افغانستان اور عراق میں امریکی سفیر رہنے والے زلمے خلیل زاد ایک بار پھر پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں نمایاں دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ ایک بار پھر کھل کر پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کے حق میں اور پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ٹویٹس لکھ رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ان کی ٹویٹس کا لب و لہجہ ایسا ہے جیسے وہ کسی عالمی سفارت کار یا پالیسی ساز کے بجائے کسی مقامی سیاسی جماعت کے جذباتی کارکن ہوں۔
چند روز قبل زلمے خلیل زاد نے ایک ٹویٹ میں عمران خان کے حامی ایک شخص کو سلام پیش کرتے ہوئے پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کو ’بے رحم اور بے شرم‘ قرار دیا اور اس منظر کو چین کے تیان آن من اسکوائر سے تشبیہ دی۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ زبان کسی سابق امریکی سفیر اور عالمی پالیسی میکر کے شایانِ شان ہے یا کسی تھرڈ کلاس سیاسی گروہ کے جنونی کارکن کی؟
اس سے قبل 28 نومبر کو زلمے خلیل زاد نے لکھا کہ انہیں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے رویے پر شدید حیرت ہے کیونکہ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ، لاکھوں پاکستانی اور عمران خان کے اہلِ خانہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ عمران خان جیل میں زندہ بھی ہیں یا نہیں، مگر اس بارے میں کوئی شفاف معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ انہوں نے اس رویے کو ’چونکا دینے والا اور افسوسناک‘ قرار دیا۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ زلمے خلیل زاد اس انداز میں عمران خان کے حق میں سامنے آئے ہوں۔
تحریک عدم اعتماد کے بعد وہ خاموشی سے پاکستان آئے اور بنی گالہ میں عمران خان سے تین گھنٹے طویل ون ٹو ون ملاقات کی، حالانکہ اس وقت ان کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں تھا۔
بعد ازاں اطلاعات آئیں کہ وہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملے اور دونوں فریقین میں معاملات درست کرانے کی کوشش کرتے رہے۔ ایوانِ صدر میں عمران خان اور جنرل باجوہ کی ملاقات بھی انہی کوششوں کا نتیجہ سمجھی جاتی ہے۔
عمران خان کی گرفتاری کے بعد مارچ 2023 میں بھی زلمے خلیل زاد نے خبردار کیا کہ اس سے پاکستان میں بحران بڑھے گا اور حکومت کو انتخابات کی تاریخ دینے کا مشورہ دیا۔ اس پر پاکستانی دفترِ خارجہ نے واضح جواب دیا کہ پاکستان کو کسی کے لیکچر یا مشورے کی ضرورت نہیں۔
اس سب کے باوجود زلمے خلیل زاد کی ’تشویش‘ کم نہ ہوئی۔ وہ بار بار ٹویٹس کے ذریعے خبردار کرتے رہے کہ عمران خان کو ریاست کا دشمن نمبر ایک بنانے سے بحران بڑھے گا اور بین الاقوامی حمایت کم ہو جائے گی۔ انہوں نے یہاں تک پیش گوئی کی کہ سپریم کورٹ ایسے سیاسی کھیل کا حصہ بننے سے انکار کر دے گی۔
یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے:
زلمے خلیل زاد آخر عمران خان ہی کے لیے اتنے متحرک کیوں ہیں؟ وہ پاکستان، اس کی فوج اور عدلیہ پر اس قدر سخت تنقید کیوں کر رہے ہیں؟ اور یہ سب اس وقت کیوں، جب وہ کسی سرکاری عہدے پر فائز بھی نہیں؟
زلمے خلیل زاد کے پس منظر پر نظر ڈالیں تو وہ ایک افغان نژاد امریکی سفارت کار ہیں جن کی فکری تربیت یونیورسٹی آف شکاگو میں معروف نیو کنزرویٹو مفکر البرٹ وولسٹیٹر کے زیرِ سایہ ہوئی۔
یہی وہ مکتبِ فکر ہے جس نے عراق اور افغانستان کی جنگوں کی فکری بنیاد فراہم کی۔ وولسٹیٹر کے دیگر شاگردوں میں پال وولفوویٹز اور فرانسس فوکویاما جیسے نام شامل تھے۔ خلیل زاد کی تحقیقی اور عملی زندگی امریکی مفادات کو اسرائیلی سلامتی سے جوڑنے کے گرد گھومتی رہی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایک ایسا شخص، جس نے ہزاروں فلسطینی خواتین اور بچوں کی شہادت پر ایک لفظ نہیں لکھا، جس نے کشمیر میں دہائیوں سے جاری مظالم اور بھارت میں مسلمانوں پر ہونے والی زیادتیوں پر خاموشی اختیار کیے رکھی، آج پاکستان میں ایک مخصوص سیاسی شخصیت کے لیے اتنا فکرمند نظر آتا ہے۔
یہ تضاد عام پاکستانی کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ کیا یہ محض ہمدردی ہے؟ یا پھر اس کے پیچھے کوئی اسٹریٹیجک مفاد، کوئی مشن، کوئی بڑا کھیل کارفرما ہے؟
امریکی صحافی بوبی گھوش کی کہی ہوئی بات ایک بار پھر یاد آ رہی ہے کہ جب بھی زلمے خلیل زاد کسی ملک کو بتاتے ہیں کہ اس کی سیاست کیسے چلنی چاہیے، تاریخ بعد میں اس کے نتائج خود بیان کر دیتی ہے۔
شاید اسی لیے آج پاکستان میں بہت سے لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ زلمے خلیل زاد کی یہ غیر معمولی دلچسپی کہیں کسی نئے بحران کا پیش خیمہ تو نہیں؟
پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو چاہیے کہ وہ عمران خان کے حق میں کم از کم اسرائیل کے حامی طبقہ کی مدد ہرگز نہ لے اگر وہ پاکستانیوں کی حمایت چاہتی ہے۔
اللہ پاکستان کو اکیسویں صدی کے ’لارنس آف عریبیہ‘ کے شر سے محفوظ رکھے۔ آمین
عبیداللہ عابد، بادبان










