Steve Sweeney reporting from the Qasmiya crossing seconds before an airstrike hits his location

اسرائیلی حملہ میں برطانوی صحافی حیران کن طور پر بال بال بچ گیا، ویڈیو وائرل

·

جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے کے دوران ایک برطانوی صحافی بال بال بچ گیا، جب میزائل اس کے چند میٹر کے فاصلے پر آ کر گرا، جس سے شدید دھماکہ ہوا۔

روسی نشریاتی ادارے RT سے وابستہ صحافی اسٹیو سوینی جنوبی لبنان میں قاسمیہ کراسنگ کے قریب رپورٹنگ کر رہے تھے کہ اچانک قریب ہی میزائل آ گرا۔

دھماکے کے نتیجے میں ملبہ اور شیل کے ٹکڑے فضا میں بکھر گئے، جس پر صحافی فوری طور پر زمین پر لیٹ گئے۔

مارگریٹا سیمونیان کے مطابق اسرائیلی طیارے نے اس گاڑی کو نشانہ بنایا جس میں صحافی اور ان کا کیمرہ مین سوار تھے۔

دونوں افراد اس حملے میں بچ گئے اور انہیں معمولی زخموں کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

اسٹیو سوینی نے بعد ازاں کہا کہ انہیں یقین ہے کہ یہ حملہ دانستہ طور پر کیا گیا، کیونکہ وہ اس وقت پلوں پر حملوں اور لاکھوں افراد کی جبری نقل مکانی پر رپورٹنگ کر رہے تھے۔

’آج اسرائیل نے جنوبی لبنان میں مجھ پر ایک ٹارگٹڈ فضائی حملہ کیا، جب میں وہاں پلوں کو نشانہ بنانے اور تقریباً 10 لاکھ افراد کی جبری بے دخلی پر رپورٹنگ کر رہا تھا، جو نکبہ سے بھی بڑے پیمانے پر نسل کشی کی ایک کارروائی ہے۔

مجھے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ حملہ جان بوجھ کر کیا گیا۔ دعوؤں کے برعکس، حملے سے قبل نہ کوئی وارننگ دی گئی اور نہ ہی لبنانی فوج کو کوئی اطلاع دی گئی، جس نے ہمیں وہاں رپورٹنگ کی اجازت دی تھی۔

جیسا کہ ہم غزہ میں دیکھ چکے ہیں، وہ ان صحافیوں کو خاموش کرانا چاہتے ہیں جو ان کے جنگی جرائم کو دنیا کے سامنے لاتے ہیں۔

مغربی طاقتیں اسرائیل کو سیاسی اور عسکری حمایت فراہم کر رہی ہیں اور اسے اس حد تک مسلح کر رہی ہیں کہ وہ غزہ میں نسل کشی اور لبنان میں نسلی صفائی جیسے اقدامات جاری رکھ سکے۔ وہ صرف معاون نہیں بلکہ اس میں عملی طور پر شریک ہیں اور انہیں اپنے اقدامات کا جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔

لیکن اگر اسرائیل یہ سمجھتا ہے کہ آج کا حملہ ہمیں خاموش کر دے گا یا میدان سے دور کر دے گا تو یہ اس کی بہت بڑی غلط فہمی ہے۔‘

دوسری طرف  اسرائیلی فوج نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی سے قبل علاقے میں وارننگ دی گئی تھی اور شہریوں کو نکلنے کا وقت دیا گیا تھا۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں دنیا بھر میں ہلاک ہونے والے 129 صحافیوں میں سے دو تہائی اموات اسرائیلی کارروائیوں سے منسلک تھیں۔

رپورٹس کے مطابق جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی اور زمینی کارروائیاں تیز ہو چکی ہیں، جس کے باعث تقریباً 8 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ 773 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد عام شہریوں کی ہے۔

اس واقعے نے ایک بار پھر جنگی علاقوں میں صحافیوں کی سلامتی اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں