سفر ایران کی دلچسپ اردو داستان
پچھلی قسط میں اِصفہان کی سیر، سی و سہ پل اور میدان آزادی کی شام کے مناظر بیان ہوئے، جہاں رات کی روشنی اور شہر کی خاموش فضا سفر کی تیاری میں شریک تھی۔ اصفہان سے تہران کے لیے ریل کا سفر اسی شام کی یادوں کے ساتھ شروع ہوتا ہے، جہاں اسٹیشن کی ترتیب، اسٹاف کی شائستگی اور مسافروں کی خاموشی ایرانی نظم و ضبط کی جھلک پیش کرتی ہے۔ٹکٹ حاصل کرنے سے لے کر ڈبے میں قدم رکھنے تک ہر لمحہ ادب، مہذب مکالمے اور چھوٹے چھوٹے مشاہدات سے بھرپور ہے۔ یہ سفر نہ صرف جغرافیائی فاصلوں کو عبور کرتا ہے بلکہ تہران تک پہنچنے کے ساتھ ساتھ انسانی تعامل اور ثقافت کی چھوٹی چھوٹی کہانیوں کو بھی زندہ رکھتا ہے۔
ایرانی ریل گاڑی۔۔
میں نےاپنا سوٹ کیس اٹھا کر ایرانی ریل گاڑی میں قدم رکھا۔ جوانی کی توانائیوں کی بدولت مجھے اوپر چڑھنے میں کوئی دقت پیش نہ آئی
—ریل گاڑی کی بڑی بڑی کھڑکیاں پہلی نظر میں ہی متوجہ کر گئیں—اگرچہ سب بند تھیں، پھر بھی ایسا لگ رہا تھا جیسے باہر کا منظر اندر کی دعوت دے رہا ہو۔ جولائی کی دھوپ میں شہر پسینے میں نہا رہا تھا، یہاں کی ٹھنڈی ہوا جیسے جنت کا ٹکڑا ہو، ہر کوپے میں اے سی خاموش مگر مؤثر خدمت میں مصروف تھا۔
یہ گاڑی پوری اے سی سلیپر تھی، ہر چھے مسافروں کے لیے ایک کمپارٹمنٹ بنایا گیا تھا، جو دل کی راحت کے حساب سے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ میری بوگی کی گیلری واقعی دل لبھا رہی تھی۔ قالین بچھا ہوا، نرم و مخملی، قدم رکھتے ہی ایسا لگتا کہ زمین بھی مسافر کا استقبال کر رہی ہو۔ ہر چیز صاف ستھری، جتنی کہ اسپین کی فیکٹری سے آئی تھی، اور ٹوائلٹ کے باہر دیوار پر بڑے حروف میں درج تھا:
— "Spain سے imported”
میں نے دل میں طنزیہ انداز میں کہا:
— "واہ! شاید یہ پانی بھی اسپین سے آئے گا!”
میں اپنے کیبن میں داخل ہوا۔ چھے لوگوں کے لیے مختص یہ کمرہ اپنے اندر ایک پوری دنیا سموئے ہوئے تھا۔ فرش پر بچھا قالین ایرانی ثقافت کی عکاسی کر رہا تھا، اور کھڑکی کے کنارے اسٹیل کا جگ یخ پانی سے بھرا ہوا تھا، جس کا منہ پلاسٹک سے ڈھکا ہوا تھا۔ میں نے اپنی بوتل نکالی اور دل میں سوچا:
— "یہ جگ خوشامد کر رہا ہے، لیکن میں اپنی بوتل کا وفادار ہوں۔”
کھڑکی کے عین درمیان ایک آہنی سیڑھی اوپر کی برتھ کی طرف جا رہی تھی، جیسے کسی خفیہ دنیا کا راستہ دکھا رہی ہو۔ کھڑکی کے اوپر خوبصورت پردہ لٹکا ہوا تھا، دن میں سرکایا جا سکتا تھا، اور رات میں خاموش خوابوں کا پردہ بن جاتا تھا۔ میں نے اسے سرکاتے ہوئے خود سے کہا:
— "شاید یہ پردہ بھی کہانی سناتا ہو!”
نشستیں آرام دہ تھیں اور گلابی مائل سرخ کے کپڑوں میں لپٹی ہوئی تھیں، اور سر کے سہارے کے لیے دیوار میں نرم و نازک کشن لگا ہوا تھا۔ میں اپنی نشست نمبر 54 پر بیٹھ گیا۔ نشست نمبر فارسی اور انگریزی دونوں ہندسوں میں لکھا گیا تھا۔ گویا ریل گاڑی نے ہر مسافر سے دو زبانوں میں بات کرنے کا وعدہ کر رکھا ہو۔ میں نے اپنی بوتل کے ڈھکن پر ہاتھ رکھتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا:
— "یہ نمبر بھی بڑے مہمان نواز ہیں، پہلے فارسی پھر انگریزی۔ ایک زبان بھی سنبھال نہیں پاتے!”
ریل گاڑی کے اس کیبن میں بیٹھتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ ایران کی یہ پہلی سواری، نوجوان دل کی خوشی اور سفر کے شوق کا امتزاج ہے۔ دل میں طنزیہ خیال آیا:
— "یہ Spain کی گاڑی ہے یا ایرانی دلوں کی محبت سے بنی ہوئی خواب گاہ ہے؟”
ایک ایرانی نوجوان سے مکالمہ ۔۔۔
اس کیبن میں میرے علاوہ پانچ اور مسافر سوار تھے۔ چار نوجوان طلبہ اور ایک ادھیڑ عمر کا آدمی۔ چار نوجوانوں میں سے ایک انگریزی بول سکتا تھا، اور اسی کے ساتھ میری گفتگو دیر تک جاری رہی۔ سوال و جواب کا آغاز ہوا تو میں نے بتایا کہ میں پاکستان سے آیا ہوں اور ایران کی سیر پر ہوں۔ اس کے بعد ایک طوفانِ استفسار شروع ہوگیا، سب سے پہلا سوال اس نوجوان نے داغا:
— "تم سنی ہو یا شیعہ؟”
میں نے جواب دیا:
— "سنی ہوں۔”
اس نے بظاہر سینے پر ہاتھ رکھا اور سر کو عاجزی سے جھکایا:
— "ہم سب بھائی بھائی ہیں۔”
لیکن اس کے چہرے کے تاثرات ملے جلے تھے، جیسے خوشی کی بجائے محتاط جائزہ لے رہا ہو۔ مذہب کے بارے میں نوجوان خواہ سنی ہوں یا شیعہ، کبھی کبھار غیر محسوس طور پر متعصب ہو جاتے ہیں۔
مجھے یاد آیا کہ اصفہان میں محسن نامی نوجوان سے ملاقات کتنی خوشگوار تھی۔ وہ مذہبی نہیں تھا، بڑی فراخدلی سے ملا، اور حتیٰ کہ پاکستانی لڑکی سے شادی کی خواہش کا ذکر بھی کر گیا تھا۔ واقعی، مذہب میں اعتدال ضروری ہے۔
اس نوجوان کا اگلا سوال مزید پیچیدہ تھا:
— "تم امام مہدی کے ظہور کے بارے میں کیا عقیدہ رکھتے ہو؟”
یہی سوال کچھ آسان اسلوب میں بم شہر کی مسجد کے مؤذن نے مجھ سے پہلے پوچھا تھا۔ میں نے اثبات میں جواب دیا اور وہاں جان خلاصی پائی تھی۔ یہاں بھی میں نے کہا:
— "ہاں، ہم امام مہدی کو مانتے ہیں۔”
لیکن اس نوجوان کے سوال کا سادہ ہاں یا نہ جواب ممکن نہ تھا۔ وہ تفصیلی جواب چاہتا تھا۔ چنانچہ میں نے اسے بتایا:
— "اگر آپ کے سوال کا مقصد اہل تشیع کے گیارہویں امام، محمد بن الحسن عسکریؒ، سے متعلق ہے تو عراقی شیعہ محقق ڈاکٹر احمد الکاتب نے اپنی کتاب شیعہ فکر اسلامی کا ارتقاء میں تحقیق کی ہے کہ تاریخی اعتبار سے گیارہویں امام کی کوئی نرینہ اولاد نہیں تھی۔ امام کی وفات کے تقریباً سو سال بعد کچھ غالی شیعوں نے امام مہدی کا عقیدہ متعارف کرایا۔ ڈاکٹر احمد الکاتب نے قم کے حوزہ علمیہ کے علماء کو بھی چیلنج کیا کہ وہ اس موضوع پر مباحثہ کر سکتے ہیں، مگر ابھی تک کسی نے جواب نہیں دیا۔”
میں نے مزید وضاحت کی کہ احمد الکاتب نے 1989 میں 100 سے زائد تاریخی و فقہی کتب کا مطالعہ کیا اور کتاب تطور الفكر السياسي الشيعي تصنیف کی، جسے تین حصوں میں تقسیم کیا:
پہلے حصے میں اسلام میں نظام شورائیت، دوسرے میں اسلام میں امامت کا تصور، اور تیسرے میں اہل تشیع کے گیارہویں امام کی بغیر اولاد نرینہ کے وفات کا ذکر۔
میرے اس تفصیلی جواب کے بعد نوجوان نے مزید مذہبی سوالات نہیں کیے۔ ہماری گفتگو کا رُخ بتدریج ثقافت اور روزمرہ زندگی کی طرف مڑ گیا۔ اس نے مجھ سے پوچھا:
— "پاکستان میں لوگ زیادہ شہروں میں رہتے ہیں یا دیہات میں؟”
— "زیادہ تر لوگ دیہات میں ہیں، لیکن بڑے شہر بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔”
— "اور وہاں کے کھانے کیسے ہوتے ہیں؟”
— "ذائقے میں مصالحہ زیادہ ہوتا ہے، لیکن ہر علاقے کا اپنا ذائقہ ہوتا ہے۔”
یہ چھوٹی چھوٹی باتیں گفتگو کو ہلکی اور دوستانہ بنا رہی تھیں، اور ہمیں ایک دوسرے کی ثقافت کو سمجھنے کا موقع مل رہا تھا۔
تقریباً ساڑھے گیارہ بجے ریل کمپنی کے ملازم آئے اور ہمارے کوپے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ ایک ایک کر کے انہوں نے سفید غلاف میں لپٹے تکیے اور چادریں دے دی۔ صبح جب دوبارہ آئے تو وہی تکیے اور چادریں واپس لے گئے۔ یہ چھوٹی سی مہمان نوازی مجھے بہت پسند آئی، سادگی اور ترتیب میں خوشی محسوس ہوئی۔
ایرانی نوجوان کی مشکوک حرکات۔۔
سب اپنی اپنی برتھوں پر دراز ہو گئے اور آہستہ آہستہ نیند کی چادر میں لپٹ گئے۔ میں بھی تھک کر لیٹ گیا، لیکن رات کو میری آنکھ اچانک کھل گئی۔ سب کچھ خاموش تھا، صرف ریل گاڑی کی ہلکی ہلکی دھک دھک اور اے سی کی جالی سے اندر آتی ہوا کی سرسراہٹ سنائی دے رہی تھی۔ یہ معمولی آوازیں بھی کسی حد تک سکون دینے والی تھیں، مگر ایک نوجوان کی حرکت نے میری توجہ کھینچ لی۔
وہ سیٹوں کے درمیان بچھے قالین پر دوزانوں بیٹھا، کچھ اوراد پڑھ رہا تھا اور مجھے محسوس ہوا کہ اس کی نگاہیں میرے اوپر ہیں۔ میں کَن انکھیوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ پھر اس نے میرے منہ کے قریب آکر پھونک مار دی جیسے وہ مجھ پر کچھ دَم کرنا چاہ رہا ہو۔—میں فوراً سمجھ گیا کہ یہ کوئی تعویذ گنڈا یا روحانی عمل ہو سکتا ہے۔
میں نے آہستہ سے پوچھا:
— "کیا آپ مجھ سے کچھ کہنا چاہتے ہیں؟”
نوجوان نے فوراً سر جھکایا اور سرگوشی میں کہا:
— "نہیں، بس دعا کر رہا ہوں۔ کوئی برا نہیں چاہتا۔”
میں نے دل میں "لاحول” پڑھ کر کروٹ بدل لی، لیکن نیند اس وقت میری اڑ چکی تھی۔
صاف ستھرا ٹوائلٹ۔۔
رات کو سونے سے قبل مجھے ریل گاڑی کے ٹوائلٹ جانے کا اتفاق ہوا۔ جس طرح گاڑی خود صاف ستھری اور مرتب تھی، اسی طرح اس کا ٹوائلٹ بھی قابلِ تعریف تھا۔ ٹوائلٹ کشادہ تھا اور ہر طرف سفید رنگ کی صفائی جھلک رہی تھی۔ یہاں کموڈ اور فلش دونوں دستیاب تھے، اور فرش سفید پلاسٹک کا تھا، اتنا صاف کہ قدم رکھتے ہی محسوس ہوتا تھا جیسے ہر چیز نئی ہو۔
کسی قسم کی گندگی یا نامناسب نشان نظر نہیں آئے۔ روشنی مناسب اور ماحول خوشگوار تھا، اور اسے دیکھ کر فوراً ہوائی جہاز کے ٹوائلٹ کا تصور ذہن میں آیا۔ سادہ، صاف اور آرام دہ۔ پانی کی فراہمی اور صابن، ٹشو کے انتظام نے یہ یقینی بنایا کہ مسافر کو مکمل آرام اور وقار کے ساتھ سہولت میسر ہو۔ واقعی، یہ چھوٹا سا تجربہ بھی اس بات کا ثبوت تھا کہ ایرانی ریل گاڑی نہ صرف سفر میں آرام دہ ہے بلکہ بنیادی سہولیات میں بھی مسافر کی راحت کو ترجیح دیتی ہے۔
فجر کی نماز کے لیے ریل گاڑی روک دی گئی۔۔
فجر کے وقت ریل گاڑی ایک اسٹیشن پر رکی، غالباً یہ قُم کا اسٹیشن تھا۔ اچانک فارسی زبان میں اعلان ہوا کہ نماز فجر کے لیے مسافر نیچے مسجد میں تشریف لے جائیں۔ میں بھی اپنے کوپے سے نیچے اتر گیا۔ باقی مسافر اپنی اپنی برتھوں پر ابھی تک خراٹے لے رہے تھے، گویا خوابوں کی دنیا سے باہر آنے کا ارادہ ہی نہیں۔
وضو خانہ کشادہ اور صاف ستھرا تھا، مرد و خواتین کے لیے الگ الگ انتظام کیا گیا تھا۔ میں نے وضو کیا اور محسوس کیا کہ واقعی یہاں ہر چیز پر ترتیب اور وقار قائم ہے۔ یہ نظام مجھے بہت پسند آیا۔
پاکستان کی ریلوے میں تو یہ سہولت شاذ و نادر ہی نظر آتی ہے۔ البتہ بلوچستان کے کچھ پرائیویٹ بس والے اس معاملے میں بہت متوجہ ہیں، اپنی بسیں نماز کے اوقات پر روک کر مسافروں کی راحت کو ترجیح دیتے ہیں۔ پنجاب کے ٹرانسپورٹر، بدقسمتی سے، اس میں اتنے مہربان نہیں۔
نیچے اتر کر میں نے ایک گارڈ سے پوچھا:
"مسجد کس طرف ہے؟”
گارڈ نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ ہاتھ کی طرف اشارہ کیا اور کہا:
"اسی راستے سے جائیں، سیدھا چلیں، دائیں موڑ کے بعد سامنے ہے۔”
مسجد میں داخل ہوا تو وہاں ایک خاموش سکون چھایا ہوا تھا۔ ہر مسافر اپنی جگہ پر انفرادی طور پر نماز پڑھ رہا تھا، باجماعت نہیں۔ ہلکی روشنی میں لوگوں کے چہرے واضح مگر پر سکون لگ رہے تھے۔ ہوا میں ہلکی خوشبو محسوس ہو رہی تھی۔ شاید رات کی ہوا اور مسجد کی صفائی کا امتزاج۔ میں نے دل میں کہا، واقعی، یہ لمحہ سکون اور تقدس سے بھرا ہوا ہے۔
نماز کے دوران ہر شخص اپنے دل کی خاموشی میں مشغول تھا۔ ہاتھ اٹھانے اور سر جھکانے کی ترتیب ایک فطری ہم آہنگی پیدا کر رہی تھی، اور ہر حرکت میں احترام اور ادب جھلک رہا تھا۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ معتدل رویے اور ذاتی عبادت ہی مذہب کی اصل روح ہیں۔
نماز فجر کے ایک گھنٹے بعد ریل گاڑی کے ملازم آئے اور ایک ایک کر کے تکیے اور چادریں جمع کرنے لگے۔ یہ چھوٹا سا معمول بھی میرے لیے دلچسپ تھا۔ سادگی اور خدمت کا امتزاج۔
تقریباً آٹھ بجے ہم تہران کے اسٹیشن پر اترے۔ اس ریل گاڑی کی ایک اور خوبی یہ تھی کہ اس میں جھٹکے نہ ہونے کے برابر محسوس ہوئے، اور رفتار اتنی زیادہ تھی کہ دل میں ایک چھوٹا سا حیرت انگیز احساس پیدا ہو رہا تھا۔ گویا دنیا باہر سے تیزی سے گزرتی جا رہی ہے، مگر اندرونی سکون اپنی جگہ قائم ہے۔










