جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے کے دوران ایک برطانوی صحافی بال بال بچ گیا، جب میزائل اس کے چند میٹر کے فاصلے پر آ کر گرا، جس سے شدید دھماکہ ہوا۔
روسی نشریاتی ادارے RT سے وابستہ صحافی اسٹیو سوینی جنوبی لبنان میں قاسمیہ کراسنگ کے قریب رپورٹنگ کر رہے تھے کہ اچانک قریب ہی میزائل آ گرا۔
The moment an Israeli missile hit journalists.
— Maria Dubovikova (@politblogme) March 19, 2026
They were recording a stand-up report. https://t.co/08IOs9fNwd pic.twitter.com/VRafcLPQVk
دھماکے کے نتیجے میں ملبہ اور شیل کے ٹکڑے فضا میں بکھر گئے، جس پر صحافی فوری طور پر زمین پر لیٹ گئے۔
صحافی اور کیمرہ مین محفوظ
مارگریٹا سیمونیان کے مطابق اسرائیلی طیارے نے اس گاڑی کو نشانہ بنایا جس میں صحافی اور ان کا کیمرہ مین سوار تھے۔
دونوں افراد اس حملے میں بچ گئے اور انہیں معمولی زخموں کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
’حملہ جان بوجھ کر کیا گیا‘
اسٹیو سوینی نے بعد ازاں کہا کہ انہیں یقین ہے کہ یہ حملہ دانستہ طور پر کیا گیا، کیونکہ وہ اس وقت پلوں پر حملوں اور لاکھوں افراد کی جبری نقل مکانی پر رپورٹنگ کر رہے تھے۔
’آج اسرائیل نے جنوبی لبنان میں مجھ پر ایک ٹارگٹڈ فضائی حملہ کیا، جب میں وہاں پلوں کو نشانہ بنانے اور تقریباً 10 لاکھ افراد کی جبری بے دخلی پر رپورٹنگ کر رہا تھا، جو نکبہ سے بھی بڑے پیمانے پر نسل کشی کی ایک کارروائی ہے۔
مجھے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ حملہ جان بوجھ کر کیا گیا۔ دعوؤں کے برعکس، حملے سے قبل نہ کوئی وارننگ دی گئی اور نہ ہی لبنانی فوج کو کوئی اطلاع دی گئی، جس نے ہمیں وہاں رپورٹنگ کی اجازت دی تھی۔
جیسا کہ ہم غزہ میں دیکھ چکے ہیں، وہ ان صحافیوں کو خاموش کرانا چاہتے ہیں جو ان کے جنگی جرائم کو دنیا کے سامنے لاتے ہیں۔
Today I$rael tried to kill me in a targeted airstrike in southern Lebanon as I was reporting on was the targeting of bridges and the forced displacement of 1 million people, an ethnic cleansing operation on a larger scale than the Nakba
— Steve Sweeney (@SweeneySteve) March 19, 2026
I have absolutely no doubt that this was… pic.twitter.com/5igboFLvH8
مغربی طاقتیں اسرائیل کو سیاسی اور عسکری حمایت فراہم کر رہی ہیں اور اسے اس حد تک مسلح کر رہی ہیں کہ وہ غزہ میں نسل کشی اور لبنان میں نسلی صفائی جیسے اقدامات جاری رکھ سکے۔ وہ صرف معاون نہیں بلکہ اس میں عملی طور پر شریک ہیں اور انہیں اپنے اقدامات کا جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔
لیکن اگر اسرائیل یہ سمجھتا ہے کہ آج کا حملہ ہمیں خاموش کر دے گا یا میدان سے دور کر دے گا تو یہ اس کی بہت بڑی غلط فہمی ہے۔‘
دوسری طرف اسرائیلی فوج نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی سے قبل علاقے میں وارننگ دی گئی تھی اور شہریوں کو نکلنے کا وقت دیا گیا تھا۔
صحافیوں کی ہلاکتوں پر تشویش
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں دنیا بھر میں ہلاک ہونے والے 129 صحافیوں میں سے دو تہائی اموات اسرائیلی کارروائیوں سے منسلک تھیں۔
رپورٹس کے مطابق جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی اور زمینی کارروائیاں تیز ہو چکی ہیں، جس کے باعث تقریباً 8 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ 773 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد عام شہریوں کی ہے۔
اس واقعے نے ایک بار پھر جنگی علاقوں میں صحافیوں کی سلامتی اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔










