حافظ نعیم الرحمان کا جماعت اسلامی کے کل پاکستان اجتماع عام سے خطاب

بدل دو، بدل دو نظام

·

ریختہ نے تو بس اتنا ہی بتایا کہ ،اجتماع، لفظ عربی سے اردو میں آیا ہے جس کا مطلب ہے یکجائی، میل، اکٹھا کرنا یا اکٹھا ہونا، مجمع، انبوہ ،جلسہ، نشست۔۔۔

  ہمیں اس لفظ کی چلتی پھرتی تشریح 2014 میں ہونے والے اجتماعِ عام میں مل گئی۔ سچ تو یہ ہے کہ اس تشریح نے ہمیں اونچا اڑنا سکھایا۔ ہمیں یہ بھی سکھلایا کہ

فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں

موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں

  ہم نے اس اجتماع میں بہت کچھ دیکھا تھا۔۔۔۔

 نظم و ضبط کا خوبصورت کلچر دیکھا ۔۔۔۔۔۔۔جس کی جو ڈیوٹی لگا دی گئی وہ اپنی ڈیوٹی پر بروقت موجود اور اپنا کام کرتے ہوئے پیش آمدہ مشکلات پرزبان پہ کوئی شکوہ نہ رویے میں کوئی تنگی۔ مرد خواتین بچوں، بوڑھوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر لیکن نہ کوئی ہڑبونگ اور نہ ہی بدنظمی دیکھنے کو ملی۔ 

 اجتماع عام میں اپنی شرکت کے سب مرحلے لوحِ یادداشت پہ واضح حروف میں درج ہیں۔ 

 اجتماع گاہ میں اپنے بچوں اور ہمراہی خواتین کے ساتھ پہنچ جانے پہ جب پتہ چلا کہ ہمارا ایک عدد گدا داغ مفارقت دے چکا ہے، وہ کیفیت یاد ہے۔ اور پھر رات تک اس کا بخیر ہم تک پہنچ جانا یاد ہے۔ اور صبح ایک دانائے راز کابتانا، یہ گدا (سامان اتارتے ہوئے) باہر نیچے گراتھا، ۔۔۔اف۔۔۔ یہی گدا رات میں ہمارا بچھونا تھا۔۔۔۔۔ دانائے راز نے جو ہماری صفائی پسندی سے بخوبی آگاہ تھیں ہماری حالت سے محظوظ ہونا ضروری سمجھا، یاد ہے۔ اس گدے کو گھر آکر سرف سے دھونا بھی یاد ہے۔

اپنے بچوں کا اجتماع عام کو انجوائے کرنا یاد ہے۔

لیاقت بلوچ صاحب کی شگفتہ شگفتہ باتیں بھی یاد ہیں۔

ہمیں امیر جماعت سراج الحق صاحب کا موٹر سائیکل پہ بیٹھ کر اجتماع گاہ کا مکمل جائزہ لینا اور ایک معمر خاتون کا انھیں روک کر شفقت اور دعاؤں کا والہانہ اظہار اور اس تمنا کا اظہار کہ وہ ملک کے وزیر اعظم بن جائیں۔

ہمیں مختلف اسٹالز سے شاپنگ کرنا اور۔۔۔۔ مزے لے لے کے کرنا کبھی نہیں بھولا۔ ہمیں اپنے ساتھ جانے والی خواتین میں سے ایک خالہ جان کا صبح فجر کے وقت اپنی بہو اور بیٹیوں کو بیدار کرنے کا دلچسپ انداز بھی بھولنے والا نہیں۔ انھوں نے ان کی رضائی کھینچتے ہوئے کہا تھا، ’تواڈا ہر جگہ اک ای وتیرہ اے پر اج تہانوں اٹھنا ای اے، دیکھو کیسا ایمان پرور نظارہ اے۔۔۔۔۔

وضو اور نظم وضبط وغیرہ کی ڈیوٹی دینے والی بہنوں کا دوڑ دوڑ کے۔۔۔۔یہاں سے وہاں، وہاں سے یہاں ۔۔۔تیز تیز دوڑنا یاد ہے۔

ہمیں اس اجتماعِ عام کا سفر اور اجتماع کی یادیں باتیں عمر بھر نہیں بھولیں گی۔

 اور اب ایک مرتبہ پھر وطنِ عزیز کی فضاؤں میں مینار پاکستان پہ ہونے والے اجتماع کی گونج ہے۔

ہر سُو صدائے عام ہے

 یہ اجتماعِ عام ہے

اجتماع میں شرکت کے ولولے ہیں، جذبے ہیں، ارادے ہیں، نعرے ہیں۔۔۔

تجزیہ کار اس اجتماع کو ملک کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں بہت اہمیت دے رہے ہیں۔

بات کی جائے حالات کی تو کون واقف نہیں کہ ناعاقبت اندیش سیاستدانوں، وڈیروں، جاگیرداروں، امریکی سرپرستی کو ترستے حکمرانوں کی پالیسیوں، فارم 47 پہ اقتدار پہ اپنے ازلی حق کو ثابت کرنے والے لیڈروں کی بدولت صورتحال یہ ہے کہ نوجوانوں میں مایوسی عام ہے، معاشرے میں خود کُشی کا رجحان تکلیف دہ ہے۔ بے روزگاری، کرپشن، ناانصافی، جہالت، نظام تعلیم کی زبوں حالی، اداروں کی تباہی اور آئین کے حلیے کی بربادی۔۔۔

یہ کہانی ہے جس کا عنوان ایک ہی ہے: آج کا پاکستان،

ہر عاقبت نا اندیش تجزیہ کار اور فہیم دانشور سمجھتا ہے کہ اس کہانی کا اخلاقی سبق قطعی یہ نہیں ہے کہ پیوند کاری کر لیں، جنرل صاحب کو ساتھ لے کے کبھی اِس کا در کھٹکھٹائیں کبھی اُس کا، یکے بعد دیگرے شخصیات کے بت تراش کر کے عوام کے سامنے رکھ دیں، چند نمائشی کام کر کے فوٹو سیشنز کے جادو کے زور پہ قوم کا دل جیتنا چاہیں۔

نہیں جناب۔۔۔۔۔۔!!

یہ کارڈز اب ایکسپائر ہو چکے۔۔۔

آج کا نوجوان مایوسی کے گرداب سے نکلنا چاہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنی توانائیاں اعلیٰ نصب العین کی خاطر خرچ کرنا چاہتا ہے۔ ’بنو قابل پروگرام‘ کی مقبولیت کا آخر کیا مطلب ہے؟

مہنگائی کا مسئلہ ہو یا آئی پی پیز کے خلاف جدوجہد(جس کے نتیجے میں ملکی خزانے کو 3600 ارب روپے کا فائدہ ہوا)، سیلابی پانیوں سے انسانوں کو بچالینے کا سلسلہ ہو یا لہو لہو غزہ کی پکار پہ لبیک کہنے کا فریضہ جین زی جماعت اسلامی کے ساتھ کھڑی ہے۔۔۔

حافظ نعیم الرحمان کے الفاظ نے اس جنریشن کو نیا ولولہ دیا ہے۔

حافظ صاحب کہتے ہیں:

مجھے معلوم ہےاس وقت پورے پاکستان میں نوجوانوں کے اندر منشیات کا زہر اتارا جا رہا ہے۔نوجوانو! ان گندگیوں سے دور رہنا، آپ سپورٹس میں آگے بڑھیں، اچھا کھیلیں، اچھا پڑھیں، اپنے والدین کا خیال کریں۔ اس ملک کی خدمت کریں۔ یہ ملک کسی جرنیل، کسی بیوروکریٹ، کسی سیاسی لیڈر کا نہیں۔ نکل آؤ ان کے شکنجے سے۔۔۔

یہ ملک شہداء کا ہے جنھوں نے اس کی خاطر خون بہایا۔یہ ملک آپ کا ہے ۔۔

حافظ صاحب نے کہا

’ہمارا اتحاد جین زی سے ہے یہ جنریشن انقلاب لائے گی، ہمارا انقلاب تعمیری انقلاب ہے تعلیمی انقلاب ہے ۔۔۔‘

مزید کہا 

، میں دعوت دیتا ہوں 21،22،23 نومبر کو اپنی فیملی کے ساتھ اپنے دوستوں کے ساتھ مینارِ پاکستان آئیں ۔ہم نوجوانوں کا چارٹر پیش کریں گے ان کے مستقبل کی امید بنیں گے ایک ایسا لائحہ عمل دیں گے جو گیم چینجر ہو گا ایک ٹرننگ پوائنٹ ہو گا ان شاءاللہ۔۔۔۔۔۔‘

قارئین! ہم نے پیچھے تذکرہ کیا کہ تجزیہ کار اس اجتماع (جس کا کل آخری روز ہوگا) کو ملکی صورتحال کے تناظر میں بہت اہمیت دے رہے ہیں تو اس کی وجہ حافظ نعیم الرحمان کی طلسماتی شخصیت اور نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی جماعت اسلامی کی مقبولیت ہے۔ایک اور وجہ ’بدل دو نظام‘ تحریک کا ایجنڈا ہے۔۔

جی ہاں! یہ نہ صرف اس اجتماع کا نعرہ ہے بلکہ باقاعدہ تحریک ہے۔

اس کا ایجنڈا نہ صرف وقت کی ضرورت ہے بلکہ ایک انقلابی ایجنڈا ہے یہ۔۔۔

ایجنڈے کے چیدہ چیدہ نِکات کچھ یوں ہیں۔۔

نوجوانوں کے لیے فری آئی ٹی ایجوکیشن، روزگار اور اسٹارٹ اپس کے لیے بلاسود قرضوں کی فراہمی۔

جاگیر دارانہ، افسر شاہی، وڈیرہ شاہی کلچر سے آزادی حاصل کر کے عوامی حکمرانی قائم کرنا۔

طبقاتی تقسیم سے پاک یکساں اور مفت معیاری تعلیم کے نظام کا قیام۔

25کروڑ پاکستانیوں کے لیے سستا اور آسان انصاف یقینی بنانے والے عدالتی نظام کا قیام۔

فرسودہ نظام کاخاتمہ۔

مختصر یہ کہ ہر شعبہ زندگی کے لیے لائحہ عمل دیا جائے گا۔

آپ کو ایک مزے کی بات بھی بتاتے چلیں وہ یہ کہ اجتماع کے بعد بدل دو نظام نعرہ ،فرسودہ نظام کے خلاف ایک پر امن تحریک مزاحمت ہے ۔۔۔۔

اور_____

اب اگر ایسا ہے کہ آپ باوجود خواہش کے، اب تک  اجتماع میں شریک نہیں ہوسکے تو ایک اور مزے کی بات بتاتے چلیں کہ آپ یو ٹیوب اور فیس بک پر جائیے، آپ کو پوری کارروائی سسنے اور دیکھنے کو مل جائے گی۔ لیکن جو مزہ اجتماع میں بہ نفسِ نفیس شریک ہونے کا ہے، وہ یو ٹیوب اور فیس بک پیج پر کہاں!

اس کے ساتھ ہی ساتھ نعمان شاہ کے ترانے نکالیے۔۔۔

اور سننا شروع ہو جایے۔۔

جذبے کو آہنگ دینے والی آواز۔۔

رکے ہوئے قدموں کو رفتار بخش دینے والی آواز

مدھر آواز۔۔۔

مثال کے طور پہ یہ ترانہ:–

۔۔۔۔بدل دو بدل دو نظام بدل دو نظام

فاصلوں کی یہ اڑانیں

اونچی کرنی ہیں اب ہم کو

آگے بڑھنا ہے اب یونہی

تھامے ہوئے اپنے پرچم کو

روکے نہ رکے قافلہ یہ اپنا

منزل چھوئے گا راستہ یہ اپنا

بستی بستی مل کے پہنچا دو اس پیام کو

آؤ! سنگ ہمارے بدلو اس نظام کو

نوٹ: بادبان ڈاٹ کام پر شائع شدہ کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا بادبان ڈاٹ کام کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔