اللہ رب العزت نے اپنی رحمت سے جس زمانے میں اپنے در پہ بلایا، وہ شاہ خالد بن عبدالعزیز کا ابتدائی دور تھا۔ اس وقت ابھی حرم مکی میں جدید ۔۔تعمیرات کا آغاز نہ ہوا تھا۔
مطاف میں ہی بابِ ملتزم کے تقریباً سامنے نیچے سیڑھیاں اتر کر چاہ زم زم تھا ۔ اور صحن مطاف کے چاروں طرف سیڑھیاں تھیں جو ترکی برآمدے تک جاتی تھیں ۔ مطاف میں فرش تھا لیکن چاروں طرف روشیں بھی تھیں جن میں بجری اور ذرا بڑے سائز کے پتھر ملا کر رکھے ہوتے تھے ۔ مجھے
اس کی وجہ سمجھ نہ آئی۔
مغرب کی اذان کے بعد اقامت کی پکار نے برآمدوں اور صحن کی ہلچل میں اضافہ کیا ۔ طواف کرنے والے قریبی قطاروں میں سما گئے ۔ جو راستوں میں تھے انہوں نے وہیں صف بندی کر لی یا پہلے سے موجود صفوں میں جگہ بنا لی ۔
امام صاحب کی تکبیر تحریمہ کے ساتھ ہی ایک روحانی گھمبیر سی خاموشی چھا گئی، صرف پنکھوں کے چلنے کی سرسراہٹ چند ثانیے محسوس ہوئی، پھر سورہ الفاتحہ نے سماں باندھ دیا ۔ عبداللہ بن سبیل رحمہ اللہ کی قرات میں ایک مخصوص لحن تھا جس سے دل کی دنیا میں ارتعاش پیدا ہو رہا تھا ۔
کسی وقت چھوٹے بچے کے رونے کی آواز باور کرواتی تھی کہ ہم کہیں آسمان میں نہیں زمین کے باسی ہیں ۔
چھوٹی سورتوں کے ساتھ مغرب ادا کی ۔ سلام پھیرتے ہی وہی چلت پھرت جاری ہوگئی ۔ جنہوں نےطواف جہاں موقوف کیا تھا وہیں سےجاری کر دیا۔
میں نے نماز مغرب کی سنت ادا کیں پھر ہم نے طواف شروع کیا ۔
قلب و نگاہ کی کیفیت ناقابل بیان تھی۔ دیارِ محبوب پہ عین الیقین کا ادراک عجب تھا ۔ آرزو پوری ہونے پہ عجب احساسِ تشکر تھا۔ ہر قدم پہ اللہ رب العزت کے گھر کا قرب جاں فزا تھا ۔
طواف کے پہلے چکر میں حجر اسود والے کونے سے رکن یمانی تک شکرانے کی حمد و ثنا اور پھر وہ دعا جو ہمارے آقا محمد صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تاکید فرمائی جس میں دنیا اور آخرت کی سب بھلائیاں مانگنے کا سلیقہ سکھایا گیا ہے ۔ دوسرے چکر میں استغفار اور درود شریف کا ورد کیا ۔
تیسرے میں والدین کے لیے دعائیں کیں ۔ تیسرے میں بہن بھائیوں ان کی اولادوں اور میکے کے دور قریب رشتہ داروں کو یاد کیا ۔ چوتھے میں میاں کے والدین بہن بھائیوں کو یاد رکھا ۔ پانچویں میں امتِ مسلمہ کے لیے دعا کی ۔
چھٹے میں جن احباب نے دعا کے لیے کہا تھا ان کی درخواستیں پیش کیں اور ساتویں میں حمدوثنا درود شریف ورد زبان رہا ۔ جب تک سعودیہ میں مقیم رہی ہر طواف میں تقریباً یہ ہی طریقہ رہا ۔
اس پہلے طواف میں اور کئی سال تک ہر مرتبہ آسانی سے حجر اسود کا بوسہ نصیب ہوا اور پہلے طواف میں ہر چکر میں حجر اسود پہ بوسے کا جب بھی موقع ملا اس پیارے منے سے وجود کے لیے خصوصی دعا کی جس نے چند ماہ بعد دنیا میں آنکھیں کھولنی تھیں ۔
ہم دو میاں بیوی طواف نہیں کر رہے تھے بلکہ ایک تیسرا وجود بھی اس سعادت میں شامل تھا ۔ ذالک فضل اللہ ۔
طواف کرنے والے اتنے کم لوگ تھے کہ تین ، چار منٹ میں ایک چکر پورا ہو جاتا تھا ۔ اور ہم کعبہ شریف کی دیوار سے قریب ترین تھے۔
صحن حرم میں مقامِ ابراہیم پہ طواف کے اختتامی نفل اور پھرحطیم میں بھی نفل ادا کیے۔ حطیم میں کوئی دھکم پیل نہ تھی۔ سب آرام سکون سے نوافل اور دعائیں کر رہے تھے ۔ حرم شریف میں کہیں بھی بھیڑ بھاڑ نہ تھی ۔
کئی سال تک حطیم میں ہر جمعہ کو دیر تک بیٹھنے کی سعادت نصیب ہوتی رہی۔ دعاؤں کی پوری کتاب ، سورہ الکہف اور کبھی صلات التسبیح تک سکون سے ادا ہو جاتی تھی ۔
مطاف میں ایک کالے رنگ کے بڑے سے گول دائرے سے زم زم کے مقام کی نشان دہی کی گئی تھی ۔ حطیم میں وقت گزارنے کے بعد ہم زم زم پینے نیچے اترے ۔ مردانہ اور زنانہ حصے الگ تھے ۔ بالکل سادہ سی جگہ تھی ۔ پاس ہی لگی موٹر کی آواز آ رہی تھی ۔ سادہ سی ٹونٹیاں لگی ہوئی تھیں۔ جن کے ساتھ دھاتی مگ زنجیر سے بندھے ہوئے تھے ۔ کچھ خواتین اپنے اوپر پانی انڈیل رہی تھیں ۔ کچھ وضو کر رہی تھیں اور کچھ ساتھ لائے برتن میں پانی بھر رہی تھیں ۔
ان دنوں صحن حرم ،برآمدوں اور سعی کے راستوں میں صراحیوں سمیت عربی لوگ چھوٹی سی کٹوریوں میں زائرین کو قیمتاً یا از راہ مہربانی زم زم پیش کرتے تھے ۔
یہاں سے ہم سعی کرنے صفا کی طرف گئے ۔ اس وقت دونوں طرف پہاڑ نمایاں تھے اور درمیان کا حصہ بہت نفیس نہ تھا ۔ ماں کی محبت کا جیتا جاگتا مظاہرہ اور لازوال داستان دل کو بے تاب کر دیتی ہے ۔
اماں ہاجرہ علیھا السلام کی بے چینی بے قراری یاد آتی رہی اور کئی بار درمیانی جگہ پہ جا کر بے اختیار زم زم والی جگہ کو مڑ کر دیکھا ۔
اللہ تعالیٰ کی حکمت پہ پیار آیا کہ عورتوں کو اس جگہ دوڑنے کی ممانعت ہے جہاں اماں ہاجرہ نے بے قرار ہو کر دوڑ لگائی تھی ۔ یہ ادا رب کو اتنی بھائی کہ قیامت تک اسے عبادت بنا دیا لیکن یہ کام مردوں کے سپرد کر دیا ۔ سبحان اللہ!
یہاں ہر چکر میں دعاؤں کی کتاب حزب الاعظم سے ساری دعائیں مکمل ہو گئیں ۔۔ سعی کم و بیش پینتیس چالیس منٹ میں مکمل ہو جاتی تھی ۔
سعی کے بعد بال کاٹ کر عمرہ مکمل ہونے پہ شکرانے کا دوگانہ ادا کیا ۔ ہم نے ایک دوسرے کو عمرے کی مبارک باد دی ۔ اسی اثنا میں عشاء کا وقت ہو گیا ۔
اللہ کا شکر ادا کیا کہ دیرینہ خواہش پوری ہوئی ۔ دل میں ٹھنڈک سی اترتی محسوس ہوئی ۔ میں نے میاں کا بھی شکریہ ادا کیا ۔
عمرہ اور دو جہری نمازیں بھی ادا ہو گئیں ۔
عشاء کی نماز، مقام مؤذن کے قریب خواتین کی صفوں میں ادا کی ۔ یہاں سے جو مبارک نظارہ آنکھوں کی ٹھنڈ ک بنتا ہے اس کی بات ہی کچھ اور ہے ۔ سارے جہاں کا حسن اس جگہ سے آنکھوں کے ذریعے دل کو تازگی بخشتا ہے ۔ اس کے قریب کی سیڑھیوں میں بیٹھ کر جنت کا وہ نظارہ یاد آتا ہے جب اللہ رب العزت کے دربار میں جنتی بلائے جائیں گے اور سب سے اللہ تعالی راضی ہوں گے اور وہ اللہ سے راضی ۔ اور دیدار الہی کی نعمت سے سرفراز ہوں گے ۔
اللھم اجعلنا منھم










