معروف عرب ٹیلی ویژن چینل ’الجزیرہ‘ سے وابستہ تجزیہ کار مروان بشارہ کا کہنا ہے کہ امریکا کی رجیم چینج کوششیں عراق، افغانستان اور لیبیا میں ’تباہ کن‘ ثابت ہوئیں۔
گزشتہ دو دہائیوں کے دوران امریکا نے کم از کم تین ممالک میں حکومتوں کی تبدیلی (رجیم چینج) کی کوششیں کیں: عراق، افغانستان اور لیبیا۔ ناقدین کے مطابق یہ تینوں تجربات مجموعی طور پر ناکام اور تباہ کن ثابت ہوئے۔
معروف عرب ٹیلی ویژن چینل ’الجزیرہ‘ سے وابستہ تجزیہ کار مروان بشارہ کا کہنا ہے کہ عراق میں امریکا نے شدید بمباری کے بعد زمینی افواج تعینات کیں۔ اس مداخلت کے نتیجے میں حکومت کی باقاعدہ تبدیلی عمل میں آئی، تاہم اس عمل پر کھربوں ڈالر خرچ ہوئے، ہزاروں امریکی فوجی ہلاک ہوئے جبکہ لاکھوں عراقی شہری جان سے گئے۔
ناقدین اسے ایک ایسی مداخلت قرار دیتے ہیں جس کے نتائج نہایت سنگین اور دور رس ثابت ہوئے۔
افغانستان میں بھی صورتحال کسی حد تک مشابہ رہی۔ یہاں کارروائی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کی قرارداد کے تحت کی گئی اور افغان فوج کو تربیت بھی دی گئی۔ تاہم بیس سال بعد امریکی افواج کے انخلا کے ساتھ ہی طالبان دوبارہ اقتدار میں آ گئے، جس سے رجیم چینج کی کوشش کو ناکام قرار دیا گیا۔
لیبیا میں اقوام متحدہ کی قرارداد ’تحفظ کی ذمہ داری‘ کے تحت کارروائی کی گئی، جس کا باضابطہ مقصد حکومت کی تبدیلی نہیں تھا۔ تاہم عملی طور پر امریکا اور یورپی اتحادیوں نے بغیر بڑی زمینی فوج تعینات کیے معمر قذافی کی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ اس کے بعد لیبیا طویل عرصے سے سیاسی تقسیم، بدامنی اور تشدد کا شکار ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ان تینوں مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ بیس برسوں میں امریکا کی جانب سے کی گئی رجیم چینج کی کوششیں زیادہ تر ناکامی اور عدم استحکام پر منتج ہوئیں، جن کے اثرات آج بھی متعلقہ خطوں میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔










