ڈاکٹر بشریٰ تسنیم

الحمد للہ والشکر للہ

·

اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے  خدا خوفی رکھنے والے ہر  گھرانے کی طرح  ہمارے پورے خاندان  میں بھی نیکی، پاکبازی ،فرائض کی پاسداری کے ساتھ ساتھ سفر حج کا شوق مزاجوں کا حصہ بن گیا تھا۔

 میرے شوق  اور اضطراب کا عالم کوئی اور ہی پس منظر رکھتا تھا ،اس لیے ہر سوچ اور دعا حرمین الشریفین کی زیارت کے  والہانہ پن کے گرد چکراتی رہتی تھی۔

 جب  مستقبل کے سہانے خواب دیکھنے کی عمر شروع ہونے لگی اور امید وار گھرانوں سے نامہ و پیام آنے کی سن گن ملنے لگی تو تصور میں ترجیحاً ایسا ہم سفر ہی دیکھا جو مکہ مدینہ کی طرف بسہولت لے جانے کا سبب بن جائے۔

شوق کا انتہائے عالم یہ تھا کہ راتوں کی تنہائی میں اپنے رب سے چپکے چپکے التجائیں کرتی کہ :

 میں نہیں جانتی یہ کیسے ہوگا یا کون ہوگا لیکن آپ ہر چیز پہ قادر ہیں اس لیے آپ میری زندگی کا  کوئی ایسا ساتھی منتخب کریں جس کے ساتھ میں تیرے پاک گھر اور دیار حبیب ﷺ  بار بار  جا سکوں اور تیرے گھر کی زیارت سے آنکھیں ٹھنڈی کر سکوں اور مجھے سکینت عطا ہو کہ مجھے معافی اور  منزل مراد مل گئی ہے۔

  دل ہی دل میں یہ بھی اظہار کرتی کہ میں شکرانے کے طور پہ اس فرد کے ساتھ تنگی ترشی و آزمائش میں حتی الامکان  صبر و تحمل سے بطور بیوی رشتہ نبھاؤں گی۔ لیکن ساتھ ہی  دل سے یہ درخواست پیش کرتی کہ :

میرے پیارے  رب کریم! مجھے توفیق دینا کہ ہر عمل میں سب سے پہلے  تیری وفا دار رہوں،  تیری رضا کا حصول میری پہلی ترجیح ہو، تیری مقرر کردہ حدود سے تجاوز اور ناشکری نہیں کروں اور یہ  امر بے شک  تیری ہی استعانت سے ممکن ہے۔

اللہ تعالٰی اپنے بندے کی دعاؤں کو سننے والا ہے اور  وہی جانتا ہے قبولیت کی شان سے نوازنے کے لیے کب اور کیا اقدامات کرنے ہیں؟ کس طرح راستے اور وسائل پیدا کرنے ہیں؟ کس طرح اپنے بندوں کے معاملات کو متعین نہج پہ لے کر جانا ہے؟

اور کس طرح اپنے کچھ بندوں کے ارادوں کو ( وہ ایسا چاہیں یا نہ چاہیں ) اپنی حکمت کے ساتھ یکسر بدل کر  کسی دوسرے کی دلی خواہشوں کی تکمیل کے لیے کارآمد بنا دینا ہے۔

یہ سب اس قادرِ مطلق کے قبضہ قدرت میں ہے اور مالک  کائنات کے لیے یہ کام بہت آسان ہے۔

 میرے انٹرمیڈیٹ کا ریزلٹ آنے سے پہلے  ہی دو ہفتوں کے اندر اندر جھٹ منگنی پٹ بیاہ کے مصداق نازک اور  دیوانی سی لڑکی  ایک ایسے شخص کی زوجیت میں آگئی جو گزشتہ دو سال سے جدہ میں رہائش پذیر تھا۔ چند ماہ کے بعد یہ ناچیز جدہ میں موجود تھی۔

اللھم لک  الحمد کلہ و لک الشکر کلہ و صل اللہ علی النبی الامی۔

الحمدللہ الذی بنعمتہ تتم الصالحات

مزید  قابل تشکر بات یہ تھی کہ میرے میاں نے مجھے بتایا: ’میں نے پاسپورٹ کہیں اور جانے کی نیت اور ارادے سے بنوایا تھا وہاں کا ویزہ نہیں لگا لیکن اللہ تعالی نے مجھے تمہاری خاطر سعودی عرب پہنچا دیا۔‘

 اس وقت سے  زندگی کی  اس حقیقت  پہ ایمان پختہ ہوا کہ:

{وَمَن یَتَّقِ ٱللَّهَ یَجۡعَل لَّهُۥ مَخۡرَجࣰا }وَیَرۡزُقۡهُ مِنۡ حَیۡثُ لَا یَحۡتَسِبُۚ وَمَن یَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِ فَهُوَ حَسۡبُهُۥۤۚ إِنَّ ٱللَّهَ بَـٰلِغُ أَمۡرِهِۦۚ قَدۡ جَعَلَ ٱللَّهُ لِكُلِّ شَیۡءࣲ قَدۡرࣰا

[سورہ الطلاق؛  3]

’اور جو اللہ سے ڈرتے ہوئے زندگی گزارتا ہے، اللہ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا راستہ پیدا کر دیتا ہے اور  اُسے ایسے راستے سے رزق دے گا جدھر اُس کا گمان بھی نہ جاتا ہو۔  جو اللہ پر بھروسہ کرے اُس کے لیے وہ کافی ہے۔ اللہ اپنا کام پورا کرکے رہتا ہے۔ اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک تقدیر مقرر کر رکھی ہے۔‘

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں

2 responses to “الحمد للہ والشکر للہ”

  1. جاوید اصغر Avatar
    جاوید اصغر

    بہت عمدہ ۔۔ مختصر مگر خوب صورت تحریر ۔۔ یقین کامل۔ اپنے رب سے سوال بھی اسی کے گھر اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اقدس پر حاضری کا۔۔

    1. بشری تسنیم Avatar
      بشری تسنیم

      شکریہ
      حوصلہ افزائی کا