Military and Politics in Pakistan

پاکستان میں آئینی توازن کیوں ضروری ہے؟

·


ریاستیں صرف طاقت سے نہیں، توازن سے چلتی ہیں، اور یہ توازن آئین، قانون اور ادارہ جاتی حدود سے پیدا ہوتا ہے۔ ایک جنگجو کی سرشت میں واقعی مکالمہ کم ہوتا ہے؛ اس کی تربیت حکم اور عمل کے دائرے میں ہوتی ہے۔ لیکن ریاست کا نظم جنگی اصولوں پر نہیں بلکہ آئینی اصولوں پر استوار ہوتا ہے، جہاں ہر کردار کی حد متعین اور ہر اقدام کی بنیاد قانون ہوتا ہے۔

پاکستان کا آئین، جسے آئینِ پاکستان 1973 کہا جاتا ہے، واضح طور پر اختیارات کی تقسیم کا تعین کرتا ہے۔ انتظامی اختیار وزیرِ اعظم اور اس کی کابینہ کے پاس ہوتا ہے، جبکہ مسلح افواج کا کردار ریاست کی دفاعی ذمہ داریوں تک محدود رکھا گیا ہے۔ یہی وہ اصول ہے جسے جدید ریاستی ڈھانچے میں ’سول بالادستی‘ کہا جاتا ہے یعنی منتخب نمائندے پالیسی بنائیں گے اور ادارے ان پر عمل کریں گے۔

تاریخ ہمیں یہ سبق بارہا سکھا چکی ہے کہ جب ادارے اپنی آئینی حدود سے تجاوز کرتے ہیں تو نتائج دیرپا مسائل کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ 1977 کے مارشل لا سے لے کر دیگر ادوار تک، ریاستی ڈھانچے میں عدم توازن نے نہ صرف جمہوری عمل کو متاثر کیا بلکہ معاشرتی تقسیم کو بھی گہرا کیا۔ ایسے واقعات میں وقتی نظم تو پیدا ہو جاتا ہے، مگر دیرپا استحکام ہمیشہ متاثر ہوتا ہے۔

حال ہی میں پیش آنے والا واقعہ، جہاں آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی شیعہ علماء سے ملاقات اور اس میں اختیار کیا گیا سخت مؤقف، اسی بحث کو دوبارہ زندہ کرتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ریاست کو اپنی رِٹ قائم کرنی چاہیے یا نہیں؛ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ریاست کی عملداری ہر حال میں برقرار رہنی چاہیے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس عملداری کا اظہار کس فورم اور کس انداز میں ہونا چاہیے۔

ایک جمہوری اور آئینی ریاست میں اس نوعیت کے حساس معاملات کا حل مکالمے، شفافیت اور سیاسی قیادت کے ذریعے نکالا جاتا ہے۔ بہتر یہ ہوتا کہ وزیراعظم شہباز شریف خود اس عمل کی قیادت کرتے، علماء کو مدعو کرتے، ریاستی پالیسی واضح کرتے، اور ساتھ ہی قانون کی عملداری پر غیر مبہم پیغام دیتے۔ اس عمل میں عسکری قیادت کی موجودگی بطور معاون ہو سکتی تھی، مگر قیادت کا محور سیاسی ہونا چاہیے تھا۔

ادارہ جاتی ترتیب کی اہمیت

یہ فرق محض رسمی نہیں بلکہ بنیادی نوعیت کا ہے۔ جب ریاستی معاملات میں ترتیب الٹ جائے یعنی جہاں سیاسی قیادت کو آگے ہونا چاہیے، وہاں عسکری قیادت نمایاں ہو جائے تو اس سے نہ صرف آئینی ابہام پیدا ہوتا ہے بلکہ عوامی اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے۔ یہی وہ خلا ہے جہاں افواہیں، بداعتمادی اور نفرت جنم لیتی ہیں۔

اسلامی تاریخ بھی ہمیں مشاورت اور عدل کا سبق دیتی ہے۔ ریاستِ مدینہ میں حضرت محمد ﷺ نے ہمیشہ مختلف طبقات سے مکالمہ کیا، حتیٰ کہ مشکل ترین مواقع پر بھی بات چیت کو فوقیت دی۔ یہی اصول آج کی جدید ریاستوں میں "inclusive governance” کے نام سے جانا جاتا ہے۔

ریاست کی طاقت کا اصل امتحان اس کی سختی میں نہیں بلکہ اس کی حکمت میں ہوتا ہے۔ قانون کی بالادستی پارلیمان کے ذریعے ہی مستحکم ہوتی ہے، اور آئین کی روح بھی یہی تقاضا کرتی ہے کہ ہر ادارہ اپنی حد میں رہ کر کام کرے۔ اگر ہم نے اس اصول کو نظر انداز کیا تو وقتی فیصلے وقتی مسائل تو حل کر سکتے ہیں، مگر مستقل بنیادوں پر استحکام پیدا نہیں کر سکتے۔

آخر میں یہی دعا ہے کہ پاکستان میں آئین کی بالادستی قائم ہو، ادارے اپنی حدود میں رہیں، اور ریاستی فیصلے مکالمے، تدبر اور قانون کی روشنی میں کیے جائیں—کیونکہ پائیدار امن اور اتحاد کا راستہ یہی ہے۔

نوٹ: بادبان ڈاٹ کام پر شائع شدہ کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا بادبان ڈاٹ کام کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔