مہتاب عزیز
آج 17 فروری 2026 کو بنگلہ دیش ایک نئی اور گہری کشمکش کے دہانے پر کھڑا نظر آ رہا ہے۔
12 فروری کے انتخابات میں BNP نے طارق رحمٰن کی قیادت میں دو تہائی اکثریت حاصل کی۔ لیکن اس انتخابی عمل کا ایک اہم حصہ وہ ریفرنڈم تھا جو ’جولائی نیشنل چارٹر‘ کی توثیق کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ ریفرنڈم کی 71 فیصد ووٹرز کی ہاں کے نتیجے میں کامیابی کا تقاضا تھا کہ نئی منتخب پارلیمنٹ اپنے پہلے 180 دنوں کے لیے ایک ‘کانسٹی ٹیوشن ریفارم کونسل‘ کے طور پر کام کرے گی اور آئین میں بنیادی تبدیلیاں لائے گی۔ ان تبدیلیوں میں وزیراعظم کی مدتِ ملازمت کو دو بار تک محدود کرنا، پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا (Upper House) کا قیام اور عدلیہ کی مکمل آزادی شامل تھی۔
17 فروری کی صبح 10 بجے بنگلہ دیش کے چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم ناصر الدین سے BNP کے 209 ارکان نے بطور ممبر قومی اسمبلی حلف اٹھایا، لیکن اس کے فوراً بعد پارٹی کے سینئر رہنما صلاح الدین احمد نے اعلان کیا کہ ان کے ارکان کونسل کے رکن کے طور پر حلف نہیں اٹھائیں گے کیونکہ موجودہ آئین میں ایسی کسی کونسل کی کوئی قانونی گنجائش موجود نہیں ہے۔ (حالانکہ آئین میں عبوری حکومت کے قیام، اس کے تحت انتخابات اور الیکشن کمشنر کے ذریعے حلف کی بھی کوئی گنجائش نہیں تھی)۔
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) کے کانسٹی ٹیوشن ریفارم کونسل (CRC) کا حلف اٹھانے سے انکار نے ملک کے استحکام کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔
یہ بیان دراصل پارٹی کے عبوری چیئرمین طارق رحمٰن کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد پرانے سیاسی ڈھانچے (اسٹیٹس کو) کو برقرار رکھنا اور جولائی چارٹر کے نتیجے میں برسرِ اقتدار پارٹی کی طاقت پر عائد ہونے والی قدغنوں سے بچنا ہے (واضح رہے کہ جولائی چارٹر کو BNP سمیت 30 سیاسی جماعتوں نے طویل مشاورت کے بعد قبول کیا تھا)۔ BNP کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ عبوری حکومت کی جانب سے ریفرنڈم کا انعقاد غیر قانونی تھا کیونکہ 2011 میں شیخ حسینہ کی حکومت نے ریفرنڈم کا اختیار آئین سے ختم کر دیا تھا۔
اس انکار کے نتیجے میں ملک میں ایک سنگین آئینی تعطل پیدا ہو گیا ہے۔ ماہرینِ قانون کے مطابق، اگر پارلیمنٹ ریفرنڈم کے مینڈیٹ کو نافذ کرنے سے انکار کرتی ہے تو یہ عوامی خود مختاری کی توہین تصور کی جائے گی۔ دوسری طرف یہ جنگ اب سڑکوں تک پھیلنے کا خدشہ ہے کیونکہ طالب علم رہنماؤں اور نیشنل سٹیزنز پارٹی (NCP) نے فوری طور پر BNP کے اس اقدام کو 2024 کے انقلاب کے ساتھ غداری قرار دیا ہے۔
طارق رحمٰن، جنہوں نے وزیراعظم کے طور پر حلف اٹھایا، ایک وسیع و عریض 49 رکنی کابینہ کا اعلان کر چکے ہیں۔ اس کابینہ میں 25 وفاقی وزراء اور 24 وزرائے مملکت شامل ہیں۔ اگرچہ اس بڑی کابینہ کا مقصد بظاہر تمام دھڑوں کو خوش کر کے سیاسی استحکام حاصل کرنا ہے، لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق یہ عوامی خزانے پر ایک بوجھ ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک شدید معاشی بحران کا شکار ہے۔
واضع رہے کہ بنگلہ دیش کی معیشت اس وقت اپنی تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے۔ سیاسی عدم استحکام اور اصلاحاتی عمل پر جاری تنازع نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر نئی حکومت نے فوری طور پر معاشی نظم و ضبط قائم نہ کیا تو ملک سری لنکا جیسی صورتحال سے دوچار ہو سکتا ہے۔ جنوری 2026 میں بنگلہ دیش میں افراطِ زر کی شرح 8.58 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو کہ پڑوسی ممالک (بھارت 2.7 فیصد، سری لنکا 0.6 فیصد) کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ خوراک کی قیمتوں میں اضافہ 8.29 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جو عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل بنا رہا ہے۔
بنگلہ دیش کا بینکنگ سیکٹر ایک ’ٹِکنگ ٹائم بم‘ بنا ہوا ہے، جہاں غیر فعال قرضوں (NPLs) کی شرح 35 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ گزشتہ دورِ حکومت میں ہونے والی وسیع پیمانے پر کرپشن اور سیاسی مداخلت ہے۔ نئی حکومت، جو ’اسٹیٹس کو‘ کی علمبردار بن کر سامنے آئی ہے، سے یہ توقع کرنا مشکل ہے کہ وہ ان طاقتور مافیاز اور ’سفید ہاتھیوں‘ کے خلاف کارروائی کرے گی جنہوں نے بینکوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ اسی سال یعنی نومبر 2026 میں بنگلہ دیش کو یورپی یونین اور دیگر بڑے بازاروں میں ملنے والی ڈیوٹی فری مراعات ختم ہو جائیں گی۔ ریڈی میڈ گارمنٹس (RMG) سیکٹر، جو ملک کی 80 فیصد برآمدات کا ذریعہ ہے، اس تبدیلی سے شدید متاثر ہوگا۔ اگر ملک میں سیاسی استحکام نہ ہوا تو حکومت کے لیے تجارتی معاہدے (FTAs) کرنا مشکل ہوگا، جس کے نتیجے میں لاکھوں مزدور بے روزگار ہو سکتے ہیں، جو ملک میں ایک نئے انتشار کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ موجودہ حکومت کا ’ہنی مون پیریڈ‘ شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جائے گا۔ بنگلہ دیش میں تاریخی طور پر رمضان کے دوران اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مصنوعی اضافہ ہو جاتا ہے۔ ڈھاکہ کے بازاروں میں ابھی سے مرغی، خوردنی تیل اور چینی کی قیمتیں بڑھنا شروع ہو گئی ہیں۔ بنگلہ دیش کی معیشت پر ’مارکیٹ سنڈیکیٹس‘ کا قبضہ ہے جو سیاسی سرپرستی میں مصنوعی قلت پیدا کر کے منافع خوری کرتے ہیں۔ بی این پی کی حکومت، جس پر ماضی میں بھی کرپشن اور اقربا پروری کے الزامات رہے ہیں، کے لیے ان سنڈیکیٹس کو لگام دینا بظاہر ناممکن نظر آتا ہے۔ گیس کا شدید بحران، جو اس وقت ڈھاکہ کے اکثر باورچی خانوں کی آگ بجھا چکا ہے، عوامی غصے کو ہوا دے رہا ہے۔ اگر سحری اور افطاری کے اوقات میں گیس اور بجلی کی فراہمی یقینی نہ بنائی جا سکی، تو لوگ سڑکوں پر نکلنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔
حالات کا تجزیہ بتاتا ہے کہ بنگلہ دیش ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں سے واپسی کا راستہ بہت کٹھن ہے۔ ایک طرف وہ نوجوان ہیں جنہوں نے اپنی جانیں دے کر ملک کو ’حسینہ کی آمریت‘ سے آزاد کرایا تھا اور وہ نظام کی تبدیلی (System Change) چاہتے ہیں، دوسری طرف وہ روایتی سیاستدان ہیں جو صرف چہرے بدل کر وہی پرانا طرزِ حکمرانی دوبارہ لانا چاہتے ہیں۔
طلبہ تنظیمیں اور NCP پہلے ہی BNP پر ’حسینہ کے آئین‘ کی حفاظت کا الزام لگا رہے ہیں۔ ڈھاکہ یونیورسٹی اور دیگر تعلیمی اداروں سے کسی بھی وقت ایک نئی احتجاجی لہر کا آغاز ہو سکتا ہے۔
مہنگائی اور بیرونی قرضوں کا دباؤ حکومت کو سخت فیصلے کرنے پر مجبور کرے گا۔ اگر حکومت نے سبسڈیز ختم کیں یا ٹیکسوں میں اضافہ کیا تو عوام کا غصہ آسمان کو چھونے لگے گا۔
اس صورتحال میں نئی کشمکش ملک کے مفاد میں ہرگز نہیں ہے۔ BNP کا کانسٹی ٹیوشن ریفارم کونسل کا حلف نہ اٹھانا ایک ایسی سیاسی ضد ہے جو ملک کو آئینی بحران کی طرف لے جا رہی ہے۔ طارق رحمٰن بظاہر طاقتور دیکھائی دیتے ہیں، لیکن ان کی پارٹی کی بنیادیں عوامی اعتماد اور انقلابی روح سے خالی ہیں۔ بنگلہ دیش اس وقت ایک ایسے بارود کے ڈھیر پر بیٹھا ہے جسے سیاسی عدم استحکام کی ذرا سی چنگاری اڑا کر رکھ دے گی۔
اگر تمام اسٹیک ہولڈرز نے جولائی چارٹر پر قومی اتفاقِ رائے پیدا نہ کیا، تو ملک میں ایسا انتشار پھیلے گا جسے سنبھالنا کسی بھی منتخب حکومت کے بس میں نہیں ہوگا۔
آنے والے مہینے بنگلہ دیش کی بقا کے لیے فیصلہ کن ہوں گے۔ کیا ملک 2024 کے خوابوں کو حقیقت بنائے گا یا دوبارہ اسی اندھیرے میں ڈوب جائے گا جس سے وہ بڑی مشکل سے نکلا تھا؟ فی الحال تمام اشارے ایک تاریک مستقبل کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جہاں معاشی تباہی اور سیاسی انارکی ملک کا مقدر بنتی نظر آ رہی ہے۔
طارق رحمٰن کا وزیراعظم کے طور پر انتخاب ان کے لیے ذاتی طور پر "قانونی خلاصی” (Legal Redemption) تو ہے، لیکن ایک بطور قوم بنگلہ دیش کے لیے یہ ایک کٹھن امتحان ہے۔ ان پر لگے ماضی کے الزامات اور ’کھمبا طارق‘، ’بلیک پرنس‘جیسے القابات ان کی موجودہ کامیابی کے باوجود ان کی ساکھ پر ایک بوجھ ہیں۔ اگر وہ اپنی دو تہائی اکثریت کو آئین میں من پسند ترامیم کے لیے استعمال کرتے ہیں اور ریفرنڈم کے عوامی حکم کو پسِ پشت ڈالتے ہیں، تو وہ بعینہٖ وہی غلطی کریں گے جو ان سے پہلے شیخ حسینہ نے کی تھی۔
آئندہ چند ہفتے ڈھاکہ کی تقدیر کا فیصلہ کریں گے۔ رمضان کے دوران خوراک کی قیمتیں اور سڑکوں پر احتجاجی لہر یہ طے کرے گی کہ طارق رحمٰن کی حکومت برقرار رہے گی یا بنگلہ دیش ایک بار پھر کسی غیر آئینی مداخلت یا عوامی بغاوت کی لپیٹ میں آ جائے گا۔
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی قیادت اگر اپنی انا قربان کر کے اصلاحاتی عمل کا حصہ نہ بنی تو بنگلہ دیش کا نام ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو سکتا ہے جو آزادی تو حاصل کرتے ہیں لیکن اسے سنبھالنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔










