عالمی سفارتی حلقوں میں سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ جنگ بندی کے لیے اہم مذاکرات جلد اسلام آباد میں منعقد ہو سکتے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس اور مشرق وسطیٰ کے امور پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی نمائندے پاکستان کے دارالحکومت میں ملاقات کر سکتے ہیں، جہاں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے بات چیت کی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان حالیہ دنوں میں ثالثی کے کردار میں متحرک رہا ہے اور اس نے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ ماضی میں بھی امریکا نے ایران سے متعلق معاملات میں پاکستان کی ثالثی کی پیشکش کو مثبت قرار دیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق ممکنہ مذاکرات اس ہفتے کے اختتام پر متوقع ہیں، جن میں ایران کی نمائندگی مجلسِ شورائے اسلامی کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف کریں گے، جبکہ امریکی وفد میں اسٹیو وٹکوف، ڈیوڈ کوشنر اور ممکنہ طور پر جے ڈی وینس شامل ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ترکیہ کی سفارتی کوششیں تیز، خلیجی و عالمی رہنماؤں سے رابطے
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ اور عالمی توانائی بحران نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ یہ مذاکرات خطے میں استحکام لانے کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔
حال ہی میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں پاکستان، ترکی اور مصر نے بھی ثالثی کا کردار ادا کیا، جس سے مذاکرات کے امکانات روشن ہوئے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ تناؤ کم کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں اور ایران براہِ راست امریکی شرکت کا خواہاں ہے۔ ایک امریکی ذریعے کے مطابق ان مذاکرات کا مقصد نہ صرف جنگ بندی بلکہ دیگر متنازع امور کا حل تلاش کرنا بھی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے بجلی گھروں پر ممکنہ فوجی کارروائی کو پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے، جسے سفارتی عمل کے لیے مہلت قرار دیا جا رہا ہے۔










