’ دوست‘ : پاکستانی اور ترک قوم کے مابین ثقافتی سفارت کاری کا نیا باب کھل گیا

·

پاکستان کے ادیبوں، دانشوروں اور فن کاروں نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تہذیبی یکجائی، تعاون اور ثقافتی ڈپلومیسی کے فروغ کے لیے ’دوست‘ کے نام سے ایک ادارے کے قیام کا اعلان کیا ہے جو زندگی کے تمام شعبوں میں دونوں برادر ملکوں کے عوامی رابطوں کو مضبوط بنائے گا۔

’دوست‘ کے قیام کا اعلان ترک مرکز ثقافت یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ اور ’ دوست ‘ کے زیر اہتمام ایک افطار پارٹی میں کیا گیا۔

وزیر مملکت و معاون خصوصی وزیر اعظم پاکستان حذیفہ رحمان نے ’ دوست‘ کے قیام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکیے کے درمیان سرکاری شعبے میں گرم جوش تعاون موجود ہے جسے منظم طریقے سے عوام میں لے جانے کی ضرورت تھی، مجھے خوشی ہے کہ پاکستانی عوام، دانش وروں اور فن کاروں کا یہ ادارہ عوامی سطح پر یہ ضروت بطریق احسن پوری کرے گا۔ اس ضمن میں حکومت پاکستان ’دوست‘ سے بھرپور تعاون کرے گی۔

یہ بھی پڑھیے

معرکہ چناں قلعے کی تاریخی فتح اور پاک ترک محبت کے تذکرے

ممتاز پاکستانی خطاط واصل شاہد کی خطاطی کے فن پاروں کی نمائش

ترکیہ کے یوم خود ارادیت کے موقع پر 8 سے 16 برس تک کے بچوں کے لیے مقابلہ مصوری

وزیر مملکت حذیفہ رحمان نے کہا کہ تہذیبی اور ثقافتی سطح پر عوامی رابطے پاکستان اور ترکیے جیسی برادر قوموں کے درمیان تعلق کو مزید معنی خیز بنائیں گے جو دونوں برادر ملکوں کی ترقی سمیت امن عالم کے لیے بھی اہم کردار ادا کریں گے۔

جمہوریہ ترکیہ کے سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو نے کہا کہ ثقافتی رابطوں کے لیے غیر سرکاری تنظیمیں ہی بنیادی کر ادا کرتی ہیں۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ اس سلسلےمیں ’دوست‘ قائدانہ کردار ادا کرے گا۔

اس موقع پر ’ دوست‘ کے صدر ڈاکٹر فاروق عادل نے حذیفہ رحمان اور مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ دونوں برادر قوموں کی پرجوش دوستی کو سیاسی اور ٹیکنالوجی کے اعتبار سے بدلی ہوئی دنیا میں اگلی نسلوں تک منتقل کرنے کے لیے عوامی سطح پر کام کرنے کی ضرورت تھی، ’دوست‘ کے قیام کا مقصد یہی ہے۔

ترک فن کار ترک صوفی شاعر یونس ایمرے کا عارفانہ کلام  دف پر روایتی انداز میں پیش کر رہے ہیں

یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ پاکستان چیپٹر کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر خلیل طوقار نے اس موقع پر انسٹی ٹیوٹ کی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان رابطوں کے فروغ کے لیے ’ دوست‘ جیسے ادارے کی ضرورت مدتوں سے محسوس کی جا رہی تھی ہم توقع رکھتے ہیں کہ ہمارے کوشش مؤثر ثابت ہو گی۔

’دوست‘ کے سیکرٹری جنرل پروفیسر ڈاکٹر زاہد مجید نے اس موقع پر تنظیم اور اس کی فاؤڈنگ باڈی کے ناموں کا اعلان کیا جن میں خورشید احمد ندیم، شاہ عبد اللطیف بھٹائی یونیورسٹی اور سندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی کے وائس چانسلرز ڈاکٹر یوسف خشک اور ڈاکٹر مجیب میمن، جامعہ پنجاب کے ڈاکٹر محمد کامران، ممتاز ادیبہ نعیم فاطمہ علوی، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی برائے خواتین کی پروفیسر ڈاکٹر صدف نقوی، کراچی میں ترکیہ کے سابق قونصل جنرل ڈاکٹر جمال سانگو، ترکیہ میں مقیم ممتاز پاکستانی تاجر احمد خان، ڈاکٹر خلیل طوقار، ڈاکٹر زاہد مجید اور ڈاکٹر فاروق عادل شامل ہیں۔

تقریب سے ڈاکٹر محی الدین ہاشمی اور ڈاکٹر نجیبہ عارف نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر ترک فن کاروں نے ترک صوفی شاعر یونس ایمرے اور دیگر صوفی شعرا کا عارفانہ کلام  ’ الٰہی‘ کے نام سے معروف دف پر روایتی انداز میں پیش کیا جسے بہت پسند کیا گیا۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں