اس سفر سے پہلے بھی ماں کی گود میں کوئی سفر کیا ہی ہو گا مگر مجھے اپنے بچپنے کا ایک سفر پوری جزئیات کے ساتھ یاد ہے اور اس سفر کی یادیں اور احساسات اس طرح میرے لاشعور میں پیوست ہیں جیسے کسی درخت کی جڑیں زمین میں پیوست ہوتی ہیں.. ہر چھوٹے یا بڑے سفر میں لاشعور کی زمین میں یہ جڑیں مزید گہری اور مضبوط ہوتی جاتی ہیں۔
۔وہ دن بہت اداس کرنے والا تھا،گھر میں سب خاموش تھے اور بولنے والے آہستہ آواز میں کہیں جانے کی با تیں کر رہے تھے۔ پھر گلی میں دو ٹانگے آکر رکے اور اس میں گھرکی عورتوں اور بچوں کو سوار کرایا گیا۔ میں ٹانگے کی اگلی سیٹ پر نانی اماں جی کی گود میں بٹھا دی گئی، ساتھ ہی چچا جان گود میں شاہد بھائی اور کوثر کو لیے بیٹھے تھے۔ پچھلی سیٹ پہ میری امی، خالہ سعیدہ، اور خالہ زینت بیٹھی تھیں۔ دوسرے ٹانگے میں میرے والد، ماموں اور نانا جان حکیم محمد عبد اللہ اور ایک دو مزید مرد بچوں کو گود میں لیے بیٹھے تھے۔
إن سب بزرگوں کا تصور کرتے ہی سینے سے ایک آہ نکلتی ہے کہ سب منوں مٹی اوڑھ کے سو گئے ہیں.اور اس وقت بھی وہ سفر دادا جان کو سفر آخرت پہ روانہ کرنے کی غرض سے تھا۔ داداجان جہانیاں سے قریب ٹھٹھہ صادق آباد میں رہائش پذیر تھے اور اس دن وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے تھے۔ انا للہ وانا اليہ راجعون۔ اللھم اغفر لھم کلھم . .
آگے پیچھے دونوں ٹانگے نہر کے ساتھ ساتھ جا رہے تھے۔ بہتا پانی ،خاموشی، ہوا سے پتوں کی سرسراہٹ اور چڑیوں کی چہچہاہٹ کے ساتھ کھلی سواری میں ہوا بہت اچھی لگ رہی تھی۔ درختوں کے پتوں سے گزر کر پیلی سی دھوپ میں سائے لمبے ہورہے تھے۔ اماں جی کی گود میں بیٹھے ان کے ہونٹوں سے میرا دایاں کان بار بار چھو جاتا اور مجھے گدگدی ہونے لگتی.. برقعے کے اندر سے ہی ان کا سانس مجھے سنائی بھی دے رہا تھا اور محسوس بھی ہورہا تھا۔ گھوڑے کی ٹاپ ایک خاص ردھم سے آہستہ آہستہ میرے دل کی دھڑکن کی ردھم سے مل جاتی، اور میری آنکھیں بوجھل ہونے لگتیں۔
اماں جی نے میرے کان میں سرگوشی کی ۔
’ننھی !چڑیاں اللہ کو یاد کر رہی ہیں ،تم بھی اللہ کو یاد کرو ،‘
میں خاموش رہی
کہو’سبحان اللہ ‘
میں نے کہا‘ سبحان اللہ‘
اماں جی نے اپنے برقعے سمیت ہاتھ سے میرے ہونٹ چھو ئے اور میرے کان میں سرگوشی کی ’الحمدللہ..اللہ اكبر ‘
میرے ہونٹوں کی جنبش کو اماں جی نے اپنی انگلیوں سے محسوس کیا۔
نہر کے پانی کا ہر قطرہ، درخت کا ہر پتہ اور مٹی کا ہر ذرہ ہوا کی ہر لہر ہر چیز بتائے گی اللہ میاں کو کہ ننھی نے ہمارے سامنے تجھے یاد کیا تھا۔ میرا کان ان کی آواز پہ اور ان کی انگلیاں میرے ہونٹوں کی جنبش پہ متوجہ تھیں۔
سبحان اللہ
الحمدللہ
لا الہ الا اللہ
واللہ اکبر
جانے کتنی دیر میرا کان اور ان کی انگلیاں مصروف رہیں۔ میں کسی وقت آسمان کی طرف اپنا چہرہ کرکے ان پرندوں کو دیکھنے لگتی جن کے پروں پہ ڈھلتے سورج کی کرنیں چمک پیدا کر رہی تھیں۔ کوے اور چڑیاں نمایاں تھے۔ سب ایک ہی طرف آڑے جا رہے تھے۔ کسی وقت طوطے کی آواز نمایاں ہو جاتی تھی۔ سڑک کے دونوں طرف قطار در قطار درختوں پہ چڑیوں کی چہکار بڑھتی جا رہی تھی جیسے اپنے گھر آکر خوش ہو رہی ہوں۔
جب ہم دادا جان کے گھر پہنچے تو وہاں سب رو رہے تھے۔ میری ماں اور ماں کی ماں بھی وہاں کی سب عورتوں کے گلے لگ کے رونے لگیں اور ایسی صورتحال میں بچہ کیوں نہ روئے جب چپ کرانے والے سب رو رہے ہوں۔ اگرچہ نہیں سمجھ آ رہی تھی کہ دادا جان اگر اللہ میاں کے پاس چلے گئے ہیں اور سب سے اچھے اللہ میاں ہی ہیں تو ان کے پاس جانے سے سب کو رونا کیوں آرہا ہے۔ میں تو بس اپنے پیاروں کو روتا دیکھ کر روئے جا رہی تھی اور اس الجھن کا حل تلاش کئے بغیر ہی ایک منطق پہ دل مطمئن ہوگیا کہ جب امی ہمیں چھوڑ کر خالہ جان کے گھر اکیلی چلی جاتی ہیں تو ہم بہن بھائی بھی روتے ہیں کہ خود چلی گئیں، ہمیں ساتھ نہیں لے کر گئیں۔ تو یہ سب اسی لیے رو رہے ہیں کہ خود تو اتنے اچھے اللہ میاں کے پاس چلے گئے ہمیں نہیں لے کر گئے۔
کرہ ارضی کا کوئی سفر ہو تو اماں جی کی سرگوشیاں کان میں اور ان کی انگلیوں کا لمس ہونٹوں پہ محسوس ہونے لگتا ہے کسی کا سفر آخرت ہو تو روتی آنکھیں اور اداس چہروں کو دیکھ کر اپنی بچگانہ منطق یاد آجاتی ہے۔
چونکہ لڑکپن میں اماں جی کے ساتھ سفر کرنے کا بارہا موقع ملتا رہا تو ہم ٹرین ،بس ، رکشہ یا ٹانگہ کے ذریعے جس سڑک، پٹڑی، پگڈنڈی، نہر دریا، صحرا، کھیت کھلیان باغ سے گزرے ان کو اللہ کے ذکر پہ گواہ بنالیا۔
سفر واقعی وسیلہ ظفر ثابت ہوتا رہا کہ ہر سفر سے مجھے ایمانی شعور کے ارتقاء کا موقع ملا۔
تعلیمی اور تحریکی دور میں بظاہر اماں جی کے بغیر سفر کیے مگر روحانی طور پر دنیا کے ہر سفر میں وہ میری ہم سفر رہیں۔
کہتے ہیں کہ والدین اپنے بچوں کی شکل میں زندہ رہتے ہیں اسی لیے اولاد کی تمنا انسانی فطرت کا خاصہ ہے۔ دراصل انسان اپنے ان اعمال کی بدولت زندہ رہتا ہے جو وہ اپنی اولادوں کی عادات بنا جاتا ہے۔










