ہم دن میں متعدد مرتبہ اپنی گفتگو میں’ ان شاء اللہ‘ کا لفظ بولتے ہیں ۔ اور مسلمانوں کی زبان سے اس لفظ کو گفتگو کا خاصہ جان کر غیر مسلم بھی اپنی گفتگو کا حصہ بناتے نظر آتے ہیں جو مسلم سوسائٹی میں رہتے یا روزگار کے مقام پہ مسلمانوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں ۔
لیکن اکثر خود مسلمان بھی اس قرآنی لفظ کی اہمیت کا شعوری فہم نہیں رکھتے ہیں ۔ فہم و شعور ہو بھی تو ہمیں اسلامی تہذیب کے ہر خوب صورت عمل کی تذکیر کرتے رہنا چاہیے۔
قرآن پاک میں یہ لفظ اور اس کی تائید کرتے ہیں۔ دیگر الفاظ جہاں بھی آئے ہیں، اس کے سیاق و سباق سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس لفظ میں دراصل انسان کی اپنی کم مائگی اور رب تعالیٰ کے قادر مطلق ہونے کا احساس پختہ ہوتا ہے یعنی ’آخری فیصلہ ،رضامندی کی اتھارٹی رب العالمین کے پاس ہے‘ کا احساس ایمانیات کی ہر شق پہ مضبوطی عطا کرتا ہے ۔
یہ صرف اسلامی تہذیب ہی نہیں ہر وقت اپنے ایمان کی تجدید کا معاملہ ہے اور رب العالمین سے قرب کا اچھوتا احساس ہے ۔
کیا ہم نے غور کیا کہ سورہ التکویر کی آخری آیت :
’اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اللہ ربّ العالمین نہ چاہے۔ ‘
کی وجہ سے ہماری زندگی کا ہر پہلو ، ہمارے ارادے اور خواہشات رب العالمین کی مشیت سے بندھی رہتی ہیں ۔
ایسے لگتا ہے جیسے زندگی کا کوئی پہلو اس آیت کے شعوری فہم کے بغیر گزار ہی نہیں سکتے ۔ ’ان شاء اللہ ‘،’ اگر اللہ نے چاہا ’۔یہ ایسا جملہ ہے کہ مومن کی زندگی کے سارے منصوبوں کو اپنے ساتھ نتھی کر لیتا ہے اور سوچ و عمل کے ہر زاویے میں مشیتِ الہی کے تصور کونمایاں کر دیتا ہے ۔ کام کرنے کے لیے حوصلہ، اللہ تعالی کی معیت، روح کو تقویت دیتی ہے تو یہ احساس بھی اجاگر ہوتا ہے کہ اگر میرا رب میرے ارادے کے علی الرغم کچھ چاہے گا تو اس کی طرف سے یقیناً خیر ملے گی ۔ اور یہ کہ انسان اپنی رب سے بھر پور محبت ،بھروسے اور اپنے چھوٹے بڑے معاملات کی باگ ڈور اپنے مالک کے ہاتھ میں دے دیتا ہے۔
یہ اطاعت گزاری اور وفا داری کا ایسا مظاہرہ ہے جس کے بعد مومن نفع و نقصان کے تردد سے بے نیاز ہو جاتا ہے ۔
ہم ’بسم اللہ‘ کہہ کر اپنا ہاتھ اللہ کے ہاتھ میں دے کر کام کی ابتدا کرتے ہیں اور انجام بھی اسی رب کی مشیت و رضا کے حوالے کر دیتے ہیں ۔‘
سورہ الکہف میں ان شاء اللہ کہنے کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ اللہ تعالی نے اپنے حبیب محمد ﷺ کو کافر معاشرت میں وحی کا انتظار کروایا جب کہ کفار استہزاء کے مواقع تلاش کرتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا ہے کہ کسی بھی کام کے بارے میں کبھی یہ نہ کہو کہ میں یہ کام کر لوں گا۔ ہاں (یہ کہو کہ ) اللہ چاہے گا (تو کر لوں گا)۔
تم کچھ نہیں کر سکتے)اِلّا یہ کہ اللہ چاہے۔ اگر بھُولے سے ایسی بات زبان سے نکل جائے تو فوراً اپنے ربّ کو یاد کرو اور کہو ’اُمید ہے کہ میرا ربّ اِس معاملےمیں رُشد سے قریب تر بات کی طرف میری رہنمائی فرما دے گا۔‘ (سورہ الکہف: 23،24:
اس کے متعلق اس آیت کی تفاسیر میں تفصیلات درج ہیں ۔
اِس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ اہلِ مکہ نے رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے جب روح،اَصحاب ِکہف اور سیدنا ذوالقر نین کے بارے میں دریافت کیا تھا تو حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کفار مکہ سے فرمایا کہ : ’کل بتاؤں گا‘۔
اور اِنْ شَاءَ اللّٰہ نہیں فرمایا تھا تو کئی روز وحی نہیں آئی پھر یہ آیت نازل ہوئی۔
اسی طرح سورہ البقرہ میں ذکر ہے کہ بنی اسرائیل نے جب گائے کے ذبح کرنے کے حکم پہ حجت بازی کی تو انہیں اس کام کی توفیق نہ ملی جب انہوں نے ان شاءاللہ کہا تو اس کام پہ انہیں اللہ تعالی نے توفیق اور آسانی عطا فرمائی ۔
’پھر بولے اپنے رب سے صاف صاف پوچھ کر بتاؤ کیسی گائے مطلوب ہے، ہمیں اس کی تعین میں اشتباہ ہو گیا ہے اللہ نے چاہا، تو ہم اس کا پتہ پالیں گے۔ (البقرہ ” 70)
اسی طرح قرآن پاک میں انبیاء کرام علیھم السلام کے سارے چھوٹے بڑے منصوبے اسی جملے کے ساتھ بندھے ہوئے تھے۔ وہ اللہ کی مشیت کا ہر وقت دھیان رکھتے اور خود پسندی و حد سے زیادہ خود اعتمادی کو کاٹ پھینکنے والے اس جملے کا زبان پر ورد رکھتے۔
سیدنا شعیب علیہ السلام نے جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے بکریاں چرانے کا معاہدہ کیا تو فرمایا:
ان شاء اللہ تم مجھے اُن لوگوں ميں سے پاؤ گے جو بھلائی کا معاملہ کرتے ہیں۔ (سورت قصص: 26)
یعنی میں خود تو بھلائی کا کوئی کام نہیں کر سکتا جب تک کہ اللہ نہ چاہے۔ میں کمزور بندہ ہوں اور اللہ میرا مالک ہے ۔ اگر مالک کی مشیت ہوئی تو میری طرف سے تمہیں خیر ہی خیر ملے گی۔
اسی طرح سورہ الفتح میں ہم دیکھتے ہیں نبی ﷺ کو عمرہ کرنے کا خواب دکھایا گیا لیکن جب اللہ رب العالمین نے چاہا اس خواب کو سچ کر دکھایا
’فی الواقع اللہ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھا یا تھا جو ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق تھا۔ اِن شاءاللہ تم ضرور مسجد حرام میں پورے امن کے ساتھ داخل ہوگے۔‘(الفتح : 38)
سچا مومن اپنے ایمان کا اظہار اس طرح کرتا ہے ۔
ہمارے لیے تو یہ ممکن ہی نہیں ہےکہ کفر کی طرف واپس جائیں۔ ہاں اللہ ہمارا رب ہی کچھ چاہے تو اور بات ہے۔ (سورت اعراف:89
یہ اعلیٰ درجے کی عبدیت کا فقرہ ہے کہ ہم تو پکا عزم کیے بیٹھے ہیں کہ کبھی بھی کفر اختیار نہیں کریں گے لیکن اس عزم پر عمل کی توفیق اللہ کی مشیت ہی سے مل سکتی ہے۔ اس کے بغیر ممکن ہی نہیں۔
گویا کہ معاشرے میں جب افراد ایک دوسرے سے کسی بھی قسم کے چھوٹے بڑے معاملات میں قول و قرار کرتے ہیں تو پوری دل جمعی،اخلاص نیت سے اسے پورا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں مگر استثناء ضرور کر لیتے ہیں ۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ اگلے لمحے کیا حالات رونما ہو سکتے ہیں کوئی نہیں جانتا، یہ غیب ہے اور غیب کا علم کسی کو نہیں دیا گیا ۔
اسی کے مثل جب سیدنا یوسف علیہ السلام کے والدین اور بھائی مصر پہنچے تو انہوں نے سب سے کہا کہ :
ان شاء اللہ یہاں سب امن چین سے رہیں گے۔(سورت یوسف:99)
ایک بااختیار وزیر خزانہ ہونے کے باوجود سیدنا یوسف نے اللہ تعالی کو قادر مطلق سمجھا اور یہ باور کروایا کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ میری اتھارٹی ہے ، میں با اختیار ہوں تو ہر صورت میں تمہیں امن وامان مل کر ہی رہے گا جیسا کہ عموماً اہل حکومت کو اپنے اوپر زعم ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں سب چین کی نیند سوتے ہیں ۔
سیدنا یوسف علیہ السلام نے اپنے اوپر اعتماد کے بجائے اللہ کی مشیت پر اعتماد کیا اور فرمایا کہ مجھ سے امن و سکون کےلیے جتنی کوشش ہو سکے گی، کروں گا لیکن حقیقت میں اس کائنات کا ہر ذرہ اسی صورت کام کرتا ہے جب مشیتِ الہی شاملِ حال ہو۔
سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے جب حضرت اسماعیل علیہ السلام سے فرمایا کہ:
بیٹا! میں نے خواب دیکھا ہے کہ تمہیں ذبح کر رہا ہوں۔ تمہاری کیا رائے ہے تو انہوں نے فرمایا کہ
ابو جان! جس چیز کا آپ کو حکم دیا گیا ہے، وہ کر گزریں: اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ (سورت صافات: 102)
یعنی اگرچہ آپ کی اور والدہ ھاجرہ علیھا السلام کی تربیت نے میرے اندر اللہ کے احکامات کو ماننے کےلیے صبر پیدا کر دیا ہے، اب میں ہر قربانی کےلیے تیار ہوں لیکن پھر بھی مجھے اپنے اوپر اعتماد نہیں ہے۔ میرا نفس کسی وقت بھی کمزور پڑ سکتا ہے۔ اس لیے اگر اللہ نے چاہا تو آپ دیکھیں گے کہ میں چھری کے نیچے نہ گردن ہلاؤں گا اور نہ اُف کروں گا۔
اس طرح کی دیگر کئی آیات بھی ہیں جن سب کو ملا کر پڑھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مومن شخص کی زندگی میں ’ان شاء اللہ‘ کی کس قدر اہمیت ہے۔ جب یہ جملہ شعور کے ساتھ ادا کیا جائے تو دل کو سکون سے بھر دیتا ہے، کندھے سے بوجھ اتار دیتا ہے اور اپنی ذات کے بجائے اللہ کی ذات پر اعتماد و یقین کو بڑھا دیتا ہے۔
اس لیے سورہ ھود کی ایت 88 میں نیکی کی دعوت دیتے ہوئے اللہ تعالی کے نبی نے یہ بھی فرمایا:
میں تو اصلاح کرنا چاہتا ہوں جہاں تک بھی میرا بس چلے۔ اور یہ جو کچھ میں کرنا چاہتا ہوں اس کا سارا انحصار اللہ کی توفیق پر ہے، اُسی پر میں نے بھروسہ کیا اور ہر معاملہ میں اسی کر طرف رُجوع کرتا ہوں۔
وما توفیقی الا باللہ سے ان شاءاللہ کی مزید صراحت ملتی ہے کہ کوشش اور استطاعت کی توفیق بھی اسی رب کی طرف سے انعام ہے اور کامیابی کا دارومدار بھی اسی رب کی چاہت اور عنایت پہ منحصر ہے ۔
سورہ الفرقان آیت 10 پہ غور کیجیے:
’بڑا بابرکت ہے وہ جو اگر چاہے تو ان کی تجویز کر دہ چیزوں سے بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر تم کو دے سکتا ہے ، (ایک نہیں)بہت سے باغ جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں ، اور بڑے بڑے محل۔۔‘
یعنی اگر اللہ چاہے تو اپنے بندوں کو دنیا کی حقیر چیزوں سے زیادہ بہتر انعامات دینے پہ قادر ہے ۔
خود رب العالمین نے اپنے کلام میں جنت اور جہنم کے بارے میں ایک فیصلہ کن بات فرمائی لیکن اس پہ بھی خود ہی استثناء فرمایا :
جو بد بخت ہوں گے وہ دوزخ میں جائیں گے (جہاں گرمی اور پیاس کی شدت سے) وہ ہانپیں گے اور پھنکارے ماریں گے ،اور اسی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے جب تک کہ زمین و آسمان قائم ہیں، اِّلا یہ کہ تیرا ربّ کچھ اور چاہے۔ بے شک تیرا ربّ پُورا اختیار رکھتا ہے کہ جو چاہے کرے۔
رہے وہ لوگ جو نیک بخت نکلیں گے، تو وہ جنّت میں جائیں گے اور وہاں ہمیشہ رہیں گے جب تک زمین و آسمان قائم ہیں ، اِلّا یہ کہ تیرا ربّ کچھ اور چاہے۔ ایسی بخشش ان کو ملے گی جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا۔ سورہ ھود: 106 تا 108
مندرجہ بالا آیات (الا ما شاء ربک ) سے یہ یقین پختہ ہوتا ہے کہ رب العالمین کے فیصلوں کو کوئی بدلنے کا مجاز نہیں الا یہ کہ وہ خود ایسا چاہے کیونکہ وہ مالک کل کائنات ہے ۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی کام پر قسم کھائی پھر ان شاءاللہ کہا تو اس نے استثناء کر لیا سنن ابن ماجہ ” 2021۔
سورہ القلم کی ابتدائی آیات میں باغ کے مالکوں کے ارادوں کا ذکر ہے کہ انہوں نے توڑنے کا پکا ارادہ قسم کھا کر کیا تو اس پہ استثناء نہیں کیا ۔۔ یعنی جو کچھ وہ منصوبہ بنا رہے تھے اس پہ ان شاءاللہ نہیں کہا ۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے قسم کھائی اور ان شاءاللہ کہا تو وہ چاہے قسم کو پورا کرے چاہے نہ پورا کرے وہ حانث (قسم توڑنے والا ) نہ ہو گا ۔ یعنی کفارہ نہیں دینا ہوگا ۔
(سنن ترمذی: 153)
سورہ الکہف میں اللہ تعالی نے فرمایا :
اور جب تم اللہ کا ذکر کرنا ( ان شاءاللہ کہنا ) بھول جاؤ تو جس وقت یاد آئے اس وقت کہہ دو۔
سیدنا عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں :اس کا معنی یہ ہے کہ اگر اِنْ شَاءَ اللّٰہ کہنا یاد نہ رہے تو جب یاد آئے کہہ لو۔ یاد آنے کی مدت کے بارے میں حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ اگرچہ ایک سال بعد یاد آئے اور امام حسن بصری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا ہے کہ جب تک اس مجلس میں رہے ، اِنْ شَاءَ اللّٰہ کہہ لے۔
بقول سلف صالحین کے اگر کسی بات پہ ان شاءاللہ نہ کہنے کا کوئی واقعہ یا کوئی بات مرض الموت میں یاد آجائے تو ان شاءاللہ کہہ دے ( خازن، الکھف، تحت الآیۃ: ۲۴، ۳ / ۲۰۷)
نبی ﷺ نے مریض کی عیادت کے وقت جو کلمات سکھائے اس میں بھی امید کا دامن اللہ تعالی کی رحمت کے ساتھ باندھا جاتا ہے ۔
‘ان شاءاللہ تم ٹھیک ہو جاؤگے فکر نہ کرو ’۔
یعنی کسی بھی پریشان حال کو تسلی دیتے وقت اسے قادر مطلق کے حوالے کر دیا جاتا ہے ۔
ہر وقت یہ احساس غالب رہے کہ ہمارے چاہنے سے کچھ بھی نہیں ہو سکتا جب تک اللہ رب العالمین کی مشیئت ،چاہت شامل حال نہ ہو ۔
ہم ان شاء اللہ کہتے وقت شعوری کوشش کرکے نیت اور ارادے میں کھوٹ نہ آنے دیں ۔ اللہ تعالیٰ پہ مکمل بھروسہ رکھیں ، لیکن انجام کار جو بھی ہو اس پہ راضی رہیں۔ یہی عمل ہمارے آخری لمحے کام آئے گا ان شاءاللہ جب نفس مطمئنہ کو ندا آئے گی ۔
’اے نفس مطمئنہ ! چل اپنے رب کی ملاقات کو ( اس کیفیت میں کہ ) تم اس سے راضی اور وہ تم سے راضی و خوش ۔‘( الفجر)










