پاکستانی حکام کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ممکنہ مذاکرات میں آئندہ 48 گھنٹوں کے اندر اہم پیش رفت متوقع ہے، تاہم ایران اب بھی بغیر مخصوص ضمانتوں کے بات چیت پر آمادہ نہیں۔
ترک خبر رساں ایجنسی ’اناطولو‘ سے وابستہ عامر لطیف کے مطابق پاکستان، ترکی اور مصر کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار ہو رہی ہے، مگر ایران اپنی اہم شرائط پر بدستور قائم ہے، جس سے صورتحال تاحال نازک ہے۔
ایران کی شرائط، مذاکرات میں رکاوٹ
پاکستانی وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق ایران مذاکرات میں شرکت کے لیے چند اہم ضمانتیں چاہتا ہے، جن میں مستقبل میں ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی نہ ہونے کی یقین دہانی، ایران کے میزائل پروگرام کو مذاکرات کا حصہ نہ بنایا جائے، امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ (معاوضہ) شامل ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انہی شرائط کے باعث ایران تاحال مذاکرات میں شامل ہونے سے ہچکچا رہا ہے۔
پاکستان، ترکیہ اور مصر کی سفارتی کوششیں
ذرائع کے مطابق پاکستان، ترکیہ اور مصر تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سرگرم ہیں، خصوصاً ایران کو آمادہ کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
ایران امریکا کے مابین پاکستان ثالثی کا کردار کیسے ادا کرے گا؟
پاکستان کی ثالثی: اسلام آباد میں ایران، امریکا مذاکرات کا امکان
ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ترکیہ کی سفارتی کوششیں تیز، خلیجی و عالمی رہنماؤں سے رابطے
یہ بھی بتایا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار مسلسل ایرانی قیادت سے رابطے میں ہیں تاکہ انہیں مذاکرات پر آمادہ کیا جا سکے۔
پاکستان کی میزبانی کی پیشکش
وزیراعظم شہباز شریف نے حال ہی میں کہا تھا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان نے ممکنہ سربراہی اجلاس کے انعقاد کے لیے بھی خود کو پیش کیا ہے، جبکہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اس معاملے پر بات چیت کی ہے۔
مذاکرات کا دائرہ کار وسیع ہونے کا امکان
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رفائل گروسی نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات اسی ہفتے اسلام آباد میں ہو سکتے ہیں اور ان کا دائرہ کار وسیع ہوگا۔
ان کے مطابق ممکنہ مذاکرات میں میزائل پروگرام، ایران سے وابستہ ملیشیاز اور ایران کے لیے سکیورٹی ضمانتیں بھی زیر بحث آ سکتی ہیں۔
جنگی صورتحال اور نقصانات
رپورٹ کے مطابق 28 فروری سے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں میں اب تک 1,340 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ایرانی سپریم لیڈر بھی شامل ہیں۔
جواب میں ایران نے اسرائیل، اردن، عراق اور خلیجی ممالک میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس سے جانی نقصان اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا، جبکہ عالمی منڈیوں اور فضائی آپریشنز بھی متاثر ہوئے۔
اس دوران کم از کم 13 امریکی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
اگرچہ سفارتی کوششیں تیز ہو چکی ہیں اور بریک تھرو کی امید پیدا ہوئی ہے، تاہم ایران کی سخت شرائط کے باعث مذاکرات کی کامیابی تاحال غیر یقینی ہے۔ آنے والے 48 گھنٹے خطے کی صورتحال کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔










