اس وقت جمعہ ستائیس مارچ کی سہ پہر ہے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ بعنوان ’ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان کلیدی ثالث کیوں بنا؟‘ دنیا کے مختلف روزناموں کی ویب سائٹس پر شائع ہوئی ہے۔ ان میں امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ بھی ہے اور اسرائیلی اخبار’ ٹائمز آف اسرائیل‘ بھی۔
صرف یہی نہیں، پاکستان کے نام کی دھوم ہر جا خوب مچی ہوئی ہے۔ آپ ’پاکستان، ایران، امریکا‘ لکھ کر گوگل سمیت کسی بھی سرچ انجن پر تلاش کرلیں، آپ کو خبروں، رپورٹس اور مضامین کا ایک سمندر موجزن نظر آئے گا۔ ہر جگہ پاکستان کی طرف سے ثالثی کے دو ہی کرداروں کا تذکرہ ہر خبر میں نظر آئے گا: ایک ہیں وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور دوسرے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر ۔
آئیے! پہلے ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کی رپورٹ کا ذکر کرتے ہیں، باقی میں سے چند ایک کا ذکر اگلی بار۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ میں لکھا ہے:
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے فروری کے آخر میں ایران پر حملوں کے بعد خطے میں وسیع تر جنگ کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستان ایک غیر متوقع ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس نے واشنگٹن اور تہران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد کی پیشکش کی ہے۔
اسلام آباد کو عام طور پر اس طرح کی نازک سفارت کاری میں ثالث کا کردار ادا کرنے کے لیے نہیں بلایا جاتا، لیکن اس بار وہ کئی وجوہات کی بنا پر اس کردار میں آگے آیا ہے۔
ایک طرف پاکستان کے واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ نسبتاً بہتر تعلقات ہیں، اور دوسری طرف اس جنگ کے خاتمے میں پاکستان کا اپنا بھی بہت کچھ داؤ پر لگا ہے۔
پاکستانی حکومت کے اہلکاروں نے کہا ہے کہ ان کی یہ علانیہ امن کوشش دراصل ہفتوں کی خاموش سفارت کاری کا نتیجہ ہے، اگرچہ انہوں نے تفصیلات بہت کم بتائی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اسلام آباد امریکی اور ایرانی نمائندوں کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
پاکستان کی ثالثی کوشش کے بارے میں یہ باتیں جاننا ضروری ہیں:
پاکستان نے امریکہ کا 15 نکاتی منصوبہ ایران تک پہنچایا
پاکستان کا ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں کردار صرف چند روز قبل اس وقت سامنے آیا جب میڈیا میں اس حوالے سے خبریں آئیں۔ اس کے بعد اسلام آباد کے حکام نے تسلیم کیا کہ امریکہ کی ایک تجویز ایران تک پہنچائی گئی تھی۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ بالواسطہ مذاکرات میں ایران کی طرف سے رابطے کا کردار کون ادا کر رہا ہے۔
ایران نے موقف اختیار کیا ہے کہ اس نے اس طرح کی کوئی بات چیت نہیں کی اور امریکی تجویز کو مسترد کر دیا ہے، تاہم تہران نے یہ ضرور تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی جوابی تجاویز بھیجی ہیں۔
پاکستانی حکام کے مطابق امریکی پیغامات ایران تک پہنچائے جا رہے ہیں اور ایرانی جوابات واشنگٹن کو بھیجے جا رہے ہیں، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ عمل کس طرح انجام پا رہا ہے یا کون براہِ راست کس سے رابطے میں ہے۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم، وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اس ہفتے کہا کہ ترکیہ اور مصر بھی پردے کے پیچھے دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے مینیجنگ ڈائریکٹر عبداللہ خان نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی کوششیں شاید تنازعے میں نسبتاً تحمل و برداشت کا ماحول برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے توانائی ڈھانچے پر بڑے پیمانے پر حملوں کی اپنی دھمکیوں کو سفارتی پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے ملتوی کر دیا ہے۔ اسی طرح خلیج میں امریکی مفادات کے خلاف ایران کے ردِعمل بھی اعتدال پسندانہ رہے ہیں، جو شاید سفارت کاری کے لیے گنجائش محفوظ رکھنے کی کوشش ہے۔
امریکہ اور ایران دونوں سے تعلقات نے پاکستان کو نئے کردار کے لیے تیار کیا
اس سے پہلے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کا کام بنیادی طور پر مشرقِ وسطیٰ کے ممالک، خاص طور پر عمان اور قطر، انجام دیتے رہے ہیں۔ لیکن جنگ کے دوران جب یہ ممالک خود ایرانی حملوں کی زد میں آ گئے تو پاکستان نے یہ کردار سنبھال لیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ پاکستان کی جغرافیائی قربت (ایک ہمسایہ ملک ہے) اور امریکہ کے ساتھ اس کے دیرینہ تعلقات نے اسے ایک منفرد مقام عطا کیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دونوں فریقوں کے درمیان براہِ راست رابطہ انتہائی محدود ہے۔
جنگ میں شامل بیشتر اہم فریقوں کے ساتھ اسلام آباد کے اچھے کام کاجی تعلقات ہیں، جن میں امریکہ اور ایران دونوں شامل ہیں۔ خلیجی ریاستوں، بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے قریبی اسٹریٹجک تعلقات ہیں، اور گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان ایک دفاعی تعاون کے معاہدے پر بھی دستخط ہوئے۔ تاہم فلسطینی ریاست کے حق میں پاکستان کے پختہ موقف کی وجہ سے اسرائیل کے ساتھ اس کے کوئی سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔
امریکہ اور پاکستان کے تعلقات گزشتہ سال سے بہتر ہوئے ہیں، سفارتی روابط میں اضافہ ہوا ہے اور اقتصادی تعلقات بھی وسعت پذیر ہو رہے ہیں۔ پاکستان نے ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ میں بھی شمولیت اختیار کی ہے، جس کا مقصد غزہ میں امن کو یقینی بنانا ہے، اور یہ قدم ملک کے اندر اسلام پسندوں کی مخالفت کے باوجود اٹھایا گیا۔
پاکستان کا جنگ بندی مذاکرات میں بہت کچھ داؤ پر لگا ہے
اسلام آباد میں مقیم سیکیورٹی تجزیہ کار سید محمد علی نے کہا کہ یہ تنازعہ پاکستان کی تاریخ کے ’سب سے بڑے اقتصادی اور توانائی کے تحفظ کے چیلنجوں‘ میں سے کچھ کو جنم دے رہا ہے۔
پاکستان اپنا زیادہ تر تیل اور گیس مشرقِ وسطیٰ سے حاصل کرتا ہے، اور انہوں نے کہا کہ عرب دنیا میں کام کرنے والے پچاس لاکھ پاکستانی ہر سال جو رقم وطن بھیجتے ہیں وہ تقریباً ملک کی کل برآمدی آمدنی کے برابر ہے۔
بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے میں پہلے ہی کردار ادا کیا ہے، جس کی وجہ سے پاکستان کو ایندھن کی قیمتوں میں تقریباً بیس فیصد اضافہ کرنا پڑا ہے اور اس سے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی حکومت پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
یہ جنگ ملکی بدامنی میں بھی اضافہ کر رہی ہے، جبکہ پاکستان مہینوں سے پڑوسی ملک افغانستان کے ساتھ اپنے تنازعے سے بھی نبردآزما ہے۔ اسلام آباد نے افغانستان کی طالبان حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ ان گروہوں کو پناہ دے رہی ہے جو پاکستان میں حملوں کے ذمہ دار ہیں۔
اس ماہ کے شروع میں ایران پر امریکی حملوں کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے، اور کئی شہروں میں مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔
جس دن امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای جاں بحق ہوئے، اس کے اگلے روز پاکستان کے جنوبی بندرگاہی شہر کراچی اور شمالی علاقوں کے کچھ حصوں میں پُرتشدد جھڑپیں ہوئیں، جن میں پورے ملک میں کم از کم بائیس افراد ہلاک اور ایک سو بیس سے زائد زخمی ہوئے۔
کراچی میں امریکی قونصل خانے کے اندر اور اس کے آس پاس کم از کم بارہ افراد ہلاک ہوئے جب ایک ہجوم نے احاطے میں گھس کر اسے آگ لگانے کی کوشش کی۔
خامنہ ای پاکستان سمیت دنیا بھر کے شیعہ مسلمانوں کے لیے ایک مرکزی مذہبی اور سیاسی شخصیت تھے۔
ثالثی میں پاکستان کا ماضی
اگرچہ پاکستان شاذ و نادر ہی ثالث کا کردار ادا کرتا ہے، لیکن اس کی تاریخ میں کچھ انتہائی اہم مذاکرات میں حصہ لینے کی مثالیں موجود ہیں۔
پاکستان کے اُس وقت کے صدر جنرل یحییٰ خان نے خفیہ رابطوں میں سہولت کاری کی جس کی وجہ سے امریکی صدر رچرڈ نکسن کا 1972 میں چین کا تاریخی دورہ ممکن ہوا۔ اس دورے نے 1979 میں واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی راہ ہموار کی۔
اس کے بعد سے پاکستان نے کئی دیگر پیچیدہ علاقائی تنازعات میں کردار ادا کیا ہے، جن میں سب سے نمایاں 1988 کے جنیوا معاہدے ہیں جنہوں نے افغانستان سے سوویت افواج کے انخلاء کی راہ ہموار کی۔ ایک اگلی صف کی ریاست اور اہم ثالث کے طور پر اسلام آباد نے اقوامِ متحدہ کی زیرِ نگرانی مذاکرات میں حصہ لیا، امریکہ اور دیگر فریقوں کے ساتھ مل کر کام کیا اور ماسکو پر اپنی افواج واپس بلانے کے لیے دباؤ بڑھانے میں مدد کی۔
حال ہی میں پاکستان نے افغان طالبان اور واشنگٹن کے درمیان رابطوں میں سہولت فراہم کی جس کے نتیجے میں دوحہ میں مذاکرات ہوئے، 2020 میں ایک معاہدہ طے پایا اور اس نے امریکی قیادت میں نیٹو افواج کے انخلاء اور 2021 میں طالبان کی واپسی کا راستہ ہموار کیا۔
یہاں ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ تمام ہوئی۔ اس سے آگے کے الفاظ میرے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران امریکا جنگ کے دوران وزیراعظم شہباز شریف، ان کے نائب و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر نے بہت دانش مندی سے نہ صرف عالمی سیاست میں پاکستان کے مقام و مرتبہ کو نمایاں اور بلند تر کیا بلکہ عالمی منڈیوں بالخصوص مشرق وسطیٰ کے ممالک میں پاکستانی تجارت کے لیے دروازے کھولے ہیں۔
ابھی اگلے ہی روز پاکستان کی چالیس سے زائد مصنوعات کو خلیجی ممالک تک پہنچانے کے فیصلے کی منظوری ہوئی ہے۔ امید ہے کہ اگلے چند ہی ہفتوں میں تجارت کے نئے راستوں پر سفر جاری ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو اس موقع سے جس طرح فائدہ اٹھانا چاہیے تھا، ویسے ہی فائدہ اٹھا رہا ہے۔
رہی بات پاکستان کے عالمی سیاست میں ایک لیڈر کے طور پر ابھرنے کی، اس پر ہماری ایک ہمسائیہ ریاست میں کہرام بپا ہے۔ جناب نریندر مودی کی شکل دیکھیں تو وہ غم و اندوہ کے بوجھ تلے منہ لٹکائے کھڑے ہیں جبکہ اپوزیشن گروہ ان پر طعنے کس رہے ہیں۔ پالیسی ساز اپنے سر میں راکھ ڈال رہے ہیں، ’غیر جانبدار‘ تجزیہ کاروں کی بھی آنکھیں سرخ ہیں اور زبانیں شعلے اگل رہی ہیں اپنے وزیراعظم مودی جی کے خلاف۔










