سعودی عرب کا پیسہ، پاکستان کی ایٹمی طاقت، ترک عسکری مہارت: نیا سکیورٹی بلاک

·

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ایک ایسے سکیورٹی اتحاد پر سنجیدہ مشاورت جاری ہے جسے مبصرین ’اسلامی نیٹو‘ سے تشبیہ دے رہے ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے بلوم برگ کے مطابق ترکی اس سکیورٹی فریم ورک کا حصہ بننے کے لیے بات چیت کر رہا ہے، جو اجتماعی دفاع کے نیٹو ماڈل سے مماثلت رکھتا ہے۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ معاہدے میں نیٹو کے آرٹیکل 5 جیسی شق شامل ہے، جس کے تحت کسی ایک رکن پر حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ ابتدا میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پایا تھا، تاہم اب اس میں ترکیہ کی شمولیت کے امکانات نمایاں ہو چکے ہیں۔

انقرہ میں قائم تھنک ٹینک ٹیپاوی (TEPAV) سے وابستہ دفاعی تجزیہ کار نیہات علی اوزجان کے مطابق مجوزہ اتحاد میں سعودی عرب مالی ,معاونت فراہم کرے گا، پاکستان جوہری ڈیٹرنس، بیلسٹک میزائل صلاحیت اور افرادی قوت فراہم کرے گا اور ترکیہ عسکری مہارت اور مقامی دفاعی صنعت کا کردار ادا کرے گا۔

نیہات علی اوزجان کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے خطے میں اپنے اور اسرائیل کے مفادات کو ترجیح دیے جانے، علاقائی تنازعات اور بدلتی صورتحال کے باعث ممالک نئے اتحاد اور دفاعی میکانزم تشکیل دینے پر مجبور ہو رہے ہیں تاکہ دوست اور دشمن کی واضح نشاندہی کی جا سکے۔

معاملے سے واقف افراد کے مطابق ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے اسٹریٹجک مفادات اب جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے بعض حصوں میں ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوتے جا رہے ہیں، جس کے باعث اس اتحاد کی توسیع کو فطری قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

ترکیہ کی وزارت دفاع کے مطابق تینوں ممالک کے درمیان عسکری رابطے پہلے ہی مضبوط ہو رہے ہیں۔ حال ہی میں انقرہ میں تینوں ممالک کی پہلی مشترکہ بحری میٹنگ منعقد ہوئی، جو دفاعی تعاون میں عملی پیش رفت کی علامت ہے۔


ممکنہ اتحاد کو اس لیے بھی خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ ترکیہ نیٹو کا دیرینہ رکن ہے اور امریکا کے بعد نیٹو کی دوسری سب سے بڑی فوج رکھتا ہے، جو اسے خطے میں ایک غیر معمولی عسکری طاقت بناتا ہے۔

سعودی عرب اور ترکیہ دونوں کو ایران سے متعلق تحفظات لاحق ہیں، تاہم دونوں ممالک عسکری تصادم کے بجائے تہران سے روابط کے حق میں ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک سنی قیادت میں مستحکم شام اور فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتے ہیں۔

ترکیہ اور پاکستان کے دفاعی تعلقات پہلے ہی مضبوط ہیں۔ ترکیہ پاکستانی بحریہ کے لیے کارویٹ جنگی جہاز تیار کر رہا ہے، پاکستان کے ایف 16 جنگی طیاروں کو جدید بنا چکا ہے، جبکہ سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ ڈرون ٹیکنالوجی شیئر کر رہا ہے۔
دونوں ممالک کو اپنے پانچویں نسل کے جنگی طیارے ’کان‘ منصوبے ۔میں شمولیت کی دعوت دے چکا ہے۔

یہ سہ فریقی دفاعی مشاورت بھارت اور پاکستان کے درمیان مئی 2025 میں ہونے والی چار روزہ کشیدگی اور جنگ بندی کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس تنازع، جسے آپریشن سندور کہا گیا، کے دوران ترکی نے کھل کر پاکستان کی حمایت کی تھی۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں