جماعت اسلامی کے پیدا کردہ نظریاتی ماحول کی وجہ سے ہو رہا ہے۔
بنگلہ دیش میں 2026 کے انتخابات ملک کی تاریخ کے اہم ترین انتخابات ہوں گے ۔
جماعت اسلامی کی جانب سے ’متناسب نمائندگی‘ کا مطالبہ دراصل ایک ایسی سیاسی چال ہے جس کے ذریعے وہ مستقبل کی حکومت میں ’کنگ میکر‘کا کردار ادا کرنا چاہتی ہے ۔ اگر یہ نظام نافذ ہو جاتا ہے، تو بنگلہ دیش کی سیاست مستقل طور پر مذہبی بنیادوں پر تقسیم ہو جائے گی، اور 1971 کا سیکولر بیانیہ محض نصابی کتابوں تک محدود رہ جائے گا۔
بیانیے کی جنگ اور ایک نئی شناخت کی تلاش
بنگلہ دیش اس وقت اپنی شناخت کے ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں ماضی اور مستقبل آپس میں ٹکرا رہے ہیں۔ بھارت نواز اور عالمی میڈیا کی جانب سے 1971 کے واقعات کو نمایاں کرنا محض صحافت نہیں بلکہ ایک تزویراتی جنگ ہے جس کا مقصد جماعت اسلامی کے سیاسی عروج کو روکنا ہے ۔ تاہم، یہ مہم اس لیے ناکام ہوتی نظر آ رہی ہے کیونکہ بنگلہ دیشی معاشرہ اب 1971 کے زخموں کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیے جانے کے خلاف مزاحمت کر رہا ہے ۔
جماعت اسلامی کی واپسی، اداروں میں اس کا نفوذ، اور پاکستان و ترکیہ کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط اس بات کا اشارہ ہیں کہ 1971 کا ’بھارت نواز‘ ڈھانچہ منہدم ہو چکا ہے ۔ عالمی میڈیا کی جانب سے ’آزادی کے ہیروز‘ کی کہانیاں سنانا ان نوجوانوں کے لیے بے اثر ثابت ہو رہا ہے جنہوں نے شیخ حسینہ کی ’پرو-لبریشن‘ آمریت کے تحت جبر دیکھا ہے ۔ مستقبل کا بنگلہ دیش شاید 1971 کی یادوں کو مکمل طور پر ترک نہ کرے، لیکن وہ اسے اپنی خارجہ پالیسی اور داخلی سیاست کی واحد بنیاد بھی تسلیم نہیں کرے گا۔ یہ ’بیانیے کی جنگ‘ دراصل جنوبی ایشیا میں ایک نئے تزویراتی توازن کی پیدائش کا پیش خیمہ ہے، جہاں ڈھاکا اب نئی دہلی کے سائے سے نکل کر اپنی الگ اسلامی اور قوم پرست شناخت قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔










