فیفا کے سابق صدر سیپ بلاٹر نے امریکا میں ہونے والے فٹبال ورلڈ کپ 2026 کے بائیکاٹ کی حمایت کر دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کی ملکی و عالمی پالیسیوں کے باعث امریکا اس ایونٹ کی میزبانی کے لیے موزوں نہیں رہا۔
89 سالہ بلاٹر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر ایک پیغام میں سوئس ماہر قانون مارک پیتھ کے مؤقف کی تائید کی، جنہوں نے فٹبال شائقین سے اپیل کی کہ وہ فٹبال ورلڈ کپ 2026 دیکھنے کے لیے امریکا کا سفر نہ کریں۔
’امریکا نہ جائیں، میچز ٹی وی پر دیکھیں‘
مارک پیتھ، جو وائٹ کالر کرائم اور کرپشن کے ماہر ہیں اور ماضی میں فیفا اصلاحاتی کمیٹی کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں، نے کہا
’اگر ہم تمام حالات کو دیکھیں تو شائقین کے لیے ایک ہی مشورہ ہے: امریکا نہ جائیں۔ میچز ٹی وی پر دیکھنا بہتر ہے۔‘
انہوں نے خبردار کیا کہ امریکا پہنچنے والے شائقین کو سخت رویے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اور اگر حکام کو وہ ناپسند آئے تو انہیں فوراً واپس بھیجا جا سکتا ہے۔
بلاٹر نے اس بیان کو ری پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ’ میرا خیال ہے کہ مارک پیتھ کا ورلڈ کپ پر سوال اٹھانا بالکل درست ہے۔‘
امریکا، کینیڈا اور میکسیکو مشترکہ میزبان
واضح رہے کہ ورلڈ کپ 2026 کی میزبانی امریکا، کینیڈا اور میکسیکو مشترکہ طور پر کریں گے، اور ٹورنامنٹ 11 جون سے 19 جولائی تک جاری رہے گا۔
خدشات کی بڑی وجوہات کیا ہیں؟
عالمی فٹبال برادری کے تحفظات کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں۔
صدر ٹرمپ کا گرین لینڈ سے متعلق توسیع پسندانہ مؤقف، سفر پر پابندیاں (ٹریول بین)، امیگریشن قوانین کی سختی اور مہاجرین اور احتجاج کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائیاں۔
یہ بھی پڑھیے
فیفا ورلڈ کپ 2022 اور دعوت و تہذیب اسلامی
فیفا ورلڈکپ کا میچ کھیلنے والی پہلی باحجاب کھلاڑی کون ہے؟
خصوصاً امریکی شہروں میں امیگریشن پالیسیوں کے خلاف مظاہروں پر کریک ڈاؤن نے شدید تنقید کو جنم دیا ہے۔
افریقی ممالک کے شائقین پر سفری پابندیاں
حال ہی میں ٹرمپ انتظامیہ نے سینیگال اور آئیوری کوسٹ کے شہریوں پر سفری پابندی عائد کی، جس سے ان ممالک کے فٹبال شائقین کی ورلڈ کپ میں شرکت مشکوک ہو گئی ہے۔
اسی طرح ایران اور ہیٹی کے شہری بھی امریکا میں داخل نہیں ہو سکیں گے، حالانکہ دونوں ممالک ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کر چکے ہیں۔
’قطر سیاسی تھا، کیا اب ہم غیر سیاسی ہیں؟‘
جرمن فٹبال فیڈریشن کے نائب صدر اوکے گوٹلیش نے بھی ورلڈ کپ کے بائیکاٹ پر غور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قطر کو ہم نے سیاسی بنیادوں پر تنقید کا نشانہ بنایا، اور اب ہم اچانک غیر سیاسی ہو گئے؟ یہ بات مجھے شدید پریشان کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات 1980 کی دہائی کے اولمپک بائیکاٹس سے بھی زیادہ سنگین ہیں۔
اقدار کا دفاع ضروری ہے: گوٹلیش
گوٹلیش کا کہنا تھا کہ فٹبال تنظیمیں اور معاشرہ آہستہ آہستہ اقدار کا دفاع کرنا بھول رہا ہے۔
’جب لوگ دھمکیاں دیں، حملے ہوں اور جانیں جائیں — کیا تب بھی کوئی حد عبور نہیں ہوتی؟‘
انہوں نے براہ راست سوال کیا کہ ٹرمپ، فیفا صدر جیانی انفانٹینو اور جرمن فٹبال سربراہ کب یہ تسلیم کریں گے کہ ایک حد پار ہو چکی ہے۔
افریقہ، برطانیہ اور نیدرلینڈز میں بھی آوازیں بلند
جنوبی افریقہ میں اپوزیشن رہنما جولیئس مالیما نے قومی ٹیم کو ورلڈ کپ سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے امریکا کا موازنہ اپارتھائیڈ دور کے جنوبی افریقہ سے کیا۔ برطانوی پارلیمنٹ کے اراکین نے انگلینڈ اور اسکاٹ لینڈ سے بائیکاٹ کی اپیل کی جبکہ نیدرلینڈز میں ایک لاکھ سے زائد شائقین نے بائیکاٹ کے حق میں دستخط کیے
تاہم ڈچ فٹبال فیڈریشن نے فی الحال ٹورنامنٹ سے دستبرداری کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔










