امریکا میں مذہبی آزادی سے متعلق مشاورتی کمیٹی کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب اس کی واحد مسلم خاتون رکن سمیرا منشی نے احتجاجاً اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کمیٹی کے اندر ناانصافی اور مسلمانوں کے خلاف امتیازی رویہ پایا جاتا ہے، جس کے باعث وہ مزید اس ادارے کا حصہ نہیں رہ سکتیں۔
یہ کمیٹی ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں قائم کی گئی تھی اور اس کا مقصد امریکا میں مذہبی آزادی کے معاملات پر مشاورت فراہم کرنا تھا۔
استعفیٰ کی بنیادی وجہ
سمیرا منشی نے اپنا استعفیٰ اس وقت دیا جب وائٹ ہاؤس نے ایک کیتھولک کمشنر کو ان کے صیہونیت مخالف موقف کے باعث پینل سے ہٹا دیا۔ منشی کے مطابق اس فیصلے نے کمیٹی کے اندر موجود عدم برداشت اور جانبداری کو واضح کر دیا۔
انہوں نے اپنے استعفیٰ میں کہا کہ کمیٹی میں اختلافی رائے کو برداشت نہیں کیا جاتا اور خاص طور پر مسلمانوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔
غزہ اور فلسطین پر مؤقف کے بعد مشکلات
سمیرا منشی کے مطابق جب انہوں نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں پر تنقید کی اور فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھائی تو انہیں کمیٹی میں تنہا محسوس کروایا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد انہیں کمیٹی کے اجلاسوں سے پہلے گواہوں کی فہرستیں فراہم کرنا بھی بند کر دیا گیا اور انہیں عملی طور پر فیصلہ سازی کے عمل سے دور کر دیا گیا۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ کمیٹی کے بعض ارکان مسلمانوں کے عقیدے کا مذاق اڑاتے ہیں اور تنقیدی رائے کو برداشت نہیں کرتے۔
اسرائیل کی کارروائیوں پر سخت تنقید
اپنے استعفیٰ میں منشی نے اسرائیل کی جانب سے ایران اور غزہ میں ہونے والی کارروائیوں پر بھی سخت اعتراض کیا۔ ان کے مطابق شہریوں اور بچوں کی شہادتیں ناقابل قبول ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے ایسے اقدامات کی مالی مدد میں استعمال ہو رہے ہیں جن کی خود امریکا کے بہت سے شہری مخالفت کرتے ہیں۔
کیتھولک کمشنر کی برطرفی نے تنازع بڑھا دیا
دوسری جانب کمیٹی کی رکن کیری پریجین بولر کو اس وقت عہدے سے ہٹا دیا گیا جب انہوں نے ایک اجلاس میں کہا کہ کیتھولک عقیدہ اور صیہونیت ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے۔
ان کے اس بیان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا اور انہیں کمیٹی سے ہٹا دیا گیا۔
برطرف رکن کا سخت ردعمل
برطرفی کے بعد کیری پریجین بولر نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں فلسطینیوں کے حق میں بولنے کی سزا دی گئی ہے۔
انہوں نے امریکی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ فلسطینی بچوں کی شہادتوں کے خلاف خاموش نہیں رہ سکتیں۔ ان کے مطابق غزہ میں جاری جنگ کے دوران 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
قانونی جانچ پڑتال کا امکان
اس تنازع کے بعد امریکی قانون ساز اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا مذہبی آزادی کمیشن نے فیڈرل ایڈوائزی کمیٹی ایکٹ کی خلاف ورزی تو نہیں کی۔
اس قانون کے تحت وفاقی مشاورتی کمیٹیوں میں شفافیت، توازن اور مختلف آراء کی نمائندگی کو یقینی بنانا ضروری ہوتا ہے۔
سمیرا منشی کا آخری پیغام
اپنے استعفیٰ میں سمیرا منشی نے واضح کیا کہ وہ کسی دباؤ یا دھمکی کے باعث نہیں بلکہ ناانصافی کے خلاف احتجاج کے طور پر مستعفی ہو رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی آئین آزادی اظہار اور مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، لیکن موجودہ حالات ان اصولوں کے برعکس نظر آتے ہیں۔










