مہتاب عزیز
مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، ’برینٹ کروڈ آئل‘ 80 ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔ عالمی مارکیٹ کے ان اثرات کے نتیجے میں مقامی سطح پر بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل ناگزیر تھا۔
تاہم، پاکستان میں عوام کی دگرگوں معاشی حالت کو بھی یکسر نظر انداز کرتے ہوئے، یہ اضافہ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ کیا گیا ہے۔ 55 روپے کے بھاری اضافے کے بعد 7 مارچ 2026 سے پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 321.17 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے، جو 1.15 امریکی ڈالر بنتے ہیں۔
حکومت نے اس اضافے کو ’مجبوری‘ قرار دیا ہے، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومت نے اس مشکل موقع پر بھی عوام کی معاشی مشکلات کو ترجیح نہیں دی۔
واضح رہے کہ خطے کے دیگر ممالک میں پیٹرول کی قیمتیں پاکستان کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہیں۔
خطے میں سب سے مہنگا پیٹرول
مثال کے طور پر بھارت (دہلی) میں پیٹرول 94.77 بھارتی روپے فی لیٹر (تقریباً 1.13 امریکی ڈالر) ہے۔ بھارتی روپیہ پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں کافی مستحکم اور عوام کی قوتِ خرید بہتر ہونے کے باوجود وہاں قیمت پاکستان سے کم ہے۔
بنگلہ دیش میں فی لیٹر پیٹرول 116 ٹکا ہے، جو تقریباً 0.97 امریکی ڈالر بنتا ہے۔ یہاں بھی مستحکم کرنسی کے باوجود قیمت پاکستان سے کافی کم ہے۔
سری لنکا میں پیٹرول کی قیمت 293 لنکن روپے (تقریباً 0.94 امریکی ڈالر) فی لیٹر ہے۔ اگرچہ سری لنکا کی معیشت حالیہ برسوں میں شدید بحران کا شکار رہی ہے، لیکن وہاں بھی قیمت پاکستان سے نمایاں کم ہے۔
یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ اس وقت پاکستان میں پیٹرول خطے میں سب سے مہنگا ہے۔ حکومت نے نہ صرف عالمی مارکیٹ کے اضافے کا بوجھ براہِ راست عوام پر منتقل کیا ہے، بلکہ ’احتیاطی تدبیر‘ کے طور پر قیمتوں میں مزید بلا جواز اضافہ بھی کیا ہے۔ حکومت اس مشکل وقت میں پیٹرولیم پر عائد بھاری ٹیکسوں میں عارضی رد وبدل کے ذریعے قیمت کو کنٹرول کر سکتی تھی۔
پاکستانی عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور روپے کی قدر میں کمی کی زد میں ہیں، اور یہ اضافہ اشیائے ضروریہ اور ٹرانسپورٹ کی لاگت کو مزید بڑھا دے گا۔
حکمرانوں کی عیاشیاں برقرار
مزید برآں، عوام پر اتنا بڑا معاشی بوجھ ڈالتے وقت حکومت نے بچت کے کسی علامتی اقدام کا اعلان تک کرنے کی زحمت نہیں کی۔ وزراء اور بیوروکریسی کے پروٹوکول، لگژری گاڑیوں اور غیر ضروری اخراجات میں کوئی کمی نہیں کی گئی۔ اشرافیہ کی مراعات اور پرتعیش طرزِ زندگی برقرار ہے، جبکہ سارا بوجھ ’پیٹرول بم‘ کی صورت میں عوام پر گرا دیا گیا ہے۔
یہ رویہ موجودہ قیادت کے غیر ہمدردانہ طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے۔ کسی بحرانی صورتحال میں حکومت کو عوام کا ساتھ دینا چاہیے، نہ کہ ان کا معاشی استحصال کرنا چاہیے۔
بدقسمتی سے اس وقت حکومت ہو یا اپوزیشن، کسی کی ترجیح عوام نہیں ہیں، اور عوام بھی اس صورتحال کو باخوشی سہنے کو تیار ہیں۔










