سفر ایران کی ایک دلچسپ داستان
لیناسے تخلیہ میں ملاقات
ہوٹل کی لابی سے جب میں اوپر کی جانب مڑا تو ایک مسئلہ ابھرتے سورج کی طرح نہیں بلکہ ڈوبتے دن کی ماند پڑتی روشنی کی مانند میرے سامنے تھم گیا: یہاں نماز کہاں پڑھی جائے؟
نہ کسی کونے میں جائے نماز کی جھلک، نہ کمرے میں کوئی دری کہ جسے قبلہ رخ بچھا کر دل کو قرار مل جاتا۔ یوں لگا جیسے ہوٹل والوں نے عبادت کے معاملے میں ’خود کشی‘ کا ارتکاب کیا ہو اور مہمانوں کو محض لحاف اور کیتلی کے سپرد کر دیا ہو۔
چنانچہ میں نے فیصلہ کیا کہ اگر زمین پر کہیں جگہ نہیں تو آسمان کے قریب چلا جاتا ہوں۔ ہوٹل کی چھت پر پہنچا تو وہاں ایک سنّاٹا تھا؛ ایسا سادہ اور پُرسکون سنّاٹا جو مسافر کو اپنی بانہوں میں لے لے۔
مغرب اور عشاء کی نیت باندھنے سے پہلے میں کچھ لمحے سورج کی آخری سانسوں کا تماشائی بن گیا۔ وہ سرخ ڈلی، جو ابھی کچھ دیر پہلے شہر کی بلند عمارتوں پر اپنا رنگ بکھیر رہی تھی، آہستہ آہستہ اُفُق کے پیچھے سِرَکتی جارہی تھی—یوں جیسے تھکا ہارا مزدور شام کو اپنے گھر کی طرف قدم گھسیٹتا ہے۔
جیسے ہی سورج نے غروب ہونے کی رسمی اجازت دے دی، میں نے نماز شروع کی۔ چھت پر ہواؤں کا ایک ہلکا سا لمس تھا اور دور کہیں فٹ پاتھوں پر زندگی اپنی دائمی آوارگی میں مصروف ہوگی۔ میں قرات میں تھا کہ قدموں کی آہٹ نے خاموشی میں لرزش پیدا کی۔ نماز کے دوران نگاہ اٹھانا مناسب نہ تھا، مگر احساس نے بتایا کہ کوئی آ گیا ہے۔
سلام پھیرا تو دیکھا کہ لیناچھت کے کونے کی طرف کھڑی اُفق کا مشاہدہ کر رہی تھی۔ اس کی نظروں میں وہی سرخی ٹھہری ہوئی تھی جو ابھی چند لمحے پہلے ڈوبتے سورج نے آسمان پر چھوڑی تھی۔ شاید وہ بھی اس منظر کے سحر میں گرفتہ تھی، یا شاید اس نے میرا منظر نامہ توڑتے ہوئے اپنا منظر شروع کر دیا تھا۔
ہیلو ہائے کی رسمی آداب کے بعد، ہم دونوں کافی دیر تک یوں محوِ گفتگو رہے جیسے دو اجنبی مسافر ایک ہی پُل کے نیچے بارش رکنے کا انتظار کر رہے ہوں اور وقت نے اُن کے درمیان ایک چھوٹا سا مکالماتی خیمہ لگا دیا ہو۔ لینانے سر پر دوپٹہ ٹھیک کیا، اور میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ یہ مشرقی پردے کی علامت اب اُس کے لیے محض کپڑے کا ٹکڑا نہیں رہی، بلکہ ایک وقار بن چکا ہے جسے وہ بخوبی نبھا رہی تھی۔
پاکستان میں قدم رکھتے ہی اس نے ہمارے لباس کو اس طرح اختیار کیا جیسے برسوں سے اسی گھر کی رہی ہو۔ اسے پاکستانی اور ہندوستانی ثقافت سے ایک عجیب سا لگاؤ تھا۔ مشرقی لباس کے ساتھ اس نے مشرقی حیا کو ایسا اوڑھا کہ میں خود سوچنے لگا: ہم مشرقی لوگ بھی کبھی کبھی اس حیا کو اتنی خوبی سے کیوں نہیں اوڑھ پاتے؟
گفتگو کے دوران اس نے بتایا کہ وہ نیپال میں بطور نرس کام کرتی رہی ہے۔ اس کے لہجے میں وہی تھکن اور نرمی تھی جو دنیا جہان کے درد رکھنے والی نرسوں کے چہرے پر ہوتی ہے۔ میں نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا:
تو نیپال کی وہ یخ بستہ راتیں اور کھڑکیوں سے جھانکتے بدھ مت کے’ مجسمے… کچھ یاد آتے ہیں؟‘
وہ ہنس پڑی۔
’نیپال تو ٹھیک تھا… مگر پاکستانی چائے کے بغیر اب کسی ملک میں دل نہیں لگتا!‘
’بہت بڑی بات کہہ دی تم نے۔ ‘
میں نے دل میں سوچا: ہم پاکستانی خود کبھی نہ سمجھے کہ ہماری سب سے بڑی خوبی یہی بے ساختگی ہے۔
مگر ظاہر ہے میں یہ فلسفیانہ کیفیت فوراً بیان نہیں کر سکتا تھا۔ انسان کہیں بھی ہو، اپنی خوبیوں کے اظہار کے معاملے میں تھوڑا کنجوس ہی رہتا ہے۔
باتوں کے اس سلسلے نے ہمارے درمیان ایک عجیب سی ہم آہنگی پیدا کر دی۔ ملاقات کے بعد بھی لیناسے میرا رابطہ ای میل کے ذریعے قائم رہا۔ ایک ای میل میں اُس نے لکھا کہ وہ اب جنوبی افریقہ کے ایک اسپتال میں بطور نرس خدمات انجام دے رہی ہے۔ پھر یوں ہوا کہ میرا ای میل ایڈریس بدل گیا، اور رابطے کا وہ دھاگہ جو برسوں سے باریک مگر مضبوط تھا، اچانک ٹوٹ گیا۔
نیکٹر سے مراسلہ بازی کا سلسلہ کچھ یوں چلتا رہا ۔ ستمبر 2001 کی ایک سنجیدہ صبح میں نے ریاض ، سعودی عرب سے ڈاکٹر ذاکر نائک کے مناظرے کی ایک ویڈیو کیسیٹ احتیاط سے ایک موٹے لفافے میں لپیٹ کر اسے روانہ کی۔ چند روز بعد نیکٹر کی ای میل آئی۔ لکھا تھا کہ بیلجیم کے ڈاک کا عملہ سفید لمبے کوٹوں میں ملبوس، چہروں پر حفاظتی ماسک چڑھائے، دروازے پر یوں نمودار ہُواجیسے کسی نامعلوم خطرے کی سرحد چھو کر واپس آ یاہو۔ کیسیٹ کو اس کے سامنے کھولا گیا، جیسے اس میں کوئی دھڑکتا بم مقید ہو۔ نیکٹر نے اس ساری مشق کو ’پاگل پن‘ اور ’جنون‘سے موسوم کیا—اور شاید وہ ٹھیک ہی کہتا تھا۔
دور کہیں، بحرِ اوقیانوس کے پار،نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے گرتے ہوئے جڑواں ٹاوَروں کی دھول ابھی فضا میں معلق تھی۔ دنیا اچانک مشکوک ہوگئی تھی، اور ہر پارسل، ہر لفافہ، اجنبی کہانیوں کی طرح کھولا جاتا تھا۔
کچھ ہی دنوں بعد نیکٹر اور لیناِاصفہان سے ہمدان روانہ ہوگئے۔ وہاں سے وہ بازرگان کی سرحد پار کرتے ہوئے ترکی میں داخل ہوئے اور ترکی کے راستے یونان اور مشرقی یورپ کے کئی شہروں سے گزرتے ہوئے آخرکار اپنے وطن بیلجیم پہنچ گئے۔ ادھر میرا ایران کا سفر ابھی جاری تھا—اپنی ہی رفتار اور اپنی ہی کہانی کے ساتھ۔
اِصفہان میں ایک دن اور ایک رات قیام رہا، مگر یہ مختصر سا قیام بھی یادوں میں ایک پوری عمر کی طرح ٹھہر گیا۔ انہی چند گھڑیوں میں شہر کے کچھ نمایاں اور دل نشیں مقامات دیکھنے کا موقع ملا—نقشِ جہان اسکوائر، بازارِ قیصریہ، مسجدِ شاہ، مسجدِ لطف اللہ، عالی قاپو محل، سیاوسے پل اور خاجو پل۔ نیکٹر نے ملاقات کے وقت خاص طور پر ان جگہوں کی سیر کا مشورہ دیا تھا، جیسے کوئی پرانا مسافر نئے مسافر کے ہاتھ میں شہر کا خفیہ نقشہ تھما دے۔
اس قسط میں، میں صرف نقشِ جہان اسکوائر کی سیر کا احوال بیان کر رہا ہوں—اُس وسیع میدان کا، جو صدیوں سے اِصفہان کے دل کی طرح دھڑکتا آرہا ہے۔
نقش جہان اسکوائر
اِصفہان میں ایک دن اور ایک رات کا قیام تھا، مگر اس مختصر قیام میں بھی کچھ مناظر ایسے دل میں اترے کہ اب تک ٹھہرے ہوئے ہیں۔ ان ہی مناظر میں سے ایک—نقشِ جہان اسکوائر—جس کا نام ہی اپنے اندر پوری دنیا کا عکس سمیٹے بیٹھا ہے۔ فارسی میں نقش عکس کو کہتے ہیں اور جہان دنیا کو۔ یوں گویا یہاں قدم رکھتے ہی آدمی محسوس کرتا ہے جیسے کسی نے دنیا کا پھیلا ہوا نقشہ ایک میدان کی صورت بچھا دیا ہو۔
اسے میدانِ شاہ یا میدانِ سلطان بھی کہا جاتا ہے۔ اور میں تو صاف کہہ دوں، یہی وہ دومنزلہ، چھتّہ دار بازار تھا جسے دیکھنے کی خواہش نے مجھے اِصفہان آنے پر مجبور کیا۔ جب پہلی بار اس کے دہانے پر پہنچا تو دل نے کہا:
’یہ منظر تو دور سے ہی کہہ رہا تھا کہ مجھے دیکھنے کے لیے آؤ… اب آئے ہو تو ٹھہرو بھی!‘
نقشِ جہان اسکوائر ایک باقاعدہ مستطیل شکل میں بچھا ہوا ہے۔ پہلی نظر میں مجھے کرمان کا گنج علی خان اسکوائر یاد آیا۔ مگر فوراً ہی احساس ہوا کہ یہ نسبت بھی کچھ ویسی ہی ہے جیسے عام سیلاں والی گلی کا ایک کزن اچانک دبئی کے برج خلیفہ کا پڑوسی نکل آئے—رشتہ تو ہے، مگر مقام الگ۔
یہ عظیم اسکوائر صفوی عہد میں تعمیر ہوا، وہ زمانہ جب اِصفہان دارالحکومت تھا، اور دارالحکومت کو خوب صورت رکھنے کی ذمہ داری بادشاہوں کے کندھوں پر ایسے رکھی جاتی تھی جیسے کوئی شاہی نشان ہو۔ اسی لیے یہاں کی عمارات میں ایک وقار، ایک ٹھہراؤ اور ایک بادشاہی سانس جاری ہے۔
نقشِ جہان دراصل ایک مکمل کمپلیکس ہے: بازار قیصریہ، ایک شاہی محل اور دو مساجد۔ 1979 میں یونیسکو نے اسے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کیا۔ تعمیر کا سلسلہ 1598 سے1629عیسوی تک پھیلا—ایک ایسا عرصہ جس میں اینٹیں بھی شاید شان سے رکھوائی جاتی ہوں گی۔ اس کا سائز بھی بادشاہوں جیسا ہے: 160 میٹر چوڑا، 560 میٹر لمبا، کل رقبہ 89,600 مربع میٹر۔
یہ وہ معلومات تھیں جو میں نیکٹر کو از راہِ فخر بتا رہا تھا۔ نیکٹر ہنسا اور بولا:
’اتنا بڑا اسکوئیر؟ آدمی چلتے چلتے تھک نہ جائے؟‘
میں نے کہا:
’تھک تو جائے گا، مگر اتنی خوبصورتی دیکھ کر تھکن کا اعتراف بھی شرمندگی لگے گا۔‘
اسکوائر کے بیچوں بیچ میں نے ایک مقامی دکاندار سے پوچھا:
— ‘یہ سارا بازار روز اسی طرح بھرا رہتا ہے؟’
وہ مسکرایا، داڑھی میں انگلی پھیرتے ہوئے بولا:
— ‘آقا، یہ جگہ تو ہمیشہ سے بھری ہے… سیاحوں سے، کبوترں سے، اور خدا کی رحمت سے۔ خالی تب ہوتی ہے جب بارش آ جائے، وہ بھی تھوڑی دیر کے لیے۔‘
میں نے ہنستے ہوئے کہا:
— ’تو آج رحمت نہیں آئے گی نا؟ میں کچھ دیر رکوں گا یہاں۔’
وہ بولا:
— ’آپ رکیں، نقشِ جہان آپ کو جانے نہیں دے گا جب تک آپ اس کی ایک ایک محراب نہ دیکھ لیں۔‘
اسی دوران ایک نوجوان، شاید کوئی طالب علم تھا، ہاتھ میں کتابیں لیے پاس سے گزرا اور رُک کر بولا:
— ’اگر آپ پہلی بار آئے ہیں تو مسجدِ لطف اللہ ضرور دیکھیے گا… وہاں کی محراب میں روشنی کچھ عجیب انداز میں گرتی ہے۔ لگتا ہے خدا نے خاص طور پر کہا ہو کہ ‘یہ زاویہ میرے نام رہے۔‘
اور کہہ کر وہ ہلکے اشارے کے ساتھ آگے بڑھ گیا۔
یہی مختصر باتیں سفر کو رنگ دیتی ہیں۔
دنیا بھر سے سیّاح یہاں آتے ہیں۔ کوئی تصویریں بناتا ہے، کوئی محرابوں میں گم ہو جاتا ہے، کوئی بس بیٹھ کر دیکھتا رہتا ہے۔ اور سچ یہ ہے کہ نقشِ جہان ہر آنے والے کو ایک چھوٹا سا تحفہ ضرور دے دیتا ہے—کسی تصویر کی صورت، کسی گونج کی صورت، یا کسی بے نام سی خوشبو کی صورت میں۔
نقشِ جہان اسکوائر — شام کا دلفریب منظر
نقشِ جہان اسکوائر کی شام ایک الگ ہی جہان ہوتی ہے۔ سورج جیسے ہی مغرب کی طرف ڈھلتاہے، اسکوائر میں زندگی ایک نئے بہاؤ کے ساتھ جاگ اٹھتی ہے۔ سیاحوں اور زائرین کی تعداد بڑھنے لگتی ہے، اور وہ دومنزلہ چھتّہ دار بازار اپنے قمقموں کی روشنی سے یوں جگمگا اٹھتا ہے جیسے کسی قدیم داستان کے دَر وا ہو گئے ہوں۔
اس سلیٹی پتھر کے فرش پر جب بازار کی روشنیاں پڑتی ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے فرش خود روشنی کو جذب کر کے واپس دنیا کی طرف لوٹا رہا ہو—خاموش، پُر وقار اور شفاف۔ کہیں کہیں تو انسان اپنی ہی پرچھائی کو روشنی میں پھر سے جنم لیتے دیکھ کر رُک جاتا ہے۔
اسکوائر کے چاروں اطراف سبزہ زار تھا۔ گھاس کی تراش خراش اور جھاڑیوں والے پودوں کی قرینے سے تراشی ہوئی شکلیں دیکھ کر محسوس ہوتا تھا کہ یہاں باغبانی بھی کسی ہنرمندانہ مشق کا حصہ ہے۔ شام کے اوقات میں لوگ جوق در جوق اس سبزہ زار میں چلے آتے تھے—خاندان، طالب علم، بزرگ اور مسافر۔ ہر کوئی اپنی اپنی کہانی کا ایک صفحہ یہاں چھوڑجاتا تھا۔
فضا میں فارسی بولنے والوں کی نرم لہروں کا رس گھلا رہتا تھا۔ ایک بزرگ نے اپنے دوست سے بلند لہجے میں کہا:
— ’بیا! امروز ھوا خیلی خوب است… اینجا بنشینیم‘
میں نے مسکرا کر ان سے پوچھا:
— ’ہم بھی بیٹھ جائیں؟‘
وہ کہنے لگا:
— ’یہ جگہ سب کے لیے ہے آقا… جہاں دل چاہے بیٹھیں۔‘
آوازوں میں ایک الگ سی نرمی تھی—چاہے خواتین بات کر رہی ہوں یا بچے ہنسی میں کچھ کہہ رہے ہوں۔ اِصفہان کی خواتین رنگوں میں بھی خوش ذوق تھیں اور بات چیت کے انداز میں بھی۔ وہ پوری وقار کے ساتھ اسکاف میں ملبوس تھیں، مگر گفتگو کی شگفتگی نے فضا میں خوشگواری بھر دی تھی۔ یہ منظر کسی بھی مسافر کے لیے دوسرا وطن بن سکتا تھا۔
بچے نقشِ جہان کے کشادہ راستوں میں سائیکلیں دوڑاتے پھرتے تھے۔ ٹانگوں اور یکّوں کے ساتھ ساتھ ان کی چھوٹی گھنٹیوں والی سائیکلیں بھی اسکوائر کی موسیقی کا حصہ بن گئی تھیں۔ کبھی کوئی بچہ اچانک بریک لگا کر رک جاتا اور اپنے باپ سے پوچھتا:
— ’بابا! دوباره؟‘
اور باپ تھکا ہوا مگر مسکراتا ہوا کہتا:
— ’خب، یک چکر دیگر‘
اسکوائر کے بڑے تالاب کو فواروں اور دیدہ زیب روشنیوں نے جیسے گل رنگ بنا دیا تھا۔ پانی روشنیوں کو توڑ کر انہیں بے شمار ذروں میں تقسیم کرتا، اور یہ ذرے ہوا کے ساتھ ہلکے ہلکے جھولتے تھے۔ ہر طرف گہما گہمی تھی، کھانے پینے کی خوشبوئیں تھیں، بچوں کی آوازیں، سیاحوں کے تبصرے—مگر حیرت انگیز طور پر کہیں گندگی کا نام و نشان نہیں تھا۔
ایک مقامی نوجوان نے میرے تعجب پر کہا:
— ’یہ ہماری عادت ہے آقا… جگہ جتنی خوبصورت ہو، دل اتنا ہی نہیں چاہتا کہ اسے گندا دیکھیں۔‘
صبح کے وقت یہی اسکوائر بالکل ایک مختلف روپ میں دکھائی دیتا تھا—سکون میں ڈوبا ہوا، خالی خالی سا۔ نہ وہ شام والا ہجوم، نہ رَوِشوں میں سائیکلیں، نہ ٹانگے۔ ہاں، کہیں کہیں چند موٹرسائیکل سوار یا سائیکل چلانے والے اس خالی پن کو چیرتے ہوئے گزر جاتے تھے، جیسے صبح کی ہوا کو یاد دلانے آئے ہوں کہ دنیا جاگ رہی ہے۔
یہ منظر، یہ روشنی، یہ لہجے—سب مل کر نقشِ جہان اسکوائر کی ایک مکمل تصویر بناتے ہیں۔










