سفر ایران کی دلچسپ اردو داستان
سی و سِہ پل — وقت، پانی اور لوگوں کی گپ شپ
نقشِ جہاں اسکوائر کی سیر کے بعد بھی اِصفہان مجھ سے مطمئن نہ تھا۔ کچھ شہر ایسے ہوتے ہیں جو ایک چوک پر ختم نہیں ہوتے، وہ تعاقب کرتے ہیں۔ اِصفہان بھی انہی ضدی شہروں میں سے تھا۔ یہاں دو مقامات ایسے تھے جنہیں دیکھے بغیر اِصفہان دیکھنے کا دعویٰ ادھورا رہتا ہے: سی و سِہ پل اور خاجو پل۔
یوں سمجھ لیجیے کہ اگر آپ نے سی و سِہ پل نہ دیکھا تو آپ نے اِصفہان کو صرف سلام کیا ہے، مصافحہ نہیں کیا۔
ایران کے دو سو ریال کے نوٹ کی پشت پر سی و سِہ پل کی تصویر چَھپی ہے۔ میں نے سوچا، جو پل کرنسی پر آ جائے، وہ یا تو حد درجہ مضبوط ہوتا ہے یا حد درجہ رومانوی—اور یہ پل دونوں اوصاف رکھتا تھا۔
مسجدِ شاہ عباس میں آنکھوں اور دل کی زیارت کے بعد میں بازارِ قیصریہ کے اندر سے گزرتا ہوا نقشِ جہاں اسکوائر سے باہر نکلا اور جنوب کی سمت تقریباً دو کلومیٹر پیدل چل کر دریائے زایندہ پر باندھے گئے اس پل تک جا پہنچا۔
یہی تھا سی و سِہ پل—یعنی تینتیس محرابوں والا پل۔ فارسی میں 33 کو سی و سِہ کہتے ہیں۔ روایت یہ بھی سننے کو ملتی ہے کہ ابتدا میں اس پل میں چالیس محرابیں تھیں، مگر وقت نے کچھ ہضم کر لیں اور صرف تینتیس باقی رہ گئیں۔ البتہ تاریخ اس کہانی کی تصدیق نہیں کرتی، اور تاریخ ویسے بھی افواہوں سے ذرا بدظن واقع ہوئی ہے۔
یہ صفوی عہد کی فنِ تعمیر کا ایک شاندار نمونہ ہے۔ اس کی تعمیر کے دو مقاصد تھے: ایک تو اسے بند، یعنی ڈیم کے طور پر استعمال کرنا، اور دوسرا دریا کے شمال اور جنوب کو ملانا۔ یہ پل 14 میٹر چوڑا اور 298 میٹر طویل ہے۔ پتھر سے بنی 33 محرابوں پر مشتمل یہ دو منزلہ پل ابتدا میں ‘پلِ اللہ وردی خان‘ کہلاتا تھا۔ اسی اللہ وردی خان کے نام پر جو اس کے چیف آرکیٹکٹ اور انجینئر تھے۔
شاہ عباس اوّل کے عہد میں اس پل کی تعمیر 1599 میں شروع ہوئی اور 1602 میں مکمل ہوئی۔
سی و سِہ پل شارعِ چہار باغ کو شمالاً جنوباً ملاتا ہے۔ یہی سڑک پل کی دوسری منزل سے گزرتی ہوئی دریا کے جنوبی کنارے تک چلی جاتی ہے۔ پل کے قریب آرمینیائی نسل کے زرتشتی اپنی مذہبی رسومات ادا کیا کرتے تھے۔ پل کے شمال میں شاہی اشرافیہ آباد تھی اور جنوبی کنارے پر آرمینیائی نسل کے عام لوگ۔ یہ آرمینیائی پارسی تھے، یعنی زرتشت کے پیروکار۔ دریائے زایندہ کا پانی پل کے شمالی حصے میں تیزی سے بہتا تھا، اسی لیے وہاں بڑی اور کشادہ محرابیں بنائی گئی تھیں۔ لگتا تھا کہ معمار نے پانی کے مزاج کو بھی نقشے میں شامل کر رکھا تھا۔
میں شارعِ چہار باغ کی طرف سے، یعنی دریا کے شمالی کنارے سے، اس پل پر چڑھا۔ آغاز میں دو گول برجیاں بنی تھیں، جیسے خاموش دربان۔ یہی انداز پل کے جنوبی کنارے پر بھی دہرایا گیا تھا، مگر وہاں برجیاں کچھ زیادہ عریض تھیں—شاید واپسی پر مسافر کو زیادہ دیر روکنے کے لیے۔
پل کے درمیان پکا ہوا فرش تھا، جس میں جگہ جگہ دراڑیں پڑ چکی تھیں۔ یہ دراڑیں مجھے یوں لگیں جیسے پتھر بھی وقت کے ہاتھوں تھک جاتے ہوں۔ دونوں طرف فٹ پاتھ تھے، اور فٹ پاتھ کے ساتھ دیواروں میں بڑے بڑے طاقچے بنے ہوئے تھے۔ ان طاقچوں میں لوگ بیٹھے گپ شپ کر رہے تھے۔ زیادہ تر غیر شادی شدہ لڑکے اور لڑکیاں تھے، اور ہر طرف فارسی بولی جا رہی تھی—نرم، مترنم، اور بلا اجازت کانوں میں اترتی ہوئی۔میں بھی سستانے کی نیت سے ایک طاقچے میں بیٹھ گیا۔ قریب سے دیکھا تو ان چھوٹی اینٹوں والی دیواروں پر ہاتھوں کی کالک صاف نظر آ رہی تھی۔
صدیوں کے بیٹھنے والوں کے ہاتھوں کی کالک—جیسے لوگ جاتے ہوئے دیوار کو چھو کر یہ یقین کر لیتے ہوں کہ وہ واقعی یہاں آئے تھے۔
پل پر لوگوں کا ایک ریلا سا تھا: مرد، عورتیں، بچے، بوڑھے—سب اپنی اپنی رفتار سے۔ کچھ بچے سائیکل چلاتے ہوئے گزر رہے تھے، جیسے یہ تاریخی پل ان کے لیے محض ایک عام سڑک ہو۔ نوجوانوں کی ایک ٹولی طاقچوں میں بیٹھی فارسی کے نغمے گنگنا رہی تھی۔ نہ ساز تھا، نہ باجا—صرف آوازیں اور پل، جو شاید یہ سب پہلے بھی سن چکا تھا۔
نوجوان لڑکیاں پتلون اور لمبا کوٹ پہنے ہوئے تھیں۔ بے اختیار مجھے جولائی 2001 کا پاکستان یاد آ گیا، جہاں اس وقت لڑکیاں عموماً شلوار قمیض ہی پہنا کرتی تھیں۔ یہ پرویز مشرف کے دور کی ابتدا تھی۔
مشرف کے زمانے میں ڈراموں اور فیشن میگزینز کے ذریعے پاکستانی لڑکیوں کو پتلون پہننے کی ترغیب دی گئی۔ یہ فیشن بڑے شہروں سے نکل کر گاؤں گاؤں پہنچا، اور لوگوں نے اسے قبول کر لیا۔ اب مذہبی گھرانوں کی بچیاں بھی اس طرزِ لباس کو اختیار کر چکی ہیں، اور اب یہ کوئی انہونی بات نہیں رہی۔
ایران میں، تاہم، یہ تبدیلی بہت پہلے آ چکی تھی—بیسویں صدی میں، یعنی تقریباً سو سال پہلے، رضا شاہ پہلوی کے دور میں۔ اب ایرانی لڑکیاں اسکارف کے ساتھ دوپٹہ بھی لینے لگی ہیں۔ میں سوچ رہا تھا کہ لباس بھی تاریخ کا ایک باب ہوتا ہے، جو خاموشی سے پڑھا جاتا ہے۔ پل کے اختتام پر راستہ ایک ڈھلان کی صورت میں نیچے اترنے لگا۔ چاروں طرف درخت تھے۔ یوں لگا جیسے پل ختم ہوتے ہی شہر پیچھے رہ گیا ہو۔
رات کو سی و سِہ پل کا منظر یکسر بدل گیا۔ 33 محرابیں زردی مائل قمقموں سے روشن ہو گئیں۔ پیدل راستے کے بڑے بڑے طاقچے بھی جگمگا اٹھے۔ دو منزلہ پل رات کے اندھیرے میں یوں لگ رہا تھا جیسے کسی پرانی داستان کا روشن صفحہ کھل گیا ہو۔
گرمیوں میں لوگ عموماً رات کو یہاں آتے ہیں، سردیوں میں شدید سردی کے باعث کم۔ دور سے دیکھنے پر یہ 33 محرابیں 33 روشن طاقچوں کی مانند دکھائی دے رہی تھیں، جیسے ہر طاقچے میں ایک چراغ جل رہا ہو اور اس کا عکس پانی پر لرز رہا ہو۔
اسی لمحے شاعر کا مصرع یاد آیا:
پانی میں عکس اور کسی آسماں کا ہے
یہ ناؤ کون سی ہے یہ دریا کہاں کا ہے
نچلی اور اوپری منزل کی محرابیں الگ الگ منظر پیش کر رہی تھیں۔ نچلی منزل کی محرابیں کشادہ تھیں، جن میں سے دریا کا پانی بہہ رہا تھا، اور اوپری منزل کی محرابیں نسبتاً چھوٹی تھیں۔ یہ دریا سال کے بیشتر حصے میں خشک رہتا ہے۔
ماہرینِ ارضیات کے مطابق اس پل کی بنیاد اس طرح رکھی گئی ہے کہ اس کی مضبوطی پانی میں ڈوبے رہنے سے مشروط ہے، اور دریا کا طویل عرصے تک خشک رہنا سی و سِہ پل کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ یوں یہ پل، جو صدیوں سے لوگوں کو ملاتا آیا ہے، آج خود پانی کا محتاج ہے—جیسے کوئی دانا بزرگ، جس کی زندگی کا دار و مدار یادوں پر ہو۔
خاجو پُل — جہاں دریا ٹھہرتا ہے، اور آدمی بہنے لگتا ہے
دریائے زایندے پر ایک پل اور بھی باندھا گیا تھا، جو سی و سِہ پل کے مشرق میں تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ سی و سِہ پل کا مشاہدہ مکمل کرنے کے بعد میں نے دریا کے شمالی کنارے کے ساتھ ساتھ بنی سڑک پر پیدل چلنا شروع کیا۔
چار سو میٹر چلنے کے بعد جدید دور میں تعمیر کیے گئے فردوسی پل سے دریا عبور کیا اور پھر دریا کے جنوبی کنارے کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ راستے میں دریا میں کشتیاں چلتی دیکھیں—پانی میں تیرتی ہوئی، جیسے دریا کے دل پر آہستہ آہستہ لکیریں کھینچ رہی ہوں۔
یوں ڈیڑھ کلومیٹر کے مشاہدے کے بعد میں خاجو پل پر پہنچ گیا۔ اس پل کا نام خاجو پل ہے۔ خاجو دراصل خواجہ کی بگڑی ہوئی شکل ہے، اور صفوی دور میں خواجہ کا لقب اعلیٰ عہدیداران کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ پل بھی بند کا کام دیتا تھا اور پانی کی گزرگاہ بھی تھا۔ اس کے شمال میں صفوی اشرافیہ کے محلات ہوا کرتے تھے، جبکہ جنوبی کنارے پر آرمینیائی پارسی آبادی رہا کرتی تھی۔
یہ بھی یاد رہے کہ صفوی حکمران بنیادی طور پر آذربائیجانی نسل کے شیعہ (قزلباش ترکمان قبائلی) تھے— ایک حقیقت جو تاریخ کے اوراق میں اکثر سرسری انداز میں گزر جاتی ہے۔
شارعِ کمال پر چلتے ہوئے میں خاجو پل تک جا پہنچا۔ یہ پل خاصا چوڑا تھا اور پہلی ہی نظر میں ایک الگ وقار رکھتا تھا۔ اس کی محرابوں پر کی گئی کاشی کاری نے اسے غیر معمولی حد تک دلکش بنا دیا تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے اینٹوں اور کاشیوں کے درمیان رنگ بھی سانس لے رہے ہوں۔
اس پل پر بھی پیدل چلنے کے لیے ایک کشادہ راستہ بنایا گیا تھا، جس کے دونوں اطراف دیواریں تھیں۔ ان دیواروں میں بڑے بڑے طاقچے بنے ہوئے تھے، مگر سی و سِہ پل کے برعکس یہاں طاقچوں کے آر پار دیکھا نہیں جا سکتا تھا۔
فیروزی، سفید اور زرد رنگ کے بیل بوٹے ان طاقچوں پر کندہ تھے—سادہ مگر نفیس، جیسے صفوی ذوق نے حد میں رہ کر حسن تخلیق کیا ہو۔
ان دیواروں میں ہر چار طاقچوں کے بعد دونوں اطراف ایک محراب بنائی گئی تھی، جہاں کھڑے ہو کر دریائے زایندے کا پُرشکوہ نظارہ کیا جا سکتا تھا۔
میں بھی ایک ایسی محراب میں جا کھڑا ہوا۔ پانی کا شور مسلسل کانوں میں پڑ رہا تھا، اور اس شور میں آدمی خود کو بھولنے لگتا ہے۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے دریا مجھ سے باتیں کر رہا ہو، جیسے کہہ رہا ہو:
شورِ دریا ہے کہانی میری
پانی اس کا ہے روانی میری
ان محرابوں سے دریا کو دیکھتے ہوئے نگاہ جہاں تک جاتی، دونوں کناروں پر سرسبز و شاداب باغات پھیلے ہوئے تھے۔ پل کے چینل سے گزرتا ہوا پانی شفاف ہو جاتا تھا، مگر آگے جا کر دریا کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ وہی پانی کچھ گدلا سا دکھائی دینے لگتا تھا—جیسے شفافیت بھی ہجوم میں اپنی پہچان کھو دیتی ہو۔
سی و سِہ پل کے برعکس، خاجو پل کا فرش اینٹوں سے چنا گیا تھا۔ صفائی کا یہ عالم تھا کہ کہیں کوئی گندگی نظر نہ آئی۔ مقامی اور بین الاقوامی سیاحوں کی خاصی بھیڑ تھی، جو بے فکری سے ادھر اُدھر ٹہل رہے تھے۔ ان میں اکثریت گورے یورپی سیاحوں کی تھی، جو کیمروں کے ساتھ ایسے مصروف تھے جیسے وقت کو قید کر لینے آئے ہوں۔
خاجو پل اِصفہان کے خوبصورت ترین پلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ پل شاہ عباس دوم کے زمانے میں 1650 میں تعمیر کیا گیا۔ شاہ عباس دوم صفوی عہد کا ساتواں بادشاہ تھا۔1873ء میں اس پل کی مرمت کی گئی۔ یہ پل سی و سِہ پل کے تقریباً 48 سال بعد تعمیر ہوا۔ اس کی 23 محرابیں ہیں، لمبائی 133 میٹر اور چوڑائی 12 میٹر ہے۔چھوٹی چھوٹی اینٹوں اور نفیس کاشی کاری سے مزین یہ پل بنیادی طور پر ایک چائے خانے کے طور پر استعمال ہوتا تھا، جہاں آرمینیائی عوام اور صفوی اشرافیہ اکٹھے بیٹھ کر چائے پیتے، گفتگو کرتے اور ادبی و سیاسی محفلیں جماتے تھے۔
اس پل میں 21 داخلی اور خارجی چینل تھے، جن میں سے پانی بہتا تھا۔ یہ چینل محرابی شکل کے تھے—کچھ بڑے، کچھ چھوٹے۔ ایک چینل ساڑھے سات میٹر چوڑا تھا، اور ایک چینل سے دوسرے چینل کا فاصلہ 21 میٹر رکھا گیا تھا۔اس پل کی تعمیر میں استعمال ہونے والے پتھر دو میٹر طویل تھے—یعنی یہ پل صرف حسن پر نہیں، حساب پر بھی کھڑا تھا۔ پل کے عین درمیان ایک شاندار حجرہ (pavilion) بنایا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ شاہ عباس دوم یہاں بیٹھ کر دریا کے نظارے سے لطف اندوز ہوا کرتا تھا۔
یہ آٹھ کونوں والا وسیع حجرہ شاہی آرام گاہ کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ یہ حجرہ صفوی فنِ تعمیر کا حسین نمونہ تھا۔ بہت سے شعرا نے یہاں بیٹھ کر اپنا دیوان قرطاس پر منتقل کیا—جن میں صائب تبریزی کا نام نمایاں ہے۔ مورخین کے مطابق، شاہ عباس دوم کا خاجو پل تعمیر کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اِصفہان کے دو اضلاع—باب حسن آباد اور تخت فولاد—کو شارعِ شیراز سے ملا دیا جائے۔
جب میں اس حجرے میں داخل ہوا تو مجھے یہ لاہور کے بادشاہی قلعے کے حجروں سے خاصی مشابہت رکھتا محسوس ہوا۔ دریا کے نظارے کے لیے ایک بالکونی بنی ہوئی تھی۔ دیواروں پر نقش و نگار سونے کے پانی سے کندہ کیے گئے تھے، اور گلابی رنگ کی قلعی، دیواروں پر اب بھی اپنی جھلک دکھا رہی تھی۔
اس حجرے کے درمیان سے پل کا راستہ گزرتا تھا، یوں پل دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا تھا۔ دونوں طرف کے حجرے مل کر ایک آٹھ کونوں والی عمارت کی شکل اختیار کر لیتے تھے—واقعی فنِ تعمیر کا شاہکار۔
چھتیں بھی محرابی تھیں اور ان پر دیدہ زیب نقاشی کی گئی تھی۔خاجو پل کی ایک خاص بات اس کی نچلی منزل تھی، جہاں تھَڑیاں بنی ہوئی تھیں۔ یہاں دریا کا پانی چینل سے گزرتا ہوا پوری قوت سے بہتا تھا۔ ایرانی مرد و خواتین ان تھَڑیوں پر بیٹھے دریائے زایندے کے یخ بستہ پانی میں پاؤں لٹکائے ہوئے تھے۔
میرا بھی دل چاہا کہ میں اس تجربے میں شریک ہو جاؤں۔ میں نے جوتے اتارے اور چند لمحوں کے لیے پاؤں پانی میں ڈالے، مگر پانی اتنا یخ تھا کہ میرا سر چکرانے لگا۔ یوں میں نے اس برفانی تجربے کو یہیں خیر باد کہہ دیا۔
نچلی منزل میں ایک مقام پر کھڑے ہو کر محراب در محراب کا منظر بے حد دلکش دکھائی دیتا تھا۔ انہی غیر متصل محرابوں میں کچھ ایرانی طالبات مطالعہ میں مشغول تھیں۔ قریب ہی دریا شور مچاتا گزر رہا تھا—ایسے میں پڑھنے کا مزہ شاید کہیں اور نصیب نہ ہو۔
ان محرابوں کے عین اوپر پل کا پیدل چلنے کا راستہ تھا، جیسے علم اور زندگی ایک دوسرے کے اوپر متوازی چل رہے ہوں۔
خاجو پل کی یہ حیرت انگیز محرابیں پہلی ہی نظر میں توجہ کھینچ لیتی ہیں، خاص طور پر رات کے وقت، جب انہیں رنگ برنگے قمقموں سے روشن کیا جاتا ہے۔ اپنی تعمیر کے 375 سال گزر جانے کے باوجود یہ پل آج بھی اپنی اصل حالت میں موجود ہے—گویا وقت نے یہاں آ کر آہستہ چلنے کا فیصلہ کر لیا ہو۔
یوں سی و سِہ پل اور خاجو پل—ایک دریا، دو مزاج، اور ایک مسافر—میرے سفر کا وہ باب بن گئے جہاں وقت بہتا رہا، اور میں کچھ دیر ٹھہر گیا۔










