ترکیہ کے انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم قالن نے استنبول میں حماس کے سیاسی بیورو کے وفد سے ملاقات کر کے غزہ میں اسرائیلی حملوں اور جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں پر تفصیلی گفتگو کی۔
اسرائیلی حملوں اور پالیسیوں پر تشویش
ذرائع کے مطابق ملاقات میں غزہ اور خطے میں اسرائیل کی کارروائیوں پر بات چیت ہوئی، جبکہ شرکاء نے قبضے اور عدم استحکام پیدا کرنے والی پالیسیوں کے خلاف یکجہتی پر زور دیا۔
جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد کا مطالبہ
گفتگو میں گزشتہ سال اکتوبر میں طے پانے والے غزہ جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر بھی غور کیا گیا، اور اس بات پر زور دیا گیا کہ حملے فوری روکے جائیں اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی یقینی بنائی جائے۔
جانی نقصان اور تباہی کے اعداد و شمار
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے باوجود اب تک 677 فلسطینی شہید اور 1813 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ اکتوبر 2023 سے جاری جنگ میں 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 1 لاکھ 71 ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
جنگ کے باعث تقریباً 90 فیصد شہری انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے۔
مغربی کنارے کی صورتحال پر بھی غور
ملاقات میں مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے بڑھتے تشدد اور اسرائیلی دباؤ پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور ممکنہ ردعمل پر غور کیا گیا۔
ترکیہ کی سفارتی کوششیں جاری
حماس کے نمائندوں نے رجب طیب اردوان کا غزہ میں امن کے قیام کے لیے کردار سراہا، جبکہ ذرائع کے مطابق ترکیہ مستقل جنگ بندی کے لیے اپنی سفارتی کوششیں مزید تیز کرے گا۔










