مہتاب عزیز
متحدہ عرب امارات (UAE) غالباً جدید تاریخ میں اپنی خارجہ پالیسی میں سب سے زیادہ ڈرامائی تبدیلی کرنے والی ریاست ہے۔
1971 میں شیخ زید بن سلطان آل نہیان نے عرب قوم اور پین اسلامک یکجہتی کے اصولوں پر یہ فیڈریشن قائم کی تھی، جو اب شیخ محمد بن زید آل نہیان (MbZ) کی قیادت میں جارحانہ مداخلت پسندی اور سیکورٹی پر مبنی حقیقت پسندی (Security-driven Realism) کی علمبردار ہے۔
امارات کے ‘سافٹ پاور ثالث’ سے ‘ہارڈ پاور مداخلت کار’ میں منتقلی کے سفر کا مطالعہ جیو پولیٹکس اور عالمی امور کے طالب علموں کے لیے خاص دلچسپی کا حامل ہے۔
اپنے وجود کی پہلی تین دہائیوں تک، متحدہ عرب امارات کی خارجہ پالیسی اس کے بانی شیخ زید بن سلطان آل نہیان کی شخصیت اور ان کے عالمی نقطہ نظر سے جڑی رہی۔ شیخ زید کا نقطہ نظر ’محتاط سفارت کاری‘، انسانیت دوستی، اور عرب و اسلامی اتحاد سے گہری وابستگی پر مبنی تھا۔ ان کا حکمرانی کا فلسفہ اس یقین پر مبنی تھا کہ متحدہ عرب امارات، ایک چھوٹی اور دولت مند ریاست کے طور پر، خطے میں ایک جنگجو کے بجائے ایک پل کا کردار ادا کرے گی، جو تنازعات کو کم کرنے اور بھائی چارے کو فروغ دینے کا سبب بنے۔
شیخ زید کی خارجہ پالیسی تین بنیادی ستونوں پر کھڑی تھی:
عرب قومی اتحاد
پین اسلام ازم (Pan-Islamism)
عدم مداخلت
شیخ زید بنیادی طور پر ’مثبت سوچ اور غلطیوں کو نظر انداز’ کرنے کے حامی تھے۔ وہ پیشین گوئی کیا کرتے تھے کہ ’ایک دن تمام عرب یکجا ہوں گے اور منفی رویوں کو فراموش کر دیا جائے گا۔‘ یہی وہ بنیاد تھی جس نے یو اے ای کو صحرائے عرب میں ایک پرامن نخلستان کے طور پر متعارف کرایا اور دبئی کے معاشی عروج کے لیے گنجائش فراہم کی۔
شیخ زید کا اعلانیہ موقف تھا کہ مسئلہ فلسطین محض ایک علاقائی تنازعہ نہیں، بلکہ ’امت مسلمہ‘ کا اخلاقی فریضہ ہے۔ ان کے عہد میں امارات کی خارجہ پالیسی کی شناخت ہی فلسطین کی حمایت تھی۔ مسئلہ فلسطین، امت اور عرب قومیت کے حوالے سے شیخ زید پر سب سے فیصلہ کن لمحہ 1973 کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران آیا تھا، جب انہوں نے مغربی اتحادیوں کے دباؤ کو مسترد کر دیا تھا۔ شیخ زید نے اس موقع پر ایک تاریخی جملہ کہا کہ ’عرب تیل عرب خون سے زیادہ قیمتی نہیں ہے،‘ اور اسرائیل کی حمایت کرنے والے تمام ممالک بشمول امریکا کو تیل کی برآمدات روک دی تھیں۔
شیخ زید نے پوری زندگی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے سے انکار کیا اور واضح موقف اختیار کیا کہ جب تک اسرائیل فلسطینی مقبوضہ علاقے خالی نہیں کرتا، اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنا عرب قوم کے ساتھ غداری ہے۔ اسی بنیاد پر متحدہ عرب امارات فلسطینی انفراسٹرکچر، اسکولوں اور اسپتالوں کا ایک بڑا مالی معاون تھا؛ یاسر عرفات اور پی ایل او کے ساتھ ہمیشہ قریبی تعلقات برقرار رکھے، یہاں تک کہ جب دیگر خلیجی ریاستیں ہچکچا رہی تھیں، امارات کھل کر فلسطینی حریت پسندوں کی حمایت کرتا رہا۔ (شیخ زید کی وفات پر فلسطین میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا تھا)۔
سال 2004 میں شیخ زید کی وفات کے بعد، امارات کی طاقت آہستہ آہستہ ان کے بیٹے، شیخ محمد بن زید (MbZ) کے گرد مرکوز ہونا شروع ہو گئی، وہ پہلے ابوظہبی کے ولی عہد اور پھر شیخ خلیفہ بن زید کی وفات کے بعد امارات کے سربراہ بن گئے۔
محمد بن زید (MbZ) کا عروج اور ابوظہبی کے اندر اقتدار کا ان کی شخصیت میں ارتکاز (Consolidation of Power) "پراسرار” اموات کا مرہونِ منت سمجھا جاتا ہے۔ مبصرین اور ناقدین MbZ کے اقتدار پر غیر معمولی کنٹرول کو ان کے بااثر بھائیوں کی پراسرار اور اچانک اموات سے جوڑتے ہیں۔ مثال کے طور پر شیخ احمد بن زید، جو ابوظہبی انویسٹمنٹ اتھارٹی (ADIA) کے سربراہ تھے اور دنیا کے سب سے بڑے خودمختار دولت فنڈز (Sovereign Wealth Funds) میں سے ایک کو کنٹرول کرتے تھے، 2010 میں مراکش میں ایک گلائیڈر طیارے کے حادثے میں پراسرار طور پر ہلاک ہو گئے۔ سرکاری بیان کے مطابق یہ ایک حادثہ تھا، لیکن ناقدین (جیسے جلا وطن میڈیا اور ایمریٹس لیکس) نے سوالات اٹھائے کہ کیا انہیں راستے سے ہٹایا گیا تاکہ ملک کے مالیاتی کنٹرول کو MbZ کے براہ راست ماتحت لایا جا سکے۔ ان کی موت کے بعد، MbZ کے سگے بھائی شیخ حامد بن زید نے ADIA کا کنٹرول سنبھال لیا۔
اسی طرح شیخ ناصر بن زید، جو شیخ زید کے ایک اور بااثر بیٹے تھے، 2008 میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہوئے۔ حال ہی میں شیخ سعید بن زید کی پراسرار وفات، جسے سرکاری طور پر علالت قرار دیا گیا، پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا۔
ناقدین کا الزام ہے کہ یہ اموات محض اتفاقات نہیں تھیں بلکہ اقتدار کی رسہ کشی کا حصہ تھیں جس کا مقصد دیگر بااثر بھائیوں کو منظر سے ہٹانا اور "بنی فاطمہ” (شیخ زید کی اہلیہ فاطمہ بنت مبارک کے چھ بیٹے، جن میں MbZ سب سے بڑے ہیں) کی گرفت مضبوط کرنا ہے۔ اس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ MbZ اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے خاندانی تعلق کی پروا نہیں کرتے، اور خارجہ پالیسی میں انتہائی بے رحم (Ruthless) ثابت ہوئے ہیں۔ اسی بنیاد پر MbZ کو "عربوں کا شیطان” (Devil of the Arabs) کا لقب دیا گیا۔
ریاستی پالیسی کے طور پر MbZ نے اپنے والد کی مثالیت پسندی سے انحراف کرتے ہوئے ایک "پیچیدہ حقیقت پسندانہ” (Complex Realist) نقطہ نظر اپنایا جو بقول ان کے، خطرے کے ادراک (Threat Perception) پر مبنی ہے۔ وہ اس جوہری تبدیلی کا محرک دو خطرات قرار دیتے ہیں:
اول: سیاسی اسلام: خاص طور پر اخوان المسلمون، جسے MbZ ایک ایسی بین الاقوامی انقلابی تحریک قرار دیتے ہیں جو خلیجی بادشاہتوں کو اندر سے چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔
دوم: ایرانی توسیع پسندی: خطے میں ایران کی زیر قیادت "مزاحمتی محور” (Axis of Resistance) کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ۔
2011 کی عرب بہار امارات کی خارجہ پالیسی میں فیصلہ کن موڑ بنی۔ MbZ نے اس انقلاب کو عرب بادشاہتوں کے لیے خطرہ دیکھا، نتیجتاً، متحدہ عرب امارات دیگر عرب ممالک کی طرح محض "ردِ عمل” دینے کے بجائے ایک فعال "ردِانقلاب” (Counter-Revolutionary) کی طرح سامنے آئی۔ اپنے مفادات کو محفوظ بنانے کے لیے، متحدہ عرب امارات نے اپنی سرحدوں سے بہت دور طاقت کا مظاہرہ کرنے کی حکمت عملی اپنائی، جس میں اکثر پراکسی ملیشیا، کرائے کے فوجیوں اور فضائی طاقت کا استعمال کیا گیا۔
یمن متحدہ عرب امارات کی جارحانہ یکطرفہ پسندی کی سب سے واضح مثال ہے۔ یو اے ای 2015 میں قانونی حکومت کی بحالی اور حوثی باغیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سعودی قیادت والے اتحاد میں شامل ہوا، لیکن یمن میں ابوظہبی کے مقاصد جلد ہی ریاض سے جدا ہو گئے۔ یمن کی مرکزی حکومت (جو کہ اصلاح پارٹی، یعنی اخوان المسلمون کی اتحادی تھی) کی حمایت کرنے کے بجائے، متحدہ عرب امارات نے علیحدگی پسند جنوبی عبوری کونسل (STC) کو مالی اور عسکری مدد فراہم کرنا شروع کی۔ اس کے ذریعے یمن کے جنوبی ساحل، آبنائے باب المندب، اور جزیرہ سقطرہ (Socotra) پر قبضہ مضبوط کیا۔ یہ عرب امارات کی اہم سمندری رسد کے راستوں کو کنٹرول کرنے کی ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اگرچہ اب یو اے ای نے باضابطہ طور پر اپنی فوجیں نکالنے کا اعلان کر دیا ہے، لیکن اس کا پراکسی نیٹ ورک اب بھی یمنی خودمختاری اور سعودی مفادات کو چیلنج کر رہا ہے۔
لیبیا میں، متحدہ عرب امارات فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر اور ان کی لیبین نیشنل آرمی (LNA) کا بنیادی سرپرست بن گیا۔ اس کا مقصد طرابلس میں اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ گورنمنٹ آف نیشنل اکارڈ (GNA) کا تختہ الٹنا تھا، جس پر اسلام پسندوں کا اثر و رسوخ تھا۔ متحدہ عرب امارات نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی براہ راست خلاف ورزی کرتے ہوئے حفتر کو جدید ہتھیار فراہم کیے، اور یو اے ای کی فضائیہ نے لیبیا میں براہ راست فضائی حملے بھی کیے۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات نے روسی اور امریکی پرائیویٹ ملیشیاؤں کو لیبیا میں اسلام پسندوں پر حملوں کے ٹھیکے دیے۔
سوڈان کا تنازعہ ثبوت ہے کہ متحدہ عرب امارات معاشی اور سیاسی مفادات کے حصول کے لیے غیر ریاستی اداکاروں (Non-state actors) پر کس طرح انحصار کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین اور بین الاقوامی مبصرین نے متحدہ عرب امارات کو محمد حمدان دگالو (حمیدتی) کی ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کا بنیادی فنانسر قرار دیا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر سے چاڈ میں امجاراس ہوائی اڈے (Amdjarass Airport) کی نشاندہی ہوئی ہے، جہاں متحدہ عرب امارات کے کارگو طیارے انسانی ہمدردی کی امداد کے نام پر ہتھیار اور گولہ بارود اتارتے ہیں، جو سرحد پار RSF کو منتقل کیا جاتا ہے۔ سوڈان میں نسل کشی کے مجرم حمیدتی کے ساتھ امارات کی دلچسپی کی بنیاد سوڈان کے سونے کے ذخائر ہیں۔ اس سونے کا ایک بڑا حصہ ہتھیاروں کے عوض دبئی اسمگل کیا جاتا ہے۔
ان براہ راست مداخلتوں کے علاوہ متحدہ عرب امارات نے یورپ اور ایشیا میں اپنے "مخالفین” کی ساکھ کو تباہ کرنے کے لیے ایک جدید انٹیلی جنس اور PR اپریٹس بنا رکھا ہے، جس کا انکشاف "ابوظہبی سیکرٹس” (Abu Dhabi Secrets) کے نام سے تحقیقاتی صحافیوں کی ایک ٹیم نے کیا ہے۔ اس کے مطابق متحدہ عرب امارات کی حکومت نے سوئٹزرلینڈ کی پرائیویٹ انٹیلی جنس فرم، الپ سروسز (Alp Services) کو یورپ میں قطر اور اخوان المسلمون سمیت اسلام پسند افراد اور اداروں کو بدنام کرنے کی مہم کا ٹھیکہ دیا۔
الپ سروسز نے ماریو بریرو (Mario Brero) کی قیادت میں 2017 اور 2020 کے درمیان، 18 یورپی ممالک میں 1,000 سے زیادہ افراد اور 400 تنظیموں کی فہرستیں تیار کیں، جو اکثر عام شہری، ماہرین تعلیم، یا اعتدال پسند مسلم تنظیمیں تھیں۔ انہیں ٹارگٹ کر کے "انتہا پسند” یا "دہشت گردی کے حامی” بنا کر پیش کیا گیا۔ اس آپریشن میں جعلی شخصیات بنانا، ویکیپیڈیا کے صفحات میں ترمیم کرنا، اور یورپی سیکورٹی ایجنسیوں اور بینکوں کو غلط انٹیلی جنس فراہم کرنا شامل تھا تاکہ تحقیقات اور اکاؤنٹس کی بندش کو متحرک کیا جا سکے۔ اس کے لیے مغرب میں موجود اسلاموفوبیا (Islamophobia) کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا۔ اس مہم کا شکار ہونے والے کموڈٹیز ٹریڈنگ فرم "لارڈ انرجی” کے بانی حازم نادا کی مثال عبرت کے لیے کافی ہے۔ یو اے ای حکام کا خیال تھا کہ "لارڈ انرجی” نے مصری الیکشن کے دوران اخوان کی انتخابی مہم میں مالی معاونت کی تھی۔ ان کا تعلق دہشت گردی سے جوڑنے کی جھوٹی لیکن منظم مہم چلائی گئی، جس کی وجہ سے "لارڈ انرجی” کو پابندیوں اور کنٹریکٹس کی منسوخی کا سامنا کرنا پڑا، اور اس صورتحال نے کمپنی کو دیوالیہ کر دیا۔
اسی طرح صدر رجب طیب اردگان کے خلاف 2016 کی بغاوت کی کوشش کے بعد ترک حکام اور میڈیا نے کھلے عام متحدہ عرب امارات پر سازش کرنے والوں کی مالی معاونت کا الزام لگایا تھا۔ تحقیقات کے مطابق متحدہ عرب امارات نے ترکیہ میں مقیم فلسطینی شہری "محمد دحلان” کو فرنٹ مین بنا کر بغاوت کرنے والوں کو فنڈز منتقل کیے۔
بغاوت کی ناکامی کے بعد ترکیہ نے دحلان کے سر پر 700,000 ڈالر کا انعام رکھا اور ان کی گرفتاری کے لیے ریڈ نوٹس جاری کیا تھا۔ اسی طرح ترکیہ کا کہنا تھا کہ یو اے ای میں قائم میڈیا آؤٹ لیٹس مثلاً اسکائی نیوز عربیہ اور العربیہ نے بغاوت کی کامیابی کی فیک نیوز مسلسل چلا کر ترکی کے اندر لوگوں میں شکوک و شبہات پیدا کیے تھے۔
2017 میں قطر کا محاصرہ MbZ کی اسلام پسندی مخالف مہم کا عروج تھا۔ دوحہ پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگاتے ہوئے سفارتی اور تجارتی تعلقات منقطع کرنے کا نظریاتی معمار متحدہ عرب امارات ہی تھا۔ جب 2021 میں العلا (Al-Ula) میں سعودی حقیقت پسندی کی وجہ سے مصالحت کا معاہدہ ہوا تو اس پر دستخط کے باوجود UAE قطر کے بارے میں شکوک و شبہات کا مختلف فورمز پر اظہار کرتا رہا۔
متحدہ عرب امارات کے اسٹریٹجک مفادات مبینہ طور پر پاکستان کی داخلی سلامتی میں خفیہ مداخلت کا باعث بنے ہیں۔ گوادر بندرگاہ کی ترقی، جو چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کا مرکز ہے، متحدہ عرب امارات کی جبل علی بندرگاہ اور خطے کے بنیادی ٹرانس شپمنٹ مرکز کے طور پر دبئی کی حیثیت کے لیے ایک براہ راست تجارتی خطرہ سمجھی جاتی ہے۔
جیو پولیٹیکل تجزیہ کاروں نے طویل عرصے سے نوٹ کیا ہے کہ ایک مکمل طور پر فعال گوادر، متحدہ عرب امارات سے اہم سمندری ٹریفک کو ہٹا سکتا ہے، جس سے چینی توانائی کی درآمدات کا راستہ مختصر ہو جائے گا۔
متعدد دفاعی تجزیہ کاروں نے بارہا الزام لگایا ہے کہ متحدہ عرب امارات، بھارتی انٹیلی جنس (RAW) کے ساتھ مل کر، بلوچ علیحدگی پسند گروپوں، خاص طور پر بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) کو مالی اور لاجسٹک مدد فراہم کرتا رہا ہے، تاکہ CPEC کو سبوتاژ کیا جا سکے اور گوادر کو سرمایہ کاری کے لیے غیر محفوظ بنایا جا سکے۔
رپورٹس بتاتی ہیں کہ باغی گروپوں کے لیے فنڈز مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات کے غیر رسمی مالیاتی نیٹ ورکس (حوالہ) کے ذریعے منتقل کیے جاتے ہیں۔ معروف بلوچ علیحدگی پسند رہنما متحدہ عرب امارات سے کام کرتے رہے ہیں یا وہاں سے ٹرانزٹ لیتے رہے ہیں۔
شاید شیخ زید کی میراث سے سب سے ڈرامائی انحراف 2020 میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا ہے، جسے ابراہیمی معاہدے (Abraham Accords) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ شیخ زید نے تاحیات ثابت قدمی سے یہ موقف اپنائے رکھا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات صرف فلسطینی ریاست (1967 کی سرحدوں کے مطابق) کے قیام کے بعد ہی ہو سکتے ہیں۔ لیکن MbZ نے نہ صرف اسرائیل کو تسلیم کر کے اس کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے بلکہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کا بنیادی دشمن ایران کو قرار دے کر، اسرائیل کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ اور دفاعی تعاون کو باضابطہ بنایا، جس کی بنیاد پر خلیج میں اسرائیلی فضائی دفاعی سینسرز کی تنصیب عمل میں آئی اور یو اے ای کو اسرائیلی سائبر سرویلنس (جیسے پیگاسس اسپائی ویئر) تک رسائی حاصل ہوئی، جس کو دونوں ممالک مل کر اسلام پسندوں کی جاسوسی کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ریاض اور ابوظہبی کے درمیان خلیج وسیع تر ہوتی جا رہی ہے۔ یہ مخاصمت صرف یمن میں پراکسی گروپوں کی حمایت تک محدود نہیں بلکہ معاشی اور قیادت کی سطح پر بھی نمایاں ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان (MBS) کے وژن 2030 کو UAE براہ راست دبئی کے معاشی ماڈل کے لیے چیلنج قرار دیتا ہے۔ حال ہی میں یمن کے انصار اللہ (حوثی گروپ) نے بتایا تھا کہ متحدہ عرب امارات نے انہیں سعودیہ کے زیر تعمیر شہر "نیوم” پر حملہ کرنے کے بدلے بڑے مالی تعاون کی پیشکش کی تھی۔
متحدہ عرب امارات کی موجودہ سمت کا حتمی اور شاید سب سے نازک پہلو اس کی جارحانہ خارجہ پالیسی اور اس کے گھریلو معاشی ماڈل کے درمیان تضاد ہے۔ "لٹل اسپارٹا” والی خارجہ پالیسی، "سنگاپور” کے معاشی ماڈل کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی۔
ایک ریاست جو سیاحت، غیر ملکی لیبر، اور لاجسٹکس پر کھڑی ہو، وہ "شیشے کے گھر” سے مماثلت رکھتی ہے، اس لیے دوسروں پر پتھر پھینکنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
جیو پولیٹکس کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ برج خلیفہ یا دبئی ایئرپورٹ جیسے علامتی مقامات پر ایک میزائل حملہ ہی یو اے ای کی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک حملے سے ہی سیاحوں کی آمد رک جائے گی، اور وہاں سے سرمائے کی پرواز (Capital Flight) شروع ہو جائے گی۔
علاقائی بالادست قوت (Hegemon) بننے کی کوشش میں، متحدہ عرب امارات نے شیشے کا ایک قلعہ تعمیر کیا ہے، جو بظاہر طاقتور اور اثر و رسوخ کا حامل ہے، لیکن وہ اس خوف میں بھی مبتلا ہے کہ ایک پتھر بھی اس ڈھانچے کو زمین بوس کر سکتا ہے۔










