ڈاکٹر شہزاد اقبال شام، اردو کالم نگار، تجزیہ نگار

نئے صوبے یا چند خاندانوں کے آئینی آمریت

·

ہمارا جمہوری نظام تین ستونوں پر کھڑا ہے: وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتیں۔ دستور بنے 52 سال بعد بھی آمرانہ فکر نے مالیات پر گرفت رکھ کر مقامی حکومتوں کو دبوچ رکھا ہے۔ عوامی دباؤ پر کمزور سے بلدیاتی ادارے بن جائیں تو مالیاتی اختیارات صوبائی حکومت اپنے پاس رکھ لیتی ہے۔

بلدیاتی نظام کو جمہوریت کی نرسری کہا جاسکتا ہےجہاں کی پنیری سے تناور سیاسی درخت بنتے ہیں، سیاسی قیادت نکلتی ہے، نو خیز سیاست دان یہیں سے سیکھتے ہیں۔ لیکن آئین کا یہ حصہ عملاً ہمیشہ معطل رہا ہے۔ یہ ادارے بن بھی جائیں تو بے اختیار رہتے ہیں۔

یہ حال تو ہوا اصل اور عوامی سطح کی قیادت کا، رہی دانش و بصیرت تو یاد کیجیے تعلیمی اداروں میں کبھی بذریعہ انتخابات طلبا کی اپنی قیادت منتخب ہو کر زندگی کے گر سیکھا کرتی تھی۔ طلبا جو کچھ یہاں سے سیکھتے، اسمبلیوں میں وہ ان کے کام آتا۔ آج عوامی قیادت ابھرنے کے یہ دونوں مواقع ختم ہو چکے ہیں۔ بلدیاتی ادارے تو ہیں ہی نہیں، اور تعلیمی اداروں میں طلبا کے سروں پر دھرے نعلدار کالے بوٹ طلبا کو ابھرنے دیتے ہیں نہ کچھ سیکھنے دیتے ہیں۔ آج کے متعدد بے چہرہ سینٹروں کا کیا پس منظر ہے؟ انہیں لاکر وزارت دینے والے کون ہیں؟ وہی جو نئے صوبوں کی تجویز لائے ہیں۔ ان جرائم کے مرتکبین خاموشی سے اپنی نسلوں کے لیے روزگار اور اختیار کے نت نئے ’آئینی‘ مواقع پیدا کرتے ہیں۔ یہ تجویز بھی اپنی بے مہار اور معاشرے سے کٹی نسل کھپانے کا طریقہ ہے۔ نیا دام لائے پرانے شکاری!

عوامی مسائل حل کرنے کے آئینی طریقے موجود ہیں۔ بھوکوں کا پیٹ بھرنے یعنی مسائل حل کرنے کو نئی آئینی ترمیم لائی جا رہی ہے۔ حالانکہ گھر میں آٹا چاول، دالیں، مسالے، شکر سب موجود ہیں۔ لیکن چند لاڈلے ان اشیا سے تیار روایتی کھانا کھانے کو تیار نہیں کہ ہم نے تو پیزا یا جھینگے کھانا ہیں۔ اور پیزے کے لیے پنیر، مکھن، مشروم وغیرہ تو گھر (دستور کے اندر) میں ہیں ہی نہیں۔ لہذا کسی چھوٹے کو حکم ہوتا ہے کہ جاؤ پنیر لے آؤ۔ دوسرے کو مشروم لینے بھیج دیا جاتا ہے(آئینی ترامیم)۔ ادھر افراد خانہ ہیں کہ بھوک سے بلبلا رہے ہیں۔ یہی حال مسائل کے شکار عوام اور لاڈلی اشرافیہ کا ہے۔ عوام کہتے ہیں صحت و صفائی، کچرہ اٹھانے، ٹوٹی سڑکیں مرمت کرنے اور ٹریفک رواں رکھنے کو بلدیاتی ادارے بنائے جائیں۔ بھوک یعنی مسائل حل کرنے کے تمام غذائی اجزا گھر (دستور) کے اندر موجود ہیں لیکن لاڈلی اور پیزا خور اشرافیہ کے ہر چھوٹے بڑے کو آئینی   ترمیمی اجزا یعنی پنیر اور مشروم وغیرہ چاہیے، یہ سوچے بغیر کہ گھر کا بجٹ اس کی اجازت دیتا ہے یا نہیں۔

 متمدن دنیا کی طرح ہمارے آئین میں بھی بلدیاتی نظام موجود ہے۔ یہ ادارے قائم ہو جائیں تو ملک چند عشروں میں متمدن ممالک کے ساتھ کھڑا ہو سکتا ہے۔ معلوم نہیں ہمارے فیصلہ ساز اپنے غیر ملکی ہم پلہ عہدے داروں سے کیسے آنکھیں چار کرتے ہوں گے۔ چنیوٹ اور پنجگور کا ذکر نہیں، اسلام آباد میں اشرافیہ کے چند سیکٹر چھوڑ دیں اور یہاں کی سبزی منڈی اور بس اڈوں کا حال دیکھ لیں۔ غلاظت کی کون سی شکل ہے جو بزعم خود دنیا کے اس خوبصورت ترین دارالحکومت میں نہیں ملتی۔ پبلک ٹرانسپورٹ کو شہر کے اندر خون کی رگوں کے مماثل کہاجاتا ہے، کتنے شہروں کی رگوں میں خون رواں ہے، اور ہے بھی یا نہیں۔ چند بسیں درآمد کر لی جائیں تو وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ اسے اپنا کلیدی کارنامہ کہہ کر دھواں دار تقریریں کرتے ہیں۔ یہ کام تو میئر اور کونسلروں کا ہے۔ یہ ذہنی پستی نہیں تو اسے اور کیا کہا جائے؟

اشرافیہ کو نئے صوبوں کا پیزا یا جھینگے کھلانے پر گھر کے مالیاتی نظام پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، اس کی ایک جھلک پیش کیے دیتا ہوں۔ یہ حساب ادھورا ہے۔ باقی اخراجات آپ خود قیاس کر سکتے ہیں۔

تجویز یہ ہے کہ ہر ڈویژن کو صوبہ بنا دیا جائے۔ یوں 31 صوبے بنیں گے۔ گویا 4 کی جگہ 31 گورنر اور 31 وزرائے اعلیٰ. فرض کر لیجیے کہ یہ 62 افراد اللہ والے اور خشیت الہی سے معمور لوگ ہوں گے۔لہذا اپنے صوبے کی مختصر سی 20 افراد کی کابینہ بنائیں گے۔ 31 صوبوں کے 620 وزرا۔ اب ان 620 افراد کے معاون افسران کا حساب کیجیے۔ گورنروں سمیت ہر کسی کے 10 افسر ہوں تو ان کی تعداد 6200 بنتی ہے۔ دیگر اعلیٰ افسران 100 فرض کرنے پر جواب 3100 آتا ہے۔ یوں کل 9300 بنتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی ایک گاڑی پر راضی نہیں ہوتا۔ ہر گورنر، وزیر اعلیٰ، وزیر اور ہر چھوٹے بڑے افسر کے لیے تین گاڑیاں شمار کی جائیں تو جواب تقریباً 27900 آتا ہے۔ ان تمام ’اولیاء اللہ‘ میں سے کوئی ایک بھی ایک کروڑ سے کم کی گاڑی پر راضی نہیں ہوتا۔ یوں صرف گاڑیوں کی خریداری پر تقریباً 3 کھرب روپے خرچ ہوں گے ۔ پیٹرول، ڈرائیور، مرمت، اور روزمرہ دیکھ بھال کا حساب خود کر لیجیے۔

ہر صوبے کی اسمبلی 50 ارکان سے کیا ہی کم ہوگی۔ 31 صوبوں کے 750 ارکان اور  اسپیکر وغیرہ کی آج کل کی صرف تنخواہ ہی اوسطاً ساڑھے 11 ارب روپے بنتی ہے۔ سفر خرچ، علاج معالجے، عشائیوں، ظہرانوں اور غیر ملکی دوروں کا حساب خود کر لیجیے۔ ذیلی انتظامی عملے کا حساب بھی خود کیجیے۔ میں تھک چکا ہوں۔

ہر صوبے میں صرف 10 جسٹس ہوں تو 310 جسٹس صاحبان کے ڈرائیور، خانسامے، چوکیدار، دروازہ کھولنے، دروازہ بند کرنے اور کرسی پیچھے کھینچنے والے (چھ افراد فی جسٹس) شمار کر لیں۔ رجسٹرار، ڈپٹی رجسٹرار، ذیلی افسران اور ماتحت عملے کی گنتی پر کیلکولیٹر بے چین ہو گیا ہے جوڈیشل الاؤنس سمیت انہیں جو تنخواہ ملتی ہے کیلکولیٹر کو یقین ہی نہیں آرہا۔  نئے صوبے تجویز کرنے والا کوئی سرسام زدہ ہوگا یا اس نے بھنگ پی رکھی ہے۔ یہ کم از کم اخراجات ہیں جو یقیناً مزید ٹیکس لگا کر ہم ہی سے نچوڑے جائیں گے۔

ہمیں صوبوں کے یہ پیزے یا مہنگے سمندری جھینگے نہیں، صرف بلدیاتی اداروں کی سادہ سی دال روٹی مطلوب ہے۔ 80 فیصد عوام کے 80 فیصد مسائل کا حل بلدیاتی اداروں کے قیام میں مضمر ہے۔ جبکہ نئے صوبوں کی تجویز ہزاروں افراد پر مشتمل اشرافیہ کی تیسری رعونت زدہ نسل کھپانے کا آئینی شاخسانہ ہے کہ چار صوبے ماضی کے چند درجن اور آج کے سینکڑوں خاندانوں کے ہزاروں افراد کے لیے ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔

نوٹ: بادبان ڈاٹ کام پر شائع شدہ کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا بادبان ڈاٹ کام کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔