مشرق سے مغرب تک کا روزانہ کی بنیاد پہ سورج کا سفر کتنی کہانیاں رکھتا ہے۔ وہ جو ہماری دنیا کو روشن کرتا ہے مگر وہ اپنی پوری تابناکی کے باوجود دیکھتا رہتا ہے۔ وہ کچھ جو افراد اور قومیں روشن دنوں کو اپنے سیاہ کارناموں سے اندھیرے میں گم کر دیتی ہیں۔
یہ دن ہی ہوتے ہیں جو فتح و کامرانی کی نوید لاتے ہیں اور وہ بھی دن ہی کہلاتے ہیں جو افراد اور قوموں کی زندگی کو شکست و نامرادی سے دوچار کرتے ہیں۔ دن اور اس میں کیے گئے اعمال ہر کس و ناکس کی چادر حیات کا تانا بانا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے بھی تاریخ انسانی کے کچھ اہم دنوں کو ’ایام اللہ‘ کہ کر عبرت دلائی ہے۔ ’فذکر بایام اللہ ‘
یہ دعوت فکر ایک فرد کو بھی ہے کہ وہ اپنی زندگی کے شب و روز کے أعمال و معاملاتِ کو یاد کرے، سوچے، فکر وتدبر کرے۔ ناکامی ہے تو اس کے اسباب کی کھوج لگائے اور آنے والے ایام کو بہتر بنانے کی سبیل تلاش کرے۔ ہر فرد کے گزرے دن خوشی اور غمی کامیابی اور ناکامی کا امتزاج ہوتے ہیں۔ افراد سے قوم بنتی ہے اور قوموں کی زندگی میں سانحے اس کے لیے اہم موڑ ہوتے ہیں۔ قوموں کی اجتماعی خوشی ان کو ترقی کی راہ پہ سنجیدگی اور وقار سے گامزن رکھتی ہے مگر انسانی نفسیات کے رنگ مختلف ہوتے ہیں۔
افراد کی نفسیات اگر خوشی پانے کے بعد مدہوش ہونے والی ہے تو روشن مستقبل خطرے میں ہے اور اگر کسی ناکامی یا سانحے کے بعد مایوسی کی بے ہوشی ہے تو بھی اٹھ کھڑے ہونے کا امکان مفقود ہوگا۔ دونوں کیفیات میں نقصان برابر ہوگا۔ ہر فرد اپنی زندگی میں جو کچھ سوچتا بولتا اور عمل کرتا ہے وہ اپنی قوم کے مستقبل پہ اثر انداز ہوتا ہے۔ افراد اپنے شب و روز کے اعمال پہ کڑی نگاہ رکھیں گے تو قوم کی تاریخ سنور جائے گا اور جغرافیہ محفوظ رہے گا ۔
اپنے گھر پہ کسی غاصب کا قبضہ کرنا کس کو برداشت ہوتا ہے؟ ایک عارضی ترین ٹھکانے پہ بھی جب آپ رقم خرچ کرکے چندگھنٹوں کا سفر کرتے ہیں تو اپنی چند بالشت جگہ کسی کو دینے پہ آمادہ نہ ہوں گے۔ایسے سفر کو آپ اور ہم تکلیف دہ سفر کے طور پہ یاد رکھیں گے جہاں اپنی جگہ موجود ہونے کے باوجود ذہنی اذیت اور جھگڑے کا سامنا کرنا پڑے۔ غنڈہ گردی کا یہ واقعہ ہم اور آپ کبھی نہ بھلا پائیں گے مگر اسے سفر کی صعوبت سمجھتے ہوئے منزل کی طرف گامزن ضرور رہیں گے۔
اپنے وطن کا تصور ایک ایسا حسین رومانی تصور ہے۔ جس پہ ہر زمانے کی انسانی تاریخ گواہ ہے۔ اور جانوں کی قربانی دے کر اپنا وطن حاصل کر لینا ہمیشہ سورج کے لیے اس کے طویل سفر میں ایک خاص واقعہ رہا ہے۔ سورج کی روشنی ایسی آنکھ کی معتبر گواہی ہے جس کا متبادل کوئی نہیں ہو سکتا۔
27 رمضان المبارک کی مقدس رات چاند کے سفر میں بے حد اہم ہے تو اسی سال 14 اگست 1947ء سورج کے سفر میں اہم دن ہے..چاند اور سورج دونوں۔
دونوں برابر اس گواہی پہ نازاں ہوں گے۔ نبیوں کا ظہور، اور نافرمان قوموں پہ عذاب سب اللہ کے دنوں میں اہم دن ہیں۔ اسلام کے نام پہ ملک بن جانا اور اللہ کے احکام کی نافرمانی کرنے کا انجام سامنے آجانا بھی اللہ تعالیٰ کی کتاب کائنات کے خاص ورق ہیں اور خاص ہی معاملات ہیں۔
جب آزاد وطن کی خوشی ملی تو سنبھالی نہیں گئی اپنی بد اعمالیوں سے خوشی آدھی چھن گئی تو بے حسی اور مایوسی مار گئی … یہ خوشی اور غم کے دو واقعات جتنی کم مدت میں ہماری قوم پہ وارد ہوئے یہ ایک الگ بجائے خود ایک دعوتِ فکر ہے۔
خوشی اور غم دونوں میں ہی من حیث القوم ذمہ داری کا ثبوت نہ دیا، ہر سال آزادی کی خوشی میں چراغاں کر لیا۔ شورشرابہ ڈھو ل تماشے راگ رنگ کرنے کو چھٹی منا لی۔ آزادی ملنے کی خوشی میں یہ حال اب بد حالی کی انتہا کو پہنچا جاتا ہے۔
دسمبر میں سقوط ڈھاکا کا سانحہ ویسے ہی قصہ پارینہ بن گیا تھا۔ پشاور سکول کے سانحہ نے اس قومی سانحہ کو مزید پیچھے دھکیل دیا اور موم بتی کلچر راتوں رات پروان چڑھ گیا۔ پشاور سکول کا سانحہ دسمبر میں ہی ہوا اور اس کا غم سارے ملک میں موم بتی کلچر کو فروغ دینے کا باعث بن گیا. جب خوشی و غم بھی غیروں کے طرز پہ ہے تو ہم آزاد کب ہیں؟
اللہ کی تدبیریں اپنا رنگ دکھاتی ہیں، اللہ رب العزت نے چالیس سال بعد وہ وفا کی کہانی پھر سے زندہ کردی اور قوم کا امتحان لے لیا۔ اور نتیجتاً کتاب کائنات کے صفحے پہ رقم ہوا کہ جب وفا کے جرم میں پھانسی چڑھنے والوں کے لیے با اختیار چہرے سپاٹ اور زبانیں گنگ ہو جائیں تو دل پتھر بنا دیے جاتے ہیں۔ پہاڑ کے کچھ پتھروں سے خشیت کے پانی کی امید رکھی جا سکتی ہے مگر جب اللہ رب العزت دل کو اس کی اپنی قساوت کی وجہ سے سخت کردے تو وہ ‘ختم اللہ علی قلوبھم ‘ کے گروہ میں شامل ہو جاتا ہے۔
اے وہ پیارے لوگو! جن کے دل نرم ہیں سورج کی پیار بھری گواہی حاصل کرنے کے لیے اس کی روزانہ مسافت میں کوئی اہم واقعہ درج کراؤ۔ آسمان منتظر ہے کسی خاص خود احتسابی کی مہم پہ روانہ ہونے والے مسافروں کا،ستارے آنکھیں جھپکا جھپکا کے منتظر ہیں کسی خوشخبری کے کہ
یہ قوم خوشی میں چھٹی کی بجائے زیادہ کام کرنے کا جذبہ کب بیدار کرے گی ؟ کب چلنا چلنا مدام چلنا کی طرز پہ جھومے گی؟ ناکامیوں سے کب سبق سیکھے گی اور اپنی غلطیوں کی اصلاح کر کے آگے بڑھے گی؟ جتنے ستارے آسمان پہ ہیں ان میں سے ہر ستارہ اپنے اس ساتھی کو آواز دے رہا ہے جس کے دل میں امید کا دیپ بن کے اس نے رہنا ہے. آسمان کے ستارے اس کی زینت ہیں تو قوموں کے مقدر کا ستارہ اس کا ہر فرد ہے۔
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
جب اندھیرا بڑھ جاتا ہے ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا تو ننھے منے ستارے بھی اپنا آپ منوا لیتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ کسی ستارے کی روشنی کو غیر اہم نہ سمجھا جائے جس میں جتنی اور جیسی بھی قابلیت صلاحیت کی روشنی ہے اسے کام میں لانا ہوگا۔ نئے عزم کے ساتھ، نئے ولولے کے ساتھ، نئی امنگ نئی ترنگ کے ساتھ،مایوسی سے ہاتھ چھڑا کر یقین کا دامن پکڑ کر نئ زندگی شروع کرنا ہے ۔
کھول آنکھ، زمین دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ
مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ










