خاکِ فارس کا مسافر(27)

·

پچھلی قسط میں ہم نے اِصفہان کے نقشِ جہان کامپلیکس کا ایک جامع تعارف حاصل کیا تھا۔

اس قسط میں ہم نقشِ جہان کامپلیکس میں واقع تاریخی بازارِ قیصریہ کا رخ کریں گے اور اس کے اندرون و بیرون کی سیر کرتے ہوئے اس کے حسن، ساخت اور فضا سے لطف اندوز ہوں گے۔

اِصفہان میں اگر وقت کو کہیں رُک کر سانس لیتے دیکھا جا سکتا ہے تو وہ جگہ بازارِ قیصری ہے۔ یہی وہ بازار ہے جسے گرینڈ بازار، بازارِ سلطانی یا بازارِ بزرگ بھی کہا جاتا ہے، اور جس کے نام سن کر ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ کوئی معمولی خرید و فروخت کی گزرگاہ نہیں بلکہ تاریخ کی ایک باوقار راہداری ہے۔

صفوی دور میں یہ بازار اپنے وقت کے سب سے بڑے اور پرتعیش تجارتی مراکز میں شمار ہوتا تھا، اور شاید اسی لیے آج بھی اس کی پیشانی پر ایک خاموش وقار دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ بازار 1620ء میں نقشِ جہاں اسکوائر کے چاروں اطراف بنایا گیا۔ یوں سمجھیے کہ نقشِ جہاں اسکوائر اس کا دل ہے اور بازارِ قیصری اس کی دھڑکن۔ یہ بازار نقشِ جہاں کو کوہنہ اسکوائر اور اِصفہان کے سلجوقی حصے سے جوڑتا ہے، گویا یہ صرف راستہ نہیں بناتا بلکہ صدیوں کے بیچ ایک مکالمہ قائم کر دیتا ہے۔

پانچ سو برس گزر جانے کے باوجود، شاہ عباس اوّل صفوی کے دور میں تعمیر ہونے والا یہ بازار آج بھی اپنی پوری رعنائی کے ساتھ نقشِ جہاں اسکوائر کی زینت بنا ہوا ہے—ایسے جیسے اسے معلوم ہو کہ خوب صورتی کی عمر نہیں ہوتی۔

اس بازار کی تعمیر کا سہرا معمار علی اکبر کے سر جاتا ہے، جو اس دور کے سول انجینئر اور چیف آرکیٹیکٹ تھے۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ آج کے کسی جدید انجینئر کو اگر پانچ سو سال بعد بھی زندہ کھڑی رہنے والی عمارت بنانے کا کہا جائے تو وہ شاید پہلے فائلوں کا انبار لگا دے۔ مگر علی اکبر نے اینٹ، کاشی اور بصیرت سے کام لیا۔ بازار کی نقاشی اور کاشی کاری کے لیے انہوں نے ازبک کاریگروں کی خدمات حاصل کیں، اور شاید یہی وجہ ہے کہ یہاں کی دیواریں صرف رنگوں سے نہیں، تہذیبوں کے اشتراک سے بنی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ ان نقوش میں ایسی پائیداری ہے کہ وقت کی دھول بھی انہیں ماند نہیں کر سکی، اور آج بھی وہی آب و تاب آنکھوں کو تھام لیتی ہے۔

صفوی دور میں اس بازار میں دور دراز سے آنے والے مسافروں کے لیے کاروان سرائے بھی بنائے گئے تھے یعنی مسافرخانے، جہاں قافلے رُکتے، اونٹ سستانے کے بہانے ڈھونڈتے اور تاجر اگلے سودے کے خواب دیکھتے۔ اب وہ کاروان سرائے اپنا وجود کھو چکے ہیں، جیسے اکثر سہولتیں تاریخ کے ساتھ رُخصت ہو جاتی ہیں۔ البتہ ان میں سے ایک کاروان سرائے آج بھی ’مَلِکُ التجار‘ کے نام سے موجود ہے۔

بازار کی سیر کے دوران ایک مقام پر میری نظر ’سرائے ’مَلِکُ التجار ‘ کے کتبے پر پڑی جو خاموشی سے لٹکا ہوا تھا۔ میں کچھ دیر اس کے سامنے کھڑا رہا۔ دل چاہا کہ اس سے پوچھوں:
’کیا اب بھی یہاں مسافر ٹھہرتے ہیں؟‘
کتبہ خاموش رہا، مگر اس کی خاموشی میں صدیوں کی کہانیاں بولتی محسوس ہوئیں۔ ایسی کہانیاں جن میں تھکن بھی ہے، تجارت بھی، اور سفر کی وہ خوشی بھی جو صرف چلتے رہنے سے ملتی ہے۔ اِصفہان میں بازارِ قیصریہ سے گزرتے ہوئے یوں لگا جیسے میں خریدار نہیں، بلکہ تاریخ کا ایک عارضی مسافر ہوں جو چند لمحوں کے لیے گذشتہ صدیوں کے درمیان آ کھڑا ہوا ہے۔

میں نے اپنی سیر قیصری دروازے سے شروع کی۔ دروازہ پار کرتے ہی یوں محسوس ہوا جیسے میں موجودہ صدی سے نکل کر آہستہ سے کسی اور زمانے میں داخل ہو گیا ہوں۔ یہ بازارِ قیصریہ تھا۔ دومنزلہ، چھتہ دار، اور اپنے وقار میں خاموش مگر زندہ۔

میں ابھی چند قدم ہی اندر آیا تھا کہ نقشِ جہان اسکوائر کے اس چھتہ دار بازار میں وہی گہماگہمی دکھائی دینے لگی جو میں نے کرمان کے گنج علی خان اسکوئیر کے چھتہ دار بازار میں دیکھی تھی۔ فرق صرف اتنا تھا کہ یہاں ہجوم کے ساتھ ایک نفاست بھی چلتی تھی، جیسے ہر شخص جانتا ہو کہ وہ صرف بازار میں نہیں بلکہ تاریخ کے اندر چل رہا ہے۔

اس اسکوائر میں ایک مستطیلی تالاب تھا جس میں فوارے مسلسل اپنے قد کا تعین کر رہے تھے۔ پانی اوپر اٹھتا، لمحہ بھر کو رُک کر چمکتا، اور پھر واپس تالاب میں آ گِرتا جیسے اپنی ہی کامیابی پر مطمئن ہو۔ تالاب کے گرد چوڑے راستے پر ایک گھوڑا گاڑی سیاحوں کو اسکوائر کی سیر کروا رہی تھی۔ گھوڑا بڑے تحمل سے چل رہا تھا، جیسے اسے معلوم ہو کہ یہاں جلدی کی کوئی روایت نہیں۔

میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ اگر یہ گھوڑا بول سکتا تو شاید کہتا: ’صاحب، یہ اِصفہان ہے، بھاگم دوڑ کا شہر نہیں۔‘
تالاب کے چاروں طرف چھتہ دار بازار کا محرابی برآمدہ دکھائی دے رہا تھا، جو اس منظر کو ایک باقاعدہ فریم فراہم کر رہا تھا۔ یہ تالاب خاصا بڑا تھا— نقشِ جہان اسکوائر کے جنوبی حصے، یعنی مسجدِ شاہ سے شروع ہو کر مسجدِ لطف اللہ تک پھیلا ہوا۔ اس کی وسعت دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ یہاں صرف پانی نہیں، بلکہ ترتیب اور توازن بھی بہایا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ اس تالاب کو قیصری دروازے میں قائم کیے گئے کافی شاپ کی بلند ی سے بھی دیکھا جا سکتا تھا، جہاں بیٹھ کر شاید لوگ کافی سے زیادہ تاریخ کو گھونٹ گھونٹ پیتے ہوں گے۔

نقشِ جہان اسکوائر میں گھومتے ہوئے میری نظر دکانوں پر پڑی۔ جن دکانوں پر دھوپ پڑ رہی تھی، ان کے سامنے سفید رنگ کے سائبان بڑی نفاست سے لٹک رہے تھے۔ سب سائبان ایک ہی سائز اور ایک ہی رنگ کے تھے— نہ ایک انچ زیادہ، نہ ایک انچ کم۔ یہ سائبان قطار در قطار بازارِ قیصریہ کے مشرقی کنارے پر واقع دکانوں پر لٹکے ہوئے تھے، جیسے کسی محتاط نگران نے انہیں باقاعدہ ناپ تول کر ٹانکا ہو۔

بازارِ قیصریہ کی مشرقی جانب کی تمام دکانیں ان سفید سائبانوں سے مزین تھیں، جبکہ مغربی طرف کی دکانوں پر سورج کی روشنی نہیں پڑ رہی تھی۔ وہاں دھوپ کی عدم موجودگی نے ایک اور حسن پیدا کر دیا تھا:

دومنزلہ محرابی برآمدے، جو سائے میں اور زیادہ گہرے اور باوقار دکھائی دے رہے تھے۔ بازارِ قیصریہ کی دوسری منزل کی دکانوں کے سفید رنگ کے محرابی دریچے قطار در قطار ایک دلکش منظر پیش کر رہے تھے—ایسا منظر جسے دیکھ کر آنکھ خود بخود رفتار کم کر لیتی ہے، جیسے جلدی کرنا بدتمیزی ہو۔

یہ بازارِ قیصریہ کا بیرون تھا جہاں داخل ہونے سے پہلے ہی انسان کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ اندر صرف دکانیں نہیں، صدیوں کی تہذیب سجی ہوئی ہے۔

بازارِ قیصریہ کی سیر کے دوران، ایک جگہ میری نظر ٹھنڈے پانی کی سبیل پر پڑی۔ پیاس تو مجھے خاصی لگی ہوئی تھی، مگر جیسے ہی سبیل دیکھی، میں یک دم محتاط ہو گیا۔ سفر میں پیاس ہمیشہ جسم کی ہوتی ہے، لیکن احتیاط یادداشت کی۔ فوراً ہی زاہدان شہر کا وہ واقعہ ذہن میں اُبھر آیا—اور ساتھ ہی وہ ایرانی بلوچ لونڈا بھی، جس کے ساتھ ہونے والی بدمزگی آج بھی یاد کے کسی کونے میں پڑی ذرا سی آواز پا کر جاگ اٹھتی ہے۔ دل نے کہا، ’کہیں ایسا نہ ہو کہ تاریخ خود کو دہرانے کا ارادہ کر لے، اور زاہدان والا لڑکا یہاں اِصفہان میں بھی میرا منتظر ہو۔‘
لیکن یہ اِصفہان تھا—نصفِ جہاں۔ یہاں کے لوگ اپنے شہر کی طرح مہذب، شائستہ اور نپے تلے تھے۔ سبیل کے پاس ایک اسٹیل کا حمام رکھا تھا جس میں ٹھنڈا پانی بھرا ہوا تھا، اور ساتھ ہی اسٹیل کے گلاس قرینے سے رکھے تھے۔ یہ گلاس آزاد تھے—واقعی آزاد۔ میں نے بے اختیار پاکستان کو یاد کیا، جہاں ایسے گلاس عموماً زنجیروں میں جکڑے ہوتے ہیں، جیسے پانی پینے کے بعد ان کے فرار کا قوی اندیشہ ہو۔ یہ ایران تھا؛ یہاں کوئی پانی پی کر گلاس اٹھا کر گھر لے جانے کی زحمت نہیں کرتا، بلکہ اگلے مسافر کے لیے وہیں رکھ جاتا ہے—ایک سادہ سا مگر بامعنی سماجی معاہدہ۔

میں نے بہرحال احتیاط کو ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ پانی پینے میں پہل نہیں کی۔ ایک طرف کھڑا ہو کر میں یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ یہاں پانی پینے کی کیا رِیت ہے۔ لوگ آتے، گلاس اٹھاتے، پانی پیتے اور خاموشی سے گلاس اسی جگہ رکھ کر آگے بڑھ جاتے۔ نہ وہاں کوئی چندہ باکس رکھا تھا، نہ کوئی صاحب پانی کے بدلے نگاہوں ہی نگاہوں میں حساب مانگ رہا تھا۔ سب کچھ اتنا سادہ تھا کہ مجھے اپنی ہی تشویش پر ہنسی آنے لگی۔
جب یہ اطمینان ہو گیا کہ یہاں پانی بلا خوف و خطر پیا جا سکتا ہے، تو دل نے سبز جھنڈی دکھا دی۔ میں آگے بڑھا، ایک گلاس بھرا، اور خوب سیر ہو کر ٹھنڈا پانی پیا۔ پیاس بھی بجھ گئی اور خدشات بھی۔ گلاس واپس اپنی جگہ رکھا اور دوبارہ بازارِ قیصریہ کی سیر میں مشغول ہو گیا—ایسا بازار جہاں ایک گھونٹ پانی پورے معاشرے کا مزاج سمجھا دیتا ہے، اور مسافر کو یہ سکھا جاتا ہے کہ اعتماد بھی تہذیب کی ایک شکل ہے۔

جب میں قیصری دروازے سے بازار میں داخل ہوا تو بازار میں دونوں اطراف دکانیں ہی دکانیں تھیں۔ بازار کا فرش اتنا صاف تھا کہ قمقموں کی روشنی منعکس ہو کر چہرے کو خیرہ کر رہی تھی۔ کچھ کچھ فاصلوں پر چھت میں گنبد بنائے گئے تھے ۔ ان گنبدوں کے مرکز میں روشن دان رکھے گئے تھے جہاں سے باہر کی روشنی بازار کی تاریکی کو دور کر رہی تھی۔ اس کے علاوہ ، بازار کی دوسری منزل کی دیواروں میں بھی جالی دار دریچے رکھے گئے تھے ، جس سے روشنی کی کرنیں بازار قیصریہ کو منور کر رہی تھیں۔ اس بازار میں بعض مقامات پر چھت کے ساتھ سیاہ رنگ کے بینر معلق تھے جن پر فاطمہ الزہراء لکھا ہوا تھا۔

اس چھتہ دار بازار میں خشک میوہ جات کی دکانیں تھیں جہاں تمام قسم کا خشک میوہ بڑی ترتیب سے بوریوں میں رکھا گیا تھا اور ان پر نرخ لکھے گئے تھے۔ اس طرح یہاں مصالحہ جات کی دکانیں بھی تھیں۔ جو چیز سب سے زیادہ پرکشش تھی وہ قدیم دستکاریوں کی دکانیں تھیں۔ بازار کے اس حصہ کو ‘ بازار مسگرہا ‘ یعنی تانبے کے برتنوں کا بازار کہا جاتا ہے۔کُہنہ مشق اور عمررسیدہ ایک کاریگر بڑی نفاست سے ہتھوڑے اور چھینی کی مدد سے تانبے کے تھال میں نقش کندہ کر رہا تھا۔ یہ فن پاکستان میں تقریبا ناپید ہوچکا ہے۔ ایران کے قدیم بازاروں میں قدیم دستکاری کو زندہ رکھا گیا ہے۔ ان دکانوں میں اسٹیل کے ہر طرح کے برتن بھی دستیاب تھے۔ البتہ ایک دکان میں ، میں نے ایک ایرانی کاریگر کو مشین کی مدد سے تانبے اور اسٹیل کے برتنوں پر نقاشی کرتے ہوئے دیکھا۔ اسی ایک دکان میں چینی مٹی (Ceramic) کے برتن ہی برتن شیشے کی شیلفو میں سجائے گئے تھے ۔یہ برتن ایرانی طرز نقاشی کا ایک اعلی نمونہ تھے۔ اس بازار میں مٹر گشت کے دوران ، بازار کا ایک حصہ قالینوں اور غالیچوں سے بھرا ہوا نظر آیا ۔ ہر دکان میں ایک سے ایک ڈیزائن کا ایرانی ساخت کا قالین دستیاب تھا۔ دکانوں میں قالینوں کو دیوار پر معلق کیا گیا تھا اور کچھ قالین زمین پر اوپر تلے رکھے گئے تھے۔ کچھ دکانوں میں تو میں نے کاریگروں کو قالین بافی کرتے ہوئے بھی دیکھا۔ میں نے ایک قدیم طرز کی دکان پر ’ہنر خاتم کاری‘لکھا دیکھا ۔ اس سے مراد چیزوں کے اوپر نقاشی کر کے انہیں زیبا و خوبصورت بنانا ہے۔ اس فن کو انگریزی میں The art of inlayingکہتے ہیں۔اس دکان میں سگار، قلم ، قلم دان ، پان دان وغیرہ پر اس فن کی مدد سے نقش و نگار بنائے گئے تھے۔

ان دکانوں میں قدیم روایتی دستکاری کا احیاء دیکھ کر بہت خوشی ہو رہی تھی۔ ایسا گمان ہورہا تھا کہ میں عہدِ صفوی کے قدیم ایران میں گھوم پھر رہا ہوں۔ بازار کی چھت قدیم طرز کی چھوٹی چھوٹی خشت سے چنی گئی تھی۔ بعض دکانوں میں پرانے قالینوں کی مرمت کا کام بھی ہو رہا تھا جنہیں کیڑوں مکوڑوں نے کتر دیا تھا۔ اس بازار میں کپڑوں کی دکانیں بھی تھیں جہاں غالب طور پر انگریزی طرز کے مرد و خواتین کے لباس کی نمائش کی گئی تھی۔ اس بازار میں ،ایک جگہ میں نے ایک بینک بھی دیکھا ۔ اس بازار میں قدیم و جدید کا امتزاج واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا۔

اس بازار میں بعض مقامات پر کھانے پینے کے لیے ریستوران بھی تھے۔ بازار قیصریہ میں کچھ دکانیں کھیلوں کی اشیاء کی بھی تھیں۔ ایران کا قدیم روایتی کھیل نرد (Backgammon) بھی یہاں دستیاب تھا۔ یہ کھیل ایران ، عراق اور شام میں کھیلا جاتا ہے۔ یہ کھیل لُڈّوسے مشابہ کھیل ہے۔ اس کا ذکر حدیث میں نرد شیر کے طور پر ملتا ہے۔ صحیح مسلم کی روایت ہے کہ جس نے نرد شیر کھیلا گویا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ اور ابو داؤد کی روایت ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جس نے نرد شیر کھیلا گویا کہ اس نے اپنے ہاتھوں کو خنزیر کے خون سے آلودہ کر لیا۔ بعض مُترجمین ِ حدیث اس قدیم کھیل کے تاریخی پس منظر سے ناواقف ہونے کے باعث نردشیر کو شطرنج سمجھ بیٹھے ہیں۔

اس وسیع بازار میں ایک حصہ سبزی اور پھل فروشوں کے لیے مختص تھا۔ یہاں ایران کی ہر قسم کی سبزی اور پھل دستیاب تھا۔ پاکستان کے سبزی بازاروں کی طرح یہاں نہ کاٹن دکانوں کے سامنے پھینکے گئے تھے اور نہ چھلکے اور دیگر گند پھینکا گیا تھا۔ ایرانی بہت نفاست پسند قوم ہے ۔ اس بازار میں زیورات کے علاوہ قیمتی پتھروں کی خرید و فروخت بھی ہورہی تھی۔ یہاں یاقوت ، زَمُرد اور دیگر قیمتی اور نادر پتھر دستیاب تھے جو عموما انگوٹھیوں میں جڑے جاتے ہیں اور بعض قیمتی پتھروں کو تسبیح کے دانوں کی شکل دیکر ستلی میں پرویا گیا تھا ۔
نقشِ جہاں اسکوائر کی سیر ابھی جاری ہے۔۔۔۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں