ابوعبیدہ--ترجمان-القسام-بریگیڈز،-فلسطین

پھول یا انگارے

·

قحط الرجالی کے اس دور میں غزہ نے جہاں ایک طرف دکھ درد اور زخم اپنے سینے پہ برداشت کیے ہیں وہیں اس سرزمین نے ہیرے بھی اگلے ہیں، انسانیت کے لیے روشنی کے مینار پیدا کیے ہیں۔ روشنی کے ان میناروں میں سے ایک وہ بھی تھا، کروڑوں دھڑکتے دلوں کی دھڑکن، روشن آنکھوں والا، عزم و ارادے کی چمک سے چمکتا ہوا چہرہ ’القسام بریگیڈ‘ کا ترجمان نقاب پوش ابو عبیدہ نوجوانوں کا ہیرو تھا۔ بچے اس کی نقالی کرتے اس کی وضع قطع اس کا حلیہ ایک علامت بن چکا ہے۔

ابن حجر عسقلانی کا عسقلان شہر کہ جس کا نام محمد عربی ﷺ کی زبان مبارک سے بھی جاری ہوا تھا، میں ایک خاندان مقیم تھا الکحلوت۔ 1948 کے نکبہ کے دوران اس خاندان کو ہجرت کرنا پڑی۔ یہ لوگ جبالیا مہاجر کیمپ میں آکر آباد ہو گئے۔ یہاں 1984 میں سمیر الکحلوت کے گھر ایک پیارے سے بچے نے جنم لیا جس کا نام حذیفہ رکھا گیا۔

گھر کی تربیت، خیمے کی پُر مشقت زندگی، تنگ گلیاں، مسلسل مسائل، وسائلِ زندگی کی عدم دستیابی قابض اسرائیل کی چیرہ دستیاں ان سب چیزوں نے حذیفہ کو ابو عبیدہ بنا دیا۔

اس مختصر تحریر میں اس کی زندگی کا احاطہ کرنا ناممکن ہے۔ بس! چند پہلوؤں پہ روشنی ڈالنے پہ اکتفا کروں گی۔

گزشتہ دو سال کی بدترین نسل کشی اور ظالمانہ جنگ میں قابض اسرائیل ایک بھی جانباز کو دو بدو لڑائی میں نہیں مار سکا۔ سازش چالبازی اور بزدلانہ کاروائیوں کے ذریعے فلسطینی قوم کے محافظوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ابو عبیدہ کی شہادت بھی ایک غدار کی غداری کے سبب 30 اگست 2025 میں ہو چکی تھی۔ حملے میں ان کی اہلیہ، ان کے بچے لیان، منہ اللہ اور یمان شہید ہوئے۔ خاندان کے 40 افراد اور 30 بے گناہ شہری بھی شہید ہوئے۔ شہادت کا باقاعدہ اعلان حماس نے 29 دسمبر 2025 کو کیا۔ یہاں سوال یہ ہے کہ اتنا بڑا دکھ، ایک بوجھل خبر، قدموں کو ڈگمگا دینے والی صورتحال، اتنے بڑے نقصان کو کس طرح چھپائے رکھا الکحلوت خاندان نے اور ابو عبیدہ کے قریبی رشتہ داروں نے ! 

وہ لوگ معمولات زندگی میں مصروف رہے، روزمرہ کے مسائل سے بھی دوچار ہوتے رہے لیکن مجال ہے کہ اتنا بڑا دکھ آنسو بن کے کبھی کسی کے آنکھ کے ذریعے ظاہر ہوا ہو یا کسی کے رویے ہی سے یہ خبر اعلان بن کے پورے خطے میں پھیل گئی ہو۔ نہیں، سبھی نے اس دکھ بھری خبر کو سینے میں دفن کیے رکھا حتیٰ کہ حماس نے خود ہی اس خبر کو افشا کرنے کا ارادہ کیا۔

آخر کیسے یہ خبر چھپائے رکھی؟

جی ہاں! اس سوال کا جواب بڑا سادہ ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ اپنی قوم کے محافظ ہیں، وہ مسجد اقصیٰ کے محافظ ہیں، وہ مزاحمت کے راستے کے مسافر ہیں۔ سال دو سال سے نہیں گزشتہ کئی دہائیوں سے۔

ان کا یہ مشن ان کی ذاتی زندگیوں سے بہت بڑا ہے۔ مزاحمت ان کا حق ہے۔ دفاع ان کا فریضہ ہے اپنی زمین اپنی زندگیوں کے خاطر اٹھنا ان کی شناخت ہے۔ یہ شناخت یہ حق انہیں اقوام متحدہ نے دیا ہے۔ وہ اپنے ہر ذاتی دکھ کو بحیرہ روم سے بڑے اپنے دل کے اندر اپنے سینے کے اندر دفن کر دیتے ہیں۔

تو ہم میں سے کچھ بیمار ذہنیت والے لوگ کہتے پھرتے ہیں کہ مزاحمت کو ترک کر دینا چاہیے۔ وہ بہت دکھی ہیں کہ کہ کیا ضرورت تھی ایک درندے کے منہ میں ہاتھ دینے کی۔جبکہ اپنا حال ان صاحبان کا یہ ہے کہ خود پہ یا اپنے بچوں پہ کوئی افتاد آن پڑے تو یہ ہاتھی، شیر، ریچھ سبھی کے منہ میں ہاتھ دینے کو تیار ہو جاتے ہیں۔

سچ تو یہ ہے کہ ہم انتہائی محدود سوچ کے ساتھ لکیریں کھینچتے ہیں، زاویے بناتے ہیں، اندازے لگاتے ہیں، تجزیے کرتے ہیں جب کہ مسجد اقصی کے سائے میں وفا و ایثار کی داستانیں جو رقم ہو رہی ہیں بڑی سوچ رکھنے والا کوئی بھی فرد ان چلتی پھرتی داستانوں کو پڑھتا ہے، تجزیہ کرتا ہے تو دنگ رہ جاتا ہے۔

داستان وفا کا ایک خوبصورت کردار ہمارے ہیرو کی اہلیہ ام ابراہیم۔ وہ ایک عام سی خاتون تھی، ابو عبیدہ کے نکاح میں آنے کے بعد جو عہد وفا باندھا تو تادم مرگ اسے نبھایا۔ ان کی زندگی کا ہر روز بڑا عجیب تھا۔ جہاں وہ تھے وہاں سے ہر روز جگہ بدلنا۔ ان کا ہر دن بقا کی جنگ کا دن ہوتا تھا، تھکا دینے والا دن، چڑچڑا کر دینے والا دن، خاموشی کے ساتھ نمایاں ہوئے بغیر اپنے رستے پہ چلتے ہی رہنے کا دن لیکن وہ خوش دلی کے ساتھ ان حالات کا حصہ بن گئیں اور کاتب تقدیر نے تمغہ شہادت اس خاندان کے ہر فرد کے سینوں پہ سجانے کے لیے جس دن کا انتخاب کیا اس دن بھی ام ابراہیم اپنی مرضی سے خوش دلی سے اپنے شوہر اور اپنے بچوں کے ساتھ تھیں۔

یہ وفا شعار خاتون کسی عالی شان گھر میں نہیں رہتی تھی بلکہ ایک چھوٹے سے فلیٹ میں رہائش پذیر تھی جس کا رقبہ 120 مربع میٹر سے زیادہ نہیں تھا۔ انہوں نے عام فلسطینیوں کی طرح بھوک، خوف، نقل مکانی، ہسپتالوں کے کرب ناک حالات سب کچھ برداشت کیا۔ بعض اوقات وہ فٹ پاتھ پہ بھی سو گئیں۔ ابو عبیدہ کے بھائی بتاتے ہیں کہ وہ ان حالات کا ہمیں پتہ نہیں چلنے دیتی تھی کہ کہیں ہم پریشان نہ ہو جائیں۔

قارئین! ہمارے ہیرو ابو عبیدہ بھی ایک مثالی انسان تھے۔ ہم لوگوں کے درمیان ہوتے تھے تو کسی کو پتہ نہیں چلنے دیتے تھے کہ وہ ابو عبیدہ ہیں۔ انتہائی منکسر المزاج، دوسروں کی مدد کے لیے ہر دم آمادہ، عام لوگوں کے ساتھ گھل مل جانے والے ابو عبیدہ آج ہمارے درمیان نہیں بلکہ مسجد اقصی کی خاطر جان مال خاندان سب کچھ قربان کر دینے والوں میں شامل ہو چکے ۔

سہولیات اور وسائل زندگی کی بھرپور دستیابی اور امن و امان کے ماحول میں حکومتوں کی حمایت کے ساتھ جوہر دکھانے والے اور نمایاں ہو جانے والے اور ہیرو کہلانے والے تو بہت سارے ہیں ہاں لیکن خوف بھوک بمباری کے سائے میں اعلیٰ انسانی اخلاق و کردار کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف اپنا بلکہ اپنے بچوں کے بدن کے لہو کا قطرہ قطرہ ایک بڑے مشن کی خاطر قربان کر دینے والے ہیرو کم کم ہیں لیکن ہیں تو سہی۔۔۔

روشنی کا مینار ہیں یہ ہیرو۔۔۔

 ہیرے ہیں امت کے یہ ہیرو ۔۔۔

امت کے ماتھے کا جھومر

امید کی کرن۔۔۔

انگاروں کی بجائے پھولوں کا انتخاب کرنے والے ہیرو۔۔۔۔

اور مجھے سکول کے زمانے کی اپنی استانی کی ایک بات یاد آگئی۔ وہ ایک دن کہانی سناتے ہوئے ہمیں بتا رہی تھیں کہ آخری زمانے میں کہ جب یہ دنیا ختم ہونے والی ہوگی جنت کے پھول اکٹھے کرنے والے بہت کم ہوں گے جبکہ جہنم کے انگارے ہاتھ میں لینے کے لیے تیار بہت زیادہ ہوں گے۔

نوٹ: بادبان ڈاٹ کام پر شائع شدہ کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا بادبان ڈاٹ کام کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔