Emergency personnel work at the site of a strike, amid the U.S.-Israeli conflict with Iran, in Tehran, Iran

ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کا خاکہ تیار، پاکستان کی ثالثی کامیاب ہونے کے قریب

·

پاکستان کی سفارتی کوششیں رنگ لانے لگیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کے لیے ایک جامع امن خاکہ دونوں ممالک کو پیش کردیا گیا ہے جو آج یعنی  بروز پیر ہی سے نافذ ہوسکتا ہے۔

ایران اور امریکہ کی لڑائی ختم کرنے کا ایک منصوبہ موصول ہوگیا ہے جو آج بروز پیر سے نافذالعمل ہوسکتا ہے اور جس کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جاسکتا ہے۔ یہ بات اس سارے معاملے سے باخبر ایک ذریعے نے عالمی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کو بتائی ہے۔

ذریعے کے مطابق یہ فریم ورک پاکستان نے مرتب کیا ہے اور گزشتہ رات ایران اور امریکہ دونوں کو پہنچا دیا گیا ہے۔ اس منصوبے میں دو مراحل پر مبنی حکمتِ عملی تجویز کی گئی ہے۔ پہلے مرحلے میں فوری جنگ بندی عمل میں آئے گی، جبکہ دوسرے مرحلے میں ایک جامع اور پائیدار معاہدے کی راہ ہموار کی جائے گی۔

ذریعے نے کہا کہ ‘تمام نکات پر آج ہی اتفاقِ رائے ضروری ہے’ اور مزید بتایا کہ ابتدائی سمجھوتے کو ایک مفاہمتی یادداشت(MOU) کی شکل دی جائے گی جسے پاکستان کے ذریعے الیکٹرانک طریقے سے حتمی شکل دی جائے گی، کیونکہ ان مذاکرات میں پاکستان ہی واحد رابطے کا ذریعہ ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس نے اتوار کو سب سے پہلے یہ رپورٹ جاری کی تھی کہ امریکہ، ایران اور علاقائی ثالث ممالک دو مراحل پر مبنی ایک معاہدے کے تحت پینتالیس روزہ جنگ بندی پر بات چیت کررہے ہیں، جو بالآخر جنگ کے مستقل خاتمے کی راہ ہموار کرسکتی ہے۔ یہ اطلاعات امریکی، اسرائیلی اور علاقائی ذرائع کے حوالے سے سامنے آئی تھیں۔

ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر رات بھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، صدارتی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے مسلسل رابطے میں رہے۔

تجویز کردہ منصوبے کے مطابق فوری جنگ بندی نافذ ہوگی جس کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز کو بھی فوری طور پر دوبارہ کھول دیا جائے گا، جبکہ ایک وسیع تر حتمی معاہدے کو مکمل کرنے کے لیے پندرہ سے بیس دن کا وقت مقرر کیا جائے گا۔

اس معاہدے کو غیر رسمی طور پر ‘اسلام آباد اکارڈ’ کا نام دیا گیا ہے، جس میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایک علاقائی فریم ورک بھی شامل ہوگا اور حتمی بالمشافہ مذاکرات اسلام آباد میں منعقد ہوں گے۔

ابھی تک امریکی اور ایرانی حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بھی اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔

ایرانی حکام اس سے قبل رائٹرز کو بتا چکے ہیں کہ تہران مستقل جنگ بندی چاہتا ہے اور اسے اس بات کی ضمانت درکار ہے کہ آئندہ امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے اس پر کوئی حملہ نہیں کیا جائے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق انہیں پاکستان، ترکیہ اور مصر سمیت متعدد ثالث ممالک کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے ہیں۔

ذریعے کے مطابق حتمی معاہدے میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کا پختہ عہد شامل ہوگا، جس کے عوض ایران کو اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی واپسی کی پیشکش کی جائے گی۔

دو پاکستانی ذرائع نے بتایا کہ سویلین اور فوجی سطح پر بھرپور رابطوں کے باوجود ایران نے ابھی تک کوئی حتمی وعدہ نہیں کیا۔

ایک ذریعے نے کہا کہ ’ایران نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا‘ اور مزید بتایا کہ پاکستان، چین اور امریکہ کی مشترکہ حمایت سے پیش کی گئی عارضی جنگ بندی کی تجاویز پر بھی ابھی تک ایران کی طرف سے کوئی یقین دہانی نہیں کروائی گئی۔

چینی حکام نے بھی تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر کوئی ردِعمل نہیں دیا۔

یہ تازہ سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والی عالمی تیل کی ترسیل میں خلل پڑنے کے خدشات شدت اختیار کرگئے ہیں۔ یہ آبنائے عالمی تیل کی فراہمی کی ایک انتہائی اہم شاہراہ سمجھی جاتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں علی الاعلان اس تنازعے کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر مقررہ مختصر مدت میں جنگ بندی نہ ہوئی تو سنگین نتائج بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔

اس تنازعے نے توانائی کی عالمی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ پیدا کردیا ہے اور تاجر طبقہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل پر پڑنے والے کسی بھی ممکنہ اثر کے پیشِ نظر صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی تمام اہم ترین خبروں اور دلچسپ تجزیوں کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر آفیشل گروپ جوائن کریں