بھارت میں مسیحی مظاہرین

بھارت میں عیسائیوں پر حملے، کرسمس کا تہوار خوف کے ماحول میں منایا گیا

·

بھارت میں کرسمس کے موقع پر مختلف ریاستوں میں مسیحی برادری کے خلاف تشدد اور ہراسانی کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں، جن پر نہ صرف عیسائی تنظیموں بلکہ اپوزیشن جماعتوں نے بھی شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ان واقعات کے بعد ملک میں مذہبی رواداری اور اقلیتوں کے تحفظ پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

گزشتہ چند دنوں کے دوران کیرالہ، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، اڈیشہ، دہلی اور اتر پردیش سمیت کئی علاقوں میں سخت گیر ہندو تنظیموں سے منسلک افراد کی جانب سے کرسمس تقریبات، کیرول گانے والے بچوں، پادریوں اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔

کانگریس پارٹی نے ان واقعات کا ذمہ دار براہ راست بی جے پی اور اس سے وابستہ تنظیموں کو قرار دیا ہے۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ کرسمس کے موقع پر نفرت اور تشدد کا فروغ بی جے پی کی سیاست کا عکاس ہے۔ ان کے مطابق بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں میں یہ حملے سرکاری سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں۔

وینوگوپال نے الزام لگایا کہ کیرالہ کے پلکاڈ میں بچوں کے کیرول گروپ پر آر ایس ایس کارکنوں کا حملہ اس سوچ کی واضح مثال ہے جو اقلیتوں کو برداشت کرنے سے قاصر ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتوں سے محبت کے بیانات صرف دکھاوا ہیں، جبکہ زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔

جنوبی ریاست کیرالہ میں کیرول گانے والے بچوں پر حملے کے بعد پولیس نے ایک آر ایس ایس کارکن کو گرفتار کیا۔ ریاست میں تقریباً انیس فیصد آبادی مسیحی برادری پر مشتمل ہے، جہاں اس واقعے کے خلاف کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے۔

مدھیہ پردیش کے شہر جبل پور میں ہندوتوا گروپوں نے کرسمس سے متعلق خیراتی سرگرمیوں اور عبادتی اجتماعات پر چھاپے مارے۔ اسی دوران ایک نابینا خاتون کے ساتھ بدسلوکی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں بی جے پی کی ایک مقامی رہنما کا نام سامنے آیا۔

چھتیس گڑھ کے کانکیر ضلع میں بعض دیہاتوں میں عیسائی پادریوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی، جبکہ ایک چرچ کو نذر آتش کیے جانے کا واقعہ بھی رپورٹ ہوا۔ اڈیشہ میں سانٹا کی ٹوپیاں فروخت کرنے والوں کو دھمکیاں دی گئیں اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ ’ہندو راشٹر‘ میں اس کی اجازت نہیں۔

دارالحکومت دہلی کے لاجپت نگر بازار میں بھی سانٹا کیپ پہنے افراد کو ہراساں کرنے کی ویڈیوز منظر عام پر آئیں۔ عام آدمی پارٹی کے رہنما سوربھ بھردواج نے ان واقعات کو مذہب کے نام پر پھیلائی جانے والی منافقت قرار دیا۔

کیتھولک بشپس کانفرنس آف انڈیا نے ان حملوں کو بھارت کے آئین میں دی گئی مذہبی آزادی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ تنظیم نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مسیحیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے قانون کو سختی سے نافذ کریں۔

سی بی سی آئی نے جبل پور میں پیش آنے والے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بی جے پی سے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ رہنما کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ بیان میں کہا گیا کہ پُرامن عبادت گزاروں اور کیرول گانے والوں کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے اور یہ بھارت کی تکثیری شناخت کے منافی ہے۔

سال 2025 بھارت میں مسیحی، مسلم، دلت اور دیگر اقلیتوں کے خلاف تشدد، نفرت انگیز حملوں اور ہراسانی کے متعدد واقعات کا سال رہا۔ کرسمس کے موقع پر مسیحی برادری پر حملے اور عبادت گاہوں کے آس پاس تشدد کے مناظر مختلف ریاستوں میں رپورٹ ہوئے، جس پر کیتھولک بشپس کانفرنس آف انڈیا نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

نئی دہلی میں ایک عیسائی کانفرنس نے بھی مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد میں تشویشناک اضافے کی نشاندہی کی۔

مختلف انسانی حقوق مانیٹرز نے بھارت میں اسلاموفوبیا اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے بڑھتے واقعات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ او آئی سی جیسی بین الاقوامی تنظیموں نے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز حملوں اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی دوران اتر پردیش میں ہفتوں تک جاری رہنے والے احتجاجات (مثلاً “I Love Muhammad” احتجاجات) نے بھی بین المذاہب کشیدگی کو جنم دیا۔

2025 میں اقلیتی تعلیمی اداروں کے خلاف اقدامات بھی سامنے آئے۔ مثال کے طور پر اتراکھنڈ میں متعدد اسلامی مدارس کو سیل کرنے اور متعلقہ تعلیمی قوانین میں تبدیلی کے باعث اقلیتوں کے تعلیمی حقوق پر سوالات اٹھے ہیں۔

دلت اور دیگر پس ماندہ گروہوں کی طرف سے بھی نسلی اور سماجی تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے، جیسے کے کیرالہ میں دلت مزدور کے ساتھ لنچنگ کی خبر جس نے تشویش کو بڑھایا۔

انسانی حقوق کے مبصرین نے بارہا بتایا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف نفرت کے واقعات اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بڑھ رہی ہیں، جس سے جمہوری اقدار اور آئینی ضمانتیں خطرے میں پڑتی نظر آتی ہیں۔

امریکی کانگریس کے کچھ ارکان نے بھارت کو عالمی مذہبی آزادی ایکٹ کے تحت ’خصوصی تشویش والا ملک‘ قرار دینے کی حمایت کا اظہار کیا ہے، جس سے بھارت پر بین الاقوامی دباؤ بڑھا ہے۔

پاکستان، او آئی سی اور دیگر ممالک نے بھی بھارت میں اقلیتوں کے خلاف مبینہ رویوں کے خلاف موقف اختیار کیا اور عالمی برادری سے نوٹس لینے کی اپیل کی۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں