Iran’s security chief Ali Larijani and Basij force commander Gholamreza

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی اور بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی شہید

·

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی اور ایرانی پاسداران انقلاب سے وابستہ بسیج ملیشیا کے سربراہ غلام رضا سلیمانی ایک اسرائیلی حملے میں شہید ہوگئے۔ ایران نے سرکاری طور پر تصدیق کردی۔

اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاتز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی ایک حملے میں شہید ہو گئے ہیں۔ ایران نے باقاعدہ طور پر ان کی شہادت کی تصدیق کردی۔

ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل (SNSC) کے سیکریٹریٹ کے مطابق علی لاریجانی اپنے بیٹے ، ساتھیوں اور محافظوں کے ہمراہ شہید ہو گئے ہیں۔

بدھ کی صبح جاری کیے گئے ایک بیان میں سیکریٹریٹ نے کہا
’شہداء کی پاک روحوں نے خدا کے نیک بندے، شہید ڈاکٹر علی لاریجانی کی پاک روح کو اپنے ساتھ ملا لیا، جنہوں نے ایران اور اسلامی انقلاب کی سربلندی کے لیے ساری زندگی جدوجہد کرنے کے بعد آخرکار اپنی دیرینہ خواہش حاصل کر لی۔‘

ایران کے حالیہ صدارتی انتخاب میں امیدوار رہنے والے سعید جلیلی کی جانب سے سیکیورٹی چیف آری لاریجانی اور بسیج کمانڈر غلام رضا سلیمانی کے قتل پر ردِعمل سامنے آیا ہے۔

جلیلی نے تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ان ہلاکتوں کو ’اسلامی انقلاب کے مقصد کے لیے قربانیوں کی درخشاں روایت کا تسلسل‘قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ واقعات ایرانی عوام کے عزم کو مزید مضبوط کریں گے تاکہ وہ اسی راستے پر ثابت قدمی سے آگے بڑھیں اور دشمن کی شکست و رسوائی کے عمل کو تیز کریں۔

دوسری جانب، سینئر سیاستدان علی اکبر ولایتی نے لاریجانی کو ’انقلابی‘ قرار دیتے ہوئے امریکا اور اسرائیل کے ’مجرمانہ‘رویے کی مذمت کی اور خبردار کیا کہ انہوں نے غلط اندازہ لگایا ہے۔

اسرائیلی دعوے کے بعد علی لاریجانی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک تحریری نوٹ جاری کیا گیا تھا۔ ایکس پر شائع شدہ یہ نوٹ ایرانی سرکاری میڈیا سے منسلک ذرائع نے بھی شیئر کیا تھا، جس میں حالیہ امریکی حملے میں ہلاک ہونے والے ایرانی بحریہ کے اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا تھا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ کے بہادر جوانوں کی نمازِ جنازہ کے موقع’ پر:
ان کی یاد ہمیشہ ایرانی عوام کے دلوں میں زندہ رہے گی، اور یہ شہادتیں آنے والے برسوں میں مسلح افواج کے ڈھانچے میں اسلامی جمہوریہ کی فوج کی بنیادوں کو مزید مضبوط کریں گی۔
میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ ان عزیز شہداء کو اعلیٰ درجات عطا فرمائے۔‘

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی، اپنی شہادت سے پہلے آخری بارگزشتہ جمعہ کے روز تہران میں یومِ القدس ریلی میں شریک نظر آئے۔

یہ ریلی یوم القدس کے موقع پر منعقد ہوئی، جس میں ایران کی اعلیٰ قیادت سمیت بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔

رپورٹس کے مطابق لاریجانی جمعہ کے روز تہران کے مرکزی علاقوں میں مارچ کرتے دیکھے گئے۔ ان کے ہمراہ دیگر اعلیٰ ایرانی حکام بھی موجود تھے۔

ریلی کے دوران ایرانی سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لاریجانی نے حالیہ دھماکے کو دشمنوں کی ’مایوسی‘ قرار دیا۔

انہوں نے کہا ’یہ حملے خوف اور مایوسی کی علامت ہیں۔ جو طاقتور ہوتا ہے وہ مظاہروں پر بمباری نہیں کرتا۔ یہ واضح ہے کہ وہ ناکام ہو چکے ہیں۔‘

لاریجانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا ‘ٹرمپ یہ نہیں سمجھتے کہ ایرانی قوم بہادر، مضبوط اور پُرعزم ہے۔ جتنا وہ دباؤ ڈالیں گے، قوم کا عزم اتنا ہی مضبوط ہوگا۔‘

اسرائیلی فوج نے یہ بھی دعویٰ کیا تھاکہ اس نے ایران کی پاسداران انقلاب (IRGC) سے وابستہ بسیج ملیشیا کے سربراہ غلام رضا سلیمانی کو پیر کی شب ایک حملے میں ہلاک کر دیا۔

اسرائیلی فوج کے مطابق یہ کارروائی ایران کے کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام پر ‘اہم ضرب ‘ ہے۔ اسرائیل ایرانی کمانڈرز کے خلاف مزید سخت کارروائیاں جاری رکھے گا۔

ایران نے بسیج ملیشیا کے سربراہ غلام رضا سلیمانی کی شہادت کی بھی تصدیق کردی ہے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق درجنوں جنگی طیاروں نے بیک وقت حملے کیے۔ حملوں کا ہدف تہران، شیراز اور تبریز تھے۔

تہران میں انٹیلی جنس وزارت اور بسیج کے کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنایا گیا۔ ڈرونز، میزائل اور فضائی دفاعی نظام کے مراکز تباہ کیے گئے۔ شیراز میں داخلی سیکیورٹی ہیڈکوارٹر اور میزائل اسٹوریج کو نشانہ بنایا گیا۔ جبکہ تبریز میں دفاعی نظام کو تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔

علی لاریجانی ایران کے ایک اہم اور بااثر سیاسی رہنما تھے۔

1958 میں عراق کے شہر نجف میں پیدا ہوئے۔ ایک بااثر سیاسی و مذہبی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری رہے۔

2005 سے 2007 تک چیف جوہری مذاکرات کار رہے۔

2008 سے کئی بار پارلیمنٹ کے اسپیکر منتخب ہوئے۔

2015 کے جوہری معاہدے کی منظوری میں اہم کردار ادا کیا۔

انہیں ایران کی قیادت میں ایک معتدل اور حکمت عملی کے ماہر رہنما کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔

غلام رضا سلیمانی ایران کی بسیج فورس کے سربراہ تھے۔

1964 میں پیدا ہوئے۔ کم عمری میں پاسداران انقلاب میں شامل ہوئے۔ ایران-عراق جنگ کے دوران اہم فوجی ذمہ داریاں نبھائیں۔ 2019 سے بسیج فورس کے سربراہ تھے۔

تقریباً 4 لاکھ 50 ہزار رضاکاروں پر مشتمل نیم فوجی تنظیم ہے جو ایران کے داخلی سیکیورٹی نظام میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے

الجزیرہ سے وابستہ تجزیہ کار ندا ابراہیم کا کہنا ہے کہ  اگر ایران کی جانب سے علی لاریجانی کے قتل کی تصدیق کر دی جاتی ہے تو یہ واقعہ اس جنگ کے آغاز کے بعد ملک میں سب سے بڑی ٹارگٹڈ ہلاکت سمجھی جائے گی، جب امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو نشانہ بنایا تھا۔

ان کی شہادت کے بعد خامنہ ای کے بیٹے کو نیا سپریم لیڈر مقرر کیا جا چکا ہے۔ اسرائیلی اندازے کے مطابق وہ زخمی ہیں۔ اس صورتحال میں لاریجانی بطور اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار عملاً سب سے بااثر شخصیت کے طور پر کام کر رہے تھے۔

اگر لاریجانی واقعی ہلاک ہو چکے ہیں تو ایران کی اعلیٰ سیاسی قیادت تک رسائی مزید مشکل ہو جائے گی اور  بین الاقوامی سطح پر مذاکرات کے امکانات متاثر ہو سکتے ہیں۔

تاہم ندا ابراہیم کا کہنا ہے کہ  لاریجانی کی ہلاکت (اگر تصدیق ہو جائے) کا یہ مطلب نہیں کہ ایرانی حکومت ختم ہو گئی ہے۔ ایران کا نظامِ حکومت مختلف اداروں پر مشتمل ہے۔ یہ ادارے ماضی میں بھی اعلیٰ قیادت کے نقصانات کے باوجود کام کرتے رہے ہیں۔

اسرائیل میں اس مبینہ کارروائی کو ایک بڑی اسٹریٹجک کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ اور اسرائیلی افواج کے لیے اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں