راشد عمر اولکھ ایڈووکیٹ

ایران امریکہ مذاکرات: پاکستان نے بطور ثالث کیسے ایک معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کی؟

·


بین الاقوامی سفارتکاری ہو رہی ہو تو عمومی طور پر ہم ایک غلط فہمی کا شکار ہوتے ہیں کہ مذاکرات ایک ہی وقت میں، ایک ہی کمرے میں اور ایک ہی نشست میں مکمل ہو جاتے ہیں۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

آئیے! ذرا اس معاملے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ جدید ثالثی (Mediation) دراصل ایک مرحلہ وار، منظم اور نہایت حساس عمل ہوتا ہے جس میں ہر قدم اگلے قدم کی بنیاد رکھتا ہے۔

اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات ثالثی کے لیے رائج سفارتی طریقۂ کار کی عملی تصویر بنے ہیں، جہاں پاکستان ایک ثالث کے طور پر نہ صرف میزبان بلکہ عمل کے پورے ڈھانچے کا منتظم تھا۔

اس پورے عمل کو سمجھنے کے لیے اسے سات واضح مراحل میں تقسیم کیا گیا، جو بین الاقوامی ثالثی کے مسلمہ اصولوں کی روشنی میں کچھ اس طرح مکمل ہونے جا رہے تھے۔

پہلا مرحلہ ’الگ الگ رابطہ کاری‘ کا ہوتا ہے۔ اس میں فریقین کو ایک دوسرے کے سامنے نہیں لایا جاتا بلکہ ثالث ہر فریق سے علیحدہ ملاقات کرتا ہے۔ وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے یہاں پہلے ایران کے وفد سے ملاقات کی ، جہاں اس نے ان کے مؤقف، جنگی یا سیاسی نقصانات، بنیادی مطالبات اور سرخ لکیروں (Red Lines) کو تفصیل سے سمجھا۔ اس مرحلے میں کوئی بات دوسرے فریق یعنی امریکہ کو شئیر نہیں کی گئی۔ اسی کو سفارتی زبان میں ابتدائی اعتماد سازی اور معلومات کا خام مواد کہا جا سکتا ہے۔

دوسرا مرحلہ اسی عمل کا دوسرا حصہ تھا، جہاں پاکستان کے وزیراعظم نے امریکی وفد سے علیحدہ ملاقات کی۔ یہاں بھی مقصد وہی تھا: مؤقف، نقصانات، اور مطالبات کو تفصیل سے سمجھنا۔

اس مرحلے پر ثالث کا کام ایک ’خالی برتن‘ کی طرح ہوتا ہے جو دونوں طرف سے معلومات جمع کرتا ہے اور اسے اپنے پاس محفوظ کر لیتا ہے۔ پاکستان نے بھی یہاں کچھ ایسا ہی کیا۔

تیسرا مرحلہ ’اندرونی تجزیہ اور نقشہ بندی‘ کا ہے۔ اس مرحلے میں پاکستان نے دونوں فریقین سے حاصل شدہ معلومات کا تجزیہ کیا۔ تضادات، ممکنہ مشترک نکات اور وہ جگہیں جہاں لچک پیدا ہو سکتی ہے، ان سب کو ایک فریم ورک میں ڈھالا اور اگلے مرحلے کیلیے ایرانی اور امریکی وفود سے پھر الگ الگ ملاقاتیں کیں ۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں اصل سفارتی حکمتِ عملی تشکیل پاتی ہے۔

چوتھا مرحلہ دوبارہ “شٹل ڈپلومیسی” کا آغاز ہے۔ پاکستان نے پہلے ایک فریق ایرانی وفد ، کے پاس جا کر ان سے یہ سوال کیے کہ وہ کن نکات پر لچک دکھا سکتے ہیں۔ اور کون سے نکات ان کیلیے Point of NO Return ہیں۔ یہاں مقصد یہ تھا کہ سخت مؤقف میں سے ایسے نکات نکالے جائیں جو کسی ممکنہ سمجھوتے کی بنیاد بن سکیں۔

یہ مرحلہ نہایت نازک ہوتا ہے کیونکہ یہی وہ جگہ ہے جہاں پوزیشنز نرم ہونا شروع ہوتی ہیں۔ لیکن اس موقع پر بھی رازداری رکھی جاتی ہے اور معلومات یا پوائنٹس دوسرے فریق یعنی امریکہ سے شئیر نہیں کی گئیں۔

پانچواں مرحلہ اسی عمل کا دوسرا رخ ہے، جہاں پاکستان نے امریکی وفد کے پاس جا کر یہی سوالات دہرائے ۔ تاہم اس پورے عمل میں سب سے اہم اصول یہ ہے کہ ایک فریق کی دی گئی معلومات دوسرے فریق کے ساتھ شیئر نہیں کی گئیں۔ یہی ثالث کی غیر جانبداری کی بنیاد ہے اور یہی اس کی ساکھ کا اصل امتحان بھی۔

چھٹا مرحلہ “محدود فیڈبیک اور ممکنہ مسودہ سازی” کا ہوتا ہے۔ یہاں پاکستان نے دونوں فریقین کی اجازت سے وہ نکات شیئر کیے جو انہوں نے شئیر کرنے کی اجازت دی اور جن پر لچک پیدا ہو سکتی تھی، مگر انتہائی احتیاط کے ساتھ۔ اس مرحلے پر اگر یہاں کوئی ایسی بات شئیر ہوگئی جس کی اجازت نہیں دی گئی ہوتی تو وہ اعتماد سازی کو نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتی تھی۔ اس مرحلے میں ایک ابتدائی فریم ورک یا “Draft of Understanding” کی بنیاد رکھ دی گئی، جس میں ممکنہ معاہدے کی شکل ابھرنا شروع ہوگئی۔

ساتواں اور آخری مرحلہ “مشترکہ اجلاس” کا ہوگا۔ یہی وہ مرحلہ ہے جسے عام طور پر لوگ اصل مذاکرات سمجھ رہے ہوتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں یہ سب سے آخری اور نسبتاً رسمی مرحلہ ہوتا ہے۔ اس نشست میں دونوں فریقین کو آمنے سامنے بٹھایا جاتا ہے ۔ اس مرحلے پر پاکستان کی طرف سے بطور ثالث پورے عمل کی وضاحت کی گئی، دونوں طرف کے نقصانات، مطالبات اور ممکنہ حل ایک ترتیب سے سامنے رکھا گیا، اور پھر انہیں ایک ایسے نقطے کی طرف لے جانے کی کوشش کی گئی جہاں دونوں فریق اپنے اپنے بیانیے کو برقرار رکھتے ہوئے کسی مشترکہ سمجھوتے پر پہنچ سکیں۔

یہاں اصل مقصد کسی ایک فریق کی فتح نہیں بلکہ ایک ایسا توازن پیدا کرنا ہوتا ہے جس میں دونوں فریق اپنی ساکھ بھی برقرار رکھیں اور کسی حد تک اپنی پوزیشن سے فائدہ بھی حاصل کر سکیں۔ یہی وہ مقام ہے جسے بین الاقوامی سفارتکاری میں “Win-Win Outcome” کہا جاتا ہے۔کیونکہ اس کا مقصد ایک ایسے معاہدے کی تشکیل ہوتا ہے جو ایک وفد کو ان کی قوم کے سامنے سرخرو ٹھہرائے اور بین الاقوامی سطح پر بھی اسے عزت اور وقار کی علامت سمجھا جائے۔ اور اسی طرح دوسرے وفد کیلیے بھی جو ان کو نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ اپنی قوم کے سامنے سرخرو ٹھہرائے اور جس سے کسی Compromise کا تاثر نہ ابھرے۔

اس پورے عمل میں پاکستان کا کردار انتہائی اہم تھا، کیونکہ ثالث صرف پیغام رساں نہیں ہوتا بلکہ وہ ماحول، رفتار اور اعتماد تینوں کو کنٹرول کرتا ہے۔ ایک غلط جملہ، ایک غلط ترتیب یا ایک قبل از وقت انکشاف پورے عمل کو ناکام بنا سکتا ہے۔ اسی لیے ثالثی کو بین الاقوامی سفارتکاری کی سب سے نازک اور پیچیدہ شاخ سمجھا جاتا ہے۔

اگر اس ماڈل کو وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان اب صرف ایک جغرافیائی ریاست نہیں بلکہ ایک ابھرتا ہوا سفارتی پلیٹ فارم بنتا جا رہا ہے، جہاں عالمی تنازعات کے حل کی کوششیں ایک منظم اور پیشہ ورانہ طریقے سے کی جا رہی ہیں۔

یہ مذاکرات اگر اس فریم ورک کے مطابق آگے بڑھتے تو یہ نہ صرف ایک ممکنہ معاہدہ کی بنیاد بنتے بلکہ پاکستان کے لیے عالمی سفارتکاری میں ایک نئے کردار کا آغاز بھی ثابت ہو سکتا تھا۔ ایک ایسے کردار کا جو خاموش مگر مؤثر، غیر جانبدار مگر بااثر اور محتاط مگر فیصلہ کن ہوتا۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں