ڈاکٹر بشریٰ تسنیم

میرا پہلا احساس گناہ

·

دل کی وہ حالت ایسی تھی کہ اس کا کوئی نام بھی مجھے نہیں معلوم تھا ۔

بھلا چھ سات سال کی عمر کہاں ہوتی ہے کہ اپنے دل پہ گزری واردات کو کوئی نام دے سکے۔

وہ عام سا ہی دن تھا۔ یہ یاد ہے کہ سردیاں نہیں تھیں کیونکہ گرم لباس پہنا ہوا یاد نہیں۔ 

میرے بھائی جان شاہد (اللہ مغفرت فرمائے)  کھلونا  جیسے  تیر کمان  سے ادھر ادھر نشانے لگا رہے تھے اور میرا دل مچل رہا تھا کہ میں بھی اس کو چلا کر دیکھوں۔ بھائی تو مجھے تیر اٹھا اٹھا کر لانے کا حکم دیے جاتے تھے۔ اور میرے اصرار کو بھائیوں والی بے نیازی سے سنی ان سنی کرنے میں مگن تھے۔ کچھ چکر آگے پیچھے بھاگنے کے بھی لگائے، جب میری رسائی نہ ہوئی تو مجھے چڑایا بھی۔    

پھر میں نے بھی دھمکی دے ڈالی کہ

’اچھا، میں جا کر نانی اماں جی کو بتاتی ہوں ‘۔

اماں جی کی بچوں سے محبت کا یہ عالم تھا کہ کوئی بڑا نہ چھوٹا ان کے سامنے شرمندہ ہونے کا یارا نہ رکھتا تھا۔

بھائی جان شاہد نے غصے اور جھنجھلاہٹ میں تیر کمان نیچے پھینک دیا اور اپنی خفت مٹانے کے لیے میرا مذاق بھی اڑایا۔

’دیکھتے ہیں کیسا نشانہ ہے؟ بڑا شوق ہے لڑکوں والے کھیل کھیلنے کا،

چلو؛ اس سامنے کیلنڈر پہ تیر پھینک کے دکھاؤ‘غصے میں انہوں نے پیر بھی پٹخے۔

اگر نشانہ ٹھیک نہ لگا تو میں  اماں جی سے شکایت لگاؤں گا کہ یہ لڑکوں والے کھیل کھیلتی ہے۔

میں نہیں جانتی کہ میں نے کیسے کمان میں تیر سیٹ کیا، بس بھائی کو جیسے کرتے دیکھا، میں نے کیا۔

اور تیر سیدھا کیلنڈر پہ جا کے لگا۔

جب ہم نے قریب جا کر دیکھا تو تیر کیلنڈر پہ لگی خانہ کعبہ کی تصویر کے وسط میں لگا جس سے تصویر پھٹ گئی تھی۔

بھائی جان نے مجھے استہزائیہ انداز میں دیکھا اور کندھے اچکا کر بولے:

’بس ، کردیا نا ستیا ناس  کیلنڈر کا، اور تم نے تو کعبہ ہی ڈھا دیا ہے۔‘

مجھے تیر نشانے پہ لگنے کی جو خوشی تھی ان کے انداز بیان سے ہوا ہوگئی۔

’ڈھا دیا کعبہ، تمہیں گناہ ہوگا اور تم کبھی نہیں جا سکو گی کعبہ دیکھنے۔’

دل کو ایک دھکا سا لگا، کعبۃ اللہ کی زیارت کی دعا ہر کسی کی زبان پہ رہتی تھی۔ گھر میں اماں جی کی حج کے لیے بے قراری ڈھکی چھپی بات نہ تھی اور اماں جی کی والہانہ محبت نے میرے اندر بھی ایک دیا روشن کر رکھا تھا مکہ مدینہ کا۔

بھائی جان کی  طرف سے مسلسل  چڑانے اور ’کعبہ ڈھا دیا‘ کی تکرار سے میں اس قدر خوف زدہ ہوئی کہ رونے لگی۔ اب تو شاہد بھائی موقع سے فرار ہوگئے کیونکہ اماں جی کسی صورت بھی برداشت نہیں کرتی تھیں کہ بھائی لوگ بہنوں کو رونے پہ مجبور کریں۔

اس واقعہ نے میرے دل میں بےقراری کی لہر ایسی دوڑائی کہ اپنے گناہ پہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے شرمندہ رہتی تھی۔ معصوم چڑیا جیسا دل اتنے بڑے گناہ کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔ اور اس گناہ کا کفارہ بھی کچھ نہ سوجھتا تھا۔

ان دنوں قاری صاحب نماز یاد کروا رہے تھے۔ رات کو ابی جان سبق سنتے اور دن کو امی نماز کے لیے ساتھ کھڑا کرتیں اور نماز کے ارکان کی ترتیب سکھاتی تھیں۔ کبھی دل چاہتا ابی جان سے پوچھوں کہ اب کیا کروں، مجھ سے تو گناہ ہوگیا، کبھی سوچتی قاری صاحب سے پوچھوں یا اماں جی سے یا امی سے ہی کہہ دوں۔۔ لیکن کوئی خوف تھا جو بولنے بھی نہ دیتا تھا۔ ہر وقت رونے کو دل چاہتا، کبھی دل چاہتا کہ اللہ تعالٰی کو سامنے بٹھا کر ان سے معافی مانگ لوں۔ مگر اللہ کو سامنے  کیسے بٹھاؤں اس سوال کا جواب نہ تھا۔

کبھی دل خود کو ہی سمجھاتا کہ اگر مکہ  تک پہنچ جاؤں تو اس کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے معاف کر دیا ہے اور پھر دل کی گہرائیوں سے دعا نکلتی کہ:

’اللہ مجھے اپنے گھر بلا لے۔‘

نہیں یاد کہ اس بے قرار دل نے کتنے دن یا  ہفتے گزارے۔

انہی دنوں چچا جان عبد الوکیل علوی رحمہ اللہ، لاہور سے آئے تو ہمیشہ کی طرح انہوں نے قرآن پاک، نماز، سورتیں سنیں اور حسب معمول خوب شاباش دی اور  کھانے کو میٹھی گولیاں بھی دیں۔

بس اچانک ہی بغیر ارادے کے میرے منہ سے نکلا

’چاچا جی !مجھ سے ایک گناہ ہوگیا ہے‘۔

 چچاجان نے مجھے جس طرح دیکھا، مجھے اس وقت یہ محسوس ہوا کہ وہ مجھے ناراضی سے دیکھ رہے ہیں مگر ہوش سنبھالنے پہ مجھے وہی صورت تعجب آمیز لگنے لگی تھی۔

کچھ کہنے سے پہلے ہی میں رونے لگی تو انہوں نے میرا سر پیار سے سہلایا، اور کچھ کہنے کا حوصلہ دلایا۔

تو میں نے ہچکیاں لے لے کر انہیں بات بتائی اور خدشہ ظاہر کیا کہ اب میں کعبہ تک نہیں جا سکتی۔

نہیں یاد کہ چچا جان نے مجھے کن لفظوں میں سمجھایا مگر میرے ذہن میں جو بات رہ گئی وہ کچھ اس طرح سے تھی

 کہ تیر جس جگہ پہ لگتا ہے اس کا مطلب ہے کہ آپ  اس مقام تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔

 نہ جانے انہوں نے اور کیا کچھ کہا یاد نہیں، بس میرے دل کو جیسے قرار آگیا تھا۔

 اب مکہ مدینہ پہنچنے کی طلب بڑھ گئی تھی اور اس طلب کے پورا ہونے کے لیے دل سوالی بنا رہتا تھا۔

تیر کمان کے بچپن کے اس کھیل میں نتیجتاً ایک بات شعور کی بتدریج  نمود میں بیٹھ گئی تھی کہ

’مومن کا دل کسی احساس گناہ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔‘

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں

4 responses to “میرا پہلا احساس گناہ”

  1. پروفیسر خواجہ مسعود اسلام اباد Avatar
    پروفیسر خواجہ مسعود اسلام اباد

    دل کو چھو لینے والا ایک دلچسپ اور سبق آموز واقعہ۔۔۔۔روحانی بالیدگی کا بہترین زریعہ۔۔۔۔اللہ سے محبت کا بے لوث اظہار اور ثبوت۔۔۔اس سے عیاں ھوتا ھے کہ بچپن سے ہی آپ کی شخصیت کا پاکیزہ رخ متعین ھو گیا تھا۔۔۔زہے نصیب

    1. بشری تسنیم Avatar
      بشری تسنیم

      بہت شکریہ

  2. جاوید اصغر Avatar
    جاوید اصغر

    بہت دلچسپ واقعہ۔ محترم عبد الوکیل مرحوم کا نہایت منفرد جواب۔۔۔

    1. بشری تسنیم Avatar
      بشری تسنیم

      اللہ تعالی ان پہ اپنی رحمت کا سایہ رکھے آمین