سفر ایران کی ایک دلچسپ داستان
کرمان میں گرم حمام استعمال کرنے کا تجربہ
پہلے پہل کرمان میں میرا ٹھہرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ دل میں بس یہ خیال تھا کہ ریل گاڑی کے سفر کی خاطر یہاں آ جاؤں، ایک نظر ڈالوں، اور آگے بڑھ جاؤں۔ مگر سفر بھی کبھی سیدھا نہیں ہوتا، اس کے اپنے مکر ہیں، اپنی چالیں۔ ریل کے بارے میں یہاں جو معلومات درکار تھیں، وہ یا تو دیواروں پر ماضی کے غبار کی طرح چپکی ہوئی تھیں، یا دفتر کے کاؤنٹر پر بیٹھے کلرک کی بے نیازی میں دفن تھیں۔ یوں ریل کا خواب محض دھواں بن کر اڑ گیا۔
لہٰذا میں نے طے کیا کہ کرمان میں ایک دن اور ایک رات گزار کر اگلے دن دوپہر کو بذریعہ بس اصفہان روانہ ہو جاؤں۔ اب اس ڈیڑھ دن میں جو کچھ دیکھا، وہ کسی مسافر کے لیے کم تجربہ نہ تھا۔
ارگِ کرمان کی مٹی آلود فصیلیں،
جامع مسجد کرمان کی سنجیدہ محرابیں اور گڑھے میں بنا امام صاحب کا مصلیٰ،
بانکِ ملی ایران کا پتھر سا سنّاٹا،
گنج علی خان حمام کی نمی میں بھری تاریخ،
چائے خانۂ قدیم میں دیوہیکل چائے دان میں سے نکلتے بخارات کے مرغولے،
بازارِ کرمانِ قدیم کی خستہ چھتوں کے نیچے شوروغل کرتے سوداگر،
اور چاول کباب کے ایک ریستوران میں سلگتے ہوئے کوئلوں پر کباب کی مہک،
یہ سب منظر میں تفصیل سے پچھلی اقساط میں بیان کر چکا ہوں۔
اب مسئلہ یہ تھا کہ اصفہان جانے والی بس مغرب کے بعد روانہ ہونی تھی، اور اس وقت سہ پہرکے تین بج رہے تھے۔ یعنی میرے سامنے پانچ لمبے، بےکار، کھنچتے ہوئے گھنٹے پڑے تھے۔ وقت کی ریت ہتھیلی سے پھسل رہی تھی، اور میں سوچ رہا تھا۔ اتنی دیر میں کہاں جاؤں، کہاں بیٹھوں، اور اپنا یہ بھاری بیگ کہاں رکھوں؟
بس اسٹینڈ کے قریب ٹہلتے ٹہلتے میری نظر دو لڑکوں پر پڑی۔ دونوں بلوچ تھے، رنگ مٹیالا، آنکھوں میں چمک، اور لہجے میں وہ مخصوص کھنک جسے میں فوراً پہچان گیا — گلابی اردو۔
دونوں درختوں کے نیچے اُکڑوں بیٹھے تھے، جیسے کسی پرانی داستان کے دو کردار ہوں جو وقت سے الجھتے الجھتے تھک گئے ہوں۔ میں بھی کیا کرتا، اپنا سوٹ کیس ایک طرف رکھا اور ان کے ساتھ اُکڑوں بیٹھ گیا۔
’کہاں سے آئے ہو بھائی؟‘ میں نے پوچھا۔
ایک نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا، ’ہم؟ جی سیستان و بلوچستان سے۔ مزدوری کے لیے آئے ہیں۔ آپ لگتے نہیں کرمان کے؟‘
’جی نہیں، پاکستانی بلوچستان سے ہوں۔‘
یہ سنتے ہی ان کے چہروں پر ایک مانوس سی چمک دوڑ گئی۔
’واہ، پاکستانی بلوچستان! ہمسایہ ملک۔ ہمارا بھائی۔‘
پھر ایک نے کچھ جھجکتے ہوئے کہا، ’بس حاجی صاحب، یہاں کے حالات کچھ الگ ہیں۔ مذہب کا رنگ زیادہ گہرا ہے۔‘
یہ جملہ جیسے ان کے دل کا دروازہ کھول گیا۔ پھر گفتگو بہہ نکلی — تعصب، عقائد اور رواجوں کے موضوع پر۔
انہوں نے ایران کے قومی مذہب کے حوالے سے کچھ ایسی باتیں کیں جن میں تلخی بھی تھی اور تھکن بھی۔ خاص طور پر متعہ کے عنوان پر جو گفتگو ہوئی، وہ ایک ایسی دنیا کا آئینہ تھی جہاں رواج اور اخلاق کی لکیر بہت دھندلی ہو چکی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ مُتعَہ اب سرکاری سرپرستی میں قِحبہ گری کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ اس کے معاشرے پر منفی اثرات رونما ہورہے ہیں۔
میں نے ان کی باتیں سنی بھی، اور نظرانداز بھی کیں۔ مسافر کے لیے عقیدے کا نہیں، تجربے کا سفر اہم ہوتا ہے۔
میرے چہر ے پر تھکن اور تھکاوٹ کے اثرات دیکھ کر ایک لڑکے نے مشورہ دیا کہ ‘حاجی صاحب، سامنے جو گرم حمام ہے نا، وہاں چلے جاؤ۔ تھک گئے ہو گے۔ جسم کو گرمی لگے گی تو تھکن اتر جائے گی۔‘
میں نے دیکھا — سامنے ایک قدیمی عمارت تھی، جس کے دروازے سے دھوئیں کی طرح ہلکی بھاپ نِکل رہی تھی۔
میں نے اپنا سوٹ کیس سنبھالا، ان بلوچ بھائیوں کو شکریہ کہا، اور حمام کی طرف چل دیا۔ دل میں ایک عجیب سا جوش تھا۔ آج میں ایران کے مشہور گرم حمام میں غسل کرنے جا رہا تھا، اور شاید وہاں کوئی نئی داستان میرا انتظار کر رہی تھی۔
سامنے ایک تختی پر میری نظر ٹھہری، جس پر فارسی میں خوشخط حروف میں لکھا تھا:
’حمامِ گرم‘
میں چند لمحے اسے تکتا رہا۔ دل میں خیال آیا کہ شاید یہ بھی گنج علی خان حمام جیسا کوئی تاریخی نمونہ ہو گا۔ وہی پتھر کی دیواریں، وہی قدیم طرز کی محرابیں، اور وہی مومی مجسمے جو ماضی کے انسانوں کی اداکاری کرتے ہوئے زمانے کے سرد فرش پر چپ چاپ بیٹھے رہتے ہیں۔
میرے ذہن میں ایک اور تصور بھی ابھرا — شاید یہ کوئی اجتماعی حمام ہو، جہاں لوگ بڑے سے تالاب میں اتر کر بھاپ میں تحلیل ہو جاتے ہوں۔
میں نے کبھی ایک پرانی ایرانی فلم میں ایسا منظر دیکھا تھا، جہاں گرم حمام کے اندر عورتیں ایک دوسرے کے بال سنوار رہی تھیں، چہرے پر ماسک لگائے ہنس رہی تھیں، اور بھاپ میں ان کے گال سیب کی طرح سرخ ہو رہے تھے۔
مگر وہ ایران انقلاب سے پہلے کا تھا۔
میں جس ایران میں کھڑا تھا، وہ انقلاب کے بعد کا ایران تھا — ایک نیا، سخت، پردے میں لپٹا ہوا ایران۔ یہاں ایسے مناظر اب محض فلموں اور قصوں میں ہی مل سکتے تھے۔
ان سب تصورات کے ساتھ میں نے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو گیا — مگر جو کچھ دیکھا، وہ کسی فلمی منظر سے کم نہ تھا۔
یہ واقعی ایک اصلی گرم حمام تھا، کوئی نمائش یا عجائب گھر نہیں۔
سامنے ایک لمبا کاؤنٹر تھا، جس کے پیچھے ایک ادھیڑ عمر ایرانی بیٹھا تھا۔ میں نے مسکرا کر پوچھا،
’چقدر؟‘
اس نے بڑی سنجیدگی سے جواب دیا، ’چار صد تومان!‘
میں نے 400 تومان، یعنی لگ بھگ 36 روپے پاکستانی اس کے حوالے کیے، اور اس نے مجھے ایک چھوٹا سا نمبر والا ٹوکن پکڑا دیا — جیسے میں کسی مقدس غسل کی اجازت لے رہا ہوں۔
اندر داخل ہوا تو حیرت سے آنکھیں کھل گئیں۔ ایک قطار میں کئی غسل خانے بنے ہوئے تھے، صاف ستھرے، مستطیل نما، جن میں سے ہر ایک اپنی چھوٹی سی بھاپ بھری دنیا تھا۔
میں نے اپنا حصہ چُنا، دروازہ کھولا، اور اندر قدم رکھا۔
یہ کوئی پاکستانی حمام نہیں تھا، جہاں پانی کی بالٹی، ایک لوٹا، اور ایک چرچراتی بالٹی ہی سب کچھ ہو۔
یہ تو باقاعدہ فنِ صفائی کی ایک تجربہ گاہ معلوم ہوتا تھا۔
حمام دو حصوں پر مشتمل تھا۔ پہلے حصے میں دیوار کے ساتھ سیمنٹ کے دو بینچ بنے ہوئے تھے — نہایت سلیقے سے۔ میں نے بیگ اتارا، جوتے ایک کونے میں رکھے، اور سوچا کہ ایرانی بھی صفائی پسند قوم ہے، بس ان کے حمام ان کے مزاج کی طرح منظم ہیں۔
دوسرا حصہ وہ تھا جہاں اصل معرکہ ہونا تھا۔
ٹین کا ایک دروازہ تھا، جسے کھول کر میں غسل خانے کے اندر گیا۔
دروازہ بند کیا تو لگا جیسے باہر کی دنیا، اس کے شور، اس کے تعصبات، اور اس کی گَرد — سب کو باہر ہی چھوڑ آیا ہوں۔
یہاں صرف بھاپ، پانی، اور میں تھا۔
گرم بخارات فضا میں رقص کر رہے تھے، اور میں ایک لمحے کو بھول گیا کہ میں کوئی مسافر ہوں۔ ایسا لگا جیسے میں کسی قدیم ایرانی داستان میں داخل ہو گیا ہوں، جہاں شاہِ کرمان اپنے وزیروں کے ساتھ غسلِ شاہانہ فرما رہا ہے، اور میں ان کی خوابیدہ سلطنت میں جا گھسا ہوں۔
پہلے میں نے احتیاط سے دیوار میں لگی دونوں ٹوٹیوں کو دیکھا — ایک پر آبِ داغ (گرم پانی) اور دوسری پر آبِ سرد (ٹھنڈا پانی) کا فارسی میں لکھا ہوا بورڈ دیکھا۔ دونوں کو باری باری کھولا، مگر ان سے پانی نہیں، جیسے کوئی زنگ آلود فلسفہ بہنے لگا ہو۔ گرم پانی اتنا گرم کہ ہاتھ ڈالا تو لگا گویا جہنم کے دروازے پر دستک دے دی ہو۔
میں نے دل ہی دل میں کہا،
’اگر یہ ایرانی حمام ہے تو پاکستانیوں کو شاید غسل کے نام پر جھلسانے کا انتقام لیا جا رہا ہے!‘
کچھ دیر بعد میں نے توازن پیدا کیا — ایک ٹوٹی سے دوزخ، دوسری سے جنت کھولی۔ دونوں کو ملا کر میں نے اپنے لیے نہایت اعتدال پسند اسلامک درجہ حرارت تیار کیا۔
پھر میں نے سنگِ مرمر کے اس تھڑے پر بیٹھ کر تماشہ شروع کیا۔ یہ تھڑا نہ صرف دیدہ زیب تھا بلکہ اس پر بیٹھ کر آدمی خود کو کسی سلطنت کا والی محسوس کرتا تھا۔
میں نے تولیہ دیوار پر لٹکایا، صابن اٹھایا، اور اپنے آپ سے بولا:
’چلو عبدالمالک! دیکھتے ہیں ایرانی گرم حمام تمہیں کس حد تک گرم جوش بناتا ہے۔‘
گرم پانی کا پہلا چھینٹا بدن سے ٹکرایا تو ایک لمحے کو لگا جیسے خلیوں نے سجدہ شکر ادا کیا ہو۔ گَردَن، کندھے، کمر — ہر جگہ سے تھکن یوں بہنے لگی جیسے سفر کی خاک پانی بن کر بہہ گئی ہو۔
ایسا سکون شاید کسی خانقاہ کے مراقبے میں بھی نصیب نہ ہو۔
بھاپ اتنی گہری تھی کہ کچھ فاصلے پر اگر کوئی اور نہاتا ہوتا تو شاید وہ صرف انسانی سائے کی طرح دکھائی دیتا۔ مجھے لگا جیسے میں اپنی روح کے غبار کو دھو رہا ہوں۔
اسی دوران دروازے کے پار سے کسی نے زور سے آواز دی:
’آبِ گرم کار نمیکند؟‘
یعنی ’گرم پانی نہیں چل رہا کیا؟‘
میں نے جواب دیا، ’بہتر از خوب!‘(یعنی بہت اچھا چل رہا ہے!)
دوسری طرف سے ہنسی کی ایک ہلکی سی گونج آئی، جیسے دیواروں نے بھی قہقہہ لگایا ہو۔
تھوڑی دیر میں میری سانس بھاپ سے بھر گئی۔ میں نے صابن کو ایک طرف رکھا، چہرے پر پانی ڈالا اور سوچا —
یہ کیسا ملک ہے جہاں مسجدوں کے سائے میں خاموشی ہے، مگر ایک گرم حمام میں زندگی کی پوری حرارت موجود ہے۔
میں نے ایک آخری بار دیوار سے ٹیک لگائی، آنکھیں بند کیں اور خود سے کہا:
’کرمان کے اس گرم حمام نے بدن نہیں، ذہن بھی صاف کر دیا ہے۔‘
میں نے سوچا، ’چلو عبدالمالک ! جسم بھی دھو ڈالو، تھوڑا دل بھی صاف کرلو۔‘
چنانچہ میں سنگِ مرمر کے اس ٹھنڈے مگر باوقار تخت پر دراز ہوگیا۔ بھاپ میری تھکن کو آہستہ آہستہ اپنے اندر جذب کر رہی تھی۔ وقت میرے پاس خوب تھا — میں کوئی پونے گھنٹے تک یونہی سستاتا رہا، جیسے بادشاہوں کے حمام میں ایک عام سی مخلوق کو وقت نے اچانک چھٹی دے دی ہو۔
تھکاوٹ یوں رخصت ہوئی جیسے بوجھل بادل برس کر ہلکے ہوجاتے ہیں۔ اور لطف یہ کہ جیب پر بھی کوئی خاص بوجھ نہ پڑا۔ پیسے پورے، سکون دُگنا۔
البتہ اس دوران، باہر سے کسی کی چیخیں حمام کے سکوت کو چیرتی رہیں۔
کوئی فارسی زبان میں بار بار کچھ پکارتا تھا۔ آواز میں وہی لہجہ تھا جو کسی نگران کا ہوتا ہے جب اسے یقین ہو جائے کہ اندر والا مفت میں زیادہ پانی بہا رہا ہے۔
’آب کم کن، برادر! آب کم کن!‘یعنی پانی کم استعمال کرو، بھائی ۔ پانی کم استعمال کرو ، بھائی۔— شاید وہ یہی کہہ رہا تھا۔
میں نے دل ہی دل میں جواب دیا، ’برادر، پانی تو کم کرلوں، مگر یہ لطفِ بخارات کہاں کم کیا جائے؟‘
غسل تمام ہوا تو میں نے بھاپ سے چمکتی آئینے جیسی جلد اور نسبتاً ہلکا سا دل لیے بس اڈے کا رخ کیا۔ چھ بجے والی بس اصفہان کے لیے تیار کھڑی تھی۔ میں نے اپنا Samsung کا سوٹ کیس تھاما، جیسے کوئی سپاہی اگلے معرکے کو روانہ ہو رہا ہو۔
رات کا سفر کٹا۔ پہیوں کی سرسراہٹ، شیشے کے پار اندھیرا، اور کہیں دور ایران کی سرزمین اپنی وسعتوں میں پھیلی ہوئی۔
اور جب بس نے صبح سویرے نیمِ جہاں — اصفہان — میں داخل ہونے (جاری ہے)کا اعلان کیا، تو لگا جیسے تاریخ نے اپنا دروازہ وا کر دیا ہو۔










