باحجاب مسلمان خاتون

عورت کی عزت

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

سمرہ ملک:
سرارسلان کلاس میں اناؤنسمنٹ کرکے گئے تھے کہ وومینز ڈے آرہا ہے،
تقریر کرنے والے طلبہ اپنی تقریر جلد از جلد تیار کرکے دکھائیں۔
ان کے جانے کے بعد عالیہ اپنی دوست آمنہ کے پیچھے پڑ گئی کہ تم بھی کچھ لکھ کر دکھاؤ، وہ بضد تھی کہ آمنہ بہت اچھا لکھ اور بول سکتی ہے لہذا وہ حصہ ضرور لے۔ کافی دیر بحث کے بعد بالآخر وہ آمنہ کو راضی کر پائی ۔

آج وومین ڈے تھا، سب باری باری آکر اپنا نقطہ نظر پیش کر رہے تھے۔
کسی نے عورت کے حقوق پر بات کی تو کسی نے عورت مارچ پر آواز اٹھائی، کسی نے مرد ذ ات کو الزام دیا تو کسی نے اسے ظالم ٹھہرایا۔
پانچ، چھ لڑکیوں کے بعد آمنہ کو بلایا جانے لگا۔
آمنہ نے سلام کے بعد بات کا آغاز یوں کیا۔

”یہاں میری ساتھیوں نے بہت خوب عنوانات پر بات کی ہے، کسی نے عورت کے حقوق پر، کسی نے حال ہی میں ہوئے عورت مارچ پر آواز اٹھائی، کسی نے اسے صحیح قرار دیا تو کسی نے اسے بے حیائی کا نام دیا۔ کسی نے آج کل کے ڈراموں کا حوالہ دیتے ہوئے عورت کو مظلوم اور مرد کو ظالم کہا تو کسی نے حاکم، کسی نے مرد اور عورت دونوں کی بات کی تو کسی نے ”عورت بیچاری“ ہے کہہ کر بات ختم کی۔
مگر کسی نے بھی ”عورت کی عزت“ پر سوال نہیں کیا، کیوں؟

میں یہاں سب کی طرح عورت کی مظلومیت، اس کے حقوق مرد کے فرائض یا مرد کے حقوق عورت کے فرائض پر بات کرنے نہیں آئی، میں یہ بھی نہیں کہوں گی کہ عورت صحیح ہے یا غلط اور جو یہ عورت مارچ ہوا تھا وہ درست فیصلہ تھا یا سراسر بے حیائی، جو میں کہوں گی مجھے امید ہے آپ کے لیے اس بات کا فیصلہ کرنا خود سے آسان ہوجائے گا کہ کیا درست تھا اور کیا نہیں۔
تو ہم بات شروع کرتے ہیں عزت سے۔
عزت کیا ہے؟

لغت میں لفظ ”عزت“ غلبہ، قوت و شدت کے معنی میں آیا ہے اور عزت مند انسان وہ ہے کہ جو کسی ایسے بلند درجے پر فائز ہو کہ ذلت و خواری وہاں تک نہ پہنچ سکے۔
راغب اصفہانی لکھتے ہیں کہ عزت انسان کے اندر ایک ایسی حالت ہے جو انسان کو خواری سے محفوظ رکھتی ہے۔

”صاحب تفسیر المیزان علامہ طباطبائی لکھتے ہیں کہ کلمۂ عزت، نایابی کے معنی میں ہے۔ جب کہا جاتا ہے کہ فلاں چیز عزیز ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس تک آسانی سے رسائی ممکن نہیں ہے۔“
(المیزان ج 17، ص 22، 23)

اب یہاں پر اسلامی شریعت کے مطابق عزت کے تین مفہوم سامنے آتے ہیں اور جو سب سے خوبصورت مفہوم ہے وہ یہ کہ ”اس تک رسائی آسان نہیں“

آپ سمجھ رہے ہیں نا؟
عورت رونے روتی ہے کہ اس کے ساتھ یہ غلط ہوا ، مرد نے اسے چھیڑا ، اس پر ظلم ہوتا ہے اور بہت کچھ ، اس پر میں کہوں گی ہاں! یہ سب بھی ہوتا ہے معاشرے میں ۔ ”ہر بار“ عورت ذات غلط اور فساد کی جڑ نہیں ہوتی جیسا کہ بعض جگہوں پر تصور کیا جاتا ہے ۔

مگر اب اگر ہم بات کریں اس ”عورت مارچ“ کی تو ذرا یہ بتائیں مجھے وہ تمام عورتیں کہ کون سے حقوق مانگ رہی ہیں آپ؟
بہت سے سلوگن مشہور ہوئے جیسے کہ ایک یہ ”میرا جسم میری مرضی“۔
اور جنہوں نے یہ سب دیکھا ہے تو یقیناً اس نمائش پر کہیں تو دل میں ٹیس اٹھی ہوگی۔۔ نہیں؟

پہلے تو مجھے یہ بتائیں کہ آپ کا جسم , آپ کی مرضی؟ کہاں سے سیکھا ہے آپ نے؟ کیا آپ کو یقین ہے، یہ جسم آپ کا ہے؟ آپ کی مِلک؟ آپ کا کمال ہے اس کو پروان چڑھانے میں؟

یا یہی جسم جس پر آپ کی مرضی ہے وہ آپ کو ”اللہ “ نے دیا ہے ؟ سوچیں، کہاں ہے آپ کا کمال ؟ آپ کی ایک ایک سانس کے چلنے میں، خون کی روانی میں، آپ کے جسم کے حرکت کرنے میں، آپ کے بولنے میں ، آپ کے سوچنے میں حتیٰ کہ آپ کے عمل کرنے میں بھی آپ کا کوئی ذاتی کردار ہے؟ اگر یہ جسم آپ کا ہے تو جب آپ بیمار پڑ جاتے ہیں تو ڈاکٹر کے پاس کیوں دوڑے جاتے ہیں ؟ اللہ سے شفاء کیوں طلب کرتے ہیں ؟ اس پر تو آپ کی مرضی ہے نا ؟ تو یہ آپ کے کہنے سے ٹھیک کیوں نہیں ہوتا ؟ آپ کی ذاتی کوشش سے کیوں نہیں ؟ یہ تو ”آپ کا جسم “ ہے تو پھر یہ دوسرے کی مرضی سے صحت کیوں پاتا ہے؟

اگر اسی، آپ کے ذاتی جسم کو، اللہ خدانخواستہ مفلوج کردے تب بھی کہیں گے، میرا جسم میری مرضی ؟ سوچیں تو سہی ۔ یہ جسم آپ کا ہے ہی کب؟ یہ تو الله نے دیا اور اس کے حکم سے ہی حرکت کر پاتا ہے۔ اگر وہ حکم دے کہ یہ حرکت چھوڑ دے تو یہ حرکت چھوڑ دے گا، تب آپ کی مرضی چلے گی ؟ مانے گا یہ آپ کا کہنا ؟ آپ ہاتھ ہلانا چاہیں تو کیا ہاتھ ہلے گا؟ جب تک اوپر والا ”ہاں“ نہیں کہے گا تو کچھ نہیں ہوگا۔

اب ایک اور بات بتائیں کہ کیا آپ میں سے کسی نے بھی اللہ کو اس جسم کی قیمت ادا کی ہے؟ کوئی رقم ؟ کوئی معاہدہ ؟ کچھ؟ اگر نہیں اور بیشک ہم نہیں کر سکتے، تو آپ کا حق کیسا؟
جب یہ جسم اس نے دیا تو ساتھ میں اس پر اپنی مرضی کی حد قائم کرکے حکم بھی جاری کیا۔ جب یہ جسم آپ کی ہی مِلک نہیں ہے تو آپ کی اس پر مرضی کیسی؟ کیا آپ ، میں اور ہم سب اس کا وہ حق پوری طرح سے ادا کرتے ہیں جو ہمیں کرنا ہے؟ جو ہم پر فرض ہے جو قرض ہے ۔

نہیں، ہم نہیں کر سکتے۔ جب نہیں کرسکتے تو اس جسم پر حق کیسے جتا سکتے ہیں ؟
”یہ میرا ہے اس پر میری مرضی “
اگر یہ مکمل آپ کو دیا گیا ہے تو آپ کو اس کا محافظ بنایا گیا ہے نا کہ آپ کو اس بات کی آزادی دی گئی ہے کہ آپ اس کو دکھآئیں۔
یوں تو کوئی اسلام کی بات کرتا ہے تو فوراً آواز اٹھائی جاتی ہے
narrow minded, typical اور بہت کچھ

مگر جہاں فیشن یا ماڈرن ازم کی بات آئے تو کیوں نہیں کہا جاتا یہ تو نیا ہے، اس کو کیوں اختیار کریں ؟ ارے! یہ تو ایسا ہے ہم کیسے کریں، ایسے کپڑے کیسے پہنیں، ایسا فیشن کیسے کریں ؟ تب تو کرنا چاہتے ہیں, تو کر گزرتے ہیں۔ مگر جہاں بات آئے کہ الله جس نے مجھے، تمہیں، ہم سب کو بنایا ہے وہ حد قائم کرتا ہے تو حد میں رہو وہیں ہم پست ذہن کہلاتے ہیں، تنقیدیں ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔

”اللّٰہ تعالی حد سے نکلنے والوں کو پسند نہیں کرتے اور تم اپنی حدود سے مت نکلو ۔“ القرآن

کیا اختیار اللہ نے نہیں دیا کہ اچھے برے کی پہچان کرو یا اس نے ہزاروں سال پہلے کہا تھا کہ آنے والا زمانہ ماڈرن ہوگا لہذٰا ان پر یہ حد قائم نہیں ہوتی،ان کو چھوٹ ہے، وہ جو چاہے کریں کیونکہ اگر کوئی میرے کہے پر تبلیغ کرے گا تو وہ نیچا ہوگا اس پر تنقید ہوگی اس کو جتایا جائے گا کہ پہلے اپنے گریبان میں تو جھانک لو پھر ہمیں کہنا۔ اس لیے آنے والے وقت میں عورت مارچ جیسی چیزیں ہونے لگیں تو عورتیں اورمر د آزاد ہیں، وہ جو چاہیں کریں جو چاہے بولیں ان کو کھلی چھوٹ ہے کیونکہ ان کو اجازت ہے۔ ایسا کوئی حکم آیا تھا؟ اگر ایسا ہے، تھا یا وقت کے ساتھ سب پرانا ہو جانا تھا تو اللہ نے قرآن میں یہ بات کہہ کر قیامت تک کے لیے محفوظ کیوں کردی کہ :

”زمانۂ جاہلیت کی عورتوں کی طرح نا ہوجانا، اپںی عزتوں کی حفاظت کرنا، اپنے جسم کو ڈھانپے رکھنا“
جس نے یہ دنیا بنائی کیا اس کو آنے والے وقت کا علم نہیں تھا ؟ کیا اس کو پتہ نہیں تھا کہ مرد کا نظریہ بدلے گا اور عورت کی چال۔

تو اس نے چودہ سو سال پہلے کے حکم کو دائمی کیوں کردیا، اس نے اس پر مہر کیوں لگادی کیونکہ وہ ہم سے زیادہ بہتر طور جانتا تھا کہ آنے والے زمانے میں کیا ہونے جا رہا ہے، ایک انسان دوسرے کے خون کا پیاسا کیسے ہونے والا ہے۔

اس کو بہت پہلے سے علم ہوگا کہ اس کا بندہ بشر کہے گا یہ جسم میرا اس پر میری مرضی، باقی! تم سب ایرے غیرے انسان کون ہوتے ہو میری ذات پر آواز اٹھانے والے، میں نے اپنا حساب خود دینا ہے تو میں دے لوں گا۔ آپ سمجھ تو رہے ہوں گے نا؟

اب بات یہ آتی ہے کہ کیا عورت کو خواہش نہیں رہی کہ وہ عزیز ہوجائے تاکہ آسانی سے اس کا حصول نا ہو ؟ کیا و ہ یہ نہیں چاہتی کہ اس کے پاس عزت ہو ۔ اور عزت تو کمائی جاتی ہے،کوئی یونہی آکر نہیں دے دیتا ۔ اس ماڈرن زمانے میں عزت اپنا وجود کھو بیٹھی ہے یا سستی ہوگئی ہے کہ جو چاہے، جہاں چاہے اس کو بھی خرید لے یا پھر ہم عزت کا مفہوم بھلا بیٹھے ہیں، اسے سمجھنے سے قاصر ہیں یا یوں ہے کہ جو مراد ہم عزت سے لیتے ہیں وہ محض دکھاوا ہے , ہمیں علم ہی نہیں ہے کہ لفظ ”عزت“ کیا معنی رکھتا ہے۔

میرے نزدیک ”عزت“ ایسی چیز یا پہچان ہے جو انسان کی اپنی مٹھی میں ہوتی ہے، مٹھی بند رہے گی تو عزت محفوظ جہاں مٹھی کھل گئی وہاں عزت ریت کی طرح پھسل جاتی ہے اب چاہے مٹھی کسی پر انگلی اٹھانے ہی کے لیے کھولی جائے۔ عزت ایک ایسی مہنگی چیز ہے جو قیمت ادا کر کے نہیں لی جاتی، یہ وہ احساس ہے جو دل کا مکین ہے۔

اگر قیمت دے کر آج کے زمانے میں عزت خرید بھی لی جائے تو وہ عزت نہیں دھوکہ ہے،ایک خوبصورت ”دھوکہ“ جو انسان خود کو دیتا ہے کیونکہ جو احساس بکنے اور خریدا جانے لگے وہ کسی تھپڑ سے کم نہیں۔ آپ دکھاوے کے طور پر تو سمجھتے ہیں یہ عزت جو آپ نے خرید لی ہے یہ آپ کی کل جمع پونجی ہے جبکہ جو سودا آپ نے کیا ہے وہ گالی سے بھی کم نہیں۔ بظاہر تو آپ کے دھوکے میں شامل شخص آپ کو عزت دے گا مگر کیا آپ اس کے دل کا حال جانتے ہیں؟

یونہی عورت کی عزت وہ قیمتی شے ہے جو اس کے اپنے کردار میں ہے ۔
اب چاہے وہ ماڈرن ہو یا مڈل کلاس، عزت آپ کی کلاس پر انحصار نہیں کرتی۔ عزت سوچ، اطوار اور چال کا حصہ ہوتی ہے۔

عزت عورت مارچ نہیں ہے، عزت نا حقوق ہیں نا ہی فرائض، عزت احساس ہے جو ”معتبر“ کرتا ہے، اپنی نظروں میں دوسرے کی نگاہوں میں۔ عزت سودا نہیں ہے،عزت کھیل تماشہ بھی نہیں ہے۔

جب تک آپ خود کو عزت نہیں دیں گے کوئی آپ کو عزت نہیں دے گا ۔ آپ کوئی قدم اٹھانے سے پہلے سوچیں تو صحیح کیا اس قدم اٹھانے پر یہ بات کہنے پر کچھ کرنے پر آپ درست ہیں، آپ خود کو عزت دے سکتے ہیں ؟ اگر ہاں تو پھر آپ صحیح ہوں گے اور اگر عزت کے اس مفہوم پر آ پ کا عمل پورا نہیں اترتا تو آپ کو اپنے ”خود“ کے لیے اصلاح کی ضرورت ہے۔

یقین کریں ”عورت کے حقوق“، ”مرد کے الزام“، ”عورت کی مظلومیت“، ”مرد کے فرائض“، ”عورت بیچاری ہے“، ”مرد حاکم ہے“، یہ سب بہت قدیم وقت سے چلا آرہا ہے تو کیوں نا ہم اس نکتہ پر بات کریں جو ہماری ضرورت ہے ۔ ہم مرد اور عورت کی عزت کا احترام کریں، عزت کو سمجھیں، جب ہم یہ کرنے لگیں گے، ہم اس مفہوم کو سمجھیں گے تو حقیقت کو پائیں گے کہ اصل کیا ہے اور غلط کیا ۔ کیا واقعی عورت کو آزادی مارچ کی ضرورت ہے اور مرد کو حکومت کی؟

پھر ہم سمجھیں گے کہ عورت چاہے اپنی ہو یا دوسرے کی نا وہ مال ہے نا کمال، وہ عزت ہے۔ ایسی عزت جو اللہ نے بنائی ہےاور اللہ کے کسی کام میں کوئی کمی ہے؟

اختتام پر میں مرد اور عورت سب سے یہی کہنا چاہوں گی کہ اگر اللہ نے مر د کو رتبہ اور طاقت دی ہے تو عورت عزت کا پیکر اور حق دار ہے۔
نا کوئی عورت اس پر سودا کرے اور نا ہی کوئی مرد اس کو نیلام کرے۔
اپنی ویلیو کو پہچاننا سیکھیں اور خود کو عزت دینا، تب ہی دنیا عزت دے گی۔

سب باتوں اور عنوانات کے ساتھ اس عنوان کو بھی یاد رکھیں کہ جہاں عورت کے حقوق اور عورت ذات کی بات ہو وہاں عورت ہی عورت کی عزت کی بات بھی کرے۔ آواز اٹھائیں اپنے لیے ناکہ الزام دینے کے لیے یہ کہیں کہ مرد عزت نہیں دیتا، عورت کو تماشہ سمجھا جاتا ہے۔ اس دنیا میں یقیناَ کہیں نا کہیں، کسی نا کسی مقام پر سب ہوتا ہے ۔ مگر یاد رکھیں:

عزت لی نہیں جاتی، بنائی جاتی ہے، اس کی امید سستے لوگوں سے نا رکھیں، عزت چاہتی ہیں تو عزت کی سیڑھی پر چڑھنا سیکھیں ۔
اپنی عزت آپ خود بنا سکتی ہیں ۔ بس ”خود“ تو یاد رکھیں اپنے مقام کو اور دہراتے رہیں اس عنوان کو ۔
شکریہ !

اس نے تقریر ختم کرکے پورے ہال میں نگاہ دوڑائی، سب اب تک دم سادھے بیٹھے تھے ٹرانز میں، وہ ذرا برابر نروس ہوئی کہ یا تو تقریر بہت اچھی رہی یا بیکار۔
وہ اسی کنفیوژن میں سر جھکا کر واپس جانے کے لیے مڑی کہ پورا ہال تالیوں کی گونج سے جی اٹھا ۔ اس نے سر اٹھا کردیکھا تو وہاں داد تھی، تحسین تھی، شکر گزاری تھی۔ غرض کیا تھا جو وہاں لوگوں کی آنکھوں میں نا تھا۔

تالیاں تھمیں تو سر نے نتائج کا اعلان کیا۔
سر کی عادت تھی وہ تیسری سے پہلی کی طرف آتے تھے اور کل سات لڑکیوں نے حصہ لیا تھا۔

نا تیسری، نا دوسری پوزیشن کے لیے اس کا نام پکاراگیا تو وہ تھوڑی ڈھیلی پڑی پہلی پوزیشن حاصل کرنا اس کے گمان میں نا تھا مگر پہلی پوزیشن کے لیے اس کا نام لیا جانے لگا۔ حیرانی کے عالم میں سٹیج پر جاکر میڈل لیا تو سر اس کے تاثرات بھانپ گئے تھے۔ تقسیم انعامات کے بعد سر نے مجمع سے خطاب کیا اور سب لڑکیوں کو داد دی اور ان کی شرکت کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کی, پھر گویا ہوئے:

”جو اللہ کے لیے آواز اٹھاتا ہے، لکھتا ہے، پھر پھیلاتا ہے تو سمجھو اس نے اپنا فرض ادا کیا اور لکھنے کا حق پورا کیا۔
جو اللہ کی بات سے بات کرتا ہے، اللہ اسے ایسے ہی دنیا و آخرت میں کامیاب کرتا ہے۔
میں گزا رش کرتا ہوں کہ خدارا اللّٰہ کی طرف لوٹ آئیں کیونکہ زندگی بہت مختصر ہے ۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ نے جو سوچ و فکر کی صلاحیت ہمیں دی ہے اس کو ہم بہترین کاموں میں لگائیں اور اللہ کی مدد ہمارا نصیب ٹھہرے ۔ آمین


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں