سفر ایران کی دلچسپ اردو داستان
تہران بذریعہ ریل گاڑی روانگی
یہ اِصفہان کی سیاحت کے بعد کی شام تھی۔ وہی شام جس میں دن کی تھکن، یادوں کی پوٹلی اور آگے کے سفر کی ہلکی سی بے چینی ایک دوسرے میں گھل مل جاتی ہے۔
میں نے ایک ٹیکسی روکی اور ریلوے کے دفتر کا پتہ بتایا۔ ٹیکسی اِصفہان کی سڑکوں پر ایسے سرک رہی تھی جیسے کسی پرانے قالین پر انگلی پھیر دی جائے نرم، مانوس اور بے آواز انداز میں ۔
ریلوے کا دفتر ’سی و سہ پل‘ کے قریب،’میدان آزادی اسکوائر‘ کے پاس واقع تھا۔ باہر فارسی میں ایک لمبا سا نام لکھا تھا:’شِرکتِ قطار ہای مسافری رَجا‘— یعنی رَجا ریل ٹرانسپورٹ کمپنی۔ ایران میں ریل گاڑیاں چلانے والی کئی کمپنیاں ہیں، مگر اس سفر کے لیے میرا مُقدر رَجا کے نام لکھا تھا۔ ویسے اب اس کمپنی کا نام بدل کر ’شِرکتِ حمل و نقل ریلی رَجا‘ رکھ دیا گیا ہے، مگر دفتر کے باہر لگا بورڈ ابھی پرانی یادوں سے چمٹا ہوا تھا—جیسے کچھ لوگ نام بدل لیتے ہیں، عادتیں نہیں۔
دفتر کے اندر ایک صاحب کمپیوٹر کے سامنے ایسے بیٹھے تھے جیسے وہی پورے ایرانی ریل نظام کے امین ہوں۔ میں نے اِصفہان سے تہران کا ٹکٹ مانگا۔ انہوں نے بغیر کسی حیرت یا سوال کے، چندclicks کیے، پرنٹر نے ہلکی سی کھانسی لی اور ایک ’کمپیوٹرائزڈ ٹکٹ‘ میرے ہاتھ میں تھا۔میں نے ٹکٹ ہاتھ میں لیا تو یوں محسوس ہوا جیسے اس کاغذ کے چھوٹے سے پرزے میں پورا ایران سمٹ آیا ہو۔ میں نے بےاختیار پوچھ ہی لیا:
ببخشید جناب، این قطار سرِ وقت حرکت میکند؟
’حضور، یہ ریل وقت پر چلتی ہے؟‘
انہوں نے اسکرین سے نظریں اٹھائے بغیر، عینک کے اوپر سے مجھے دیکھا، وہی نظر جو صرف سرکاری دفاتر میں میسر ہوتی ہے، اور بولے:
قطار است جناب، قول و قرار نیست؛ اما معمولاً ساعت دهِ شب را همان دهِ شب میداند.
’ریل ہے جناب، وعدہ نہیں۔ مگر عام طور پر رات دس بجے کو ہی رات دس بجے سمجھتی ہے۔‘
میں مسکرایا۔
’اور تہران تک خیریت سے پہنچا دیتی ہے؟‘
اب کی بار انہوں نے ماؤس روک دیا۔ ذرا سنجیدگی سے بولے:
’خیریت اللہ کے ہاتھ میں ہے، باقی سب ہمارے نظام میں درج ہے۔‘
میں نے ٹکٹ کی طرف اشارہ کیا۔
’یہ سات گھنٹے کا سفر ہے یا صبر کا امتحان؟‘
انہوں نے پرنٹر کی طرف دیکھا، جیسے وہ بھی ہماری بات سن رہا ہو، پھر دھیمے لہجے میں کہا:
مسافر کے لیے دونوں ایک ہی ہوتے ہیں۔ جو صبر کر لے، وہ تہران بھی پہنچ جاتا ہے۔
میں نے شکریہ کہا تو انہوں نے مختصر سا جواب دیا:
راہِ سفر مبارک ہو۔ اور ہاں—ریل سے زیادہ گھڑی پر بھروسہ نہ کیجیے، وقت ایران میں ذرا فلسفیانہ مزاج رکھتا ہے۔
میں باہر نکلا تو لگا جیسے ٹکٹ نہیں، ایک نصیحت جیب میں رکھ لی ہو—سات گھنٹوں کے لیے، اور شاید اس سے کچھ زیادہ کے لیے بھی۔
میں ٹیکسی لے کر واپس ہوٹل پہنچا تو نیکٹر اور لینا سے ملاقات ہوئی۔ وہ دونوں رات کی بس سے "ہَمَدان” جا رہے تھے، جہاں ان کا ارادہ تاریخی غاریں دیکھنے کا تھا۔ ہم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا—وہ لمحہ جو ہر سفر میں آتا ہے، جب راستے اچانک دو شاخوں میں بٹ جاتے ہیں۔
ہَمَدان کی وہ غاریں، جنہیں زمانہ "علیصدر” کے نام سے جانتا ہے، زمین کے سینے میں صدیوں سے خاموش پڑی ایک آبی سرنگ کی مانند ہیں؛ جہاں پتھر پانی کے ساتھ مل کر روشنی کو بھی آئینہ دکھاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے اندر کشتی چلتی ہے اور چٹانیں یوں سرگوشی کرتی ہیں جیسے تاریخ اپنے راز آہستہ آہستہ مسافروں کے کان میں انڈیل رہی ہو۔
“تو پھر تہران؟” نیکٹر نے پوچھا۔
“ہاں، ریل سے،” میں نے جواب دیا۔
وہ مسکرایا، جیسے ریل اور بس کی اس وقتی جدائی میں بھی کوئی خاموش سی کہانی چھپی ہو۔
اب ہمارے راستے جدا ہو رہے تھے۔ میں نے نیکٹر سے اس کا ای میل ایڈریس لے لیا—یوں جیسے سفر کے ہجوم میں ایک دھاگہ باندھ لیا ہو کہ کہیں یہ رشتہ کھو نہ جائے۔ وقت نے ثابت کیا کہ وہ دھاگہ مضبوط تھا۔ بعد میں،”سعودی عرب” سے، میں نے نیکٹر کو اس کے ملک”بیلجیم” ڈاکٹر ذاکر نائک کی ایک پادری کے ساتھ مناظرے کی ویڈیو بھیجی۔ سفر کبھی کبھی راستوں پر ختم ہو جاتا ہے، مگر مکالمہ جاری رہتا ہے—کبھی ای میل میں، کبھی کسی مکتوب کی شکل میں ۔
رات دس بجے کی ریل ابھی دور تھی، مگر اِصفہان کی شام میرے ساتھ تھی—سی و سہ پل کی یاد، میدان آزادی کی ہوا، اور ایک ٹکٹ جو تہران کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔
اِصفہان ریلوے اسٹیشن…
رات کے ٹھیک نو بجے میں نے ایک ٹیکسی روکی اور اِصفہا ن کے ریلوے اسٹیشن کا رُخ کیا۔ ٹیکسی اِصفہان کی سڑکوں پر رواں تھی اور شہر کی روشنیاں ایک ایک کر کے پیچھے پھسلتی جا رہی تھیں۔ میں نے شیشے سے باہر دیکھتے ہوئے ڈرائیور سے پوچھا:
“بھائی صاحب، ریلوے اسٹیشن کتنی دیر میں آ جائے گا؟”
اس نے ریئر ویو مرر میں مجھے دیکھا، ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا:
“اگر سڑک مان گئی تو دس منٹ، اور اگر سڑک نے ضد کی تو پندرہ۔ اِصفہان میں وقت بھی کبھی کبھی سیاح بن جاتا ہے۔”
میں نے کہا:
“ریل نو بجے کے بعد ہے، مگر پھر بھی دل چاہتا ہے ذرا پہلے پہنچ جاؤں۔”
وہ ہنسا۔
“ریل والے جلدی پسند نہیں کرتے، مگر دیر بھی معاف نہیں کرتے۔ آپ وقت پر پہنچ جائیں، باقی وہ خود سنبھال لیں گے۔”
میں نے پوچھا:
“تہران کی ریل آرام دہ ہوتی ہے؟”
اس نے اسٹیئرنگ پر ہاتھ مضبوط کرتے ہوئے کہا:
“ریل آرام دہ ہے جناب، بس مسافر کا دل بے چین ہوتا ہے۔ جو کھڑکی سے باہر دیکھتا رہے، اسے سفر چھوٹا لگتا ہے۔”
میں نے کہا:
“اور اِصفہان پیچھے رہ جائے گا؟”
اس نے گاڑی ذرا آہستہ کی، جیسے شہر کو آخری سلام دے رہا ہو۔
“شہر پیچھے نہیں رہتا، صاحب… شہر تو مسافر کے اندر بیٹھ جاتا ہے۔ تہران پہنچ کر بھی آپ کے ساتھ ہوگا۔”
اصفہان سے تہران تک یہ ریل سفر کُل چھے گھنٹے کا تھا، مگر جیسا کہ میں سیکھ چکا تھا، سفر کا وقت صرف گھڑی نہیں طے کرتی، راستے بھی اپنی مرضی شامل کر لیتے ہیں۔ٹیکسی اسٹیشن کے سامنے رُکی تو مجھے یوں لگا جیسے میں نے کرایہ نہیں دیا، بلکہ ایک چھوٹی سی دانائی لے لی ہو—اور ریل کے سفر سے پہلے یہ بہترین زادِ راہ تھا۔
اصفہان کے ریلوے اسٹیشن سے دو لائنیں نکلتی ہیں۔ ایک لائن شمال کی طرف، قُم کے راستے تہران جاتی ہے—اسی پٹری پر ہماری ریل نے چلنا تھا۔ دوسری لائن جنوب کی طرف یَزد شہر کی جانب مڑ جاتی ہے۔ یَزد… جہاں پارسی مذہب کی قدیم آبادی آج بھی سانس لیتی ہے اور جہاں ماضی کے آثار ابھی تک دیواروں، آتش کدوں اور خاموش گلیوں میں محفوظ ہیں۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ ہر ریلوے لائن دراصل ایک کہانی کی طرف جاتی ہے، بس مسافر کو انتخاب کرنا ہوتا ہے۔
یہ ریلوے اسٹیشن رضاشاہ پہلوی کے دورِ حکومت میں 1966ء میں تعمیر کیا گیا تھا۔ فارسی میں ریلوے اسٹیشن کو ایستگاہ راہِ آہن کہتے ہیں، مگر یہ ایستگاہ ہمارے پاکستانی ریلوے اسٹیشنوں سے یکسر مختلف تھی۔ پاکستان میں تو اسٹیشن میں داخل ہوتے ہی مسافر سیدھا پلیٹ فارم پر جا نکلتا ہے—انتظار گاہ بھی وہیں، چائے بھی وہیں اور شور بھی وہیں۔ مگر اصفہان کا یہ اسٹیشن کچھ اور ہی مزاج رکھتا تھا۔
یہ کسی ائیرپورٹ کے لاؤنج یا کسی جدید بس ٹرمنل سے زیادہ مشابہ تھا۔ مسافر ایک وسیع و عریض ہال میں آگے پیچھے لگی اسٹیل کی کرسیوں پر بیٹھے اپنی اپنی ریل کا انتظار کر رہے تھے۔ کوئی اخبار میں گم تھا، کوئی کتاب پڑھنے میں مگن تھا ، اور کوئی خالی آنکھوں سے وقت کو گزرتے دیکھ رہا تھا۔ جب کسی مسافر کی گاڑی کا وقت آتا، وہ اسی عمارت سے نکل کر پلیٹ فارم کی طرف بڑھتا—جہاں ریل گاڑی پہلے ہی تیار کھڑی ہوتی، جیسے کسی نے اسے وقت سے پہلے سمجھا بجھا دیا ہو۔
اسی ہال میں کھانے پینے کے چند اسٹال بھی تھے۔ چائے کی خوشبو فضا میں یوں گھلی ہوئی تھی جیسے انتظار کے ساتھ اس کا خاص تعلق ہو۔ میں نے ایک کپ چائے لی تو دل نے کہا کہ چھے گھنٹے کا سفر ابھی شروع نہیں ہوا، مگر ذہن روانہ ہو چکا ہے۔
ہال کی چھت سے ٹی وی اسکرینیں معلق تھیں جن پر امریکی فلمیں فارسی ڈبنگ کے ساتھ دکھائی جا رہی تھیں۔ ایکشن سین میں فارسی زبان کچھ یوں گونج رہی تھی کہ لمحہ بھر کو محسوس ہوا جیسے ہالی ووڈ بھی تہران کے زیرِ اثر آ گیا ہو۔ میرے برابر بیٹھے ایک مسافر نے مسکراتے ہوئے کہا:
“زبان بدل جائے تو فلم بھی سدھر جاتی ہے۔”
میں نے جواب دیا:
“اور مسافر بھی، کم از کم چھے گھنٹے کے لیے۔”
اسکرین پر ہیرو بندوق تھامے دھواں اڑاتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا اور فارسی ڈبنگ میں بھاری آواز گونجی: اروم باش، اسلحه رو زمین بذار… این شهر از این به بعد با قانونِ من میچرخه!
“آرام سے ہتھیار نیچے رکھ دو… یہ شہر اب میرے اصولوں پر چلے گا!”
پس منظر میں دھماکا ہوا، مگر فارسی لہجے نے اس دھماکے کی تیزی میں بھی ایک عجب سی شائستگی بھر دی تھی۔ میرے برابر بیٹھے مسافر نے ہنستے ہوئے کہا:
“دیکھا؟ گولی بھی فارسی بولے تو ذرا تہذیب سیکھ لیتی ہے۔”
میں نے اسکرین سے نظریں ہٹائے بغیر جواب دیا:
“اور وِلن بھی… کم از کم مکالمہ ادا کرتے ہوئے چیختا نہیں، دلیل دیتا ہے۔”
اسی اثنا میں وِلن اسکرین پر نمودار ہوا اور فارسی ڈبنگ میں گرجدار مگر مہذب آواز سنائی دی: تو نمیتونی منو متوقف کنی، من خیلی جلو اومدم!”تم مجھے نہیں روک سکتے، میں بہت آگے آ چکا ہوں!”
ہم دونوں مسکرا دیے۔ ہالی ووڈ کی تیزرفتار دنیا اس لمحے اصفہان کے ریلوے اسٹیشن کے ہال میں، فارسی زبان کے زیرِ اثر، کچھ زیادہ ہی مہذب دکھائی دے رہی تھی۔
میں نے اسٹیل کی کرسی پر بیٹھ کر اسٹیشن کو ایک بار پھر دیکھا۔ یہ محض ایک عمارت نہیں تھی، یہ نظم و ضبط، خاموش انتظار اور وقت کے باوقار بہاؤ کی علامت تھی۔ میں جانتا تھا کہ کچھ ہی دیر میں میں اسی ہال سے نکل کر اس ریل میں بیٹھ جاؤں گا جو قُم کے راستے تہران لے جائے گی—مگر فی الحال میں اِصفہان کے اس ایستگاہ میں بیٹھا تھا، جہاں انتظار بھی تہذیب کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
اصفہان ریلوے اسٹیشن کا پلیٹ فارم…
عین پونے دس بجے ہماری ریل گاڑی کی روانگی کا اعلان ہوا۔ یہ تھا تو اعلان ، مگر اس میں حکم کی سی کاٹ تھی۔ لوگ فوراً یوں قطار بنا کر کھڑے ہو گئے جیسے کسی اَن کہی مشق کے عادی ہوں—بالکل ویسے ہی جیسے ائیرپورٹس پر بورڈنگ کے وقت مسافر ازخود سیدھے ہو جاتے ہیں، خواہ ابھی جہاز نے پر پھڑپھڑائے بھی نہ ہوں۔
شیشے کے دروازے پر ریلوے کا ایک افسر کھڑا تھا۔ وہ نہ جلدی میں تھا نہ سستی میں—بس ایک ٹھہراؤ کے ساتھ ہر ٹکٹ کا ایک حصہ پھاڑتا اور باقی حصہ مسافر کے ہاتھ میں تھما دیتا۔ یہ عمل کچھ ایسا باوقار تھا جیسے کسی رسم کی ادائیگی ہو رہی ہو، نہ کہ محض ٹکٹ چیکنگ۔
جیسے ہی ہم انتظار گاہ سے باہر نکلے، ایک گہری سی تاریکی نے استقبال کیا۔ روشنی ہال کے اندر رہ گئی تھی اور باہر رات پوری آب و تاب سے موجود تھی۔ دیگر مسافروں کے ساتھ جب میں پلیٹ فارم پر پہنچا تو ایک لمحے کو چونک گیا۔ ریل گاڑی سامنے نہیں کھڑی تھی، بلکہ مجھے صرف اس کی آخری بوگی کا پچھلا حصہ دکھائی دے رہا تھا۔ تب سمجھ آیا کہ انتظار گاہ دراصل پلیٹ فارم کے آخری سرے پر واقع تھی—یعنی یہاں سے سفر کا آغاز نہیں، اختتام دکھائی دیتا ہے۔
یہ پلیٹ فارم بھی ہمارے پاکستانی پلیٹ فارموں جیسا نہ تھا، جہاں پائیدان اور پلیٹ فارم کی سطح تقریباً ایک جیسی ہوتی ہے۔ یہاں پلیٹ فارم ریل گاڑی کے پہلے پائیدان سے تین فٹ نیچے تھا، جیسے مسافر کو پہلے ذرا جھکنا پڑتا ہو—شاید سفر کی انکساری سکھانے کے لیے۔ریل گاڑی کے ہر دروازے پر ایک گارڈ کھڑا تھا، پائلٹوں والی ہیٹ پہنے ہوئے، جیسے وہ کسی طیارے کا نہیں بلکہ وقت کا محافظ ہو۔ وہ ہر مسافر کا ٹکٹ دیکھتا، پھر نہایت ادب اور نرمی سے اسے اس کے ڈبے کی طرف رہنمائی کرتا۔ نہ آواز بلند، نہ ہاتھ کا غیر ضروری اشارہ—بس ایک خاموش سی تہذیب۔
میں نے بھی اپنا ٹکٹ اس کے سامنے پیش کیا۔ اس نے ایک نظر ٹکٹ پر ڈالی، پھر مجھے دیکھا اور ہلکے سے سر کو جنبش دی۔
“اصفہان تا تہران؟” اس نے دھیمی آواز میں پوچھا، جیسے تصدیق نہیں بلکہ رسمِ کلام ادا کر رہا ہو۔
“جی ہاں، وہی ارادہ ہے۔” میں نے مسکرا کر جواب دیا۔
اس نے ٹکٹ کے کونے پر مہر ثبت کی—ایک مختصر سی آواز کے ساتھ—گویا سفر کو سرکاری اجازت مل گئی ہو۔ پھر بولا:
“کوپهی هفت، صندلی بیستوسه۔”
پھر صاف اور شائستہ انگریزی میں بولا:
“Coach seven. Seat twenty-three. This way, please.”
میں نے ازراہِ مزاح کہا، “ریل وقت پر پہنچا دیجیے گا، باقی ہم سنبھال لیں گے۔”
اس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی—ایسی جو ڈیوٹی کی وردی میں کم ہی نظر آتی ہے۔
“جناب، ہم دروازے کے نگہبان ہیں، وقت کے نہیں۔ مگر دعا کیجیے، دونوں ساتھ چلتے رہیں۔”
میں ڈبے کی طرف بڑھا تو یوں محسوس ہوا جیسے اس مختصر سے مکالمے نے سفر کو باضابطہ طور پر آغاز کی مہر دے دی ہو۔میں نے ریل کے پائیدان پر قدم رکھا تو یوں محسوس ہوا جیسے میں کسی نئی کہانی میں داخل ہو رہا ہوں—ایک ایسی کہانی جس میں نظم بھی ہے، خاموشی بھی، اور تہران تک پھیلا ہوا ایک طویل مگر مہذب راستہ بھی۔










