مہتاب عزیز
28 فروری 2026 کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی جانے والی مشترکہ فوجی کارروائی، جسے وائٹ ہاؤس نے ‘آپریشن ایپک فیوری’ (Operation Epic Fury) کا نام دیا ہے، نے خطے کی جغرافیائی و سیاسی حرکیات کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔
آئیے! گزشتہ چند روز سے جاری اس جنگ کے کچھ اہم حقائق کا جائزہ لیتے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے حملے کے آغاز پر یہ بیانیہ اپنایا تھا کہ امریکی افواج کو ایران سے ایک ’فوری خطرے’(imminent threat) کا سامنا تھا۔ صدر ٹرمپ کا موقف تھا کہ انہوں نے ایران کی جانب سے امریکی افواج کو حملے کا نشانہ بنائے جانے سے دفاعی نقطہ نظر سے حملہ کیا ہے، لیکن یکم مارچ 2026 کو امریکی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کی قومی سلامتی اور انٹیلی جنس کمیٹیوں کو ’پنٹاگون‘ نے خفیہ (closed-door) بریفنگ میں ٹرمپ کے دعوے کی نفی کر دی ہے۔
90 منٹ طویل بریفنگ میں پنٹاگون اور انٹیلی جنس حکام نے باضابطہ طور پر کانگریس کو آگاہ کیا کہ ایسی کوئی انٹیلی جنس، شواہد، یا اشارے موجود نہیں تھے جو یہ ثابت کر سکیں کہ ایران خطے میں امریکی افواج پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ ایران یا اس کے کسی پراکسی نیٹ ورک کی جانب سے کوئی ایسا ہنگامی یا فوری خطرہ موجود نہیں تھا جو اس قدر وسیع اور تباہ کن فوجی کارروائی کا متقاضی ہوتا۔
پنٹاگون کے باضابطہ اعتراف کا سیدھا اور واحد مطلب یہ ہے کہ امریکی قیادت نے ایک خود مختار ملک پر حملہ کرنے اور ایک طویل جنگ چھیڑنے کے لیے کانگریس اور امریکی عوام کے سامنے حقائق کو مسخ کیا اور دانستہ طور پر جھوٹ بولا ہے۔ جس کے بعد خود امریکی قانون کے مطابق یہ جنگ غیر قانونی اور غیر آئینی ثابت ہو گئی ہے، جس کا مقصد صرف اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی تزویراتی خواہشات کی تکمیل ہے۔
اس انٹیلی جنس اعتراف کے بعد نہ صرف ڈیموکریٹس بلکہ صدر ٹرمپ کے اپنے دائیں بازو کے کٹر حامیوں (MAGA base) کی جانب سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ کئی قانون سازوں اور بااثر شخصیات کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ دھوکہ کیا گیا ہے۔ قانونی ماہرین، جیسے کہ ہارورڈ کے پروفیسر نوح فیلڈمین (Noah Feldman) کہتے ہیں کہ جب آپ کسی ملک کے دارالحکومت پر بمباری کرتے ہیں اور اس کے سربراہ کو قتل کرتے ہیں تو یہ بین الاقوامی قانون اور امریکی آئین، دونوں کی رو سے ایک کھلی جنگ ہے جس کی پیشگی منظوری کانگریس سے لینا لازمی ہے، جسے اس معاملے میں یکسر نظر انداز کیا گیا ہے۔
امریکی اور اسرائیلی عسکری مہم کا واضح ہدف تھا کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ فوجی قیادت (جس میں پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور اور وزیر دفاع عزیز نصیرزادہ شامل ہیں) کو ختم کر کے ایرانی ریاست کے اندر اقتدار کی جنگ چھیڑ دی جائے، جس سے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے اندر دراڑیں پڑ جائیں گی اور نظام اندرونی طور پر منہدم ہو جائے گا۔ تاہم، زمینی حقائق، انٹیلی جنس کے تخمینے اور ماہرین کی آراء اس مفروضے کو یکسر غلط ثابت کر رہی ہیں۔ سپریم لیڈر کی شہادت اور دارالحکومت پر شدید بمباری کے باوجود پاسدارانِ انقلاب کے اندر ابھی تک پھوٹ پڑنے، بغاوت ہونے، یا کمانڈ اینڈ کنٹرول کے بکھرنے کے کوئی آثار نمایاں نہیں ہوئے ہیں۔
اس غیر معمولی ادارہ جاتی لچک (institutional resilience) کی بنیادی وجہ آئی آر جی سی کا تنظیمی ڈھانچہ ہے جسے عسکری اصطلاح میں ‘موزیک اپروچ’(Mosaic Approach) کہا جاتا ہے۔ اس غیر مرکزی (decentralized) ڈھانچے کے تحت، پاسدارانِ انقلاب کی علاقائی اور صوبائی کمانڈز کو اس طرح تربیت دی گئی ہے کہ اگر دارالحکومت تباہ ہو جائے یا مرکزی قیادت سے ان کا مواصلاتی رابطہ مکمل طور پر کٹ جائے، تب بھی وہ خود مختارانہ طور پر اپنے طے شدہ اہداف پر حملے جاری رکھ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قیادت کے اتنے بڑے نقصان کے باوجود ایران کی جانب سے جوابی حملوں کی رفتار اور شدت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔
مزید برآں، قیادت کے خلا کو پُر کرنے کے لیے انتہائی تیزی سے اقدامات کیے گئے ہیں۔ آئی آر جی سی کے نئے چیف کمانڈر کے طور پر بریگیڈیئر جنرل احمد وحیدی (Ahmad Vahidi) کو مقرر کر دیا گیا ہے۔ احمد وحیدی، ماضی میں وزیر دفاع اور وزیر داخلہ کے اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں، ایک انتہائی سخت گیر (hardliner) تصور کیے جاتے ہیں۔ ان کی فوری تقرری اس بات کا واضح پیغام ہے کہ عسکری ادارے اپنے آپریشنل تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے مکمل طور پر متحد ہیں اور کسی بھی قسم کے اندرونی انتشار کو ابھرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔
سی آئی اے اور دیگر امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے بھی وائٹ ہاؤس کو متنبہ کیا ہے کہ آئی آر جی سی کے کمانڈرز کسی صورت ہتھیار نہیں ڈالیں گے اور نہ ہی ان کے اندر کوئی بڑی دراڑ پڑے گی، کیونکہ ان کا معاشی، سیاسی اور سماجی وجود ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے اور ان کے پاس ریاست کے اندر ایک وسیع سرپرستی کا نیٹ ورک (patronage network) موجود ہے جو ان کی باہمی وفاداری کو یقینی بناتا ہے۔
دوسری جانب ایران کا سیاسی نظام اس طرح وضع کیا گیا ہے کہ وہ شدید بحرانوں کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایرانی آئین کے آرٹیکل 111 میں درج ہے کہ سپریم لیڈر کی موت، برطرفی یا استعفے کی صورت میں اقتدار کا عبوری انتظام کیسے چلایا جائے گا۔ چنانچہ خامنہ ای کی شہادت کے فوری بعد، اس آئینی شق کے تحت ایک ‘عبوری لیڈرشپ کونسل’ (Interim Leadership Council) تشکیل دی گئی، جس میں صدر مسعود پزشکیان، چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایژئی اور نگہبان شوریٰ کے رکن علی رضا اعرافی شامل ہیں۔ یہ کونسل مل کر سپریم لیڈر کے تمام ایگزیکٹو فرائض کی انجام دہی کے علاوہ ریاستی مشینری کے تسلسل اور سفارتی امور کی نگرانی بھی کرے گی۔
سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل (SNSC) کے سربراہ علی لاریجانی قومی سلامتی کے تمام اداروں، بشمول فوج اور پاسداران کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے اور بحرانی صورتحال میں تزویراتی فیصلے کرنے کا فریضہ سر انجام دیں گے۔
پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے بریگیڈیئر جنرل احمد وحیدی ملک کے اندرونی دفاع، سڑکوں پر کنٹرول، اور اسرائیل و خلیج میں امریکی مفادات پر جوابی حملوں کی قیادت کریں گے۔
اس وقت ماہرین کی کونسل (Assembly of Experts) میں شامل 88 منتخب علما جلد از جلد نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے لیے مسلسل بند کمرہ اجلاس کر رہے ہیں۔ اقتدار کی یہ منتقلی اگرچہ بحرانی صورتحال میں ہو رہی ہے، لیکن ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ اگلے چند روز میں نئے سپریم لیڈر کے نام کا باقاعدہ اعلان خوش اسلوبی سے کر دیا جائے گا۔
جیسے ہی ماہرین کی کونسل نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا عمل مکمل کر لے گی، ریاست کے اندر پھوٹ پڑنے یا قیادت پر رسہ کشی کے امکانات مکمل طور پر دم توڑ جائیں گے۔
واضح رہے کہ علی خامنہ ای کی اس بمباری میں موت کو ریاستی سرپرستی میں ایک ’عظیم شہادت‘ کے بیانیے (Great Martyrdom Narrative) کے طور پر ابھارا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف موجودہ نظام کو ایک نیا نظریاتی جواز مل رہا ہے، بلکہ یہ بیانیہ بیرونی حملے کے خلاف ایرانی عوام کے مختلف الخیال دھڑوں کو آپس میں متحد کرنے کا سبب بھی بن رہا ہے۔
جنگ کے آغاز پر امریکی انتظامیہ کا سب سے پرجوش اور بلند بانگ دعویٰ یہ تھا کہ یہ کارروائی ایران کے عوام کو ان کی جابر حکومت سے نجات دلانے کے لیے کی گئی ہے۔
یکم مارچ کو صدر ٹرمپ نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں انتہائی پراعتماد انداز میں ایرانی عوام سے مخاطب ہو کر کہا کہ یہ موقع ہے، اٹھو اور اپنی حکومت پر قبضہ کر لو‘۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ محض فضائی طاقت کے استعمال سے معاشروں کی سیاسی بنت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ چند ہی روز کے اندر، وائٹ ہاؤس کے اندرونی حلقوں اور انٹیلی جنس اداروں میں رجیم چینج کے حوالے سے گہری مایوسی جنم لے چکی ہے۔
رائٹرز کی تفصیلی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اب وائٹ ہاؤس کا بھی یہ یقین برقرار نہیں رہا ہے کہ وہ موجودہ فوجی مہم کے ذریعے ایران میں حکومت تبدیل کر سکتا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا یہ بیان کہ اگر امریکا کا ہدف حکومت بدلنا ہے تو یہ ایک ’ناممکن ‘مشن(impossible mission) ہے، دراصل زمینی حقائق کی بالکل درست عکاسی کرتا ہے۔
ایران پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کا تزویراتی اعتبار سے خطرناک نتیجہ وہ جوابی کارروائی ہے جس نے اسرائیل کے ناقابل تسخیر سمجھے جانے والے فضائی دفاعی نظام کی خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ایران نے جوابی حکمت عملی کے طور پر ’سیچوریشن اٹیک‘(Saturation Attack) کا طریقہ کار اپنایا ہے، جس کا مقصد سستے اور بڑی تعداد میں بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں، اور ڈرونز کا سیلاب بھیج کر دشمن کے مہنگے اور محدود فضائی دفاعی نظام کو تھکا دینا (exhaust) ہے۔ اسرائیل کا فضائی دفاع بنیادی طور پر تین تہوں (tiers) پر مشتمل ہے۔ شارٹ رینج کے لیے آئرن ڈوم (Iron Dome)، درمیانی رینج کے لیے ڈیوڈز سلنگ (David’s Sling)، اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کے لیے ایرو 2 اور ایرو 3 (Arrow 2 & 3) سسٹمز۔
وال اسٹریٹ جرنل کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، جنگ کے چوتھے روز ایران کی جانب سے 370 سے زائد بیلسٹک میزائل فائر کیے جانے کے بعد، اسرائیل کے پاس طویل فاصلے تک مار کرنے والے ‘ایرو’ انٹرسپٹرز کے ذخائر خطرناک حد تک ختم ہو رہے ہیں۔
اب اسرائیل نے باقاعدہ طور پر اپنے میزائل انٹرسپٹرز کی راشننگ (Rationing) شروع کر دی ہے۔ اس راشننگ کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیلی دفاعی نظام اب ہر آنے والے میزائل کو نشانہ نہیں بنا رہا، بلکہ اسے یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ کون سا میزائل اہم فوجی تنصیبات پر گرے گا، اسے روکنا ہے اور کسے کم اہم جگہوں پر گرنے دیا جائے، تاکہ انتہائی محدود اور مہنگے انٹرسیپٹرز کو مستقبل کے لیے بچایا جا سکے۔
یہ جنگ محض بارود کی نہیں بلکہ معاشیات کی بھی ہے۔ ‘آئرن بیم’ (Iron Beam) نامی لیزر دفاعی نظام، جسے اسرائیل نے ڈرونز سے نمٹنے کے لیے میدان میں اتارا ہے، بنیادی طور پر اسی راشننگ کی حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ ایرو اور اسٹنر میزائلوں کو بچایا جا سکے، لیکن لیزر ٹیکنالوجی بھاری بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کے لیے فی الحال ناکافی ہے۔
انٹرسیپٹرز کی قیمتیں عسکری مہم کے معاشی استحکام پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر رہی ہیں۔ ڈین کالڈویل (Dan Caldwell) جو ٹرمپ انتظامیہ میں محکمہ دفاع کے سابق سینیئر اہلکار رہ چکے ہیں، نشاندہی کرتے ہیں کہ بیلسٹک میزائلوں کو مار گرانے والے انٹرسیپٹرز بنانا انتہائی مہنگا اور تکنیکی اعتبار سے سست عمل ہے۔ امریکا خود اپنے عالمی ذخائر (Global Stockpile) کو اسرائیل کی مدد کے لیے استعمال کر رہا ہے، اور امریکی حکومت کے اندر اس بات پر شدید تشویش پائی جاتی ہے کہ اگر ایران کے ساتھ جنگ طول پکڑتی ہے تو امریکا کے اپنے میزائل دفاعی ذخائر "خوفناک” (horrendous) حد تک گر سکتے ہیں۔
اس تنازعے کا دائرہ محض ایران اور اسرائیل تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس کی زد میں مشرق وسطیٰ کی وہ خلیجی ریاستیں بھی آ چکی ہیں جو امریکی فوجی اڈوں اور معاشی مفادات کی میزبانی کرتی ہیں۔
ایران کے اس عسکری نظریے نے کہ ‘جو ریاست بھی امریکیوں کو اڈے فراہم کرے گی وہ ہمارا ہدف ہو گی’، خطے کی سلامتی کے پورے ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایران کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات (UAE)، قطر، بحرین، کویت اور سعودی عرب کے مختلف حصوں میں میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں، جس سے شہری اور اقتصادی تنصیبات کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی حدود میں خطرے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حکام نے تین دنوں میں 174 بیلسٹک میزائلوں، 689 ڈرونز اور 8 کروز میزائلوں کو انٹرسپٹ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ لیکن اس عمل نے متحدہ عرب امارات کے دفاعی بجٹ پر ایک بہت بڑا بوجھ ڈال دیا ہے۔ سٹمسن سینٹر (Stimson Center) کی کیلی گریکو (Kelly Grieco) کے تجزیے کے مطابق، ان حملوں کو روکنے کی لاگت متحدہ عرب امارات کے لیے تقریباً 2 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
قطر کے صنعتی شہر راس لفان (Ras Laffan) میں توانائی کی تنصیبات پر ڈرون حملوں کے بعد دوحہ کو اپنی مائع قدرتی گیس (LNG) کی پیداوار کو بند کرنا پڑا ہے۔ عمان کے ساحل سے 50 میل دور مسقط کے قریب تیل کے ایک ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ کویت کے علی السالم ایئر بیس اور دیگر مقامات کی حفاظت کے لیے کویتی فضائی دفاع نے کئی ڈرونز کو روکا ہے۔
ان حملوں کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ خلیجی ریاستوں کے پاس بھی پیٹریاٹ اور دیگر انٹرسیپٹرز کے ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ جب ایک سستا ایرانی ڈرون، جس کی لاگت شاید چند ہزار ڈالر ہو، خلیجی تنصیبات کی طرف بڑھتا ہے، تو اسے مار گرانے کے لیے خلیجی ریاستوں کو لاکھوں ڈالر مالیت کا ایک قیمتی انٹرسیپٹر استعمال کرنا پڑتا ہے۔
یہ معاشی اور عسکری عدم توازن (Asymmetry) ایران کے حق میں جا رہا ہے اور خلیجی ریاستیں اپنے دفاعی ذخائر کو مکمل طور پر خالی ہوتا دیکھ رہی ہیں۔ واضع رہے کہ اندازے کے مطابق ایران ’شاہد ڈرون‘ طرز کے روزانہ سو سے زیادہ ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
‘آپریشن ایپک فیوری’ کے باعث خطے میں ابھرنے والا سب سے بڑا سفارتی بحران امریکا اور اس کے روایتی عرب اتحادیوں، بالخصوص سعودی عرب کے درمیان گہری ہوتی ہوئی خلیج ہے۔ خلیجی ممالک، جو طویل عرصے سے خطے میں امریکی سیکیورٹی چھتری (Security Umbrella) پر انحصار کرتے آئے ہیں، اب خود کو مکمل طور پر غیر محفوظ اور تنہا محسوس کر رہے ہیں۔
خلیجی ممالک کے اندر یہ تاثر محض ایک شک نہیں بلکہ ایک باضابطہ شکایت کی صورت اختیار کر چکا ہے کہ امریکا کی دفاعی ترجیحات میں عرب ممالک شامل ہی نہیں ہیں۔
ایک اعلیٰ سعودی عہدیدار نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے نہایت تلخ لہجے میں شکوہ کیا کہ امریکا نے خلیجی ریاستوں کو لاوارث چھوڑ دیا ہے اور اپنے تمام تر فضائی دفاعی نظاموں کو اسرائیل کی حفاظت کے لیے مختص کر رکھا ہے۔
سعودی حکام کا یہ غصہ بالکل بجا ہے، کیونکہ انہوں نے محسوس کیا ہے کہ جن عرب ممالک نے دہائیوں سے امریکی فوجی اڈوں کو اپنی سرزمین پر جگہ دی ہے، آج بحران کے وقت انہیں ایرانی میزائلوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، جبکہ امریکی انٹیلی جنس، انٹرسیپٹرز، اور دفاعی وسائل کا 100 فیصد استعمال صرف اسرائیل کو بچانے کے لیے ہے۔
خلیجی ریاستوں، بالخصوص سعودی عرب اور قطر نے گزشتہ کچھ عرصے سے ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی تعلقات بحال کرنے پر بہت کام کیا تھا۔ لیکن ایران کی جانب سے خلیجی شہری اور اقتصادی انفراسٹرکچر پر حملوں (جیسے کہ سعودی عرب کی راس تنورہ ریفائنری پر حملہ) نے اس ساری سفارتی محنت پر پانی پھیر دیا ہے۔
اب خلیج تعاون کونسل (GCC) کے اندر یہ دباؤ بڑھ رہا ہے، خاص طور پر متحدہ عرب امارات کی جانب سے، کہ عرب ریاستیں اپنی غیر جانبداری ختم کریں اور ایران کے خلاف اپنے دفاع کا حق استعمال کریں۔ تاہم، وہ ایران کے ساتھ ایک کھلی جنگ میں کودنے سے کترا رہے ہیں کیونکہ انہیں امریکا کی پشت پناہی پر اعتبار نہیں رہا۔ اس عدم اعتماد کو ایک بہت بڑی سفارتی ضرب اس وقت لگی جب اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی (Mike Huckabee) نے ایک انٹرویو کے دوران یہ اشتعال انگیز بیان دیا کہ اگر اسرائیل دریائے نیل سے لے کر دریائے فرات تک” کے تمام علاقوں پر قبضہ کر لے تو یہ بالکل درست ہو گا۔ اس بیان نے پوری عرب دنیا میں تشویش کی لہر پیدا کی ہے۔ عرب لیگ، خلیج تعاون کونسل، اور اسلامی تعاون تنظیم (OIC) سمیت ایک درجن سے زائد مسلم ممالک نے اس بیان کی شدید مذمت کی ہے اور اسے بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی، علاقائی خودمختاری کے لیے خطرہ، اور اسرائیلی توسیع پسندی کی امریکی سرپرستی قرار دیا ہے۔
مارچ 2026 میں پیش آنے والے ان ڈرامائی تزویراتی، عسکری، اور سفارتی واقعات نے ثابت کیا ہے کہ یہ جنگ امریکی طاقت کے عدم توازن اور سفارتی ہٹ دھرمی کی ایک واضح مثال ہے، جس نے مشرق وسطیٰ کو استحکام بخشنے کے بجائے اسے ایک طویل اور تباہ کن غیر یقینی کی کیفیت میں دھکیل دیا ہے۔










