بادبان-،-عبید-اللہ-عابد

بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی کے خلاف نئی بھارتی پراپیگنڈا مہم کے پیچھے چھپی کہانی

·

دو روز پہلے بھارت کے بڑے جریدے ’انڈیا ٹوڈے‘ نے ایک تجزیہ شائع کیا جس میں بتانے کی کوشش کی گئی کہ بنگلہ دیش میں عثمان ہادی کے قتل سے کون فائدہ اٹھا رہا ہے؟

یہ تجزیہ ایک نئی بھارتی پراپیگنڈا مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد بنگلہ دیشی قوم میں جماعتِ اسلامی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی راہ روکنا ہے اور بنگلہ دیشی قوم کو یہ باور کرانا ہے کہ عثمان ہادی اور دیگر انقلابی نوجوانوں کے قتل میں بھارت ملوث نہیں ہے۔

’انڈیا ٹوڈے‘ میں شائع ہونے والے ’تجزیے‘ کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

یاد رہے کہ بھارتی جریدے میں شائع ہونے والا یہ تجزیہ عثمان ہادی کی ہلاکت کے تناظر میں لکھا گیا ہے۔ مقتول ڈھاکہ سے عام انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتے تھے۔ انہیں سر میں گولی مار کر شدید زخمی کر دیا گیا تھا، اور اگلے چند روز بعد وہ سنگاپور میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے۔

انڈیا ٹوڈے کے مطابق عثمان ہادی کے قتل کا کسی سیاسی جماعت کو فائدہ نہیں ہوا۔ نہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کو اور نہ ہی عوامی لیگ کو ہادی کے قتل سے کوئی سیاسی فائدہ پہنچا ہے۔ بھارتی جریدے نے اپنے اس تجزیے کی بنیاد یوں بیان کی کہ:

عثمان ہادی کے مقابلے میں بی این پی کے سینیئر رہنما مرزا عباس نامزد امیدوار ہیں، جو زیادہ معروف اور مضبوط امیدوار سمجھے جاتے ہیں۔ دوسری طرف جماعتِ اسلامی کی طلبہ تنظیم اسلامی چھاترو شبر کے رہنما محمد ابو صادق کیم بھی اس حلقے سے ممکنہ امیدوار ہیں۔

لہٰذا ہادی کی عدم موجودگی نے جماعتِ اسلامی کے لیے یہ موقع پیدا کیا کہ وہ اپنا سیاسی اثر و رسوخ بڑھا سکے۔

اس کے بعد بھارتی جریدے نے عثمان ہادی کے قتل سے اصل فائدہ اٹھانے والوں میں نیشنل سٹیزنز پارٹی کا نام بھی شامل کر دیا۔ یاد رہے کہ این سی پی ان نوجوانوں کی جماعت ہے جنہوں نے شیخ حسینہ واجد کا تختہ الٹا تھا۔

’انڈیا ٹوڈے‘ نے یہ بھی لکھا کہ کچھ بنگلہ دیشی، بھارت مخالف حلقوں نے دعویٰ کیا ہے کہ قتل میں بھارت کا ہاتھ ہے۔ جریدے نے محض یہ لکھ کر اس دعوے کی تردید کر دی کہ اس دعوے کی بنیاد کے طور پر کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آیا۔

اس کے بعد ’انڈیا ٹوڈے‘ نے امریکی تھنک ٹینک انٹرنیشنل ریپبلکن انسٹی ٹیوٹ کے ایک سروے کو بھی اس تجزیے کا حصہ بنایا، جس کے مطابق 33 فیصد بنگلہ دیشی بی این پی اور 29 فیصد بنگلہ دیشی جماعتِ اسلامی کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ایک اور جائزے کے مطابق بی این پی کی مقبولیت 51 فیصد اور جماعتِ اسلامی کی 53 فیصد ہے۔

اس کے بعد بھارتی جریدہ لکھتا ہے کہ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ عام انتخابات میں جماعتِ اسلامی ایک مؤثر قوت میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

انڈیا ٹوڈے کا مضمون بظاہر بنگلہ دیش میں عثمان ہادی کے قتل اور اس سے فائدہ اٹھانے والی قوتوں کا تجزیہ پیش کرتا ہے، مگر اس کے پس منظر میں ایک اہم علاقائی تشویش نمایاں طور پر جھلکتی ہے، یعنی بھارت کا یہ خوف کہ بنگلہ دیش اس کے اثر و رسوخ سے نکلتا جا رہا ہے۔

بنگلہ دیشی میڈیا اور سیاسی مبصرین کے مطابق بھارت کی سب سے بڑی پریشانی یہ نہیں کہ کوئی ایک سیاسی قتل ہوا، بلکہ یہ ہے کہ شیخ حسینہ واجد ملک چھوڑ کر بھارت میں پناہ لے چکی ہیں، عوامی لیگ عملی طور پر بنگلہ دیش کے سیاسی منظرنامے سے غائب ہو چکی ہے اور پہلی بار بنگلہ دیش ایک ایسے سیاسی دور میں داخل ہونے جا رہا ہے جہاں نہ عوامی لیگ اقتدار میں ہے اور نہ ہی اس کی قیادت ملک میں موجود ہے۔

ڈھاکہ ٹریبیون، پروتھوم آلو اور نیو ایج بنگلہ دیش جیسے اخبارات میں شائع ہونے والے تبصروں کے مطابق یہ صورتِ حال بھارت کے لیے ایک اسٹریٹجک دھچکا ہے، کیونکہ دہائیوں سے نئی دہلی نے بنگلہ دیش میں اپنی خارجہ اور سلامتی پالیسی کو عوامی لیگ کے ذریعے آگے بڑھایا۔

بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق حالیہ رائے عامہ کے سرویز اور زمینی سیاست یہ ظاہر کرتی ہے کہ جماعتِ اسلامی کو اب محض ایک مذہبی جماعت نہیں بلکہ ایک منظم اور متبادل سیاسی قوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر نوجوان ووٹرز میں جماعت کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

جماعت کا بیانیہ بنگلہ دیش کی سیاسی خودمختاری، قومی وقار اور غیر ملکی مداخلت کے خاتمے پر مرکوز ہے۔ یہی وہ بیانیہ ہے جو بنگلہ دیشی نوجوانوں کو مسحور کرتا ہے اور یہی وہ نکات ہیں جو بھارت کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

اب نئی دہلی اس خدشے میں مبتلا ہے کہ اگر آزاد اور شفاف انتخابات ہوئے، جن میں عوامی لیگ شریک نہ ہو سکی، تو جماعتِ اسلامی یا بھارت مخالف قوتیں زیادہ بڑی طاقت کے ساتھ مرکزی دھارے میں آ سکتی ہیں۔

بنگلہ دیشی میڈیا اور سوشل ڈسکورس میں ایک نمایاں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا بنگلہ دیش میں جاری سیاسی تشدد محض ایک اندرونی مسئلہ ہے، یا اس کے پیچھے علاقائی طاقتوں کے مفادات کارفرما ہیں؟

متعدد بنگلہ دیشی تجزیہ نگاروں کے مطابق عوام کی ایک بڑی تعداد یہ سمجھتی ہے کہ بھارت ایسے انتخابات نہیں ہونے دینا چاہتا جن میں عوامی لیگ غیر موجود ہو۔ اسی لیے ملک میں عدم استحکام، خوف اور سیاسی افراتفری کو ہوا دی جا رہی ہے تاکہ انتخابات مؤخر ہوں یا متنازع بنیں۔ ظاہر ہے کہ عوامی لیگ بھی ایسے انتخابات نہیں چاہتی۔

سوشل میڈیا، ٹاک شوز اور اخباری کالمز میں بار بار یہ مؤقف سامنے آ رہا ہے کہ سیاسی قتل اور بدامنی کا فائدہ براہِ راست ان قوتوں کو ہوتا ہے جو جمہوری تسلسل سے خائف ہیں۔

بنگلہ دیش کے انقلابی نوجوان (سٹیزنز پارٹی)، بی این پی اور جماعتِ اسلامی سمیت بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بھارت ملک میں قتل و غارت گری اور افراتفری پیدا کر کے انتخابات ملتوی کرانے کے لیے عوامی لیگ کے عناصر کو استعمال کر رہا ہے، اور ہر اس نوجوان رہنما کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جس نے شیخ حسینہ واجد کا تختہ الٹنے میں قائدانہ کردار ادا کیا تھا اور اب عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے میدان میں اتر چکا تھا۔

بھارت بھلا ان نوجوانوں کو بنگلہ دیشی پارلیمان تک کیسے پہنچنے دے سکتا ہے؟ وہ کیسے ان نوجوانوں کے ہاتھ میں بنگلہ دیش کا مستقبل دیکھ سکتا ہے؟

انڈیا ٹوڈے کا مضمون بظاہر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے کہ قتل سے ’انتہا پسند‘ فائدہ اٹھا رہے ہیں اور بھارت پر لگنے والے الزامات بے بنیاد ہیں، لیکن بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق انڈیا ٹوڈے کا یہ تجزیہ کئی اہم سوالات سے گریز کرتا ہے:

بھارت عوامی لیگ کے بغیر بنگلہ دیش کو کیوں قبول نہیں کر پا رہا؟
اگر بنگلہ دیش کے عوام کسی نئی سیاسی سمت کا انتخاب کریں تو بھارت کو اعتراض کیوں؟
کیا علاقائی طاقتوں کو جمہوریت کے فیصلے قبول نہیں کرنے چاہئیں؟

بنگلہ دیشی اخبارات اور سیاسی حلقوں میں یہ مؤقف اب زور پکڑ رہا ہے کہ بنگلہ دیش شیخ حسینہ واجد کے بعد کے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ یہ فیصلہ عوام کریں گے کہ کون سی جماعت اقتدار میں آئے، اور کسی بھی بیرونی طاقت—خواہ وہ بھارت ہو یا کوئی اور—کو عوامی فیصلے کو مشکوک بنانے یا سبوتاژ کرنے کا کوئی حق نہیں۔

اگر جماعتِ اسلامی یا کوئی اور جماعت عوامی حمایت حاصل کرتی ہے تو یہ جمہوریت کا فطری نتیجہ ہوگا، نہ کہ ’انتہا پسندی‘۔

انڈیا ٹوڈے کا مضمون دراصل بھارت کی اس گہری بے چینی کا عکاس ہے جو اسے ایک ایسے بنگلہ دیش سے لاحق ہے جو خودمختار ہو، بھارت نواز اشرافیہ سے آزاد ہو اور اپنی سیاست کا فیصلہ خود کرے۔

یہی وہ حقیقت ہے جس سے خائف ہو کر جماعتِ اسلامی کی مقبولیت کو خطرے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا بھارت خطے میں واقعی جمہوریت چاہتا ہے، یا صرف اپنی پسندیدہ جماعتوں کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ قائم رکھنا چاہتا ہے؟

ظاہر ہے کہ بھارت بنگلہ دیش میں ایسی جمہوریت نہیں چاہتا جس میں اس کی کٹھ پتلی جماعت موجود نہ ہو اور اسے غلبہ حاصل نہ ہو۔ اس کا بیانیہ محض یہی ہے کہ اگر عوامی لیگ نہیں تو بنگلہ دیش نہیں۔

تاہم دوسری طرف بنگلہ دیش کے انقلابی نوجوان بھی ہر صورت میں ملک بھر سے (بقول ان کے) ’بھارتی کتوں‘ کا صفایا کرنے کے عزم کا اظہار کر رہے ہیں۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں