ودیا کرشنن
خودکشی کی موت مرنے والے مالیاتی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین سے متعلق عدالتی دستاویزات جیسے جیسے منظرِ عام پر آ رہی ہیں، یہ اسکینڈل ایک عالمی شرمندگی میں بدلتا جا رہا ہے، اور ظاہر کر رہا ہے کہ با اثر مرد کتنی تیزی سے اپنی ساکھ کے لیے بوجھ بن سکتے ہیں۔
اس بے چینی کی لہر نئی دلی تک بھی پہنچی، جہاں مائیکرو سافٹ کے شریک بانی بل گیٹس کو ’ آرٹیفیشل انٹیلی جنس امپیکٹ سمٹ‘ میں کلیدی خطاب کرنا تھا، مگر تنقید اور مودی حکومت کے اندر ان کی ایپسٹین سے ماضی کی ملاقاتوں پر پائی جانے والی بظاہر بے اطمینانی کے باعث وہ آخرکار شریک نہ ہوئے۔
یہ منظر خاصا معنی خیز تھا۔ جب کوئی اسکینڈل ساکھ اور سفارتی مفادات کے لیے خطرہ بن جائے تو عوامی اخلاقی برہمی بڑی تیزی سے سامنے آ جاتی ہے۔ مگر تعلقات کے حوالے سے یہی حساسیت اس گھریلو حقیقت کے ساتھ عجیب تضاد رکھتی ہے جہاں خواتین کے خلاف جنسی تشدد نہایت سفاکی سے اور باقاعدگی کے ساتھ ہوتا رہتا ہے، اور نہ تو اس پر ویسی ہی شرمندگی دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی کوئی نمایاں انجام سامنے آتا ہے۔
یہ تضاد بھیانک ہے۔ ایک ایسی سیاسی ثقافت جو عالمی اسکینڈل پر بے چینی کا اشارہ دینے کی صلاحیت رکھتی ہو، وہی اپنے ملک میں خواتین کو درپیش روزمرہ کی سفاکی پر حیران کن حد تک بے فکر دکھائی دیتی ہے۔
مودی حکومت کے دور میں خبروں کا سلسلہ اجتماعی عصمت دری کے واقعات سے اس طرح بھرا رہتا ہے جیسے کسی کارخانے کی پیداوار۔ مسلسل، بے رحمانہ، اور تکرار سن کر دل و دماغ کو سُن کر دینے والا۔
عصمت دری کے واقعات اتنے عام ہو چکے ہیں کہ انہیں موسم کی خبروں کی طرح سنایا جاتا ہے۔
گرمی کی لہر سے اموات۔
اچانک سیلاب۔
پانچ سالہ بچی اغوا، زیادتی کا نشانہ، قتل۔
اور موسم ہی کی طرح، گویا ذمہ دار صرف بھگوان ہے۔
نہ ریپسٹ۔
نہ عدالت۔
نہ پولیس۔
اور ہرگز وزیرِاعظم نہیں۔
جس وقت یہ تحریر بھیجی گئی اور جس وقت یہ شائع ہوئی، اس دوران میرٹھ میں پانچ سالہ بچی کے ساتھ اجتماعی زیادتی ہوئی، فرید آباد میں 26 سالہ خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، اور اوڈیشہ میں 17 سالہ لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی۔ دہلی کے مضافات میں 42 سالہ خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی ہوئی۔ بیکانیر میں 12 سالہ بچی کو اغوا کر کے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ مزید اجتماعی زیادتی کے واقعات بہار، چھتیس گڑھ، راجستھان اور کانپور میں بھی رپورٹ ہوئے۔
میں آپ کو اعداد و شمار دے سکتی ہوں، مگر محض اعداد اس وسیع اور ہمہ گیر خوف کو بیان نہیں کر سکتے جو شکاری ذہن رکھنے والوں کے سائے میں جینے سے پیدا ہوتا ہے۔ جنسی تشدد کا خطرہ کششِ ثقل کی طرح مستقل اور ہمہ وقت موجود رہتا ہے۔
یہ واقعات ہولناک ہوتے ہیں۔ آنتیں نکال دی جاتی ہیں، سلاخیں جسم میں داخل کی جاتی ہیں، زبانیں کاٹ دی جاتی ہیں، تیزاب پھینکا جاتا ہے، سر قلم کیے جاتے ہیں، گلا گھونٹا جاتا ہے، اور زندہ جلا دیا جاتا ہے۔
جب میں حکومت کے جاری کردہ اعداد و شمار دیکھتی ہوں تو پتہ چلتا ہے کہ اوسطاً روزانہ 86 خواتین زیادتی کا نشانہ بنتی ہیں۔
وزیرِاعظم نریندر مودی اور ان کے وزیرِ داخلہ امت شاہ، جو بظاہر ہر قیمت پر قانون اور نظم و ضبط بحال کرنے کے دعووں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں، اس بات سے بالکل بے پروا محسوس ہوتے ہیں کہ اُن کے دورِ حکومت میں بھارت کو اجتماعی عصمت دری کا عالمی دارالحکومت قرار دیا جا رہا ہے۔
اس صورتِ حال کی سب سے تشویش ناک مثال اس وقت سامنے آئی جب سزا یافتہ ریپسٹ اور کلدیپ سنگھ سینگر ، جو 2017 میں ایک نابالغ لڑکی سے زیادتی کا مجرم قرار پایا تھا اور اترپردیش کے ضلع اناؤں کے گاؤں مکھی کا رہائشی تھا، کو ایک ہائیکورٹ نے ضمانت دے دی۔ اس فیصلے نے اس امکان کو جنم دیا کہ وہ دوبارہ اسی سماجی اور سیاسی فضا میں شامل ہو سکتا ہے جس نے کبھی اسے استثنا اور بے خوفی فراہم کی تھی۔
دسمبر میں ایک ہائیکورٹ نے اسے ضمانت دی، مگر خوش قسمتی سے سپریم کورٹ آف انڈیا نے اس حکم کو معطل کر دیا، وہ بھی تب، جب دہلی میں مشتعل خواتین سڑکوں پر نکل آئیں اور احتجاج کیا۔
سینگر نے ایک کم عمر لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا تھا، جسے اس کے ساتھیوں نے اجتماعی زیادتی کا بھی نشانہ بنایا۔ لڑکی کے والد کو پولیس حراست میں قتل کر دیا گیا۔ مقدمہ اسی وقت درج ہوا جب اس نے وزیرِاعلیٰ کی رہائش گاہ کے سامنے خود کو آگ لگانے کی دھمکی دی۔
اس کی المناک داستان اس بات کو نمایاں کرتی ہے کہ کس طرح بھارتی مرد، اور مودی انتظامیہ کی طرح، اس صورتِ حال پر حیرت انگیز حد تک بے شرم اور بے پروا دکھائی دیتے ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ کوئی استثنائی واقعہ نہیں؛ یہ تو خود نظام کی اپنی مادری زبان میں کی گئی گفتگو ہے۔
عوامی یادداشت اہم ہوتی ہے، کیونکہ ہر نیا واقعہ اُن پرانے واقعات کی باقیات کے پس منظر میں سامنے آتا ہے جن کے بارے میں ہمیں بتایا گیا تھا کہ وہ سب کچھ بدل دیں گے۔
2012 میں، میں نے ’نربھیا‘ اجتماعی زیادتی کے بارے میں واقعے کے تین دن بعد پڑھا، جب میں ہوائی اڈے سے واپس آ رہی تھی۔ میں نے جان بوجھ کر خبروں سے خود کو دور رکھا ہوا تھا، یہاں تک کہ وہ صفدر جنگ اسپتال میں داخل کر دی گئی، اور میرے ایڈیٹرکو مجھ سے اس کی صحت کے بارے میں تازہ معلومات درکار تھیں۔
جب میں نے جانا کہ مردوں نے اس نوجوان عورت کے ساتھ کیا کیا تھا، تو مجھے لگا کہ دنیا کا نظام رک جائے گی۔ ایک حد عبور ہو چکی تھی۔ مجھے محسوس ہوا کہ اب دنیا نئے سرے سے زندگی شروع کرے گی۔ احتجاج ہوئے، لوگ ہر جگہ اس کا نام جانیں گے، اور ایسا واقعہ پھر کبھی پیش نہیں آئے گا۔
میری ساری سادہ لوحی ’ناٹ آل مین‘ کے شور میں ڈوب گئی، جب اس اجتماعی زیادتی کو ایک وائرل واقعہ بنا کر اس پر محض ایک ہیش ٹیگ ٹانگ دیا گیا۔
یہ نعرہ معصومیت کا دفاع کم اور توجہ کو احتساب سے ہٹا کر دوبارہ مردانہ آسودگی کی طرف موڑنے کا ذریعہ زیادہ بن گیا۔
میرے لیے ایسے واقعات کے بارے میں سننا اور یہ نہ سوچنا ناممکن ہے: اگر یہ میرے ساتھ ہوتا تو؟
میرا جسم۔
وہ سلاخ۔
وہ مرد۔
عورتوں کے جسموں کی اذیت اور مسخ کیے جانے کا عمل اس قدر زیادہ ہو چکا ہے کہ اب ہمارے خوف کو کم کرنے کے لیے ایک باقاعدہ بازار موجود ہے۔
سیکیورٹی ایپس۔
پیپر اسپرے اور پہننے کے قابل ہنگامی الارم۔
جب بھی میں اس موضوع پر لکھتی ہوں، تو مجھے لفظوں کی مکمل بے بسی کا سامنا ہوتا ہے، ایسے مردوں کے مقابلے میں جو زیادتی کی ویڈیوز بناتے ہیں، ان پر فخر کرتے ہیں، اور پھر بھی بالآخر سماج میں دوبارہ قبول کر لیے جاتے ہیں۔
اس لمحے کو بے مثال کہنا غلط نہ ہوگا، لیکن حقیقت میں یہ اس سے بھی آگے ہے۔ یہ وجودی مسئلہ ہے۔ چاہے یہ امریکا ہو یا انڈیا ، خواتین ایک ہی طرزِ کار دیکھ رہی ہیں اقتدار اپنی حفاظت میں مصروف، بااثر مرد اکٹھے ہو کر طوفان کے گزرنے کا انتظار کرتے ہیں۔
مشابہت پیمانے یا سیاق و سباق میں نہیں، بلکہ اس مسلسل منظر میں ہے جہاں ادارے بااثر مردوں کو بچاتے ہیں اور متاثرہ خواتین اکیلی لڑتی ہیں۔ کافی عرصے سے، دونوں ممالک جو بظاہر سب سے بڑے اور سب سے پرانے جمہوریتیں ہیں، خود تباہی کے راستے پر گامزن ہیں، اور اس راہنمائی میں مرد پیش پیش ہیں۔
مودی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں، عصمت دری سیاست کا ایک تسلسل بن چکی ہے۔ خواتین کو اب صرف مرد ہی نہیں، بلکہ عدالتیں، اسپتال اور نیوز رومز بھی متاثر کر رہے ہیں۔ یہ عہدِ دیو مالا کا ہے۔ یقیناً یہ ایپسٹین، گیٹس یا سینگر سے شروع نہیں ہوا، لیکن یہ لوگ اس عہد کی علامت ہیں۔
جب درمیانے طبقہ آگے بڑھنے کے خواب، کیریئر کی دوڑ، اور کسی گلیٹڈ سبرب میں دو بیڈ رومز کے خواب میں مصروف تھا، ہم نے اِن غنڈوں کو خواتین کے خلاف نفرت پر مبنی ایک وسیع پیمانے کی معاشرتی سلطنت قائم کرنے کی اجازت دی۔
میں اپنے اندر موجود غصہ کے بارے میں نہیں جانتی کہ کیا کروں۔
آپ کیا کرتے ہیں جب بار بار یہ کہا جائے کہ آپ کا جسم، آپ کی نسل، آپ کا صنف ضائع ہونے کے لیے ہے؟
میں نہیں جانتی۔
جو میں جانتی ہوں وہ یہ ہے کہ وہ نوجوان لڑکی جو سینگر کے ہاتھوں بچ گئی، اب بھی انصاف کے لیے لڑ رہی ہے۔ میں یہ بھی جانتی ہوں کہ ایپسٹین کے جنسی انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورک کی بقیہ متاثرہ خواتین بھی انصاف کے لیے لڑ رہی ہیں۔
یہ خواتین دل و جان، پسینے اور طاقت کے ساتھ لڑ رہی ہیں۔
میں جانتی ہوں کہ جب وہ اتنی بلندی سے کھڑی ہیں اور ہر لحاظ سے ہیرو نظر آتی ہیں، تو مجھے مایوس ہونے کا کوئی حق نہیں۔
میں یہ بھی جانتی ہوں کہ کوئی اس طرح کی لڑائی اس وقت تک نہیں لڑتا جب تک کہ وہ اپنی بہنوں سے محبت نہ کرے۔
اس تاریک وقت میں یہ ریکارڈ پر رکھنا ضروری لگتا ہے کہ جب مودی حکومت ایپسٹین اسکینڈل کے سائے سے سمٹ کے اسٹیج پر ڈرامائی طور پر پسپائی اختیار کرتی ہے، تو طنز خود بخود سامنے آ جاتا ہے۔
ایک حکومت جو اپنی خواتین کی حفاظت نہیں کر سکتی، یا کرنا نہیں چاہتی، اسے اس بات پر کہیں زیادہ شرمندگی ہونی چاہیے جو عام ہے، اس کے مقابلے میں جو اسکینڈل ہے۔
ودیا کرشنن ایک انویسٹی گیٹو جرنلسٹ ہیں جو سماجی انصاف کے موضوعات پر لکھتی ہیں۔ اُن کی پہلی کتاب Phantom Plague 2021 میں شائع ہوئی تھی۔










