Car accident

یہ محض ایک حادثہ نہیں، ایک قتل بھی ہے

·


گزشتہ سوموار، میری ماموں کی بیٹی اپنے شوہر عمیر عنایت خان اور دو معصوم بچوں کے ساتھ ہری پور سے اسلام آباد آ رہی تھی۔

ہزارہ موٹروے سے پشاور موٹروے پر داخل ہونے کے بعد، باہتر انٹرچینج کراس کیا… اور پھر ایک ایسی جگہ آئی جہاں سڑک ہموار نہیں تھی۔ ایک خطرناک جمپ… ایک لمحہ… گاڑی اچھلی۔یہ آنکھوں دیکھا حال پچھلی گاڑی کے ڈرائیور نے بتایا۔ کنٹرول بگڑا، گاڑی سڑک سے باہر نکلی اور درخت سے جا ٹکرائی۔
وہ لمحہ، دو زندگیاں لے گیا۔

عمیر عنایت خان اور میری کزن موقع پر ہی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ساڑھے چار سالہ میرال، ٹانگ ٹوٹنے کے ساتھ زندگی کے صدمے میں ہے…اور ڈیڑھ سالہ حسن، وینٹی لیٹر پر زندگی اور موت کے درمیان معلق ہے۔

لیکن اصل سانحہ یہاں ختم نہیں ہوتا…
حادثے کے قریب موجود ایک فیکٹری مالک نے بتایا:
یہ اس جگہ پر پندرھواں حادثہ تھا۔
جی ہاں… پندرھواں!
مقامی لوگوں نے بارہا متعلقہ اداروں سے درخواست کی
کہ اس خطرناک جمپ کو ٹھیک کیا جائے، اس درخت کو ہٹایا جائے…
مگر جواب؟ خاموشی۔ بے حسی۔ غفلت۔
یہ جمپ بھی کوئی قدرتی مسئلہ نہیں تھا۔

گزشتہ سال ممکنہ دھرنے کے خوف سے یہاں خندق کھودی گئی،
پھر اسے غیر معیاری طریقے سے بھر کر چھوڑ دیا گیا۔
وقت کے ساتھ وہ بیٹھ گئی… اور ایک موت کا جال بن گئی۔

سوال یہ ہے:
کیا ہم واقعی ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں انسانی جان کی کوئی وقعت نہیں؟

کیا 14 حادثے کافی نہیں تھے کہ پندرھواں ہونے سے پہلے کوئی جاگ جاتا؟

یہ حادثہ نہیں، مسلسل غفلت کا نتیجہ ہے۔
یہ تقدیر نہیں، ایک مجرمانہ لاپرواہی ہے۔

میں بطور ایک شہری، بطور ایک متاثرہ خاندان کا فرد، یہ مطالبہ کرتا ہوں:
اس مقام پر ہونے والے تمام حادثات کی فوری اور شفاف تحقیقات کی جائیں،
ذمہ دار افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے،
اور اس سڑک کو فوری طور پر محفوظ بنایا جائے
کیونکہ اگر آج ہم خاموش رہے،
تو کل کسی اور کا عمیر، کسی اور کی بیٹی، کسی اور کا بچہ… اسی سڑک پر قربان ہوگا۔

خدا کے لیے…
انسانی جان کو کیڑے مکوڑوں سے کم نہ سمجھیں۔

نوٹ: بادبان ڈاٹ کام پر شائع شدہ کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا بادبان ڈاٹ کام کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔