دفاعی امور کے ماہر اور کنگز کالج لندن میں لیکچرر روب گیسٹ پِن فولڈ نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران خلیجی ممالک کو پورے شعور اور حکمت عملی کے تحت نشانہ بنا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران خلیجی ممالک کو اس لیے منتخب کر رہا ہے کیونکہ وہ انہیں نسبتاً ’آسان ہدف‘ سمجھتا ہے۔
یہ اسرائیل کے مقابلے میں زیادہ آسانی سے نشانہ بنائے جا سکتے ہیں۔
خلیجی ممالک جنگ نہیں چاہتے
پِن فولڈ کے مطابق خلیجی ممالک براہِ راست اس جنگ کا فریق نہیں ہیں، اس لیے ان میں لڑائی کی خواہش کم پائی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا ایران یہ اندازہ لگا رہا ہے کہ یہ ممالک جلد از جلد جنگ بندی کے خواہاں ہوں گے اور وہ امریکی انتظامیہ پر دباؤ ڈالیں گے، لیکن اب تک ہمیں اس کے کوئی آثار نظر نہیں آئے۔
خلیجی ریاستوں کا اظہارِ اتحاد
ماہر دفاعی امور نے مزید کہا کہ کم از کم بیانات کی حد تک خلیجی ریاستوں کی جانب سے ’قوت کے مظاہرے‘ اور ’اتحاد‘ کا پیغام دیا جا رہا ہے۔ وہ یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ وہ متحد، یکجا اور مضبوط ہیں۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ پسِ پردہ ایران سے نمٹنے کے طریقہ کار پر خلیجی ممالک کے درمیان گہرے اختلافات موجود ہیں، حتیٰ کہ کچھ ریاستیں یہ بھی طے نہیں کر پا رہیں کہ ایران سے براہِ راست رابطہ کیا جائے یا نہیں۔
فوجی کارروائی یا محتاط حکمت عملی؟
پِن فولڈ کے مطابق بعض خلیجی ریاستیں فوجی کارروائی کی حمایت کر سکتی ہیں، لیکن ایران جانتا ہے کہ اگر یہ ممالک براہِ راست تنازع میں شامل ہوتے ہیں تو انہیں امریکا اور اسرائیل کی جنگ کا حصہ سمجھا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک اب تک ایک متوازن اور محتاط پالیسی اختیار کیے ہوئے تھے، مگر موجودہ حالات میں ’درمیانی راستے‘ کی گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے۔
آخر میں انہوں نے زور دیا خلیجی ریاستوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ یہ ثابت کریں کہ وہ اپنی خودمختاری کا دفاع کر سکتی ہیں اور اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی خلیجی ممالک کے لیے سفارتی اور عسکری سطح پر ایک کڑا امتحان ثابت ہو سکتی ہے۔










