ڈاکٹر بشریٰ تسنیم

سلام علیٰ غزہ الصالحین

·

غزہ اور فلسطین کا نام پڑھتے، سنتے ہی عزت افزائی کے لیے سر جھکائیں تو دل میں محبت کا سمندر پہلے ہی ٹھاٹھیں ماررہا ہوتا ہے ۔ 

تقریباً ایک صدی ہونے کو آئی ہے، فلسطینیوں کی زندگی کرب و ظلم   سے نبرد آزما ہے۔  ان تکلیف دہ حالات میں  ان کی کتاب زندگی میں ایک لفظ جگمگا رہا ہے ‘مزاحمت‘ اور اس پہ  استقامت کا  پہاڑ جما کھڑا ہے ۔

مزاحمت (انگریزی: Resistance) کسی طرح کی ناانصافی کے خلاف آوازاٹھانے ، اپنے خیالات کا اظہار کرنے، ماحول کے  بر عکس تصورات کا فروغ دینے یا سیاسی تصور اور حکومت وقت سے متصادم اقدامات اٹھانے، اس سلسلے میں تحریر و تقریر کا سہارا لینے وغیرہ کو مزاحمت کی علامات تصور کیا جاتا ہے۔

مزاحمت چھوٹے پیمانے پر ایک فرد کا کسی رشتے دار، خاندان یا  سماج سے تصادم کی شکل میں بھی ہو سکتا ہے۔  بڑے پیمانے پر کسی فرد یا گروہ کا ملک اور حکومتوں کے خلاف جدوجہد کرنا بھی مزاحمت ہی کہلاتا ہے ۔

سر اٹھے تو سہی ظلم کے سامنے

تبھی ظالم کا وقت حساب آئے گا

دوسال پہلے کرہ ارضی کے باشندے ان قدوسی نفوس کی استقامت اور یہود کی غیر انسانی نفسیات سے پوری طرح واقف نہ تھے ۔  اب دنیا کا ہر خطہ یہودیوں کے ظالمانہ اقدام کی مذمت کرتا اور فلسطین کے عوام کی طرف سے مزاحمت کی اپنے اپنے انداز میں حمایت کرتا ہے ۔

ہر حساس دل کو دھچکا لگا ہے اور مزاحمت کرنے کے تصور کو نئی جہت ملی ہے ۔

 یہ حقیقت ہے کہ قوموں کی زندگی میں تبدیلی کے لیے بہت  وقت لگتا ہے اور قومیں اپنی جہدوجہد کا ثمر پہلی نسل سے نہیں پا سکتیں ۔ درخت پہ لگے ثمر کسی  پچھلی نسل کے بوئے بیج ہوتے ہیں اور ایک نسل اس کی آبیاری کرتی ہے، پھر وہ نئی نسل آتی ہے جس نے تیار پھل کھانے ہوتے ہیں ۔

انسانوں کی تہذیبی و نظریاتی تعمیر ایک درخت کی آبیاری سے زیادہ مشکل ، صبر آزما اور طویل  وقت   کی متقاضی ہے ۔ 

فلسطینیوں نے برس ہا برس کی مزاحمت سے اور لاکھوں جانوں کی قربانی کے بعد دنیا کی توجہ اپنی مستقل مزاحمت کی طرف منعکس کی  ہے ۔

یہ مزاحمت  اسلحہ کے مقابلے میں پتھروں سے عرصہ دراز تک  ہوتی رہی ۔ ایک مقصد پہ جمے رہنے والی اور  مسلسل تربیت کے عمل کو جاری رکھنے والی تحریکیں ہی کامیاب ہوتی ہیں اور حماس دراصل  ا یک مسلسل اور فطری عمل ،  ’مزاحمت‘  پہ قائم رہنے کا نام  ہے اور ظلم کے خلاف  سینہ سپر رہنا ایک قومی و ملی فریضہ ہے ۔

 ہم جانتے ہیں ہر جاندار اپنے خلاف کسی بھی قسم کے تکلیف دہ رویے کے خلاف مزاحمت کرتا ہے اور یہی زندگی کی علامت ہے۔  ایسی زندگی جس میں اپنی  تکلیف کا احساس نہ ہو اور اس کے مداوا کا خیال نہ ہو موت کی علامت ہے ۔

ایک چیونٹی جیسی معمولی مخلوق بھی اپنے دفاع کے لیے مزاحمت کرتی ہے اور  ایک شیر خوار بچہ بھی جب اندھیرے اور تنہائی  یا بھوک یا تکلیف  میں روتا  ہے تو وہ اپنے تحفظ کے لیے مزاحمت کرتا ہے ۔ ہر جاندار اپنے دفاع کےمواقع جانتا ہے ۔ آپ جس قدر غور کریں زندگی میں اپنی بقا کے لیے جہدوجہد  کی علامت مزاحمت  ہے ۔

اپنے حقوق کے لیے جہدوجہد کرنا ، ظلم کے خلاف تلوار اٹھانا،  اپنے حصّے کو غصب کرنے والے کے خلاف کھڑے ہونا اور اپنا حق بزور وصول کرنا انسان ہونے اور زندہ  قوم ہونے کی نشانی ہے ۔

حصول  حق انفرادی طور پہ مال و دولت کا ہو یاعزت نفس کا کوئی غصب نہیں کر سکتا یہ انسانیت کا آفاقی ربانی  قانون ہے ۔

مزاحمت اور آخری دم تک مزاحمت کا شعور فلسطینیوں نے ہی دنیا کو سمجھایا ہے ۔

 یحییٰ سنوار کی طرف سے مزاحمت کا تصور ہی دل کو تسلی دیتا ہے کہ آخری سانس تک مزاحمت ہی جہاد ہے ۔ ننھے منے ہاتھوں سے پھینکے ہوئے پتھر بھی ابابیلوں کے متبادل بن سکتے ہیں ۔ زندگی کی بقا کا استعارہ یہی ہے کہ:

’ہتھیار کچھ بھی ہو ہاتھ نہ روکو، زبان کوخاموش نہ ہونے دو اور دنیا کو حقیقت حال سے باخبر رکھو ۔ ‘

 صحافیوں نے اپنےحصے کا جہاد کیا ۔مائیں اپنے جگر گوشوں کو قربان کرکے الحمدللہ کہتی دنیا کے حساس دلوں کو جھنجھوڑ رہی ہیں ۔

کیا چیز ہے جو اس جذبے کو ماند نہیں پڑنے دے رہی ؟

 یہ نسلوں کی وہ ایمانی تربیت ہے کہ سب یک زبان ہیں اور اپنے اپنے محاذ پہ جہاد کر رہے ہیں۔ یہی تو یک جہتی اور نصب العین کی ہم آہنگی ہے کہ سب اپنے دینی حقوق، بیت المقدس  اور اپنے قطعہ ارضی پہ غاصبانہ قبضے کے خلاف ہر حال میں اور آخر دم تک مزاحمت کر رہے ہیں ۔

جو افراد اپنی جانوں کا ھدیہ پیش کر گئے وہ مراد پاگئے۔ اب وہ اس مقام پہ ہیں جہاں سکون ہی سکون ہے، آرام ہی آرام ہے اور رب العزت نے ان کو عزت کا تاج پہنا دیا ہوگا۔ ان شاءاللہ

 ہمارا ایمان ہے کہ  اللہ تعالی کی خصوصی مدد ہوگی ان شاءاللہ منزل مراد پانے والوں کے جانشین کم نہ ہوں گے ۔

دیواروں سے در نکلیں گے، موت سے بال و پر نکلیں گے

لاکھ کرو تم دار کو اونچا، دار سے اونچے سر نکلیں گے

 شہادتوں کا تسلسل جاری رہے گا اور ایک دن آئے گا جب حق کی فتح ہوگی اور مغضوب قوم اپنے سہولت کاروں سمیت ذلت کے گڑھے میں گرے گی ۔

اسرائیل 28 اکتوبر 2023 کو بہت امیدیں اور آرزوئیں لے کر غزہ کی حدود میں داخل ہوا تھا ۔ دنیا کے ساتھ ساتھ خود اس کا بھی خیال تھا کہ پہلے ہی ہلّے میں مزاحمتی قلعہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے گی  اور پہلی ہی پھونک سے چراغِ امید ہمیشہ کے لیے گل ہو جائے گا ، مگر دو سال ہونے کو ہیں، دشمن  ذلت چھپانے کی ناکام کو شش کر رہا ہے ۔ اس کے خلاف توقع ’مزاحمت‘ اپنے مضبوط قدموں پہ کھڑی ہے ۔

 بلاشبہ حالات انتہا درجے کے دگر گوں ہوتے نظر آرہے ہیں  اور سفر مشکل تر ہے مگر اہل غزہ کے  اطمینان سے دل بھرے ہوئے ہیں کہ آخری دم تک  انبیاء کی  مقدس دھرتی کے لیے اور اپنے ہم وطنوں  کی خاطر سر بہ کف اور کفن بہ دوش رہیں گے  کیونکہ جنت ان کی منزل مراد ہے ۔ اس سودے میں نقصان کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

 اگرچہ سرفروشوں نے بہت پہلے دیے بجھا کر اپنے ساتھیوں کو مخاطب کیا تھا ۔

صبح سویرے رن پڑنا ہے اور گھمسان کا رن

راتوں رات چلا جائے جس جس کو جانا ہے

مگر سارے سر فروش اپنی آنکھوں کو روشن دئے بنا کر قدم جما کر کھڑے تھے ۔

دو سال بعد بھی صورت حال یہ ہے کہ غنیم کو اسی ہزار کا لشکرِ عظیم میدان میں اتارنا پڑ رہا ہے ۔ دنیا کے تمام بہادروں کو غزہ کی سرحد پہ کھڑے ، مزاحمت کرتے جان فروشوں  کو سلیوٹ کرنا چاہیے ۔

سلام ہے ان عظیم ماؤں کو جنہوں نے سنوار  ، انس الشریف اور ضیف جیسے فرزند  پیدا کیے اور انہیں پالا پوسا ۔ سلامِ احترام  ہے اس دھرتی کو جو اسماعیل ہنیہ جیسے نادر و نایاب لوگوں کا مسکن بنی۔

فلسطینیوں نے ہمت ،استقامت، اور مضبوط ایمان کی ایسی مثال قائم کی ہے جس کی  اس دور میں کسی اور قوم سے  توقع نہ تھی ۔ اللہ تعالی ان کی جان فشانی کے صلے میں دنیا کی غیر مسلم اقوام سے ایسے مسلم افراد سامنے لانے پہ قادر ہے جو نسلی مسلمانوں کے لیے اجنبی ہوں گے لیکن شعور و فہم ، ایمانی غیرت اور اللہ تعالیٰ  کی فرماں برداری میں یکتا  و بے مثل ہوں گے ۔ شہیدوں کا لہو کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔ انہی کی زندگی نمونہ بنے گی اور اسلام اجنبیوں کے ذریعے سے دنیا پہ غالب آکر رہے گا ۔ یہ اللہ تعالی کا وعدہ ہے کہ جدی پشتی سید زادے عرب و عجم کے ناہنجار دنیا کے کتے بن جائیں گے تو اللہ الخالق ایسی قوم برپا کرے گا جو ان جیسی نہ ہوگی ۔

اے امت مسلمہ ! اٹھو،جاگو جس جگہ ہو جہاں ہو جو کر سکتے ہو  اس معرکہء حق و باطل میں اپنا حصہ ڈالو اپنے رب کی بارگاہ میں اپنی بے بسی ،بے سرو سامانی ، بے بسی کا رونا ہی رو لو، اللہ تعالی کے ان پسندیدہ بندوں کے لیے دعا ہی کر لو ، اللہ تعالی کو اپنی خالص نیت ہی پیش کر دو کہ وہ مان جائے کہ جہاد میں شریک نہ ہونے کا غم ان کو گھلائے دے رہا ہے وہ رب مان جائے کہ اگر پہنچنے کے راستے کشادہ ہوتے تو یہ عورتوں کی طرح گھر نہ بیٹھے رہتے ۔

مومنو! ڈرو اس وقت سے جب آپ کو امت مسلمہ کے گروہ سے خارج کر دیا جائے گا اور حشر کے میدان میں ظالموں کے ساتھ کھڑے ہاتھ مل رہے ہوں گے لیکن تب سوائے پشیمانی کے  کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔

فاعتبروا یا اولی الابصار

نوٹ: بادبان ڈاٹ کام پر شائع شدہ کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا بادبان ڈاٹ کام کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔