گلگت بلتستان اسمبلی

انتخابات 2020ء: گلگت بلتستان کا کون بنے گا حکمران؟

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

عبید اللہ عابد :

گلگت بلتستان کے سات لاکھ ووٹرز آج چوبیس میں سے تئیس نشستوں پر اپنے نمائندگان منتخب کرنے کے لئے ووٹ ڈالیں گے۔ ان میں سے سوا لاکھ نئے ووٹرز ہوں گے۔ان انتخابات کی سب سے خاص بات غیرمعمولی طور پر جوش و خروش ہے جو پہلی بار دیکھنے میں آیا ہے۔ اس بار انتخابی مہم میں اس قدر زیادہ جوش و خروش دیکھنے کو ملا ہے کہ ملک کے باقی حصوں میں بسنے والے بھی 15نومبر کے انتخابات اور ان کے نتائج کا بے چینی سے انتظار کررہے ہیں۔

انتخابات2020ء میں سب سے زیادہ نمایاں تین پارٹیاں ہی نظر آرہی ہیں، مسلم لیگ (ن) جو حال ہی میں یہاں کی سابقہ حکمران جماعت بنی ہے، وہ اس کوشش میں ہے کہ ایک بار پھر اسے حکمرانی عطا ہو، دوسری پیپلزپارٹی جس کا یہاں اچھا خاصا ووٹ بنک موجود ہے، اور جس کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران میں باقی سارے کام چھوڑ کر گلگت بلتستان ہی میں ڈیرے ڈالے رکھے، انھیں امید ہے کہ اب حکمرانی انھی کی پارٹی کو ملے گی،

تیسری تحریک انصاف ہے، جو اس روایت کو ذہن میں رکھے ہوئے ہے کہ مرکز میں جس پارٹی کی حکمرانی ہوتی ہے،گلگت بلتستان میں بھی اسی کی حکومت ہوتی ہے۔ دیگر کئی جماعتیں بھی میدان میں ہیں، مثلاً مجلس وحدت مسلمین، اسلامی تحریک پاکستان، جمعیت علمائے اسلام (ف)، جماعت اسلامی۔آزاد امیدواروں کی بھی بڑی تعداد انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔

گلگت بلتستان سمیت پاکستان بھر کے لوگوں کے ذہنوں میں ایک ہی سوال ہے کہ گلگت بلتستان کا کون بنے گا حکمران؟ اب تک مختلف اداروں کے تحت ہونے والے رائے عامہ کے جائزے ظاہر کررہے ہیں کہ نتائج روایت کے مطابق ہی آئیں گے یعنی جس پارٹی کی مرکز میں حکمرانی ہوگی، وہی گلگت بلتستان کے انتخابات میں زیادہ بڑی جماعت بن کر ابھرے گی۔

”گیلپ پاکستان“ کے سروے کے مطابق 27 فیصد لوگ تحریک انصاف کو ووٹ دیں گے، 24 فیصد نے کہا کہ وہ پیپلزپارٹی، 14فیصد نے مسلم لیگ ن کو ووٹ دینے کا خیال ظاہر کیا۔ 12فیصد نے آزاد امیدواروں کے حق میں بات کی جبکہ چار فیصد نے جمعیت علمائے اسلام کا نام لیا۔

ایک دوسرے ادارے ’پلس کنسلٹنٹ‘ کے تحت رائے عامہ کا جائزہ تحریک انصاف کے حق میں زیادہ شرح بتا رہا ہے۔ اس کے مطابق 35فیصد نے تحریک انصاف کو ووٹ دینے کی بات کی۔26فیصد نے پیپلزپارٹی کو،14فیصد نے مسلم لیگ ن اور 12فیصد نے آزادی امیدواروں جبکہ چار فیصد نے جمعیت علمائے اسلام کے حق میں فیصلہ سنایا۔ پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن، جمعیت علمائے اسلام اور آزادی امیدواروں کے لئے پسندیدگی کی شرح دونوں جائزوں میں ایک جیسی ہے۔

رائے عامہ کے ان جائزوں کے مطابق عمران خان اب بھی وہاں سب سے زیادہ مقبول ہیں۔ ان کی مقبولیت کی شرح 41 سے 42 فیصد ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کی مقبولیت کی شرح’پلس‘ کے مطابق 23 فیصد جبکہ گیلپ کے مطابق 17فیصد ہے۔ نوازشریف کی مقبولیت ’پلس‘ کے مطابق 16فیصد،’گیلپ‘ کے مطابق 15فیصد ہے۔

’پلس‘ کے مطابق مریم نواز 10فیصد لوگوں کی پسندیدہ رہنما ہیں جبکہ گیلپ کے مطابق محض تین فیصد۔ ’پلس‘ کے مطابق آصف علی زرداری آٹھ فیصد، مولانا فضل الرحمن چھ فیصد، سراج الحق تین فیصد جبکہ شہباز شریف دو فیصد مقبول ہیں۔

گیلپ کے مطابق مولانا فضل الرحمن چار فیصد، مریم نواز تین فیصد، آصف علی زرداری دو فیصد جبکہ سراج الحق اور شہباز شریف کی مقبولیت کی شرح ایک، ایک فیصد ہے۔

رائے عامہ کے جائزے یقیناً صورت حال کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں تاہم بعض اوقات ایسا بھی ہوتاہے کہ لوگ انتخابات سے قبل کچھ بات کرتے ہیں جبکہ انتخابی نتائج مختلف سامنے آتے ہیں۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ لوگ اسی پارٹی کو ووٹ دیں گے جس کے وعدوں پر وہ زیادہ یقین کریں گے۔

گلگت بلتستان ایسا علاقہ ہے جہاں کے لوگوں کو ملک کے باقی کئی حصوں کی نسبت زیادہ وسائل کی ضرورت ہے۔ یہاں کے لوگوں کو کیا مسائل درپیش ہیں؟ اس حوالے سے لوگوں سے رائے لی گئی۔ ”پلس کنسلٹنٹ“ کے مطابق 48 فیصد لوگوں نے کہا کہ یہاں ہسپتالوں کی ضرورت ہے،35 فیصد نے انفراسٹرکچر نہ ہونے کی بات کی،33 فیصد نے کہا کہ تعلیمی اداروں کی ضرورت ہے،30 فیصد نے بے روزگاری کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا۔27 فیصد نے بجلی نہ ہونے اور 20فیصد نے پانی کی عدم دستیابی کی بات کی۔

دوسری طرف ’گیلپ‘ نے یہی سوال لوگوں سے پوچھا تو اس کو ملنے والے جوابات کی شرح یکسر مختلف تھی، اس کے سروے میں 38فیصد نے بجلی نہ ہونے کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 13فیصد نے کہا کہ پینے کے لئے صاف پانی نہیں ہے، 12فیصد نے تعلیمی اداروں کا نہ ہونا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔10فیصد انفراسٹرکچر، سات فیصد نے بے روزگاری اور چھ فیصد نے ہسپتالوں کے نہ ہونے کو سب سے بڑا مسئلہ بتایا۔

ان مسائل کے تناظر میں یہاں کے لوگوں کو اپنا معیار زندگی بہتر بنانے کے لئے ترقی کے زیادہ منصوبوں اور زیادہ ترقیاتی فنڈز کی ضرورت ہے۔ جہاں ایسے حالات ہوں، وہاں نظریاتی اور سیاسی وابستگیوں سے زیادہ دیکھا جاتاہے کہ کون سی پارٹی فنڈز دے سکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ فنڈز ملک کی حکمران جماعت ہی نے فنڈز فراہم کرنے ہوتے ہیں۔

گلگت بلتستان میں انتخاب کے دن لوگوں نے اس سوچ کو بنیاد بنایا اور سابقہ روایت کو برقرار رکھا تو تحریک انصاف کا پلڑا بھاری معلوم ہوتا ہے۔ انتخابات سے قبل جس طرح مسلم لیگ (ن) سے وابستہ رہنماؤں نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی، اس نے بھی اس امکان کو پختہ کیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے گلگت بلتستان کو باقاعدہ صوبہ کا درجہ دینے کا وعدہ کیا، اس نے بھی تحریک انصاف کے پلڑے میں وزن پیدا کیا ہے کیونکہ یہاں کے 66 فیصد لوگ اپنے علاقے کو باقاعدہ صوبہ کی شکل میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے بھی اسی قسم کے وعدے کیے ہیں۔ ہر جماعت کا دعویٰ ہے کہ دوسری جماعت خالی خولی وعدے کررہی ہیں، اصلاً وعدہ تو وہی پورا کرے گی۔

بعض ماہرین اور تجزیہ کار پیپلزپارٹی کا پلڑا بھاری محسوس کرتے ہیں۔ ان کا کہناہے کہ یہاں پیپلزپارٹی کو پسند کرنے والے بڑی تعداد میں ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کسی بھی دوسری پارٹی سے پہلے انتخابی مہم کی غرض سے یہاں پہنچے۔ وہ گلگت بلتستان کے ہر علاقے میں گئے۔ ان کی اس مہم سے ان کے والد اور سابق صدر آصف علی زرداری بہت خوش ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ”بلاول نے اپنے نانا اور والدہ کے انداز میں محنت سے مہم چلائی۔“

پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے لئے اپنی خدمات کا تذکرہ کرتی ہے، اس کی سابقہ حکومت نے گلگت بلتستان کو باقاعدہ صوبہ بننے کی شاہراہ پر ڈالا۔ یہ بھی سمجھا جاتاہے کہ اس علاقے کو جو کچھ بھی مل چکا ہے، اس کا بڑا حصہ پیپلزپارٹی ہی کے ادوار میں ملا۔ اگر آج ہونے والے انتخابات کے تناظر میں پیپلزپارٹی کا پلڑا بھاری معلوم ہوتاہے تو اس کی بنیادی وجہ یہی فیکٹر ہے۔ پیپلزپارٹی کا دعویٰ ہے کہ اگلا وزیراعلیٰ جیالا ہوگا۔ دوسری طرف پیپلزپارٹی کو خدشہ ہے کہ انتخابات میں دھاندلی ہوگی۔

مسلم لیگ ن بھی پرامید ہے کہ وہ اگلی حکومت بھی بنائے گی۔ مسلم لیگی رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ ان کی حافظ حفیظ الرحمن حکومت نے علاقے کو تاریخی ترقی دی ہے۔ اس امید کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ ن کا بھی موقف ہے کہ گلگت بلتستان میں دھاندلی کے انتظامات کئے گئے ہیں۔

اس کے مطابق انتخابی مہم چلانے کے لئے جو مواقع تحریک انصاف کے لئے جائز تھے، وہ باقی جماعتوں کے لئے ناجائز قرار دئیے گئے۔ تحریک انصاف کے لوگ انتخابی قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑاتے رہے لیکن انھیں کسی نے روکا نہیں، ساری پابندیاں اپوزیشن جماعتوں کے لئے تھیں۔ان کا کہناہے کہ گلگت بلتستان میں 15نومبر کو ووٹ چوری ہوا تو اْس کے نتائج بہت خطرناک ہوں گے۔

مسلم لیگ ن کی رہنما مریم اورنگزیب نے دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے حلقہ دیامر 2 سے کا حوالہ دیا جہاں سرکاری ملازمین کی تعداد 700 ہے لیکن پوسٹل بیلٹ پیپرز 1791 کی تعداد جاری کر دیئے گئے۔ گزشتہ دنوں مریم نوازشریف اور بلاول بھٹو زرداری کی ایک ملاقات ہوئی جس کے اعلامیہ میں بھی دھاندلی کے حوالے سے خدشات ظاہر کئے گئے تاہم دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کا کہناہے کہ دھاندلی ہوئی تو وہ یہاں ایک بڑی احتجاجی مہم چلائیں گے۔

انتخابی مہم کا جائزہ لیا جائے تو تینوں پارٹیوں نے بڑے بڑے جلسے کئے۔ جلسوں کا موازنہ کیا جائے تو یہ کہنا مشکل ہوگا کہ کس پارٹی کا جلسہ دوسری پارٹیوں سے بڑا تھا۔ غالب امکان ہے کہ گلگت بلتستان میں ایسے لوگ بڑی تعداد میں ہیں جنھوں نے تینوں جلسوں میں شرکت کی، انھوں نے جاننے کی کوشش کی کہ کون سی جماعت ان کے لئے بہتر وعدے کرتی ہے اور کس کے وعدوں میں زیادہ پختگی ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا قبل از انتخاب رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ہی لوگ اپنا ووٹ کاسٹ کریں گے یا عین آخری وقت میں بھی اپنا ذہن تبدیل کرلیں گے۔ اپوزیشن رہنماؤں کی پوری کوشش ہے کہ لوگ روایت سے ہٹ کر ووٹ کاسٹ کریں۔ جیسا کہ سابقہ سطور پر ذکر کیا گیاہے کہ اپوزیشن جماعتوں کو یہاں کے انتخابات میں دھاندلی کے خدشات ہیں۔ خود گلگت بلتستان کے کم ہی لوگوں (29 سے 31 فیصد) کو توقع ہے کہ انتخابات صاف شفاف ہوں گے،

جن کا خیال ہے کہ شفاف انتخابات نہیں ہوں گے، ان کی شرح 11سے20فیصد ہے جبکہ 28 سے 51 فیصد نے کہا کہ وہ اس بابت کچھ نہیں کہہ سکتے۔ اگرچہ دھاندلی کی بات کرنے والے عام لوگوں کی تعداد کم ہے لیکن شفاف انتخابات کی توقع ظاہر کرنے والی کی شرح بھی زیادہ نہیں۔

یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ گلگت بلتستان کا الیکشن کمیشن بہتر انتظامات کرے، اس کے نتیجے میں لوگوں کی سیاسی عمل میں شمولیت اور جوش و خروش میں اضافہ ہوگا۔ اگر دنیا کے دوسرے معاشروں میں لوگ بڑھ چڑھ کر انتخابی عمل میں حصہ لیتے ہیں تو پاکستان اور اس کے صوبوں میں ایسا کیوں نہیں ہوسکتا۔

حال ہی میں امریکی انتخابات میں ٹرن آؤٹ کا ریکارڈ قائم ہوا ہے۔ پاکستان میں بھی لوگوں کو صاف وشفاف انتخابات کا یقین ہو تو یہاں بھی ریکارڈ قائم ہوسکتے ہیں۔ ملک اور قوم کی بہتری کے لئے ایسا ہونا از حد ضروری ہے۔


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں