جنگِ ایران: اب کون کیا چاہتا ہے؟ امریکی و ایرانی قیادت کی نفسیات کی روشنی میں  تجزیہ

·

عالمی سیاست میں قیادت کے فیصلے صرف پالیسیوں کا نتیجہ نہیں ہوتے بلکہ ان کے پیچھے لیڈرز کی شخصیت، نفسیات اور اندازِ فکر بھی گہرا کردار ادا کرتے ہیں۔

 ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت اسی حوالے سے خاص اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ ان کا طرزِ سیاست روایتی امریکی قیادت سے مختلف، زیادہ جارحانہ اور غیر متوقع سمجھا جاتا ہے۔

اس رپورٹ میں ٹرمپ کی نفسیاتی خصوصیات، دیگر عالمی رہنماؤں سے موازنہ، عوام پر اثر انداز ہونے کے عوامل، اور ایران کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں ان کے ممکنہ رویّے کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جارہا ہے۔

ساتھ ہی ایران کی موجودہ قیادت کی نفسیات کا جائزہ بھی لیں گے۔

اس طرح دونوں ملکوں کی قیادت کے بارے میں بہتر طور پر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ دراصل کیا چاہتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت کے بارے میں بات کرتے وقت احتیاط ضروری ہے، کیونکہ کسی بھی فرد کی ’نفسیاتی تشخیص‘ باضابطہ کلینیکل معائنے کے بغیر قطعی طور پر نہیں کی جا سکتی۔ تاہم ان کی تقاریر، بیانات اور عوامی رویّے کی بنیاد پر ماہرینِ نفسیات اور سیاسی مبصرین نے کچھ عمومی مشاہدات ضرور پیش کیے ہیں۔

سب سے نمایاں پہلو ان کا انتہائی خوداعتمادی پر مبنی اور جارحانہ اندازِ بیان ہے۔ وہ اکثر خود کو کامیاب، منفرد اور دوسروں سے برتر انداز میں پیش کرتے ہیں۔ اس طرزِ اظہار کو بعض ماہرین “high dominance communication style” کہتے ہیں، جہاں لیڈر اپنی طاقت اور کنٹرول کو واضح رکھتا ہے۔

دوسرا پہلو ان کی سادہ، براہِ راست اور جذباتی زبان ہے۔ وہ پیچیدہ پالیسیوں کو بھی عام فہم، کبھی کبھار مبالغہ آمیز جملوں میں بیان کرتے ہیں۔ یہ انداز عوام کے ایک بڑے طبقے سے فوری رابطہ پیدا کرتا ہے، خاص طور پر ان لوگوں سے جو روایتی سیاسی زبان سے دوری محسوس کرتے ہیں۔

تیسری اہم بات ان کی تنازعات کو استعمال کرنے کی حکمت عملی ہے۔ وہ اکثر سخت بیانات، تنقید اور مخالفین پر ذاتی حملوں کے ذریعے میڈیا کی توجہ حاصل کرتے ہیں۔ اس کو بعض تجزیہ کار “conflict-driven visibility” کہتے ہیں یعنی تنازع خود ایک سیاسی ٹول بن جاتا ہے۔

کچھ ماہرین نے ان کے رویّے میں نرگسیت(narcissistic traits)، رسک لینے کی بلند صلاحیت اور توجہ حاصل کرنے کی خواہش جیسے عناصر کی نشاندہی بھی کی ہے، لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ باضابطہ طبی تشخیص نہیں بلکہ رویّوں کی تشریح ہے۔

ساتھ ہی، ان کے حامی انہیں ایک مضبوط، فیصلہ کن اور روایتی نظام سے ہٹ کر سوچنے والا لیڈر سمجھتے ہیں، جو “اسٹیٹس کو” کو چیلنج کرتا ہے اور اپنے بیانیے پر قائم رہتا ہے۔

مختصراً، ان کی شخصیت کو ایک ہی خانے میں رکھنا مشکل ہے، مگر اسے یوں سمجھا جا سکتا ہے:
ایک ایسا عوامی رہنما جو اعتماد، جارحانہ اظہار، سادہ پیغام رسانی اور تنازع کو بطور حکمت عملی استعمال کرنے کی خصوصیات رکھتا ہے۔ اور یہی عناصر انہیں بیک وقت مقبول اور متنازع بناتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا دیگر رہنماؤں کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو سابق امریکی صدر باراک اوباما ان سے بالکل ایک مختلف آدمی ہیں۔ اوباما ایک منطقی، متوازن، ادارہ جاتی آدمی ہیں۔ وہ لمبی، متوازن اور فکری تقاریر کرتے تھے۔ جبکہ ٹرمپ جذباتی، براہِ راست، ردعمل پر یقین رکھنے والے آدمی ہیں۔ اوباما “consensus builder”، جبکہ ٹرمپ “disruptor” ہیں۔

47 سال بعد ایران و امریکہ کے مابین پہلے براہ راست مذاکرات، بالآخر اندر کی کہانی سامنے آگئی

اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، اگر روسی صدر ولادی میر پیوٹن کی شخصیت پر نظر ڈالی جائے تو پیوٹن پوٹن کا انداز خاموش، کنٹرولڈ اور اسٹریٹیجک ہوتا ہے۔ وہ کم بولتے ہیں مگر طاقت کا تاثر برقرار رکھتے ہیں۔
ٹرمپ کو نمایاں نظر آنے کا شوق ہے۔ وہ میڈیا پر غالب رہنا چاہتے ہیں۔ ان کی موجودگی میں کوئی دوسرا نمایاں ہورہا ہو، یہ اسے بزور طاقت اِدھر اُدھر کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے۔  پیوٹن “calculated power”، ٹرمپ “visible power” استعمال کرتے ہیں۔

مختصر یہ کہ ٹرمپ کو سمجھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انہیں صرف سیاستدان نہیں بلکہ ایک میڈیا-سنٹرک، ہائی امپیکٹ کمیونی کیٹر کے طور پر دیکھا جائے جو روایتی اصولوں سے ہٹ کر کھیلتے ہیں۔

لوگ آسان اور واضح باتوں کو جلد قبول کرتے ہیں۔

ٹرمپ خوف، غصہ اور امید جیسے جذبات کو براہِ راست چھیڑتے ہیں۔

لوگ پراعتماد اور مضبوط نظر آنے والے لیڈرز پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔

نظام سے مایوسی ایسے لیڈرز کو مقبول بناتی ہے جو تبدیلی کا وعدہ کریں۔

مسلسل خبروں میں رہنا ان کی طاقت کا بڑا ذریعہ ہے۔

وہ اپنے حامیوں کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ ’ان کی آواز‘ ہیں۔

ایران کی قیادت، خاص طور پر ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور اب نئے سپریم لیڈر سید مجتبیٰ خامنہ ای، ایک مختلف انداز رکھتے ہیں۔ ملکی نظام کی بقا ان کی پہلی ترجیح ہوتی ہے۔ اس لیے وہ مکمل جنگ سے گریز کرتے ہیں تاہم وہ کمزوری کا اظہار بھی نہیں ہونے دیتے۔ وہ مزاحمت کی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔ دباؤ کا مقابلہ کرتے ہیں۔ اور ان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے خطے میں اپنا اثرو رسوخ برقرار رکھیں۔

ایرانی قیادت طویل المدتی سوچ کی حامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ فوری ردعمل کے بجائے صبر سے کام لیتی ہے اور طویل فائدے کو پیش نظر رکھتی ہے۔

حتمی تجزیے کے طور پر سوال یہ ہے کہ ٹرمپ اور مجتبیٰ خامنہ ای کیا چاہتے ہیں؟ اس ضمن میں پہلی بات یہ ہے کہ دونوں مکمل جنگ نہیں چاہتے۔ کیونکہ ٹرمپ سیاسی و معاشی خطرات سے بچنا چاہتے ہیں جبکہ ایرانی اپنے وجود کو خطرے میں ڈالنا نہیں چاہتے۔

اس تناظر میں ٹرمپ صرف دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں جبکہ ایرانی مزاحمت کی راہ پر چلنا چاہتے ہیں۔ لیکن دونوں کشیدگی کو قابو میں رکھنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ انھیں غلط اندازے کا خطرہ بھی لاحق ہے۔ یہی سب سے بڑا خطرہ ہے۔ غلط اندازہ کنٹرولڈ کشیدگی کو بڑی جنگ میں بدل سکتا ہے۔

دونوں ملکوں کی موجودہ قیادت کی نفسیات کا جائزہ لینے سے زیادہ حقیقت پسندانہ منظرنامہ یہ بنتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان  براہِ راست بڑی جنگ کے بجائے دباؤ، دھمکی، محدود تصادم اور وقفے وقفے سے مذاکرات جاری رہیں گے۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں