بالآخر سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان سے ان کی بہن عظمیٰ خان کی ملاقات ہوگئی۔ ملاقات کے بعد عظمیٰ خان نے بتایا کہ عمران خان صحت مند ہیں۔
یوں عمران خان کی بابت ان افواہوں کی نفی ہوگئی جن کے مطابق عمران خان کو جیل میں ہلاک کردیا گیا ہے۔ عمران خان کے خاندان والے اور پی ٹی آئی رہنماؤں کی طرف سے جاری ان افواہوں کی بنیاد پر افغانستان ٹائمز‘ نامی ایک افغان میڈیا آؤٹ لیٹ نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کو قید میں قتل کر کے ان کی لاش کو جیل سے منتقل کر دیا گیا تھا۔ اس دعویٰ کو بنیاد بنا کر انڈیا ٹوڈے، زی نیوز، فرسٹ پوسٹ، نیوز 18 اور اے بی پی لائیو نے بھی خوب ڈھنڈورا پیٹا اور لمبی لمبی نیوز رپورٹس سائیڈ اسٹوریز کے ساتھ شائع کیں۔
ان رپورٹس میں کیا کہا گیا تھا؟
انڈیا ٹوڈے میں شائع ہونے والی نیوز رپورٹ میں دعویٰ یہ کیا گیا تھا کہ عمران خان کو قید کے دوران ’قتل‘ کر دیا گیا ہے یعنی ’جیل میں ہلاک‘۔ یہ دعویٰ افواہوں کی شکل میں شروع ہوا اور افغان سوشل میڈیا اور بعض مبینہ افغان میڈیا ہینڈلز نے اسے ’باوثوق ذرائع‘ کے حوالے سے پھیلایا۔
ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ان کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر پوسٹ شدہ ویڈیوز اور تصاویر شیئر کیں، جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ ’نئی‘ ہیں، تاہم ان کا جائزہ لینے پر ثابت ہوا کہ وہ پرانی تصاویر تھیں (مثلاً 2013 اور 2022 کی)۔
رپورٹس میں یہ بھی ذکر تھا کہ افواہوں کے پھیلاؤ کے بعد جیل کے باہر اور سوشل میڈیا پر اضطراب پیدا ہوا، اور لوگوں نے احتجاج یا تشویش ظاہر کی۔
بعض بھارتی اور افغان رپورٹس نے اس معاملے کو خبروں کی طرح پیش کیا، باوجود اس کے کہ انہیں کسی باوثوق سرکاری ذرائع یا آزاد تصدیق شدہ رپورٹ کا حوالہ نہیں دیا گیا۔
پاکستان کی وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات نے ان دعوؤں کو ’بےبنیاد اور جھوٹا‘ قرار دیا اور کہا کہ افواہوں کی ابتدا افغانی اور بھارتی سوشل میڈیا ہینڈلز سے ہوئی۔
اڈیالہ جیل( راولپنڈی) انتظامیہ نے بھی واضح کیا کہ عمران خان زندہ اور ٹھیک ہیں، اور انہیں طبی سہولیات دی جا رہی ہیں۔
اب جبکہ عمران خان کی بہن عظمیٰ خان نے حکومت اور جیل حکام کے بیانات کی تصدیق کی ہے، افغانستان اور انڈیا کے میڈیا آؤٹ لیٹس کی ایک خطرناک مہم جھوٹی ثابت ہوئی۔ عمران خان کے خاندان، پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کو اس مہم میں شامل ہونے یا ان افواہوں کو آگے بڑھانے پر قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ عمران خان کے خاندان کی ان سے ملاقاتوں پر پابندی اس لیے عائد کی گئی تھی کہ عمران خان ایک سزا یافتہ قیدی ہیں لیکن وہ ان ملاقاتوں کے ذریعے سیاسی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے۔
عمران خان کے اہم ترین فیصلے
سابق وزیر اعظم عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ پر منگل کی رات جاری ہونے والے ایک بیان میں اُن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’این ڈی یو ورک شاپ میں تحریک انصاف کے لوگوں کی شرکت شرمناک ہے۔ ایک جانب ہم لوگ ہر قسم کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب جب ہمارے ہی لوگ ہم پر ظلم ڈھانے والوں سے سماجی تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو مجھے انتہائی تکلیف ہوتی ہے۔‘
بانی پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ’وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کی میری پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ تحریک انصاف کے ’میر صادق‘ اور ’میر جعفر‘ ہیں۔‘
واضح رہے کہ این ڈی یو ورک شاپ میں پاکستان تحریک انصاف کے جن رہنماؤں کے شریک ہونے کی اطلاعات ہیں، ان میں اسد قیصر، علی محمد خان، جاوید نسیم، ثنااللہ مستی خیل، مشعال یوسفزئی، احد خٹک، ثریا بی بی، بیرسٹر عمیر نیازی، نادیہ فاروق کھر، سہیل سلطان، شاہ احد اور عادل بازئی سمیت متعدد رہنماؤں کے نام لیے جا رہے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’صوبہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگائے جانے سے متعلق ہونے والی بات پر اُن کا کہنا تھا کہ ’گورنر راج کی دھمکیاں لگانے والے کل کی بجائے آج لگا لیں اور پھر دیکھیں ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے!!‘
واضح رہے کہ چند روز قبل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ ’صوبے میں دہشت گردی، سیفٹی، سکیورٹی اور گورننس کے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ’حالات گورنر راج کی طرف جا رہے ہیں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ اب صدر مملکت کا اختیار ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت یہ اقدام اٹھاتے ہیں یا نہیں۔‘
تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کا خاتمہ
سابق وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ ’تحریک انصاف کی پولیٹیکل کمیٹی میں آج ختم کر رہا ہوں۔ پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے پاس مکمل اختیارات ہیں، وہ ایک نئی مختصر کمیٹی بنائیں جو سیاسی حکمت عملی وضع کرے اور اس پر عملدرآمد کروائے۔‘
یادرہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی اکیس رکنی سیاسی کمیٹی( جسے عمران خان نے ختم کرنے کا اعلان کیا ہے)کے سربراہ عمر ایوب خان تھے، جبکہ دیگر ارکان میں پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، سینیٹر شبلی فراز، علی امین گنڈاپور، اسد قیصر، شیر افضل مروت، شاہ فرمان، رؤف حسن، عون عباس، حماد اظہر، عاطف خان، حافط فرحت، میاں اسلم اقبال، خالد خورشید، فردوس شمیم نقوی، حلیم عادل شیخ، اعظم سواتی، سالار خان کاکڑ اور قاسم خان سوری شامل تھے۔ فروری 2025 میں عالیہ حمزہ اور کنول شوذب کو بھی کمیٹی میں شامل کیا گیا تھا۔
بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ ’شاہد خٹک کو قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کا پارلیمانی لیڈر نامزد کرتا ہوں۔ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس میرے لیے انتہائی قابل احترام ہیں۔‘
عمران خان کی قید تنہائی
راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم اور بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کی ایک ماہ کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں ہونے والی گفتگو کے بعد ایک پر جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ’مجھے مکمل طور پر ایک سیل میں بند کر کے قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے۔ چار ہفتے تک میری کسی ایک انسان سے بھی ملاقات نہیں ہوئی اور بیرونی دنیا سے بالکل بےخبر رکھا گیا۔‘
ایکس پر جاری ہونے والے بیان میں اُن کی جانب سے کہا گیا کہ ’جیل مینؤل کے مطابق دی جانے والی بنیادی ضروریات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ ہائیکورٹ کے احکامات کے باوجود پہلے میری سیاسی ساتھیوں سے ملاقات پر پابندی لگائی گئی اور اب وکلا اور اہل خانہ سے ملاقات بھی بند کر دی گئی ہے۔‘
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو شاباش
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے متعلق بانی پی ٹی آئی عمران حان کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ’اُن کا کردار قابلِ تعریف ہے کیونکہ جبر کے اس ماحول میں وہ مفاہمت کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دے رہے ہیں۔ سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلتا رہے۔ اس ملک میں کوئی قانون اور آئین نہیں ہے۔ قانون صرف تحریک انصاف کے لیے حرکت میں آتا ہے ورنہ ہر کوئی اس سے مبرا ہے۔ سہیل آفریدی جو بھی کر رہا ہے اسے جاری رکھے میں اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔‘










