لیموں پانی

لیموں پانی کیسے گردوں کو پتھری سے محفوظ رکھتا ہے؟

·

سوشل میڈیا پر شیئر کریں

گردے میں پتھری کی صورت میں بڑے اور بوڑھے ایک عرصے سے لیموں اور لیموں پانی کے استعمال پر زور دیتے آئے ہیں اور اب سائنسی طور پر اس ٹوٹکے کی حقیقت ثابت ہوگئی ہے۔

سائنس دانوں نے سروے کے بعد کہا ہے کہ ایک جانب تو لیموں پانی گردے میں پتھری بننے کے عمل کو پہلے سے ہی روکتا ہے اور اگر پتھری ہوتو اس کے بڑھنے کی رفتار کو بھی سست کرتا ہے۔ اس ضمن میں یہ مشروب جادوئی اثرات رکھتا ہے یہاں تک کہ امریکی ماہر ڈاکٹر راجر سر اور جامعہ وسکانسن میں یورو لوجی کے پروفیسر اسٹیون ناکاڈا لیموں پانی کو تمام دواؤں سے بھی مؤثر قرار دیتے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ لیموں میں تمام پھلوں کے مقابلے میں سٹرک ایسڈ کی بلند مقدارپائی جاتی ہے اور یہ تیزاب گردے کی پتھریوں کا مؤثر سدِ باب کرتا ہے۔ اس عمل کو اب لیموں تھراپی بھی کہا جانے لگا ہے۔ دوسری جانب سپلیمنٹ کے طور پر مریض کو پوٹاشیئم سائٹریٹ دیا جاتا ہے لیکن یہ بھی لیموں کے سامنے بہت کم اثر رکھتا ہے۔

تازہ اطلاع کے مطابق امریکی شہر ڈرہم میں واقع ڈیوک یونیورسٹی کے کڈنی اسٹون سینٹر میں پتھری والے 12 مریضوں کو چار برس تک لیموں پانی کے علاج سے گزارا اور ان کے گردوں میں پتھری بننے کا عمل بہت سست دیکھا گیا۔ ان تمام 12 افراد کو چار سال کے دوران پتھری کی وجہ سے کسی طبی ایمرجنسی اور علاج کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

لیموں پانی صفائی کا عمل کرتے ہوئے گردوں کو مضر اثرات سے پاک رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کے استعمال سے پانی زیادہ پیا جاتا ہے اور مریض روزانہ ڈیڑھ سے دو لیٹر تک پانی پیشاب کی صورت میں جسم سے خارج کرتا ہے جو صحت مند گردوں کے لیے مناسب مقدار ہے اگر کوئی سپلیمنٹ یا دوا دی جائے تو اس کے بھی عین یہی اثرات ہوتے ہیں۔

جب پیشاب میں خاص نمکیات کی مقدار بڑھ جائے اور پتھر بنانے والے سائٹریٹس جسم میں کم ہوجائیں تو اس سے گردوں میں پتھریاں جمع ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ بدن میں سٹرس کی سطح کو برقرار رکھ کر پتھری کو دور کیا جاسکتا ہے اور یہاں لیموں پانی ایک قدرتی دوا کی صورت میں ہماری مدد کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ضروری ہے کہ آدھا کپ لیموں سات کپ پانی میں ملایا جائے اور اس میں حسبِ ذائقہ شہد بھی ملایا جاسکتا ہے۔ دوسری جانب مریض کا گوشت اور نمک کے بے جا استعمال سے پرہیزبھی ضروری ہے۔ سبزیوں اور پھلوں کا استعمال اسے بہتر کرتا ہے کیونکہ غذائی احتیاط سے بھی گردوں کو تندرست رکھا جاسکتا ہے۔

گردے میں پتھری سے مریض کمر اور گردوں میں درد، قے ہونے سمیت پیشاب میں تکلیف اور خون آنے کی تکالیف میں مبتلا ہوسکتا ہے۔ اس کی شدید علامات میں بخار اور خون کا انفیکشن بھی ہوسکتا ہے جو جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔


سوشل میڈیا پر شیئر کریں

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں